قرآن حکیم            

مکمل سورت
سورت نمبر
آیت نمبر
ایک آیت
(56) سورۃ الواقعۃ (مکی، آیات 96)
بِسْمِ اللّـٰهِ الرَّحْـمٰنِ الرَّحِيْـمِ
اِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُ (1)
جب واقع ہونے والی واقع ہو گی۔
لَيْسَ لِوَقْعَتِـهَا كَاذِبَةٌ (2)
جس کے واقع ہونے میں کچھ بھی جھوٹ نہیں۔
خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌ (3)
پست کرنے والی اور بلند کرنے والی۔
اِذَا رُجَّتِ الْاَرْضُ رَجًّا (4)
جب کہ زمین بڑے زور سے ہلائی جائے گی۔
وَبُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّا (5)
اور پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے ہو کر چورا ہو جائیں گے۔
فَكَانَتْ هَبَآءً مُّنْـبَثًّا (6)
سو وہ غبار ہو کر اڑتے پھریں گے۔
وَكُنْـتُـمْ اَزْوَاجًا ثَلَاثَةً (7)
اور (اس وقت) تمہاری تین جماعتیں ہو جائیں گی۔
فَاَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ مَآ اَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ (8)
پھر داہنے والے کیا خوب ہی ہیں داہنے والے۔
وَاَصْحَابُ الْمَشْاَمَةِ مَآ اَصْحَابُ الْمَشْاَمَةِ (9)
اور بائیں والے کیسے برے ہیں بائیں والے۔
وَالسَّابِقُوْنَ السَّابِقُوْنَ (10)
اور سب سے اول ایمان لانے والے سب سے اول داخل ہونے والے ہیں۔
اُولٰٓئِكَ الْمُقَرَّبُوْنَ (11)
وہ اللہ کے ساتھ خاص قرب رکھنے والے ہیں۔
فِىْ جَنَّاتِ النَّعِـيْمِ (12)
نعمت کے باغات ہوں گے۔
ثُلَّـةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ (13)
پہلوں میں سے بہت سے۔
وَقَلِيْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ (14)
اور پچھلوں میں سے تھوڑے سے۔
عَلٰى سُرُرٍ مَّوْضُوْنَـةٍ (15)
تختوں پر جو جڑاؤ ہوں گے۔
مُّتَّكِئِيْنَ عَلَيْـهَا مُتَقَابِلِيْنَ (16)
آمنے سامنے تکیہ لگائے ہوئے بیٹھے ہوں گے۔
يَطُوْفُ عَلَيْـهِـمْ وِلْـدَانٌ مُّخَلَّـدُوْنَ (17)
ان کے پاس ایسے لڑکے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے آمد و رفت کیا کریں گے۔
بِاَكْوَابٍ وَّاَبَارِيْقَ وَكَاْسٍ مِّنْ مَّعِيْنٍ (18)
آبخورے اور آفتابے اور ایسا جام شراب لے کر جو بہتی ہوئی شراب سے بھرا جائے گا۔
لَّا يُصَدَّعُوْنَ عَنْـهَا وَلَا يُنْزِفُـوْنَ (19)
نہ اس سے ان کو دردِ سر ہوگا اور نہ اس سے عقل میں فتور آئے گا۔
وَفَاكِهَةٍ مِّمَّا يَتَخَيَّـرُوْنَ (20)
اور میوے جنہیں وہ پسند کریں گے۔
وَلَحْمِ طَيْـرٍ مِّمَّا يَشْتَهُوْنَ (21)
اور پرندوں کا گوشت جو ان کو مرغوب ہوگا۔
وَحُوْرٌ عِيْنٌ (22)
اور بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں۔
كَاَمْثَالِ اللُّـؤْلُـؤِ الْمَكْـنُـوْنِ (23)
جیسے موتی کئی تہوں میں رکھے ہوئے ہوں۔
جَزَآءً بِمَا كَانُـوْا يَعْمَلُوْنَ (24)
بدلے اس کے جو وہ کیا کرتے تھے۔
لَا يَسْـمَعُوْنَ فِيْـهَا لَغْوًا وَّلَا تَاْثِـيْمًا (25)
وہ وہاں کوئی لغو اور گناہ کی بات نہیں سنیں گے۔
اِلَّا قِيْلًا سَلَامًا سَلَامًا (26)
مگر سلام سلام کہنا۔
وَاَصْحَابُ الْيَمِيْنِ مَآ اَصْحَابُ الْيَمِيْنِ (27)
اور داہنے والے کیسے اچھے ہوں گے داہنے والے۔
فِى سِدْرٍ مَّخْضُودٍ (28)
وہ بے کانٹوں کی بیریوں میں ہوں گے۔
وَطَلْـحٍ مَّنْضُوْدٍ (29)
اور گتھے ہوئے کیلوں میں۔
وَظِلٍّ مَّمْدُوْدٍ (30)
اور لمبے سایوں میں۔
وَمَـآءٍ مَّسْكُـوْبٍ (31)
اور پانی کی آبشاروں میں۔
وَفَاكِهَـةٍ كَثِيْـرَةٍ (32)
اور با افراط میوں میں۔
لَّا مَقْطُوْعَةٍ وَّّلَا مَمْنُـوْعَةٍ (33)
جو نہ کبھی منقطع ہوں گے اور نہ ان میں روک ٹوک ہوگی۔
وَفُـرُشٍ مَّرْفُـوْعَةٍ (34)
اور اونچے فرشوں میں۔
اِنَّـآ اَنْـشَاْنَاهُنَّ اِنْـشَآءً (35)
بے شک ہم نے انہیں (حوروں کو) ایک عجیب انداز سے پیدا کیا ہے۔
فَجَعَلْنَاهُنَّ اَبْكَارًا (36)
پس ہم نے انہیں کنواریاں بنا دیا ہے۔
عُرُبًا اَتْـرَابًا (37)
دل لبھانے والی ہم عمر بنایا ہے۔
لِّاَصْحَابِ الْيَمِيْنِ (38)
داہنے والوں کے لیے۔
ثُلَّـةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ (39)
بہت سے پہلوں میں سے ہوں گے۔
وَثُلَّـةٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ (40)
اور بہت سے پچھلوں میں سے۔
وَاَصْحَابُ الشِّمَالِ مَآ اَصْحَابُ الشِّمَالِ (41)
اور بائیں والے کیسے برے ہیں بائیں والے۔
فِىْ سَمُـوْمٍ وَّحَـمِـيْمٍ (42)
وہ لووں (آگ) اور کھولتے ہوئے پانی میں ہوں گے۔
وَظِلٍّ مِّنْ يَّحْمُوْمٍ (43)
اور سیاہ دھوئیں کے سائے میں۔
لَّا بَارِدٍ وَّلَا كَرِيْـمٍ (44)
جو نہ ٹھنڈا ہوگا اور نہ راحت بخش۔
اِنَّـهُـمْ كَانُـوْا قَبْلَ ذٰلِكَ مُتْـرَفِيْنَ (45)
بے شک وہ اس سے پہلے خوش حال تھے۔
وَكَانُـوْا يُصِرُّوْنَ عَلَى الْحِنْثِ الْعَظِيْـمِ (46)
اور بڑے گناہ (شرک) پر اصرار کیا کرتے تھے۔
وَكَانُـوْا يَقُوْلُوْنَ اَئِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابًا وَّعِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ (47)
اور کہا کرتے تھے کیا جب ہم مر جائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہو جائیں گے تو کیا ہم پھر اٹھائے جائیں گے۔
اَوَاٰبَـآؤُنَا الْاَوَّلُوْنَ (48)
اور کیا ہمارے اگلے باپ دادا بھی۔
قُلْ اِنَّ الْاَوَّلِيْنَ وَالْاٰخِرِيْنَ (49)
کہہ دو بے شک پہلے بھی اور پچھلے بھی۔
لَمَجْمُوْعُوْنَ اِلٰى مِيْقَاتِ يَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ (50)
ایک معین تاریخ کے وقت پر جمع کیے جائیں گے۔
ثُـمَّ اِنَّكُمْ اَ يُّهَا الضَّآلُّوْنَ الْمُكَذِّبُوْنَ (51)
پھر بے شک تمہیں اے گمراہو جھٹلانے والو۔
لَاٰكِلُوْنَ مِنْ شَجَرٍ مِّنْ زَقُّوْمٍ (52)
البتہ تھوہر کا درخت کھانا ہوگا۔
فَمَالِئُوْنَ مِنْـهَا الْبُطُوْنَ (53)
پھر اس سے پیٹ بھرنے ہوں گے۔
فَشَارِبُوْنَ عَلَيْهِ مِنَ الْحَـمِـيْمِ (54)
پھر اس پر کھولتا ہوا پانی پینا ہوگا۔
فَشَارِبُوْنَ شُرْبَ الْهِـيْمِ (55)
پھر پینا ہوگا پیاسے اونٹوں کا سا پینا۔
هٰذَا نُزُلُـهُـمْ يَوْمَ الدِّيْنِ (56)
قیامت کے دن یہ ان کی مہمانی ہو گی۔
نَحْنُ خَلَقْنَاكُمْ فَلَوْلَا تُصَدِّقُوْنَ (57)
ہم نے ہی تمہیں پیدا کیا ہے پس کیوں تم تصدیق نہیں کرتے۔
اَفَرَاَيْتُـمْ مَّا تُمْنُـوْنَ (58)
بھلا دیکھو (تو) (منی) جو تم ٹپکاتے ہو۔
اَاَنْتُـمْ تَخْلُقُوْنَهٝٓ اَمْ نَحْنُ الْخَالِقُوْنَ (59)
کیا تم اسے پیدا کرتے ہو یا ہم ہی پیدا کرنے والے ہیں۔
نَحْنُ قَدَّرْنَا بَيْنَكُمُ الْمَوْتَ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوقِيْنَ (60)
ہم نے ہی تمہارے درمیان موت مقرر کر دی ہے اور ہم عاجز نہیں ہیں۔
عَلٰٓى اَنْ نُّبَدِّلَ اَمْثَالَكُمْ وَنُـنْشِئَكُمْ فِىْ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ (61)
اس بات سے کہ ہم تم جیسے لوگ بدل لائیں اور تمہیں ایسی صورت میں بنا کھڑا کریں جو تم نہیں جانتے۔
وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْاَةَ الْاُوْلٰى فَلَوْلَا تَذَكَّرُوْنَ (62)
اور تم پہلی پیدائش کو جان چکے ہو پھر کیوں تم غور نہیں کرتے۔
اَفَرَاَيْتُـمْ مَّا تَحْرُثُوْنَ (63)
بھلا دیکھو جو کچھ تم بوتے ہو۔
اَاَنْتُـمْ تَزْرَعُوْنَهٝٓ اَمْ نَحْنُ الزَّارِعُوْنَ (64)
کیا تم اسے اگاتے ہو یا ہم اگانے والے ہیں۔
لَوْ نَشَآءُ لَجَعَلْنَاهُ حُطَامًا فَظَلْتُـمْ تَفَكَّـهُوْنَ (65)
اگر ہم چاہیں تو اسے چورا چورا کر دیں پھر تم تعجب کرتے رہ جاؤ۔
اِنَّا لَمُغْرَمُوْنَ (66)
کہ بے شک ہم پر تو تاوان پڑ گیا۔
بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ (67)
بلکہ ہم بے نصیب ہو گئے۔
اَفَرَاَيْتُمُ الْمَآءَ الَّـذِىْ تَشْرَبُوْنَ (68)
بھلا دیکھو تو سہی وہ پانی جو تم پیتے ہو۔
اَاَنْـتُـمْ اَنْزَلْتُمُوْهُ مِنَ الْمُزْنِ اَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُوْنَ (69)
کیا تم نے اسے بادل سے اتارا ہے یا ہم اتارنے والے ہیں۔
لَوْ نَشَآءُ جَعَلْنَاهُ اُجَاجًا فَلَوْلَا تَشْكُـرُوْنَ (70)
اگر ہم چاہیں تو اسے کھاری کر دیں پس کیوں تم شکر نہیں کرتے۔
اَفَرَاَيْتُمُ النَّارَ الَّتِىْ تُوْرُوْنَ (71)
بھلا دیکھو تو سہی وہ آگ جو تم سلگاتے ہو۔
اَاَنْتُـمْ اَنْشَاْتُـمْ شَجَرَتَهَآ اَمْ نَحْنُ الْمُنْشِئُـوْنَ (72)
کیا تم نے اس کا درخت پیدا کیا ہے یا ہم پیدا کرنے والے ہیں۔
نَحْنُ جَعَلْنَاهَا تَذْكِـرَةً وَّّمَتَاعًا لِّلْمُقْوِيْنَ (73)
ہم نے اسے یادگار اور مسافروں کے لیے فائدہ کی چیز بنا دیا ہے۔
فَسَبِّـحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِـيْمِ (74)
پس اپنے رب کے نام کی تسبیح کر جو بڑا عظمت والا ہے۔
فَلَآ اُقْسِمُ بِمَوَاقِــعِ النُّجُوْمِ (75)
پھر میں تاروں کے ڈوبنے کی قسم کھاتا ہوں۔
وَاِنَّهٝ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُوْنَ عَظِـيْمٌ (76)
اور بے شک اگر سمجھو تو یہ بڑی قسم ہے۔
اِنَّهٝ لَقُرْاٰنٌ كَرِيْـمٌ (77)
کہ بے شک یہ قرآن بڑی شان والا ہے۔
فِىْ كِتَابٍ مَّكْـنُـوْنٍ (78)
ایک پوشیدہ کتاب میں لکھا ہوا ہے۔
لَّا يَمَسُّهٝٓ اِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَ (79)
جسے بغیر پاکو ں کے اور کوئی نہیں چھوتا۔
تَنْزِيْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعَالَمِيْنَ (80)
پروردگار عالم کی طرف سے نازل ہوا ہے۔
اَفَبِهٰذَا الْحَدِيْثِ اَنْـتُـمْ مُّدْهِنُـوْنَ (81)
سو کیا تم اس کلام کو سرسری بات سمجھتے ہو۔
وَتَجْعَلُوْنَ رِزْقَكُمْ اَنَّكُمْ تُكَـذِّبُوْنَ (82)
اور اپنا حصہ تم یہی لیتے ہو کہ اسے جھٹلاتے ہو۔
فَلَوْلَآ اِذَا بَلَغَتِ الْحُلْـقُوْمَ (83)
پھر کس لیے روح کو روک نہیں لیتے جب کہ وہ گلے تک آ جاتی ہے۔
وَاَنْتُـمْ حِيْنَئِذٍ تَنْظُرُوْنَ (84)
اور تم اس وقت دیکھا کرتے ہو۔
وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَيْهِ مِنْكُمْ وَلٰكِنْ لَّا تُبْصِرُوْنَ (85)
اور تم سے زیادہ ہم اس کے قریب ہوتے ہیں لیکن تم نہیں دیکھتے۔
فَلَوْلَآ اِنْ كُنْـتُـمْ غَيْـرَ مَدِيْنِيْنَ (86)
پس اگر تمہارا حساب کتاب ہونے والا نہیں ہے۔
تَـرْجِعُوْنَهَآ اِنْ كُنْـتُـمْ صَادِقِيْنَ (87)
تو تم اس روح کو کیوں نہیں لوٹا دیتے اگر تم سچے ہو۔
فَاَمَّـآ اِنْ كَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِيْنَ (88)
پھر (جب قیامت آئے گی) اگر وہ مقربین میں سے ہے۔
فَرَوْحٌ وَّرَيْحَانٌ وَّّجَنَّتُ نَعِـيْمٍ (89)
تو (اس کے لیے) راحت اور خوشبو ہیں اور عیش کے باغ ہیں۔
وَاَمَّـآ اِنْ كَانَ مِنْ اَصْحَابِ الْيَمِيْنِ (90)
اور اگر وہ داہنے والوں میں سے ہے۔
فَسَلَامٌ لَّكَ مِنْ اَصْحَابِ الْيَمِيْنِ (91)
تو اے شخص تو جو داہنے والوں میں سے ہے تجھ پر سلام ہو۔
وَاَمَّـآ اِنْ كَانَ مِنَ الْمُكَـذِّبِيْنَ الضَّآلِّيْنَ (92)
اور اگر وہ جھٹلانے والے گمراہوں میں سے ہے۔
فَنُزُلٌ مِّنْ حَـمِـيْمٍ (93)
تو کھولتا ہوا پانی مہمانی ہے۔
وَتَصْلِيَةُ جَحِـيْمٍ (94)
اور دوزخ میں داخل ہونا ہے۔
اِنَّ هٰذَا لَـهُوَ حَقُّ الْيَقِيْنِ (95)
بے شک یہ تحقیقی یقینی بات ہے۔
فَسَبِّـحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِـيْمِ (96)
پس اپنے رب کے نام تسبیح کر جو بڑا عظمت والا ہے۔