قرآن حکیم            

مکمل سورت
سورت نمبر
آیت نمبر
ایک آیت
(52) سورۃ الطور (مکی، آیات 49)
بِسْمِ اللّـٰهِ الرَّحْـمٰنِ الرَّحِيْـمِ
وَالطُّوْرِ (1)
قسم ہے طور کی۔
وَكِتَابٍ مَّسْطُوْرٍ (2)
اور اس کتاب کی جو لکھی گئی ہے۔
فِىْ رَقٍّ مَّنشُوْرٍ (3)
کشادہ ورقوں میں۔
وَالْبَيْتِ الْمَعْمُوْرِ (4)
اور آباد گھر کی قسم ہے۔
وَالسَّقْفِ الْمَرْفُـوْعِ (5)
اور اونچی چھت کی۔
وَالْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ (6)
اور جوش مارتے ہوئے سمندر کی۔
اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِـعٌ (7)
بے شک آپ کے رب کا عذاب واقع ہو کر رہے گا۔
مَّا لَـهٝ مِنْ دَافِــعٍ (8)
اسے کوئی ٹالنے والا نہیں ہے۔
يَوْمَ تَمُوْرُ السَّمَآءُ مَوْرًا (9)
جس دن آسمان تھرتھرا کر لرزنے لگے گا۔
وَتَسِيْـرُ الْجِبَالُ سَيْـرًا (10)
اور پہاڑ تیزی سے چلنے لگیں گے۔
فَوَيْلٌ يَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَـذِّبِيْنَ (11)
پس اس دن جھٹلانے والوں کے لیے ہلاکت ہے۔
اَلَّـذِيْنَ هُـمْ فِىْ خَوْضٍ يَّلْعَبُوْنَ (12)
جو جھوٹی باتوں میں لگے ہوئے کھیل رہے ہیں۔
يَوْمَ يُدَعُّوْنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّـمَ دَعًّا (13)
جس دن وہ دوزخ کی آگ کی طرف بری طرح سے دھکیلے جائیں گے۔
هٰذِهِ النَّارُ الَّتِىْ كُنْـتُـمْ بِـهَا تُكَذِّبُوْنَ (14)
یہی وہ آگ ہے جسے تم دنیا میں جھٹلاتے تھے۔
اَفَسِحْرٌ هٰذَآ اَمْ اَنْـتُـمْ لَا تُبْصِرُوْنَ (15)
پس کیا یہ جادو ہے یا تم دیکھتے نہیں۔
اِصْلَوْهَا فَاصْبِـرُوٓا اَوْ لَا تَصْبِـرُوْاۚ سَوَآءٌ عَلَيْكُمْ ۖ اِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنْـتُـمْ تَعْمَلُوْنَ (16)
اس میں داخل ہو جاؤ پس تم صبر کرو یا نہ کرو، تم پر برابر ہے، تمہیں تو ویسا ہی بدلہ دیا جائے گا جیسا تم کرتے تھے۔
اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِىْ جَنَّاتٍ وَّّنَعِـيْمٍ (17)
بے شک پرہیزگار باغوں اور نعمتوں میں ہوں گے۔
فَاكِهِيْنَ بِمَآ اٰتَاهُـمْ رَبُّهُمْۚ وَوَقَاهُـمْ رَبُّهُـمْ عَذَابَ الْجَحِـيْمِ (18)
محظوظ ہو رہے ہوں گے اس سے جو انہیں ان کے رب نے عطا کی ہے، اور ان کو ان کے رب نے عذاب دوزخ سے بچا دیا ہے۔
كُلُوْا وَاشْرَبُوْا هَنِـيٓـئًا بِمَا كُنْتُـمْ تَعْمَلُوْنَ (19)
مزے سے کھاؤ اور پیو بدلے ان (اعمال) کے جو تم کیا کرتے تھے۔
مُتَّكِئِيْنَ عَلٰى سُرُرٍ مَّصْفُوْفَـةٍ ۖ وَزَوَّجْنَاهُـمْ بِحُوْرٍ عِيْنٍ (20)
تختوں پر تکیہ لگائے ہوئے جو قطاروں میں بچھے ہوئے ہیں، اور ہم ان کا نکاح بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں سے کر دیں گے۔
وَالَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا وَاتَّبَعَتْهُـمْ ذُرِّيَّتُهُـمْ بِاِيْمَانٍ اَلْحَقْنَا بِـهِـمْ ذُرِّيَّتَـهُـمْ وَمَآ اَلَتْنَاهُـمْ مِّنْ عَمَلِهِـمْ مِّنْ شَىْءٍ ۚ كُلُّ امْرِئٍ بِمَا كَسَبَ رَهِيْنٌ (21)
اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد نے ایمان میں ان کی پیروی کی ہم ان کے ساتھ ان کی اولاد کو بھی (جنت) میں ملا دیں گے اور ان کے عمل میں سے کچھ بھی کم نہ کریں گے، ہر شخص اپنے عمل کے ساتھ وابستہ ہے۔
وَاَمْدَدْنَاهُـمْ بِفَاكِهَةٍ وَّّلَحْمٍ مِّمَّا يَشْتَهُوْنَ (22)
اور ہم انہیں اور زیادہ میوے دیں گے اور گوشت جو وہ چاہیں گے۔
يَتَنَازَعُوْنَ فِيْـهَا كَاْسًا لَّا لَغْوٌ فِيْـهَا وَلَا تَاْثِـيْـمٌ (23)
وہاں ایک دوسرے سے شراب کا پیالہ لیں گے جس میں نہ بکواس ہو گی نہ گناہ کا کام۔
وَيَطُوْفُ عَلَيْـهِـمْ غِلْمَانٌ لَّـهُـمْ كَاَنَّـهُـمْ لُـؤْلُـؤٌ مَّكْنُـوْنٌ (24)
اور ان کے پاس لڑکے ان کی خدمت کے لیے پھر رہے ہوں گے، گویا وہ غلافوں میں رکھے ہوئے موتی ہیں۔
وَاَقْبَلَ بَعْضُهُـمْ عَلٰى بَعْضٍ يَّتَسَآءَلُوْنَ (25)
اور ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر آپس میں پوچھیں گے۔
قَالُوٓا اِنَّا كُنَّا قَبْلُ فِىٓ اَهْلِنَا مُشْفِقِيْنَ (26)
کہیں گے ہم تو اس سے پہلے اپنے گھروں میں ڈرا کرتے تھے۔
فَمَنَّ اللّـٰهُ عَلَيْنَا وَوَقَانَا عَذَابَ السَّمُوْمِ (27)
پس اللہ نے ہم پر احسان کیا اور ہمیں لو کے عذاب سے بچا لیا۔
اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلُ نَدْعُوْهُ ۖ اِنَّهٝ هُوَ الْبَـرُّ الرَّحِيْـمُ (28)
بے شک ہم اس سے پہلے اسے پکارا کرتے تھے، بے شک وہ بڑا ہی احسان کرنے والا نہایت رحم والا ہے۔
فَذَكِّرْ فَمَآ اَنْتَ بِنِعْمَتِ رَبِّكَ بِكَاهِنٍ وَّلَا مَجْنُـوْنٍ (29)
پس نصیحت کرتے رہیے، آپ اپنے رب کے فضل سے نہ کاہن ہیں نہ دیوانہ ہیں۔
اَمْ يَقُوْلُوْنَ شَاعِرٌ نَّتَـرَبَّصُ بِهٖ رَيْبَ الْمَنُـوْنِ (30)
کیا وہ کہتے ہیں کہ وہ شاعر ہے، ہم اس پر گردشِ زمانہ کا انتظار کر رہے ہیں۔
قُلْ تَـرَبَّصُوْا فَاِنِّىْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُتَـرَبِّصِيْنَ (31)
کہہ دو تم انتظار کرتے رہو بے شک میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں۔
اَمْ تَاْمُرُهُـمْ اَحْلَامُهُـم بِـهٰذَا ۚ اَمْ هُـمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَ (32)
کیا ان کی عقلیں انہیں اس بات کا حکم دیتی ہیں یا وہ خود ہی سرکش ہیں۔
اَمْ يَقُوْلُوْنَ تَقَوَّلَـهٝ ۚ بَلْ لَّا يُؤْمِنُـوْنَ (33)
یا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے خود بنا لیا ہے، بلکہ وہ ایمان ہی نہیں لاتے۔
فَلْيَاْتُوْا بِحَدِيْثٍ مِّثْلِـهٓ ٖ اِنْ كَانُـوْا صَادِقِيْنَ (34)
پس کوئی کلام اس جیسا لے آئیں اگر وہ سچے ہیں۔
اَمْ خُلِقُوْا مِنْ غَيْـرِ شَىْءٍ اَمْ هُـمُ الْخَالِقُوْنَ (35)
کیا وہ بغیر کسی خالق کے پیدا ہو گئے ہیں یا وہ خود خالق ہیں۔
اَمْ خَلَقُوا السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضَ ۚ بَلْ لَّا يُوْقِنُـوْنَ (36)
یا انہوں نے آسمانوں اور زمین کو بنایا ہے، نہیں بلکہ وہ یقین ہی نہیں کرتے۔
اَمْ عِنْدَهُـمْ خَزَآئِنُ رَبِّكَ اَمْ هُـمُ الْمُصَيْطِرُوْنَ (37)
کیا ان کے پاس آپ کے رب کے خزانے ہیں یا وہ داروغہ ہیں۔
اَمْ لَـهُـمْ سُلَّـمٌ يَّسْتَمِعُوْنَ فِيْهِ ۖ فَلْيَاْتِ مُسْتَمِعُهُـمْ بِسُلْطَانٍ مُّبِيْنٍ (38)
کیا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے کہ وہ اس پر چڑھ کر سن آتے ہیں، تو لے آئے ان میں سے سننے والا کوئی دلیل واضح۔
اَمْ لَـهُ الْبَنَاتُ وَلَكُمُ الْبَنُـوْنَ (39)
کیا اس (اللہ) کے لیے تو بیٹیاں ہیں اور تمہارے لیے بیٹے۔
اَمْ تَسْاَلُـهُـمْ اَجْرًا فَهُـمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُوْنَ (40)
کیا آپ ان سے کوئی صلہ مانگتے ہیں کہ وہ تاوان سے دبے جا رہے ہیں۔
اَمْ عِنْدَهُـمُ الْغَيْبُ فَـهُـمْ يَكْـتُبُوْنَ (41)
یا ان کے پاس علم غیب ہے کہ وہ اسے لکھتے رہتے ہیں۔
اَمْ يُرِيْدُوْنَ كَيْدًا ۖ فَالَّـذِيْنَ كَفَرُوْا هُـمُ الْمَكِـيْدُوْنَ (42)
کیا وہ کوئی داؤ کرنا چاہتے ہیں، پس جو منکر ہیں وہی داؤ میں آئے ہوئے ہیں۔
اَمْ لَـهُـمْ اِلٰـهٌ غَيْـرُ اللّـٰهِ ۚ سُبْحَانَ اللّـٰهِ عَمَّا يُشْرِكُـوْنَ (43)
کیا سوائے اللہ کے ان کا کوئی اور معبود ہے، اللہ اس سے پاک ہے جو وہ شریک ٹھہراتے ہیں۔
وَاِنْ يَّرَوْا كِسْفًا مِّنَ السَّمَآءِ سَاقِطًا يَّقُوْلُوْا سَحَابٌ مَّرْكُوْمٌ (44)
اگر وہ ایک ٹکڑا آسمان سے گرتا ہوا دیکھ لیں تو کہہ دیں کہ تہ بہ تہ جما ہوا بادل ہے۔
فَذَرْهُـمْ حَتّـٰى يُلَاقُوْا يَوْمَهُـمُ الَّـذِىْ فِيْهِ يُصْعَقُوْنَ (45)
پس آپ انہیں چھوڑ دیجیے یہاں تک کہ وہ اپنا وہ دن دیکھ لیں جس میں وہ بے ہوش ہو کر گر پڑیں گے۔
يَوْمَ لَا يُغْنِىْ عَنْـهُـمْ كَيْدُهُـمْ شَيْئًا وَّلَا هُـمْ يُنْصَرُوْنَ (46)
جس دن ان کا داؤ ان کے کچھ بھی کام نہ آئے گا اور نہ انہیں مدد دی جائے گی۔
وَاِنَّ لِلَّـذِيْنَ ظَلَمُوْا عَذَابًا دُوْنَ ذٰلِكَ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَهُـمْ لَا يَعْلَمُوْنَ (47)
اور بے شک ان ظالموں کو اس کے علاوہ ایک عذاب (دنیا میں) ہوگا لیکن اکثر ان میں سے نہیں جانتے۔
وَاصْبِـرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَاِنَّكَ بِاَعْيُنِنَا ۖ وَسَبِّـحْ بِحَـمْدِ رَبِّكَ حِيْنَ تَقُوْمُ (48)
اور اپنے رب کا حکم آنے تک صبر کر، کیونکہ بے شک آپ ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں، اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کیجیے جب آپ اٹھا کریں۔
وَمِنَ اللَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَاِدْبَارَ النُّجُوْمِ (49)
اور (کچھ حصہ رات میں بھی) اس کی تسبیح کیا کیجیے اور ستاروں کے غروب ہونے کے بعد بھی۔