قرآن حکیم            

مکمل سورت
سورت نمبر
آیت نمبر
ایک آیت
(58) سورۃ المجادلۃ (مدنی، آیات 22)
بِسْمِ اللّـٰهِ الرَّحْـمٰنِ الرَّحِيْـمِ
قَدْ سَـمِعَ اللّـٰهُ قَوْلَ الَّتِىْ تُجَادِلُكَ فِىْ زَوْجِهَا وَتَشْتَكِىٓ اِلَى اللّهِۖ وَاللّـٰهُ يَسْـمَعُ تَحَاوُرَكُمَا ۚ اِنَّ اللّـٰهَ سَـمِيْعٌ بَصِيْـرٌ (1)
بے شک اللہ نے اس عورت کی بات سن لی ہے جو آپ سے اپنے خاوند کے بارے میں جھگڑتی تھی اور اللہ کی جناب میں شکایت کرتی تھی، اور اللہ تم دونوں کی گفتگو سن رہا تھا، بے شک اللہ سب کچھ سننے والا دیکھنے والا ہے۔
اَلَّـذِيْنَ يُظَاهِرُوْنَ مِنْكُمْ مِّنْ نِّسَآئِهِـمْ مَّا هُنَّ اُمَّهَاتِـهِـمْ ۖ اِنْ اُمَّهَاتُهُـمْ اِلَّا اللَّآئِىْ وَلَدْنَـهُـمْ ۚ وَاِنَّـهُـمْ لَيَقُوْلُوْنَ مُنْكَـرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَزُوْرًا ۚ وَاِنَّ اللّـٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ (2)
جو لوگ تم میں سے اپنی عورتوں سے ظہار کرتے ہیں وہ ان کی مائیں نہیں ہو جاتیں، ان کی مائیں تو وہی ہیں جنہوں نے انہیں جنا ہے، اور بےشک انہوں نے ایک بیہودہ اور جھوٹی بات منہ سے نکالی ہے اور بے شک اللہ معاف کرنے والا بخشنے والا ہے۔
وَالَّـذِيْنَ يُظَاهِرُوْنَ مِنْ نِّسَآئِهِـمْ ثُـمَّ يَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا فَتَحْرِيْـرُ رَقَبَةٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّتَمَآسَّا ۚ ذٰلِكُمْ تُوْعَظُوْنَ بِهٖ ۚ وَاللّـٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْـرٌ (3)
اور جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں پھر اس کہی ہوئی بات سے پھرنا چاہیں تو ایک دوسرے کو ہاتھ لگانے سے پہلے ایک غلام آزاد کر دیں، یہ اس لیے کہ اس سے تمہیں نصیحت ہو، اور اللہ جو کچھ تم کرتے ہو اس کی خبر رکھتا ہے۔
فَمَنْ لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ يَّتَمَآسَّا ۖ فَمَنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ فَاِطْعَامُ سِتِّيْنَ مِسْكِـيْنًا ۚ ذٰلِكَ لِتُؤْمِنُـوْا بِاللّـٰهِ وَرَسُوْلِهٖ ۚ وَتِلْكَ حُدُوْدُ اللّـٰهِ ۗ وَلِلْكَافِـرِيْنَ عَذَابٌ اَلِـيْـمٌ (4)
پس جو شخص نہ پائے تو دو مہینے کے لگاتار روزے رکھے اس سے پہلے کہ ایک دوسرے کو چھوئیں، پس جو کوئی ایسا نہ کر سکے تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے، یہ ا س لیے کہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور یہ اللہ کی حدیں ہیں اور منکروں کے لیے دردناک عذاب ہے۔
اِنَّ الَّـذِيْنَ يُحَآدُّوْنَ اللّـٰهَ وَرَسُوْلَـهٝ كُبِتُوْا كَمَا كُبِتَ الَّـذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِـمْ ۚ وَقَدْ اَنْزَلْنَآ اٰيَاتٍ بَيِّنَاتٍ ۚ وَلِلْكَافِـرِيْنَ عَذَابٌ مُّهِيْنٌ (5)
بے شک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ ذلیل کیے جائیں گے جس طرح ذلیل کیے گئے وہ لوگ جو ان سے پہلے تھے، اور ہم نے تو صاف صاف آیتیں نازل کر دی ہیں اور منکروں کے لیے ذلت کا عذاب ہے۔
يَوْمَ يَبْعَثُهُـمُ اللّـٰهُ جَـمِيْعًا فَيُنَبِّئُـهُـمْ بِمَا عَمِلُوٓا ۚ اَحْصَاهُ اللّـٰهُ وَنَسُوْهُ ۚ وَاللّـٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ شَهِيْدٌ (6)
جس دن ان سب کو اللہ قبروں سے اٹھائے گا پھر ان کو بتائے گا کہ وہ کیا کرتے تھے، جس کو اللہ نے یاد رکھا ہے اور وہ بھول گئے ہیں، اور اللہ کے سامنے ہر چیز موجود ہے۔
اَلَمْ تَـرَ اَنَّ اللّـٰهَ يَعْلَمُ مَا فِى السَّمَاوَاتِ وَمَا فِى الْاَرْضِ ۖ مَا يَكُـوْنُ مِنْ نَّجْوٰى ثَلَاثَةٍ اِلَّا هُوَ رَابِعُهُـمْ وَلَا خَمْسَةٍ اِلَّا هُوَ سَادِسُهُـمْ وَلَآ اَدْنٰى مِنْ ذٰلِكَ وَلَآ اَكْثَرَ اِلَّا هُوَ مَعَهُـمْ اَيْنَ مَا كَانُـوْا ۖ ثُـمَّ يُنَبِّئُـهُـمْ بِمَا عَمِلُوْا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۚ اِنَّ اللّـٰهَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِـيْمٌ (7)
کیا آپ نے نہیں دیکھا اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، (یہاں تک) کہ جو کوئی مشورہ تین آدمیوں میں ہوتا ہے تو وہ چوتھا ہوتا ہے اور جو پانچ میں ہوتا ہے تو وہ چھٹا ہوتا ہے اور خواہ اس سے کم کی سرگوشی ہو یا زیادہ کی مگر وہ ہر جگہ ان کے ساتھ ہوتا ہے، پھر انہیں قیامت کے دن بتائے گا کہ وہ کیا کرتے تھے، بے شک اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔
اَلَمْ تَـرَ اِلَى الَّـذِيْنَ نُهُـوْا عَنِ النَّجْوٰى ثُـمَّ يَعُوْدُوْنَ لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَيَتَنَاجَوْنَ بِالْاِثْـمِ وَالْعُدْوَانِ وَمَعْصِيَتِ الرَّسُوْلِۖ وَاِذَا جَآءُوْكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللَّهُۙ وَيَقُوْلُوْنَ فِىٓ اَنْفُسِهِـمْ لَوْلَا يُعَذِّبُنَا اللّـٰهُ بِمَا نَقُوْلُ ۚ حَسْبُـهُـمْ جَهَنَّـمُ يَصْلَوْنَـهَا ۖ فَبِئْسَ الْمَصِيْـرُ (8)
کیا آپ نے ان کو نہیں دیکھا جو سرگوشی کرنے سے روکے گئے تھے پھر وہ اسی بات کی طرف لوٹتے ہیں جس سے انہیں روکا گیا تھا اور گناہ اور سرکشی اور رسول کی نافرمانی کی سرگوشی کرتے ہیں، اور جب وہ آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ کو ایسے لفظوں سے سلام کرتے ہیں جن سے اللہ نے آپ کو سلام نہیں دیا، اور اپنے دلوں میں کہتے ہیں کہ ہمیں اللہ اس پر کیوں عذاب نہیں دیتا جو ہم کہہ رہے ہیں، ان کے لیے دوزخ کافی ہے وہ اس میں داخل ہوں گے، پس وہ کیا ہی برا ٹھکانہ ہے۔
يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوٓا اِذَا تَنَاجَيْتُـمْ فَلَا تَتَنَاجَوْا بِالْاِثْـمِ وَالْعُدْوَانِ وَمَعْصِيَتِ الرَّسُوْلِ وَتَنَاجَوْا بِالْبِـرِّ وَالتَّقْوٰى ۖ وَاتَّقُوا اللّـٰهَ الَّـذِىٓ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ (9)
اے ایمان والو! جب تم آپس میں سرگوشی کرو تو گناہ اور سرکشی اور رسول کی نافرمانی کی سرگوشی نہ کرو اور نیکی اور پرہیز گاری کی سرگوشی کرو، اور اللہ سے ڈرو جس کی طرف تم جمع کیے جاؤ گے۔
اِنَّمَا النَّجْوٰى مِنَ الشَّيْطَانِ لِيَحْزُنَ الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا وَلَيْسَ بِضَآرِّهِـمْ شَيْئًا اِلَّا بِاِذْنِ اللّـٰهِ ۚ وَعَلَى اللّـٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُـوْنَ (10)
(یہ) سرگوشی تو صرف شیطانی بات ہے تاکہ ایمان داروں کو غمناک کر دے حالانکہ بغیر حکم اللہ کے کچھ بھی ضرر نہیں دے سکتی، اور ایمان والے تو اللہ ہی پربھروسہ رکھتے ہیں۔
يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوٓا اِذَا قِيْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِى الْمَجَالِسِ فَافْسَحُوْا يَفْسَحِ اللّـٰهُ لَكُمْ ۖ وَاِذَا قِيْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا يَرْفَعِ اللّـٰهُ الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا مِنْكُمْۙ وَالَّـذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ ۚ وَاللّـٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْـرٌ (11)
اے ایمان والو! جب تمہیں مجلسوں میں کھل کر بیٹھنے کو کہا جائے تو کھل کر بیٹھو اللہ تمیں فراخی دے گا، اور جب کہا جائے کہ اٹھ جاؤ تو اٹھ جاؤ، تم میں سے اللہ ایمان داروں کے اور ان کے جنہیں علم دیا گیا ہے درجے بلند کرے گا، اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے خبردار ہے۔
يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوٓا اِذَا نَاجَيْتُـمُ الرَّسُوْلَ فَقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَىْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَةً ۚ ذٰلِكَ خَيْـرٌ لَّكُمْ وَاَطْهَرُ ۚ فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فَاِنَّ اللّـٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِـيْـمٌ (12)
اے ایمان والو! جب تم رسول سے سرگوشی کرو تو اپنی سرگوشی سے پہلے صدقہ دے لیا کرو، یہ تمہارے لیے بہتر اور زیادہ پاکیزہ بات ہے، پس اگر نہ پاؤ تو اللہ بخشنے والا نہایت رحم والا ہے۔
اَاَشْفَقْتُـمْ اَنْ تُقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَىْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَاتٍ ۚ فَاِذْ لَمْ تَفْعَلُوْا وَتَابَ اللّـٰهُ عَلَيْكُمْ فَاَقِيْمُوا الصَّلَاةَ وَاٰتُوا الزَّكَاةَ وَاَطِيْعُوا اللّـٰهَ وَرَسُوْلَـهُ ۚ وَاللّـٰهُ خَبِيْـرٌ بِمَا تَعْمَلُوْنَ (13)
کیا تم اپنی سرگوشی سے پہلے صدقہ دینے سے ڈر گئے، پھر جب تم نے نہ کیا اور اللہ نے تمہیں معاف بھی کر دیا تو (بس) نماز ادا کرو اور زکوٰۃ دو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو، اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے خبردار ہے۔
اَلَمْ تَـرَ اِلَى الَّـذِيْنَ تَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّـٰهُ عَلَيْهِمؕ مَّا هُـمْ مِّنْكُمْ وَلَا مِنْهُمْۙ وَيَحْلِفُوْنَ عَلَى الْكَذِبِ وَهُـمْ يَعْلَمُوْنَ (14)
کیا آپ نے ان کو نہیں دیکھا جنہوں نے اس قوم سے دوستی رکھی ہے جن پر اللہ کا غضب ہے، نہ وہ تم میں سے ہیں اور نہ ان میں سے، اور وہ جان بوجھ کر جھوٹ پر قسمیں کھاتے ہیں۔
اَعَدَّ اللّـٰهُ لَـهُـمْ عَذَابًا شَدِيْدًا ۖ اِنَّـهُـمْ سَآءَ مَا كَانُـوْا يَعْمَلُوْنَ (15)
اللہ نے ان کے لیے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے، بے شک وہ بہت ہی برا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں۔
اِتَّخَذُوٓا اَيْمَانَـهُـمْ جُنَّةً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللّـٰهِ فَلَـهُـمْ عَذَابٌ مُّهِيْنٌ (16)
انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا لیا ہے، پس وہ (لوگوں کو) اللہ کی راہ سے روکتے ہیں تو ان کے لیے ذلیل کرنے والاعذآب ہے۔
لَّنْ تُغْنِىَ عَنْـهُـمْ اَمْوَالُـهُـمْ وَلَآ اَوْلَادُهُـمْ مِّنَ اللّـٰهِ شَيْئًا ۚ اُولٰئِكَ اَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُـمْ فِيْـهَا خَالِـدُوْنَ (17)
اللہ کے مقابلہ میں نہ تو ان کے مال ہی کچھ کام آئیں گے اور نہ ان کی اولاد کچھ کام آئے گی، یہ دوزخی لوگ ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔
يَوْمَ يَبْعَثُهُـمُ اللّـٰهُ جَـمِيْعًا فَيَحْلِفُوْنَ لَـهٝ كَمَا يَحْلِفُوْنَ لَكُمْ ۖ وَيَحْسَبُوْنَ اَنَّـهُـمْ عَلٰى شَىْءٍ ۚ اَلَآ اِنَّـهُـمْ هُـمُ الْكَاذِبُوْنَ (18)
جس دن اللہ ان سب کو قبروں سے اٹھائے گا تو اس کے سامنے بھی ایسی ہی قسمیں کھائیں گے جیسی کہ تمہارے سامنے کھاتے ہیں، اور سمجھ رہے ہیں کہ ہم رستے پر ہیں، خبردار بے شک وہی جھوٹے ہیں۔
اِسْتَحْوَذَ عَلَيْـهِـمُ الشَّيْطَانُ فَاَنْسَاهُـمْ ذِكْـرَ اللّـٰهِ ۚ اُولٰئِكَ حِزْبُ الشَّيْطَانِ ۚ اَلَآ اِنَّ حِزْبَ الشَّيْطَانِ هُـمُ الْخَاسِرُوْنَ (19)
ان پر شیطان نے غلبہ پا لیا ہے پس اس نے انہیں اللہ کا ذکر بھلا دیا ہے، یہی شیطان کا گروہ ہے، خبردار بے شک شیطان کا گروہ ہی نقصان اٹھانے والا ہے۔
اِنَّ الَّـذِيْنَ يُحَآدُّوْنَ اللّـٰهَ وَرَسُوْلَـهٝ اُولٰئِكَ فِى الْاَذَلِّيْنَ (20)
بے شک جو لوگ اللہ اوراس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں یہی لوگ ذلیلوں میں ہیں۔
كَتَبَ اللّـٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِىْ ۚ اِنَّ اللّـٰهَ قَوِىٌّ عَزِيْزٌ (21)
اللہ نے لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول ہی غالب رہیں گے، بے شک اللہ زور آور زبردست ہے۔
لَّا تَجِدُ قَوْمًا يُّؤْمِنُـوْنَ بِاللّـٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ يُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّـٰهَ وَرَسُوْلَـهٝ وَلَوْ كَانُـوٓا اٰبَآءَهُـمْ اَوْ اَبْنَآءَهُـمْ اَوْ اِخْوَانَـهُـمْ اَوْ عَشِيْـرَتَـهُـمْ ۚ اُولٰٓئِكَ كَتَبَ فِىْ قُلُوْبِهِـمُ الْاِيْمَانَ وَاَيَّدَهُـمْ بِـرُوْحٍ مِّنْهُ ۖ وَيُدْخِلُـهُـمْ جَنَّاتٍ تَجْرِىْ مِنْ تَحْتِـهَا الْاَنْـهَارُ خَالِـدِيْنَ فِيْـهَا ۚ رَضِىَ اللّـٰهُ عَنْـهُـمْ وَرَضُوْا عَنْهُ ۚ اُولٰٓئِكَ حِزْبُ اللّـٰهِ ۚ اَلَآ اِنَّ حِزْبَ اللّـٰهِ هُـمُ الْمُفْلِحُوْنَ (22)
آپ ایسی کوئی قوم نہ پائیں گے جو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہو اور ان لوگو ں سے بھی دوستی رکھتے ہوں جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں گو کہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا کنبے کے لوگ ہی کیوں نہ ہوں، یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان لکھ دیا ہے اور ان کو اپنے فیض سے قوت دی ہے، اور وہ انہیں بہشتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے، اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اس سے راضی ہوئے، یہی اللہ کا گروہ ہے، خبردار بے شک اللہ کا گروہ ہی کامیاب ہونے والا ہے۔