قرآن حکیم            

مکمل سورت
سورت نمبر
آیت نمبر
ایک آیت
(5) سورۃ المائدۃ (مدنی، آیات 120)
بِسْمِ اللّـٰهِ الرَّحْـمٰنِ الرَّحِيْـمِ
يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوٓا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ ۚ اُحِلَّتْ لَكُمْ بَـهِيْمَةُ الْاَنْعَامِ اِلَّا مَا يُتْلٰى عَلَيْكُمْ غَيْـرَ مُحِـلِّى الصَّيْدِ وَاَنْتُـمْ حُرُمٌ ۗ اِنَّ اللّـٰهَ يَحْكُمُ مَا يُرِيْدُ (1)
اے ایمان والو! عہدوں کو پورا کرو، تمہارے لیے چوپائے مویشی حلال ہیں سوائے ان کے جو تمہیں آگے سنائے جائیں گے مگر شکار کو احرام کی حالت میں حلال نہ جانو، اللہ جو چاہے حکم دیتا ہے۔
يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا لَا تُحِلُّوْا شَعَآئِرَ اللّـٰهِ وَلَا الشَّهْرَ الْحَرَامَ وَلَا الْـهَدْىَ وَلَا الْقَلَآئِدَ وَلَآ آمِّيْنَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ يَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنْ رَّبِّـهِـمْ وَرِضْوَانًا ۚ وَاِذَا حَلَلْتُـمْ فَاصْطَادُوْا ۚ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَـاٰنُ قَوْمٍ اَنْ صَدُّوْكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اَنْ تَعْتَدُوْا ۘ وَتَعَاوَنُـوْا عَلَى الْبِـرِّ وَالتَّقْوٰى ۖ وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْـمِ وَالْعُدْوَانِ ۚ وَاتَّقُوا اللّـٰهَ ۖ اِنَّ اللّـٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ (2)
اے ایمان والو! اللہ کی نشانیوں کو (بے حرمتی والے کاموں کے لیے) حلال نہ سمجھو اور نہ حرمت والے مہینے کو اور نہ حرم میں قربان ہونے والے جانور کو اور نہ ان جانوروں کو جن کے گلے میں پٹے پڑے ہوئے ہوں اور نہ حرمت والے گھر کی طرف آنے والوں کو جو اپنے رب کا فضل اور اس کی خوشی ڈھونڈتے ہیں، اور جب تم احرام کھول دو پھر شکار کرو، اور تمہیں اس قوم کی دشمنی جو کہ تمہیں حرمت والی مسجد سے روکتی تھی اس بات کا باعث نہ بنے کہ زیادتی کرنے لگو، اور آپس میں نیک کام اور پرہیزگاری پر مدد کرو، اور گناہ اور ظلم پر مدد نہ کرو، اور اللہ سے ڈرو، بے شک اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔
حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالـدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنزِيْرِ وَمَآ اُهِلَّ لِغَيْـرِ اللّـٰهِ بِهٖ وَالْمُنْخَنِقَةُ وَالْمَوْقُوْذَةُ وَالْمُتَـرَدِّيَةُ وَالنَّطِيْحَةُ وَمَآ اَكَلَ السَّبُعُ اِلَّا مَا ذَكَّيْتُـمْۚ وَمَا ذُبِـحَ عَلَى النُّصُبِ وَاَنْ تَسْتَقْسِمُوْا بِالْاَزْلَامِ ۚ ذٰلِكُمْ فِسْقٌ ۗ اَلْيَوْمَ يَئِـسَ الَّـذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ دِيْنِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُـمْ وَاخْشَوْنِ ۚ اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِىْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ فِىْ مَخْمَصَةٍ غَيْـرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثْـمٍ ۙ فَاِنَّ اللّـٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْـمٌ (3)
تم پر مردار اور لہو اور سور کا گوشت حرام کیا گیا ہے اور وہ جانور جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے اور جو گلا دبا کر یا چوٹ سے یا بلندی سے گر کر یا سینگ مارنے سے مر گیا ہو اور وہ جسے کسی درندے نے پھاڑ ڈالا ہو مگر جسے تم نے ذبح کر لیا ہو، اور وہ جو کسی تھان (پرستش گاہوں) پر ذبح کیا جائے اور وہ (جن کے حصے) جوئے کے تیروں سے تقسیم کرو، یہ (سب کچھ) گناہ ہے، آج تمہارے دین سے کافر نا امید ہو گئے سو ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو، آج میں تمہارے لیے تمہارا دین پورا کر چکا اور میں نے تم پر اپنا احسان پورا کر دیا اور میں نے تمہارے لیے اسلام ہی کو دین پسند کیا ہے، پھر جو کوئی بھوک سے بے تاب ہو جائے لیکن گناہ پر مائل نہ ہو تو اللہ معاف کرنے والا مہربان ہے۔
يَسْاَلُوْنَكَ مَاذَآ اُحِلَّ لَـهُـمْ ۖ قُلْ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ ۙ وَمَا عَلَّمْتُـمْ مِّنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِيْنَ تُعَلِّمُوْنَـهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ اللّـٰهُ ۖ فَكُلُوْا مِمَّآ اَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ وَاذْكُرُوا اسْـمَ اللّـٰهِ عَلَيْهِ ۖ وَاتَّقُوا اللّـٰهَ ۚ اِنَّ اللّـٰهَ سَرِيْعُ الْحِسَابِ (4)
تجھ سے پوچھتے ہیں کہ ان کے لیے کیا چیز حلال ہے، کہہ دو تمہارے لیے سب پاکیزہ چیزیں حلال کی گئی ہیں، اور جو شکاری جانور جسے شکار پر دوڑنے کی تعلیم دو کہ انہیں سکھاتے ہو اس میں سے جو اللہ نے تمہیں سکھایا ہے، سو اس میں سے کھاؤ جو وہ تمہارے لیے پکڑ رکھیں اور اس پر اللہ کا نام لو، اور اللہ سے ڈرتے رہو، بے شک اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔
اَلْيَوْمَ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ ۖ وَطَعَامُ الَّـذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتَابَ حِلٌّ لَّكُمْ وَطَعَامُكُمْ حِلٌّ لَّـهُـمْ ۖ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الَّـذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ اِذَآ اٰتَيْتُمُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ مُحْصِنِيْنَ غَيْـرَ مُسَافِحِيْنَ وَلَا مُتَّخِذِىٓ اَخْدَانٍ ۗ وَمَنْ يَّكْـفُرْ بِالْاِيْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُـهٝ وَهُوَ فِى الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِيْنَ (5)
آج تمہارے واسطے سب پاکیزہ چیزیں حلال کی گئی ہیں، اور اہل کتاب کا کھانا تمہیں حلال ہے اور تمہارا کھانا انہیں حلال ہے، اور (تمہارے لیے حلال ہیں) پاک دامن مسلمان عورتیں اور ان پاک دامن عورتوں میں سے جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی ہے جب کہ ان کے مہر انہیں دے دو ایسے حال میں کہ نکاح میں لانے والے ہو نہ کہ بدکاری کرنے والے اور نہ خفیہ آشنائی کرنے والے، اور جو ایمان سے منکر ہوا تو اس کی محنت ضائع ہوئی اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔
يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوٓا اِذَا قُمْتُـمْ اِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْهَكُمْ وَاَيْدِيَكُمْ اِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوْا بِـرُءُوْسِكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ اِلَى الْكَعْبَيْنِ ۚ وَاِنْ كُنْتُـمْ جُنُـبًا فَاطَّهَّرُوْا ۚ وَاِنْ كُنْتُـمْ مَّرْضٰٓى اَوْ عَلٰى سَفَرٍ اَوْ جَآءَ اَحَدٌ مِّنْكُمْ مِّنَ الْغَـآئِطِ اَوْ لَامَسْتُـمُ النِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً فَـتَيَمَّمُوْا صَعِيْدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَاَيْدِيْكُمْ مِّنْهُ ۚ مَا يُرِيْدُ اللّـٰهُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُمْ مِّنْ حَرَجٍ وَّلٰكِنْ يُّرِيْدُ لِيُطَهِّرَكُمْ وَلِيُـتِـمَّ نِعْمَتَهٝ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُـرُوْنَ (6)
اے ایمان والو! جب تم نماز کے لیے اٹھو تو اپنے منہ اور کہنیوں تک ہاتھ دھو لو اور اپنے سروں پر مسح کرو اور اپنے پاؤں ٹخنوں تک دھو لو، اور اگر تم ناپاک ہو تو نہا لو، اور اگر تم بیمار ہو یا سفر پر ہو یا کوئی تم میں سے جائے ضرور (رفع حاجت) سے آیا ہو یا عورتوں کے پاس گئے ہو پھر تم پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمم کر لو اور اسے اپنے مونہوں اور ہاتھوں پر مل لو، اللہ تم پر تنگی نہیں کرنا چاہتا لیکن تمہیں پاک کرنا چاہتا ہے اور تاکہ اپنا احسان تم پر پورا کرے تاکہ تم شکر کرو۔
وَاذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّـٰهِ عَلَيْكُمْ وَمِيْثَاقَهُ الَّـذِىْ وَاثَقَكُمْ بِهٓ ٖ ۙ اِذْ قُلْتُـمْ سَـمِعْنَا وَاَطَعْنَا ۖ وَاتَّقُوا اللّـٰهَ ۚ اِنَّ اللّـٰهَ عَلِيْـمٌ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ (7)
اور اللہ کا انعام جو تم پر ہوا ہے اسے یاد کرو اور اس کا عہد جس کا تم سے معاہدہ کیا ہے، جب تم نے کہا تھا کہ ہم نے سنا اور مان لیا، اور اللہ سے ڈرتے رہو، اللہ دلوں کی بات خوب جانتا ہے۔
يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا كُـوْنُـوْا قَوَّامِيْنَ لِلّـٰهِ شُهَدَآءَ بِالْقِسْطِ ۖ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَـاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓى اَلَّا تَعْدِلُوْا ۚ اِعْدِلُوْا هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى ۖ وَاتَّقُوا اللّـٰهَ ۚ اِنَّ اللّـٰهَ خَبِيْـرٌ بِمَا تَعْمَلُوْنَ (8)
اے ایمان والو! اللہ کے واسطے انصاف کی گواہی دینے کے لیے کھڑے ہو جاؤ، اور کسی قوم کی دشمنی کے باعث انصاف کو ہرگز نہ چھوڑو، انصاف کرو کہ یہی بات تقویٰ کے زیادہ نزدیک ہے، اور اللہ سے ڈرتے رہو، بے شک اللہ اس سے خبردار ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔
وَعَدَ اللّـٰهُ الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ۙ لَـهُـمْ مَّغْفِرَةٌ وَّاَجْرٌ عَظِيْـمٌ (9)
اللہ نے وعدہ کیا ہے ان لوگوں سے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک کام کیے کہ ان کے لیے بخشش ہے اور بڑا اجر ہے۔
وَالَّـذِيْنَ كَفَرُوْا وَكَذَّبُوْا بِاٰيَاتِنَا اُولٰٓئِكَ اَصْحَابُ الْجَحِيْـمِ (10)
اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیتیں جھٹلائیں وہ دوزخی ہیں۔
يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّـٰهِ عَلَيْكُمْ اِذْ هَـمَّ قَوْمٌ اَنْ يَّبْسُطُـوٓا اِلَيْكُمْ اَيْدِيَـهُـمْ فَكَـفَّ اَيْدِيَـهُـمْ عَنْكُمْ ۖ وَاتَّقُوا اللّـٰهَ ۚ وَعَلَى اللّـٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُـوْنَ (11)
اے ایمان والو! اللہ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو جب لوگوں نے ارادہ کیا کہ تم پر دست درازی کریں پھر اللہ نے ان کے ہاتھ تم پر اٹھنے سے روک دیے، اور اللہ سے ڈرتے رہو، اور ایمان والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے۔
وَلَقَدْ اَخَذَ اللّـٰهُ مِيْثَاقَ بَنِىٓ اِسْرَآئِيْلَۚ وَبَعَثْنَا مِنْـهُـمُ اثْنَىْ عَشَرَ نَقِيْبًا ۖ وَقَالَ اللّـٰهُ اِنِّـىْ مَعَكُمْ ۖ لَئِنْ اَقَمْتُـمُ الصَّلَاةَ وَاٰتَيْتُـمُ الزَّكَاةَ وَاٰمَنْتُـمْ بِـرُسُلِىْ وَعَزَّرْتُمُوْهُـمْ وَاَقْرَضْتُـمُ اللّـٰهَ قَرْضًا حَسَنًا لَّاُكَفِّرَنَّ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَلَاُدْخِلَنَّكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِىْ مِنْ تَحْتِـهَا الْاَنْـهَارُ ۚ فَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِيْلِ (12)
اور اللہ نے بنی اسرائیل سے عہد لیا تھا، اور ہم نے ان میں سے بارہ سردار مقرر کیے، اور اللہ نے کہا میں تمہارے ساتھ ہوں، اگر تم نماز کی پابندی کرو گے اور زکوٰۃ دیتے رہو گے اور میرے سب رسولوں پر ایمان لاؤ گے اور ان کی مدد کرو گے اور اللہ کو اچھے طور پر قرض دیتے رہو گے تو میں ضرور تمہارے گناہ تم سے دور کردوں گا اور تمہیں باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، پھر جو کوئی تم میں سے اس کے بعد کافر ہوا تو بے شک وہ سیدھے راستے سے گمراہ ہوا۔
فَبِمَا نَقْضِهِـمْ مِّيْثَاقَهُـمْ لَعَنَّاهُـمْ وَجَعَلْنَا قُلُوْبَـهُـمْ قَاسِيَةً ۚ يُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ ۙ وَنَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖ ۚ وَلَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلٰٓى خَآئِنَـةٍ مِّنْـهُـمْ اِلَّا قَلِيْلًا مِّنْـهُـمْ ۖ فَاعْفُ عَنْـهُـمْ وَاصْفَحْ ۚ اِنَّ اللّـٰهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ (13)
پھر ان کی عہد شکنی کے باعث ہم نے ان پر لعنت کی اور ان کے دلوں کو سخت کر دیا، وہ لوگ کلام کو اس کے ٹھکانے سے بدلتے ہیں، اور اس نصیحت سے نفع اٹھانا بھول گئے جو انہیں کی گئی تھی، اور تو ہمیشہ ان کی کسی نہ کسی خیانت پر اطلاع پاتا رہے گا مگر ان میں سے کچھ کے علاوہ، سو انہیں معاف کر اور درگزر کر، بے شک اللہ نیکی کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔
وَمِنَ الَّـذِيْنَ قَالُـوٓا اِنَّا نَصَارٰٓى اَخَذْنَا مِيْثَاقَهُـمْ فَنَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖۖ فَاَغْـرَيْنَا بَيْنَـهُـمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَآءَ اِلٰى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ۚ وَسَوْفَ يُنَبِّئُهُـمُ اللّـٰهُ بِمَا كَانُـوْا يَصْنَعُوْنَ (14)
اور جو لوگ اپنے آپ کو نصاریٰ کہتے ہیں ان سے بھی ہم نے عہد لیا تھا پھر وہ اس نصیحت سے نفع اٹھانا بھول گئے جو انہیں کی گئی تھی، پھر ہم نے ان کے درمیان ایک دوسرے کی دشمنی اور بغض قیامت تک کے لیے ڈال دیا، اور اللہ انہیں جتلائے گا جو کچھ وہ کرتے تھے۔
يَآ اَهْلَ الْكِتَابِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ كَثِيْـرًا مِّمَّا كُنْتُـمْ تُخْفُوْنَ مِنَ الْكِتَابِ وَيَعْفُوْا عَنْ كَثِيْـرٍ ۚ قَدْ جَآءَكُمْ مِّنَ اللّـٰهِ نُـوْرٌ وَّكِتَابٌ مُّبِيْنٌ (15)
اے اہل کتاب! تحقیق تمہارے پاس ہمارا رسول آیا ہے جو بہت سی چیزیں تم پر ظاہر کرتا ہے جنہیں تم کتاب میں سے چھپاتے تھے اور بہت سی چیزوں سے درگزر کرتا ہے، بے شک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے روشنی اور واضح کتاب آئی ہے۔
يَـهْدِىْ بِهِ اللّـٰهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهٝ سُبُلَ السَّلَامِ وَيُخْرِجُهُـمْ مِّنَ الظُّلُمَاتِ اِلَى النُّوْرِ بِاِذْنِهٖ وَيَـهْدِيْـهِـمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْـمٍ (16)
اللہ سلامتی کی راہیں دکھاتا ہے اسے جو اس کی رضا کا تابع ہو، اور ایسے لوگوں کو اپنے حکم سے اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالتا ہے، اور انہیں سیدھی راہ پر چلاتا ہے۔
لَّقَدْ كَفَرَ الَّـذِيْنَ قَالُـوٓا اِنَّ اللّـٰهَ هُوَ الْمَسِيْحُ ابْنُ مَرْيَـمَ ۚ قُلْ فَمَنْ يَّمْلِكُ مِنَ اللّـٰهِ شَيْئًا اِنْ اَرَادَ اَنْ يُّـهْلِكَ الْمَسِيْحَ ابْنَ مَرْيَـمَ وَاُمَّهٝ وَمَنْ فِى الْاَرْضِ جَـمِيْعًا ۗ وَلِلّـٰهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَيْنَـهُمَا ۚ يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ ۚ وَاللّـٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْرٌ (17)
بے شک وہ کافر ہوئے جنہوں نے کہا کہ اللہ تو وہی مریم کا بیٹا مسیح ہے، کہہ دے کہ پھر اللہ کے سامنے کس کا بس چل سکتا ہے اگر وہ چاہے کہ مریم کے بیٹے مسیح اور اس کی ماں اور جتنے لوگ زمین میں ہیں سب کو ہلاک کر دے، اور آسمانوں اور زمین اور ان دونوں کے درمیان کی سلطنت اللہ ہی کے لیے ہے، جو چاہے پیدا کرتا ہے، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
وَقَالَتِ الْيَـهُوْدُ وَالنَّصَارٰى نَحْنُ اَبْنَـآءُ اللّـٰهِ وَاَحِبَّـآؤُهٝ ۚ قُلْ فَلِمَ يُعَذِّبُكُمْ بِذُنُـوْبِكُمْ ۖ بَلْ اَنْتُـمْ بَشَـرٌ مِّمَّنْ خَلَقَ ۚ يَغْفِرُ لِمَنْ يَّشَآءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَّشَآءُ ۚ وَلِلّـٰهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَيْنَـهُمَا ۖ وَاِلَيْهِ الْمَصِيْـرُ (18)
اور یہود اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں، کہہ دو پھر تمہارے گناہوں کے باعث وہ تمہیں کیوں عذاب دیتا ہے، بلکہ تم بھی اور مخلوقات کی طرح ایک آدمی ہو، جسے چاہے بخش دے اور جسے چاہے سزا دے، اور آسمانوں اور زمین اور ان دونوں کے درمیان کی سلطنت اللہ ہی کے لیے ہے، اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
يَآ اَهْلَ الْكِتَابِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُـنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ عَلٰى فَتْـرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا جَآءَنَا مِنْ بَشِيْـرٍ وَّلَا نَذِيْرٍ ۖ فَقَدْ جَآءَكُمْ بَشِيْـرٌ وَّنَذِيْرٌ ۗ وَاللّـٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْرٌ (19)
اے اہل کتاب! تحقیق تمہارے پاس ہمارا پیغمبر آیا جو تمہیں صاف صاف بتلاتا ہے ایسے وقت میں جب کہ رسولوں کا سلسلہ موقوف تھا تاکہ تم یوں نہ کہنے لگو کہ ہمارے پاس کوئی خوشبخبری دینے والا اور ڈرانے والا نہیں آیا، سو تمہارے پاس خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا آ گیا ہے، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
وَاِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ يَا قَوْمِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّـٰهِ عَلَيْكُمْ اِذْ جَعَلَ فِيْكُمْ اَنْبِيَآءَ وَجَعَلَكُمْ مُّلُوْكًا ۖ وَاٰتَاكُمْ مَّا لَمْ يُؤْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعَالَمِيْنَ (20)
اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم! اللہ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو جب کہ تم میں نبی پیدا کیے اور تمہیں بادشاہ بنایا، اور تمہیں وہ دیا جو جہان میں کسی کو نہ دیا تھا۔
يَا قَوْمِ ادْخُلُوا الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِىْ كَتَبَ اللّـٰهُ لَكُمْ وَلَا تَـرْتَدُّوْا عَلٰٓى اَدْبَارِكُمْ فَـتَنْقَلِبُوْا خَاسِرِيْنَ (21)
اے میری قوم! اس پاک زمین میں داخل ہو جاؤ جو اللہ نے تمہارے لیے مقرر کر دی اور پیچھے نہ ہٹو ورنہ نقصان میں جا پڑو گے۔
قَالُوْا يَا مُوْسٰٓى اِنَّ فِيْـهَا قَوْمًا جَبَّارِيْنَۖ وَاِنَّا لَنْ نَّدْخُلَـهَا حَتّـٰى يَخْرُجُوْا مِنْـهَاۚ فَاِنْ يَّخْرُجُوْا مِنْـهَا فَاِنَّا دَاخِلُوْنَ (22)
انہوں نے کہا اے موسیٰ! بے شک وہاں ایک زبردست قوم ہے، اور ہم وہاں ہرگز نہ جائیں گے یہاں تک کہ وہ وہاں سے نکل جائیں، پھر اگر وہ وہاں سے نکل جائیں تو ہم ضرور داخل ہوں گے۔
قَالَ رَجُلَانِ مِنَ الَّـذِيْنَ يَخَافُوْنَ اَنْعَمَ اللّـٰهُ عَلَيْـهِمَا ادْخُلُوْا عَلَيْـهِـمُ الْبَابَۚ فَاِذَا دَخَلْتُمُوْهُ فَاِنَّكُمْ غَالِبُوْنَ ۚ وَعَلَى اللّـٰهِ فَتَوَكَّلُـوٓا اِنْ كُنْتُـمْ مُّؤْمِنِيْنَ (23)
اللہ سے ڈرنے والوں میں سے ان دو مردوں نے کہا جن پر اللہ کا فضل تھا کہ ان پر حملہ کر کے دروازہ میں گھس جاؤ، پھر جب تم اس میں گھس جاؤ گے تو تم ہی غالب ہو گے، اور اللہ پر بھروسہ رکھو اگر تم ایمان دار ہو۔
قَالُوْا يَا مُوْسٰٓى اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَـهَآ اَبَدًا مَّا دَامُوْا فِيْـهَا ۖ فَاذْهَبْ اَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَآ اِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُوْنَ (24)
کہا اے موسیٰ! ہم کبھی وہاں داخل نہیں ہوں گے جب تک کہ وہ اس میں ہیں، سو تو اور تیرا رب جائے اور تم دونوں لڑو ہم تو یہیں بیٹھے ہیں۔
قَالَ رَبِّ اِنِّـىْ لَآ اَمْلِكُ اِلَّا نَفْسِىْ وَاَخِىْ ۖ فَافْرُقْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقَوْمِ الْفَاسِقِيْنَ (25)
موسیٰ نے کہا اے میرے رب! میرے اختیار میں تو سوائے میری جان اور میرے بھائی کے اور کوئی نہیں، سو جدائی ڈال دے ہمارے اور اس نافرمان قوم کے درمیان۔
قَالَ فَاِنَّـهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَيْـهِـمْ اَرْبَعِيْنَ سَنَةً ۚ يَتِيْـهُوْنَ فِى الْاَرْضِ ۚ فَلَا تَاْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْفَاسِقِيْنَ (26)
فرمایا تحقیق وہ زمین ان پر چالیس برس کے لیے حرام کی گئی ہے، اس ملک میں سرگرداں پھریں گے، سو تو افسوس نہ کر نافرمان قوم پر۔
وَاتْلُ عَلَيْـهِـمْ نَبَاَ ابْنَىْ اٰدَمَ بِالْحَقِّۘ اِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ اَحَدِهِمَا وَلَمْ يُتَقَبَّلْ مِنَ الْاٰخَرِۖ قَالَ لَاَقْتُلَنَّكَ ۖ قَالَ اِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللّـٰهُ مِنَ الْمُتَّقِيْنَ (27)
اہل کتاب کو آدم کے دو بیٹوں کا قصہ صحیح طور پر پڑھ کر سنا دے، جب ان دونوں نے قربانی کی ان میں سے ایک کی قربانی قبول ہو گئی اور دوسرے کی قبول نہ ہوئی، اس نے کہا میں تجھے مار ڈالوں گا، اس نے جواب دیا اللہ پرہیزگاروں ہی سے قبول کرتا ہے۔
لَئِنْ بَسَطْتَ اِلَىَّ يَدَكَ لِتَقْتُلَنِىْ مَآ اَنَا بِبَاسِطٍ يَّدِىَ اِلَيْكَ لِاَقْتُلَكَ ۖ اِنِّـىٓ اَخَافُ اللّـٰهَ رَبَّ الْعَالَمِيْنَ (28)
اگر تو مجھے قتل کرنے کے لیے ہاتھ اٹھائے گا تو میں تجھے قتل کرنے کے لیے ہاتھ نہ اٹھاؤں گا، میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں۔
اِنِّـىٓ اُرِيْدُ اَنْ تَبُـوٓءَ بِاِثْمِىْ وَاِثْمِكَ فَتَكُـوْنَ مِنْ اَصْحَابِ النَّارِ ۚ وَذٰلِكَ جَزَآءُ الظَّالِمِيْنَ (29)
میں چاہتا ہوں کہ میرا اور اپنا گناہ تو ہی سمیٹ لے اور دوزخی بن جائے، اور ظالموں کی یہی سزا ہے۔
فَطَوَّعَتْ لَـهٝ نَفْسُهٝ قَتْلَ اَخِيْهِ فَقَتَلَـهٝ فَاَصْبَحَ مِنَ الْخَاسِرِيْنَ (30)
پھر اسے اس کے نفس نے اپنے بھائی کے خون پر راضی کرلیا پھر اسے مار ڈالا پس وہ نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگیا۔
فَـبَعَثَ اللّـٰهُ غُـرَابًا يَّبْحَثُ فِى الْاَرْضِ لِيُـرِيَهٝ كَيْفَ يُوَارِىْ سَوْءَةَ اَخِيْهِ ۚ قَالَ يَا وَيْلَتَـآ اَعَجَزْتُ اَنْ اَكُـوْنَ مِثْلَ هٰذَا الْغُـرَابِ فَاُوَارِىَ سَوْءَةَ اَخِىْ ۖ فَاَصْبَحَ مِنَ النَّادِمِيْنَ (31)
پھر اللہ نے ایک کوّا بھیجا جو زمین کریدتا تھا تاکہ اسے دکھلائے کہ اپنے بھائی کی لاش کو کس طرح چھپانا ہے، اس نے کہا افسوس مجھ پر اس کوے جیسا بھی نہ ہو سکا کہ اپنے بھائی کی لاش چھپانے کی تدبیر کرتا، پھر پچھتانے لگا۔
مِنْ اَجْلِ ذٰلِكَۚ كَتَبْنَا عَلٰى بَنِىٓ اِسْرَآئِيْلَ اَنَّهٝ مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْـرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِى الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَـمِيْعًاۖ وَمَنْ اَحْيَاهَا فَكَاَنَّمَآ اَحْيَا النَّاسَ جَـمِيْعًا ۚ وَلَقَدْ جَآءَتْـهُـمْ رُسُلُـنَا بِالْبَيِّنَاتِ ثُـمَّ اِنَّ كَثِيْـرًا مِّنْـهُـمْ بَعْدَ ذٰلِكَ فِى الْاَرْضِ لَمُسْـرِفُوْنَ (32)
اسی سبب سے، ہم نے بنی اسرائیل پر لکھا کہ جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے کے بٍغیر یا زمین میں فساد (روکنے) کے علاوہ قتل کیا تو گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کر دیا، اور جس نے کسی کو زندگی بخشی اس نے گویا تمام انسانوں کی زندگی بخشی، اور ہمارے رسول ان کے پاس کھلے حکم لا چکے ہیں پھر بھی ان میں بہت سے لوگ اس کے بعد بھی زمین میں زیادتیاں کرنے والے ہیں۔
اِنَّمَا جَزَآءُ الَّـذِيْنَ يُحَارِبُوْنَ اللّـٰهَ وَرَسُوْلَـهٝ وَيَسْعَوْنَ فِى الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ يُّقَتَّلُوٓا اَوْ يُصَلَّبُـوٓا اَوْ تُقَطَّعَ اَيْدِيْـهِـمْ وَاَرْجُلُـهُـمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ يُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ ۚ ذٰلِكَ لَـهُـمْ خِزْىٌ فِى الـدُّنْيَا ۖ وَلَـهُـمْ فِى الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيْـمٌ (33)
ان کی بھی یہی سزا ہے جو اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور ملک میں فساد کرنے کو دوڑتے ہیں یہ کہ انہیں قتل کیا جائے یا وہ سولی پر چڑھائے جائیں یا ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف جانب سے کاٹے جائیں یا وہ جلا وطن کر دیے جائیں، یہ ذلت ان کے لیے دنیا میں ہے، اور آخرت میں ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔
اِلَّا الَّـذِيْنَ تَابُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَقْدِرُوْا عَلَيْـهِـمْ ۖ فَاعْلَمُوٓا اَنَّ اللّـٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْـمٌ (34)
مگر جنہوں نے تمہارے قابو پانے سے پہلے توبہ کرلی، تو جان لو کہ اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوا اتَّقُوا اللّـٰهَ وَابْتَغُـوٓا اِلَيْهِ الْوَسِيْلَـةَ وَجَاهِدُوْا فِىْ سَبِيْلِـهٖ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ (35)
اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اللہ کا قرب تلاش کرو اور اللہ کی راہ میں جہاد کرو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔
اِنَّ الَّـذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ اَنَّ لَـهُـمْ مَّا فِى الْاَرْضِ جَـمِيْعًا وَّمِثْلَـهٝ مَعَهٝ لِيَفْتَدُوْا بِهٖ مِنْ عَذَابِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَا تُقُبِّلَ مِنْـهُـمْ ۖ وَلَـهُـمْ عَذَابٌ اَلِيْـمٌ (36)
بے شک جو لوگ کافر ہیں اگر ان کے پاس دنیا بھر کی چیزیں ہوں اور اس کے ساتھ اتنا ہی اور ہو تاکہ قیامت کے عذاب سے بچنے کے لیے بدلہ میں دیں تو بھی ان سے قبول نہ ہوگا، اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔
يُرِيْدُوْنَ اَنْ يَّخْرُجُوْا مِنَ النَّارِ وَمَا هُـمْ بِخَارِجِيْنَ مِنْـهَا ۖ وَلَـهُـمْ عَذَابٌ مُّقِيْـمٌ (37)
وہ چاہیں گے کہ آگ سے نکل جائیں حالانکہ وہ اس سے نکلنے والے نہیں، اور ان کے لیے دائمی عذاب ہے۔
وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُـوٓا اَيْدِيَـهُمَا جَزَآءً بِمَا كَسَبَا نَكَالًا مِّنَ اللّـٰهِ ۗ وَاللّـٰهُ عَزِيْزٌ حَكِـيْـمٌ (38)
اور چور خواہ مرد ہو یا عورت دونوں کے ہاتھ کاٹ دو یہ ان کی کمائی کا بدلہ اور اللہ کی طرف سے عبرت ناک سزا ہے، اور اللہ غالب حکمت والا ہے۔
فَمَنْ تَابَ مِنْ بَعْدِ ظُلْمِهٖ وَاَصْلَحَ فَاِنَّ اللّـٰهَ يَتُـوْبُ عَلَيْهِ ۗ اِنَّ اللّـٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْـمٌ (39)
پھر جس نے اپنے ظلم کے بعد توبہ کی اور اصلاح کرلی تو اللہ اس کی توبہ قبول کر لے گا، بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّـٰهَ لَـهٝ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِۖ يُعَذِّبُ مَنْ يَّشَآءُ وَيَغْفِرُ لِمَنْ يَّشَآءُ ۗ وَاللّـٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْرٌ (40)
کیا تجھے معلوم نہیں کہ آسمانوں اور زمین کی سلطنت اللہ ہی کے لیے ہے، وہ جسے چاہے عذاب دے اور جسے چاہے بخش دے، اور اللہ سب چیزوں پر قادر ہے۔
يَآ اَيُّـهَا الرَّسُوْلُ لَا يَحْزُنْكَ الَّـذِيْنَ يُسَارِعُوْنَ فِى الْكُفْرِ مِنَ الَّـذِيْنَ قَالُـوٓا اٰمَنَّا بِاَفْوَاهِهِـمْ وَلَمْ تُؤْمِنْ قُلُوْبُـهُـمْۚ وَمِنَ الَّـذِيْنَ هَادُوْاۚ سَـمَّاعُوْنَ لِلْكَذِبِ سَـمَّاعُوْنَ لِقَوْمٍ اٰخَرِيْنَ لَمْ يَاْتُوْكَ ۖ يُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ مِنْ بَعْدِ مَوَاضِعِهٖ ۖ يَقُوْلُوْنَ اِنْ اُوْتِيْتُـمْ هٰذَا فَخُذُوْهُ وَاِنْ لَّمْ تُؤْتَوْهُ فَاحْذَرُوْا ۚ وَمَنْ يُّرِدِ اللّـٰهُ فِتْنَتَهٝ فَلَنْ تَمْلِكَ لَـهٝ مِنَ اللّـٰهِ شَيْئًا ۚ اُولٰٓئِكَ الَّـذِيْنَ لَمْ يُرِدِ اللّـٰهُ اَنْ يُّطَهِّرَ قُلُوْبَـهُـمْ ۚ لَـهُـمْ فِى الـدُّنْيَا خِزْىٌ ۖ وَلَـهُـمْ فِى الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيْـمٌ (41)
اے رسول! ان کا غم نہ کر جو دوڑ کر کفر میں گرتے ہیں وہ لوگ جو اپنے منہ سے کہتے ہیں کہ ہم مومن ہیں حالانکہ ان کے دل مومن نہیں ہیں، اور وہ جو یہودی ہیں، جھوٹ بولنے کے لیے جاسوسی کرتے ہیں وہ دوسری جماعت کے جاسوس ہیں جو تجھ تک نہیں آئی، بات کو اس کے ٹھکانے سے بدل دیتے ہیں، کہتے ہیں کہ تمہیں یہ حکم ملے تو قبول کر لینا اور اگر یہ نہ ملے تو بچتے رہنا، اور جسے اللہ گمراہ کرنا چاہے پھر تو اللہ کے ہاں اس کے لیے کچھ نہیں کر سکتا، یہ وہی لوگ ہیں جن کے دل پاک کرنے کا اللہ نے ارادہ نہیں کیا، ان کے لیے دنیا میں ذلت ہے، اور ان کے لیے آخرت میں بڑا عذاب ہے۔
سَـمَّاعُوْنَ لِلْكَذِبِ اَكَّالُوْنَ لِلسُّحْتِ ۚ فَاِنْ جَآءُوْكَ فَاحْكُمْ بَيْنَـهُـمْ اَوْ اَعْـرِضْ عَنْـهُـمْ ۖ وَاِنْ تُـعْـرِضْ عَنْـهُـمْ فَلَنْ يَّضُرُّوْكَ شَيْئًا ۖ وَاِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَـهُـمْ بِالْقِسْطِ ۚ اِنَّ اللّـٰهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَ (42)
جھوٹ بولنے کے لیے جاسوسی کرنے والے ہیں اور بہت حرام کھانے والے ہیں، سو اگر وہ تیرے پاس آئیں تو ان میں فیصلہ کر دے یا ان سے منہ پھیر لے، اور اگر تو ان سے منہ پھیر لے گا تو وہ تیرا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے، اور اگر تو فیصلہ کرے تو ان میں انصاف سے فیصلہ کر، بے شک اللہ انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔
وَكَيْفَ يُحَكِّمُوْنَكَ وَعِنْدَهُـمُ التَّوْرَاةُ فِيْـهَا حُكْمُ اللّـٰهِ ثُـمَّ يَتَوَلَّوْنَ مِنْ بَعْدِ ذٰلِكَ ۚ وَمَآ اُولٰٓئِكَ بِالْمُؤْمِنِيْنَ (43)
اور وہ تجھے کس طرح منصف بنائیں گے حالانکہ ان کے پاس تورات ہے جس میں اللہ کا حکم ہے پھر اس کے بعد ہٹ جاتے ہیں، اور یہ مومن نہیں ہیں۔
اِنَّـآ اَنْزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيْـهَا هُدًى وَّنُوْرٌ ۚ يَحْكُمُ بِـهَا النَّبِيُّوْنَ الَّـذِيْنَ اَسْلَمُوْا لِلَّـذِيْنَ هَادُوْا وَالرَّبَّانِيُّوْنَ وَالْاَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوْا مِنْ كِتَابِ اللّـٰهِ وَكَانُوْا عَلَيْهِ شُهَدَآءَ ۚ فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ وَلَا تَشْتَـرُوْا بِاٰيَاتِىْ ثَمَنًا قَلِيْلًا ۚ وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّـٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُـمُ الْكَافِرُوْنَ (44)
ہم نے تورات نازل کی کہ اس میں ہدایت اور روشنی ہے، اس پر اللہ کے فرمانبردار پیغمبر یہود کو حکم کرتے تھے اور اہل اللہ اور علماء بھی اس لیے کہ وہ اللہ کی کتاب کے محافظ ٹھہرائے گئے تھے اور اس کی خبر گیری پر مقرر تھے، سو تم لوگوں سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو اور میری آیتوں کے بدلے میں تھوڑا مول مت لو، اور جو کوئی اس کے موافق فیصلہ نہ کرے جو اللہ نے اتارا ہے تو وہی لوگ کافر ہیں۔
وَكَتَبْنَا عَلَيْـهِـمْ فِيْـهَآ اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ وَالْاَنْفَ بِالْاَنْفِ وَالْاُذُنَ بِالْاُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالْجُرُوْحَ قِصَاصٌ ۚ فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهٖ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّـهٝ ۚ وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّـٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُـمُ الظَّالِمُوْنَ (45)
اور ہم نے ان پر اس کتاب میں لکھا تھا کہ جان کے بدلے جان اور آنکھ کے بدلے آنکھ اور ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت اور زخموں کا بدلہ ان کے برابر ہے، پھر جس نے معاف کر دیا تو وہ گناہ سے پاک ہو گیا، اور جو کوئی اس کے موافق حکم نہ کرے جو اللہ نے اتارا سو وہی لوگ ظالم ہیں۔
وَقَفَّيْنَا عَلٰٓى اٰثَارِهِـمْ بِعِيْسَى ابْنِ مَرْيَـمَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ التَّوْرَاةِ ۖ وَاٰتَيْنَاهُ الْاِنْجِيْلَ فِيْهِ هُدًى وَّنُـوْرٌۙ وَّمُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ التَّوْرَاةِ وَهُدًى وَّمَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِيْنَ (46)
اور ہم نے ان کے پیچھے انہیں کے قدموں پر مریم کے بیٹے عیسیٰ کو بھیجا جو اپنے سے پہلی کتاب تورات کی تصدیق کرنے والا تھا، اور ہم نے اسے انجیل دی جس میں ہدایت اور روشنی تھی، اپنے سے پہلی کتاب تورات کی تصدیق کرنے والا تھا اور وہ راہ بتانے والی تھی اور ڈرنے والوں کے لیے نصیحت تھی۔
وَلْيَحْكُمْ اَهْلُ الْاِنْجِيْلِ بِمَآ اَنْزَلَ اللّـٰهُ فِيْهِ ۚ وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّـٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُـمُ الْفَاسِقُوْنَ (47)
اور چاہیے کہ انجیل والے اس کے موافق حکم کریں جو اللہ نے اس میں اتارا ہے، اور جو شخص اس کے موافق حکم نہ کرے جو اللہ نے اتارا ہے تو پھر وہی لوگ نافرمان ہیں۔
وَاَنْزَلْنَـآ اِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ الْكِتَابِ وَمُهَيْمِنًا عَلَيْهِ ۖ فَاحْكُمْ بَيْنَـهُـمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّـٰهُ ۖ وَلَا تَتَّبِــعْ اَهْوَآءَهُـمْ عَمَّا جَآءَكَ مِنَ الْحَقِّ ۚ لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّمِنْـهَاجًا ۚ وَلَوْ شَآءَ اللّـٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّلٰكِنْ لِّيَبْلُوَكُمْ فِىْ مَآ اٰتَاكُمْ ۖ فَاسْتَبِقُوا الْخَيْـرَاتِ ۚ اِلَى اللّـٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَـمِيْعًا فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُـمْ فِيْهِ تَخْتَلِفُوْنَ (48)
ہم نے تجھ پر سچی کتاب اتاری جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے اور ان کے مضامین پر نگہبانی کرنے والی ہے، سو تو ان لوگوں میں اس کے موافق حکم کر جو اللہ نے اتارا ہے، اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کر اپنے پاس آنے والے حق سے منہ موڑ کر، ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لیے ایک شریعت اور واضح راہ مقرر کر دی ہے، اور اگر اللہ چاہتا تو سب کو ایک ہی امت کر دیتا لیکن وہ تمہیں اپنے دیے ہوئے حکموں میں آزمانا چاہتا ہے، اس لیے نیکیوں میں ایک دوسرے سے بڑھنے کی کوشش کرو، سب کو اللہ کے پاس پہنچنا ہے پھر تمہیں بتائے گا جس میں تم اختلاف کرتے تھے۔
وَاَنِ احْكُمْ بَيْنَـهُـمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّـٰهُ وَلَا تَتَّبِــعْ اَهْوَآءَهُـمْ وَاحْذَرْهُـمْ اَنْ يَّفْتِنُـوْكَ عَنْ بَعْضِ مَآ اَنْزَلَ اللّـٰهُ اِلَيْكَ ۖ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ اَنَّمَا يُرِيْدُ اللّـٰهُ اَنْ يُّصِيْبَـهُـمْ بِبَعْضِ ذُنُـوْبِـهِـمْ ۗ وَاِنَّ كَثِيْـرًا مِّنَ النَّاسِ لَفَاسِقُوْنَ (49)
اور یہ کہ تو ان لوگوں میں اس کے موافق حکم کر جو اللہ نے اتارا ہے اور ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کر اور ان سے بچتا رہ کہ تجھے کسی ایسے حکم سے بہکا نہ دیں جو اللہ نے تجھ پر اتارا ہے، پھر اگر یہ منہ موڑیں تو جان لو کہ اللہ کا ارادہ انہیں مصیبت میں مبتلا کرنے کا ہے ان کے بعض گناہوں کی پاداش میں، اور لوگوں میں بہت سے نافرمان ہیں۔
اَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّـةِ يَبْغُوْنَ ۚ وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّـٰهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ يُوْقِنُـوْنَ (50)
تو کیا پھر جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں، حالانکہ جو لوگ یقین رکھنے والے ہیں ان کے ہاں اللہ سے بہتر اور کوئی فیصلہ کرنے والا نہیں۔
يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا لَا تَتَّخِذُوا الْيَـهُوْدَ وَالنَّصَارٰٓى اَوْلِيَآءَ ۘ بَعْضُهُـمْ اَوْلِيَآءُ بَعْضٍ ۚ وَمَنْ يَّتَوَلَّـهُـمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٝ مِنْـهُـمْ ۗ اِنَّ اللّـٰهَ لَا يَـهْدِى الْقَوْمَ الظَّالِمِيْنَ (51)
اے ایمان والو! یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں، اور جو کوئی تم میں سے ان کے ساتھ دوستی کرے تو وہ انہیں سے ہے، اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں کرتا۔
فَـتَـرَى الَّـذِيْنَ فِىْ قُلُوْبِـهِـمْ مَّرَضٌ يُّسَارِعُوْنَ فِيْـهِـمْ يَقُوْلُوْنَ نَخْشٰٓى اَنْ تُصِيْبَنَـا دَآئِرَةٌ ۚ فَـعَسَى اللّـٰهُ اَنْ يَّاْتِىَ بِالْفَتْحِ اَوْ اَمْرٍ مِّنْ عِنْدِهٖ فَيُصْبِحُوْا عَلٰٓى مَآ اَسَرُّوْا فِىٓ اَنْفُسِهِـمْ نَادِمِيْنَ (52)
پھر تو ان لوگوں کو دیکھے گا جن کے دلوں میں بیماری ہے کہ ان (مخالفین) میں دوڑ کر جا ملتے ہیں یہ کہتے ہوئے کہ ہمیں ڈر ہے کہ ہم پر زمانے کی گردش نہ آ جائے، سو قریب ہے کہ اللہ جلدی فتح ظاہر فرما دے یا کوئی اور حکم اپنے ہاں سے ظاہر کرے پھر یہ اپنے دل کی چھپی ہوئی بات پر شرمندہ ہوں گے۔
وَيَقُوْلُ الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا اَهٰٓؤُلَآءِ الَّـذِيْنَ اَقْسَمُوْا بِاللّـٰهِ جَهْدَ اَيْمَانِـهِـمْ ۙ اِنَّـهُـمْ لَمَعَكُمْ ۚ حَبِطَتْ اَعْمَالُـهُـمْ فَاَصْبَحُوْا خَاسِرِيْنَ (53)
اور مسلمان کہتے ہیں کہ کیا یہ وہی لوگ ہیں جو اللہ کے نام کی پکی قسمیں کھاتے تھے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں، ان کے اعمال برباد ہو گئے پھر وہ نقصان اٹھانے والے ہو گئے۔
يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا مَنْ يَّرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِيْنِهٖ فَسَوْفَ يَاْتِى اللّـٰهُ بِقَوْمٍ يُّحِبُّـهُـمْ وَيُحِبُّوْنَهٝ ۙ اَذِلَّـةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ اَعِزَّةٍ عَلَى الْكَافِـرِيْنَۖ يُجَاهِدُوْنَ فِىْ سَبِيْلِ اللّـٰهِ وَلَا يَخَافُوْنَ لَوْمَةَ لَآئِـمٍ ۚ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّـٰهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَّشَآءُ ۚ وَاللّـٰهُ وَاسِـعٌ عَلِيْـمٌ (54)
اے ایمان والو! جو کوئی تم میں سے اپنے دین سے پھر جائے گا تو عنقریب اللہ ایسی قوم کو لائے گا کہ جن کو اللہ چاہتا ہے اور وہ اس کو چاہتے ہیں، مسلمانوں پر نرم دل ہوں گے اور کافروں پر زبردست، اللہ کی راہ میں لڑیں گے اور کسی کی ملامت سے نہیں ڈریں گے، یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دیتا ہے، اور اللہ کشائش والا جاننے والا ہے۔
اِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللّـٰهُ وَرَسُوْلُـهٝ وَالَّـذِيْنَ اٰمَنُـوا الَّـذِيْنَ يُقِيْمُوْنَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُوْنَ الزَّكَاةَ وَهُـمْ رَاكِعُوْنَ (55)
تمہارا دوست تو اللہ ہے اور اس کا رسول ہے اور ایمان دار لوگ ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور وہ عاجزی کرنے والے ہیں۔
وَمَنْ يَّتَوَلَّ اللّـٰهَ وَرَسُوْلَـهٝ وَالَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا فَاِنَّ حِزْبَ اللّـٰهِ هُـمُ الْغَالِبُوْنَ (56)
اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول اور ایمان داروں کو دوست رکھے تو (مطمئن رہے کہ) اللہ کی جو جماعت ہے وہی غالب ہونے والی ہے۔
يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا لَا تَتَّخِذُوا الَّـذِيْنَ اتَّخَذُوْا دِيْنَكُمْ هُزُوًا وَّلَعِبًا مِّنَ الَّـذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَالْكُفَّارَ اَوْلِيَآءَ ۚ وَاتَّقُوا اللّـٰهَ اِنْ كُنْتُـمْ مُّؤْمِنِيْنَ (57)
اے ایمان والو! ان لوگوں کو اپنا دوست نہ بناؤ جنہوں نے تمہارے دین کو ہنسی اور کھیل بنا رکھا ہے ان لوگوں میں سے جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی اور کافروں کو، اور اللہ سے ڈرو اگر تم ایمان دار ہو۔
وَاِذَا نَادَيْتُـمْ اِلَى الصَّلَاةِ اتَّخَذُوْهَا هُزُوًا وَّلَعِبًا ۚ ذٰلِكَ بِاَنَّـهُـمْ قَوْمٌ لَّا يَعْقِلُوْنَ (58)
اور جب تم نماز کے لیے پکارتے ہو تو وہ لوگ اس کے ساتھ ہنسی اور کھیل کرتے ہیں، یہ اس لیے کہ وہ لوگ بے عقل ہیں۔
قُلْ يَآ اَهْلَ الْكِتَابِ هَلْ تَنْقِمُوْنَ مِنَّـآ اِلَّآ اَنْ اٰمَنَّا بِاللّـٰهِ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْنَا وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلُ ۙ وَاَنَّ اَكْثَرَكُمْ فَاسِقُوْنَ (59)
کہہ دو اے اہل کتاب! تم ہم میں کون سا عیب پاتے ہو اس کے سوا کہ ہم اللہ پر ایمان لائے ہیں اور اس پر جو ہمارے پاس بھیجا گیا ہے اور اس پر بھی جو پہلے بھیجا جا چکا ہے، اور بات یہ ہے کہ تم میں اکثر لوگ نافرمان ہیں۔
قُلْ هَلْ اُنَبِّئُكُمْ بِشَـرٍّ مِّنْ ذٰلِكَ مَثُوْبَةً عِنْدَ اللّـٰهِ ۚ مَنْ لَّـعَنَهُ اللّـٰهُ وَغَضِبَ عَلَيْهِ وَجَعَلَ مِنْـهُـمُ الْقِرَدَةَ وَالْخَنَازِيْرَ وَعَبَدَ الطَّاغُوْتَ ۚ اُولٰٓئِكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّاَضَلُّ عَنْ سَوَآءِ السَّبِيْلِ (60)
کہہ دو کیا میں تمہیں بتاؤں کہ اللہ کے ہاں ان میں سے کس کی بری جزا ہے، وہی جس پر اللہ نے لعنت کی اور اس پر غضب نازل کیا اور بعضوں کو ان میں سے بندر بنایا اور بعضوں کو سور اور جنہوں نے شیطان کی بندگی کی، وہی لوگ درجہ میں بدتر ہیں اور راہ راست سے بھی بہت دور ہیں۔
وَاِذَا جَآءُوْكُمْ قَالُـوٓا اٰمَنَّا وَقَدْ دَّخَلُوْا بِالْكُفْرِ وَهُـمْ قَدْ خَرَجُوْا بِهٖ ۚ وَاللّـٰهُ اَعْلَمُ بِمَا كَانُـوْا يَكْـتُمُوْنَ (61)
اور جب تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے حالانکہ وہ کافر ہی آئے تھے اور کافر ہی گئے، اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ وہ چھپاتے تھے۔
وَتَـرٰى كَثِيْـرًا مِّنْـهُـمْ يُسَارِعُوْنَ فِى الْاِثْـمِ وَالْعُدْوَانِ وَاَكْلِهِـمُ السُّحْتَ ۚ لَبِئْسَ مَا كَانُـوْا يَعْمَلُوْنَ (62)
اور تو ان میں سے اکثر کو دیکھے گا کہ گناہ پر اور ظلم پر اور حرام کھانے کے لیے دوڑتے ہیں، بہت برا ہے جو کچھ وہ کر رہے ہیں۔
لَوْلَا يَنْـهَاهُـمُ الرَّبَّانِيُّوْنَ وَالْاَحْبَارُ عَنْ قَوْلِـهِـمُ الْاِثْـمَ وَاَكْلِهِـمُ السُّحْتَ ۚ لَبِئْسَ مَا كَانُـوْا يَصْنَعُوْنَ (63)
ان کے مشائخ اور علماء گناہ کی بات کہنے اور حرام مال کھانے سے انہیں کیوں نہیں منع کرتے، البتہ بری ہے وہ چیز جو وہ کرتے ہیں۔
وَقَالَتِ الْيَـهُوْدُ يَدُ اللّـٰهِ مَغْلُوْلَـةٌ ۚ غُلَّتْ اَيْدِيْـهِـمْ وَلُعِنُـوْا بِمَا قَالُوْا ۘ بَلْ يَدَاهُ مَبْسُوْطَتَانِ يُنْفِقُ كَيْفَ يَشَآءُ ۚ وَلَيَـزِيْدَنَّ كَثِيْـرًا مِّنْـهُـمْ مَّآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْيَانًا وَّكُفْرًا ۚ وَاَلْقَيْنَا بَيْنَـهُـمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَآءَ اِلٰى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ۚ كُلَّمَآ اَوْقَدُوْا نَارًا لِّلْحَرْبِ اَطْفَاَهَا اللّـٰهُ ۚ وَيَسْعَوْنَ فِى الْاَرْضِ فَسَادًا ۚ وَاللّـٰهُ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِيْنَ (64)
اور یہود کہتے ہیں کہ اللہ کا ہاتھ بند ہوگیا ہے، انہیں کے ہاتھ بند ہوں اور انہیں اس کہنے پر لعنت ہے، بلکہ اس کے دونوں ہاتھ کھلے ہوئے ہیں جس طرح چاہے خرچ کرتا ہے، اور جو کلام تیرے رب کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے وہ ان میں سے اکثر لوگوں کی سرکشی اور کفر میں زیادتی کا باعث بن گیا ہے، اور ہم نے ان کے درمیان قیامت تک عداوت اور دشمنی ڈال دی ہے، جب کبھی لڑائی کے لیے آگ سلگاتے ہیں تو اللہ اس کو بجھا دیتا ہے، اور زمین میں فساد پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں، اور اللہ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْكِتَابِ اٰمَنُـوْا وَاتَّقَوْا لَكَفَّرْنَا عَنْـهُـمْ سَيِّئَاتِـهِـمْ وَلَاَدْخَلْنَاهُـمْ جَنَّاتِ النَّعِيْـمِ (65)
اور اگر اہل کتاب ایمان لاتے اور ڈرتے تو ہم ان میں سے ان کی برائیاں دور کر دیتے اور ضرور انہیں نعمت کے باغوں میں داخل کرتے۔
وَلَوْ اَنَّـهُـمْ اَقَامُوا التَّوْرَاةَ وَالْاِنْجِيْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْـهِـمْ مِّنْ رَّبِّـهِـمْ لَاَكَلُوْا مِنْ فَوْقِهِـمْ وَمِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِـمْ ۚ مِّنْـهُـمْ اُمَّـةٌ مُّقْتَصِدَةٌ ۚ وَكَثِيْـرٌ مِّنْـهُـمْ سَآءَ مَا يَعْمَلُوْنَ (66)
اور اگر وہ تورات اور انجیل کو قائم رکھتے اور اس کو جو ان پر ان کے رب کی طرف سے نازل ہوا ہے تو اپنے اوپر سے اور اپنے پاؤں کے نیچے سے کھاتے، کچھ لوگ ان میں سیدھی راہ پر ہیں، اور اکثر ان میں سے برے کام کر رہے ہیں۔
يَآ اَيُّـهَا الرَّسُوْلُ بَلِّــغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ ۖ وَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٝ ۚ وَاللّـٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ۗ اِنَّ اللّـٰهَ لَا يَـهْدِى الْقَوْمَ الْكَافِـرِيْنَ (67)
اے رسول! جو تجھ پر تیرے رب کی طرف سے اترا ہے اسے پہنچا دے، اور اگر تو نے ایسا نہ کیا تو اس کی پیغمبری کا حق ادا نہیں کیا، اور اللہ تجھے لوگوں سے بچائے گا، بے شک اللہ کافروں کی قوم کو راستہ نہیں دکھاتا۔
قُلْ يَآ اَهْلَ الْكِتَابِ لَسْتُـمْ عَلٰى شَىْءٍ حَتّـٰى تُقِيْمُوا التَّوْرَاةَ وَالْاِنْجِيْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ ۗ وَلَيَـزِيْدَنَّ كَثِيْـرًا مِّنْـهُـمْ مَّـآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْيَانًا وَّكُفْرًا ۖ فَلَا تَاْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِـرِيْنَ (68)
کہہ دو اے اہل کتاب! تم کسی راہ پر نہیں ہو جب تک کہ تم قائم نہ کرو تورات کو اور انجیل کو اور اسے جو تمہارے رب کی طرف سے نازل کی گئی ہے، اور ضرور یہ فرمان جو تم پر نازل ہوا ہے ان میں سے اکثر کی سرکشی اور انکار کو اور زیادہ بڑھائے گا، سو افسوس نہ کرو انکار کرنے والوں کے حال پر۔
اِنَّ الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا وَالَّـذِيْنَ هَادُوْا وَالصَّابِئُـوْنَ وَالنَّصَارٰى مَنْ اٰمَنَ بِاللّـٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْـهِـمْ وَلَا هُـمْ يَحْزَنُـوْنَ (69)
بے شک مسلمان اور یہودی اور صابئی اور عیسائی جو کوئی بھی (اپنے مذہب کے زمانے میں) اللہ اور قیامت پر ایمان لایا اور نیک کام کیے تو ان پر کوئی خوف نہیں ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
لَقَدْ اَخَذْنَا مِيْثَاقَ بَنِىٓ اِسْرَآئِيْلَ وَاَرْسَلْنَـآ اِلَيْـهِـمْ رُسُلًا ۖ كُلَّمَا جَآءَهُـمْ رَسُوْلٌ بِمَا لَا تَـهْوٰٓى اَنْفُسُهُـمْ فَرِيْقًا كَذَّبُوْا وَفَرِيْقًا يَّقْتُلُوْنَ (70)
ہم نے بنی اسرائیل سے پختہ وعدہ لیا تھا اور ان کی طرف کئی رسول بھیجے تھے، جب کبھی کوئی رسول ان کے پاس وہ حکم لایا جو ان کے نفس نہیں چاہتے تھے تو (رسولوں کی) ایک جماعت کو جھٹلایا اور ایک جماعت کو قتل کر ڈالا۔
وَحَسِبُـوٓا اَلَّا تَكُـوْنَ فِتْنَـةٌ فَـعَمُوْا وَصَمُّوْا ثُـمَّ تَابَ اللّـٰهُ عَلَيْـهِـمْ ثُـمَّ عَمُوْا وَصَمُّوْا كَثِيْـرٌ مِّنْـهُـمْ ۚ وَاللّـٰهُ بَصِيْـرٌ بِمَا يَعْمَلُوْنَ (71)
اور یہی گمان کیا کہ کوئی فتنہ نہیں ہوگا پھر اندھے اور بہرے ہوئے پھر اللہ نے ان کی توبہ قبول کی پھر ان میں سے اکثر اندھے اور بہرے ہو گئے، اور جو کچھ وہ کرتے ہیں اللہ دیکھتا ہے۔
لَقَدْ كَفَرَ الَّـذِيْنَ قَالُـوٓا اِنَّ اللّـٰهَ هُوَ الْمَسِيْحُ ابْنُ مَرْيَـمَ ۖ وَقَالَ الْمَسِيْحُ يَا بَنِىٓ اِسْرَآئِيْلَ اعْبُدُوا اللّـٰهَ رَبِّىْ وَرَبَّكُمْ ۖ اِنَّهٝ مَنْ يُّشْرِكْ بِاللّـٰهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّـٰهُ عَلَيْهِ الْجَنَّـةَ وَمَاْوَاهُ النَّارُ ۖ وَمَا لِلظَّالِمِيْنَ مِنْ اَنْصَارٍ (72)
البتہ تحقیق وہ لوگ کافر ہوئے جنہوں نے کہا کہ بے شک اللہ وہی مریم کا بیٹا مسیح ہی ہے، اور (حالانکہ) مسیح نے کہا کہ اے بنی اسرائیل! اس اللہ کی بندگی کرو جو میرا اور تمہارا رب ہے، بے شک جس نے اللہ کا شریک ٹھہرایا سو اللہ نے اس پر جنت حرام کی اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے، اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ہوگا۔
لَّقَدْ كَفَرَ الَّـذِيْنَ قَالُـوٓا اِنَّ اللّـٰهَ ثَالِثُ ثَلَاثَةٍ ۘ وَمَا مِنْ اِلٰـهٍ اِلَّآ اِلٰـهٌ وَّاحِدٌ ۚ وَاِنْ لَّمْ يَنْتَـهُوْا عَمَّا يَقُوْلُوْنَ لَيَمَسَّنَّ الَّـذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْـهُـمْ عَذَابٌ اَلِيْـمٌ (73)
بے شک وہ کافر ہوئے جنہوں نے کہا کہ اللہ تین میں سے ایک ہے، اور (حالانکہ) سوائے ایک معبود کے اور کوئی معبود نہیں، اور اگر وہ اس بات سے باز نہ آئیں گے جو وہ کہتے ہیں تو ان میں سے کفر پر قائم رہنے والوں کو دردناک عذاب پہنچے گا۔
اَفَلَا يَتُـوْبُوْنَ اِلَى اللّـٰهِ وَيَسْتَغْفِرُوْنَهٝ ۚ وَاللّـٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْـمٌ (74)
اللہ کے آگے کیوں توبہ نہیں کرتے اور اس سے گناہ نہیں بخشواتے، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
مَّا الْمَسِيْحُ ابْنُ مَرْيَـمَ اِلَّا رَسُوْلٌ ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِـهِ الرُّسُلُ ۚ وَاُمُّـهٝ صِدِّيْقَةٌ ۖ كَانَا يَاْكُلَانِ الطَّعَامَ ۗ اُنْظُرْ كَيْفَ نُـبَيِّنُ لَـهُـمُ الْاٰيَاتِ ثُـمَّ انْظُرْ اَنّـٰى يُؤْفَكُـوْنَ (75)
مریم کا بیٹا مسیح تو صرف ایک پیغمبر ہی ہے، اس سے پہلے اور بھی پیغمبر گزر چکے ہیں، اور اس کی ماں سچی ہے، وہ دونوں کھانا کھاتے تھے، دیکھ ہم انہیں کیسی دلیلیں بتلاتے ہیں پھر دیکھو وہ کہاں الٹے جاتے ہیں۔
قُلْ اَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّـٰهِ مَا لَا يَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّلَا نَفْعًا ۚ وَاللّـٰهُ هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْـمُ (76)
کہہ دو کہ تم اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیز کی بندگی کرتے ہو جو تمہارے نقصان اور نفع کی مالک نہیں، اور اللہ وہی ہے سننے والا جاننے والا۔
قُلْ يَآ اَهْلَ الْكِتَابِ لَا تَغْلُوْا فِىْ دِيْنِكُمْ غَيْـرَ الْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعُـوٓا اَهْوَآءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوْا مِنْ قَبْلُ وَاَضَلُّوْا كَثِيْـرًا وَّضَلُّوْا عَنْ سَوَآءِ السَّبِيْلِ (77)
کہہ دو اے اہل کتاب! تم اپنے دین میں ناحق زیادتی مت کرو اور ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کرو جو اس سے پہلے گمراہ ہو چکے اور انہوں نے بہتوں کو گمراہ کیا اور سیدھی راہ سے دور ہو گئے۔
لُعِنَ الَّـذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ بَنِىٓ اِسْرَآئِيْلَ عَلٰى لِسَانِ دَاوُوْدَ وَعِيْسَى ابْنِ مَرْيَـمَ ۚ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّكَانُـوْا يَعْتَدُوْنَ (78)
بنی اسرائیل میں سے جو کافر ہوئے ان پر داؤد اور مریم کے بیٹے عیسیٰ کی زبان سے لعنت کی گئی، یہ اس لیے کہ وہ نافرمان تھے اور حد سے گزر گئے تھے۔
كَانُـوْا لَا يَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُّنْكَرٍ فَـعَلُوْهُ ۚ لَبِئْسَ مَا كَانُـوْا يَفْعَلُوْنَ (79)
آپس میں برے کام سے منع نہ کرتے تھے جو وہ کر رہے تھے، کیسا ہی برا کام ہے جو وہ کرتے تھے۔
تَـرٰى كَثِيْـرًا مِّنْـهُـمْ يَتَوَلَّوْنَ الَّـذِيْنَ كَفَرُوْا ۚ لَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَـهُـمْ اَنْفُسُهُـمْ اَنْ سَخِطَ اللّـٰهُ عَلَيْـهِـمْ وَفِى الْعَذَابِ هُـمْ خَالِـدُوْنَ (80)
تو دیکھے گا کہ ان میں سے بہت سے لوگ کافروں سے دوستی رکھتے ہیں، انہوں نے کیسا ہی برا سامان اپنے نفسوں کے لیے آگے بھیجا اور وہ یہ کہ ان پر اللہ کا غضب ہوا اور وہ ہمیشہ عذاب میں رہنے والے ہیں۔
وَلَوْ كَانُـوْا يُؤْمِنُـوْنَ بِاللّـٰهِ وَالنَّبِىِّ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْهِ مَا اتَّخَذُوْهُـمْ اَوْلِيَآءَ وَلٰكِنَّ كَثِيْـرًا مِّنْـهُـمْ فَاسِقُوْنَ (81)
اور اگر وہ ایمان لاتے اللہ اور نبی پر اور اس چیز پر جو اس کی طرف سے نازل کی گئی ہے تو کافروں کو دوست نہ بناتے لیکن ان میں سے اکثر لوگ نافرمان ہیں۔
لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّـذِيْنَ اٰمَنُـوا الْيَـهُوْدَ وَالَّـذِيْنَ اَشْرَكُوْا ۖ وَلَتَجِدَنَّ اَقْرَبَـهُـمْ مَّوَدَّةً لِّلَّـذِيْنَ اٰمَنُـوا الَّـذِيْنَ قَالُـوٓا اِنَّا نَصَارٰى ۚ ذٰلِكَ بِاَنَّ مِنْـهُـمْ قِسِّيْسِينَ وَرُهْبَانًا وَّاَنَّـهُـمْ لَا يَسْتَكْبِـرُوْنَ (82)
تو سب لوگوں سے زیادہ مسلمانوں کا دشمن یہودیوں اور مشرکوں کو پائے گا، اور تو سب سے نزدیک محبت میں مسلمانوں سے ان لوگوں کو پائے گا جو کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں، یہ اس لیے کہ ان میں علماء اور درویش ہیں اور اس لیے کہ وہ تکبر نہیں کرتے۔
وَاِذَا سَـمِعُوْا مَآ اُنْزِلَ اِلَى الرَّسُوْلِ تَـرٰٓى اَعْيُنَـهُـمْ تَفِيْضُ مِنَ الـدَّمْـعِ مِمَّا عَـرَفُوْا مِنَ الْحَقِّ ۖ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَـآ اٰمَنَّا فَاكْـتُـبْنَا مَعَ الشَّاهِدِيْنَ (83)
اور جب اس چیز کو سنتے ہیں جو رسول پر اتری تو ان کی آنکھوں کو دیکھے گا کہ آنسوؤں سے بہتی ہیں اس لیے کہ انہوں نے حق کو پہچان لیا، کہتے ہیں اے ہمارے رب! ہم ایمان لائے پس تو ہمیں ماننے والوں کے ساتھ لکھ لے۔
وَمَا لَنَا لَا نُؤْمِنُ بِاللّـٰهِ وَمَا جَآءَنَا مِنَ الْحَقِّۙ وَنَطْمَعُ اَنْ يُّدْخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصَّالِحِيْنَ (84)
اور ہمیں کیا ہے کہ ہم اللہ پر ایمان نہ لائیں اور اس چیز پر جو ہمیں حق سے پہنچی ہے، اور ہم اس کی طمع رکھتے ہیں کہ ہمیں ہمارا رب نیکوں میں داخل کرے گا۔
فَاَثَابَـهُـمُ اللّـٰهُ بِمَا قَالُوْا جَنَّاتٍ تَجْرِىْ مِنْ تَحْتِـهَا الْاَنْـهَارُ خَالِـدِيْنَ فِيْـهَا ۚ وَذٰلِكَ جَزَآءُ الْمُحْسِنِيْنَ (85)
پھر اللہ نے انہیں اس کہنے کے بدلے میں ایسے باغ دیے کہ جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ان میں ہمیشہ رہیں گے، اور نیکی کرنے والوں کا یہی بدلہ ہے۔
وَالَّـذِيْنَ كَفَرُوْا وَكَذَّبُوْا بِاٰيَاتِنَا اُولٰٓئِكَ اَصْحَابُ الْجَحِيْـمِ (86)
اور وہ لوگ جو کافر ہوئے اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہ دوزخ کے رہنے والے ہیں۔
يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا لَا تُحَرِّمُوْا طَيِّبَاتِ مَآ اَحَلَّ اللّـٰهُ لَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوْا ۚ اِنَّ اللّـٰهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِيْنَ (87)
اے ایمان والو! ان ستھری چیزوں کو حرام نہ کرو جو اللہ نے تمہارے لیے حلال کی ہیں اور حد سے نہ بڑھو، بے شک اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
وَكُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّـٰهُ حَلَالًا طَيِّبًا ۚ وَّاتَّقُوا اللّـٰهَ الَّـذِىٓ اَنْتُـمْ بِهٖ مُؤْمِنُـوْنَ (88)
اور کھاؤ اللہ کے رزق میں سے جو چیز حلال ستھری ہو، اور اللہ سے ڈرو جس پر تم ایمان رکھتے ہو۔
لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللّـٰهُ بِاللَّغْوِ فِىٓ اَيْمَانِكُمْ وَلٰكِنْ يُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُّـمُ الْاَيْمَانَ ۖ فَكَـفَّارَتُهٝٓ اِطْعَامُ عَشَـرَةِ مَسَاكِيْنَ مِنْ اَوْسَطِ مَا تُطْعِمُوْنَ اَهْلِيْكُمْ اَوْ كِسْوَتُـهُـمْ اَوْ تَحْرِيْرُ رَقَـبَةٍ ۖ فَمَنْ لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ اَيَّامٍ ۚ ذٰلِكَ كَفَّارَةُ اَيْمَانِكُمْ اِذَا حَلَفْتُـمْ ۚ وَاحْفَظُوٓا اَيْمَانَكُمْ ۚ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّـٰهُ لَكُمْ اٰيَاتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَشْكُـرُوْنَ (89)
اللہ تمہیں تمہاری فضول قسموں پر نہیں پکڑتا لیکن ان قسموں پر پکڑتا ہے جن پر تم اپنے آپ کو پابند کرو، سو اس کا کفارہ دس مسکینوں کو اوسط درجہ کا کھانا دینا ہے (ایسا کھانا) جو تم اپنے گھر والوں کو دیتے ہو یا دس مسکینوں کو کپڑا پہنانا یا گردن (غلام) آزاد کرنا، پھر جو شخص یہ نہ کر پائے تو پھر تین دن کے روزے رکھنے ہیں، یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جب تم قسم کھاؤ، اور اپنی قسموں کی حفاظت کیا کرو، اسی طرح اللہ تمہارے لیے اپنے حکم بیان کرتا ہے تاکہ تم شکر کرو۔
يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوٓا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِـرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ (90)
اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور فال کے تیر سب شیطان کے گندے کام ہیں سو ان سے بچتے رہو تاکہ تم نجات پاؤ۔
اِنَّمَا يُرِيْدُ الشَّيْطَانُ اَنْ يُّوْقِــعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَآءَ فِى الْخَمْرِ وَالْمَيْسِـرِ وَيَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّـٰهِ وَعَنِ الصَّلَاةِ ۖ فَهَلْ اَنْتُـمْ مُّنْتَـهُوْنَ (91)
شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے سے تم میں دشمنی اور بغض ڈال دے اور تمہیں اللہ کی یاد سے اور نماز سے روکے، سو اب بھی باز آجاؤ۔
وَاَطِيْعُوا اللّـٰهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاحْذَرُوْا ۚ فَاِنْ تَوَلَّيْتُـمْ فَاعْلَمُوٓا اَنَّمَا عَلٰى رَسُوْلِنَا الْبَلَاغُ الْمُبِيْنُ (92)
اور اللہ کا حکم مانو اور رسول کا حکم مانو اور بچتے رہو، پھر اگر تم پھر جاؤ گے تو جان لو کہ ہمارے رسول کے ذمہ صرف واضح طور پر پہنچا دینا ہی ہے۔
لَيْسَ عَلَى الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيْمَا طَعِمُوٓا اِذَا مَا اتَّقَوْا وَّاٰمَنُـوْا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ثُـمَّ اتَّقَوْا وَّاٰمَنُـوْا ثُـمَّ اتَّـقَوْا وَّاَحْسَنُـوْا ۗ وَاللّـٰهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ (93)
جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے ان پر کوئی گناہ نہیں اس چیز میں جو پہلے کھا چکے ہیں (اس صورت میں کہ) جب پرہیزگار ہوئے اور ایمان لائے اور نیک عمل کیے تو پھر (مستقل مزاجی سے) پرہیزگار ہوگئے اور نیکی کرنے لگے، اور اللہ نیکی کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔
يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا لَيَبْلُوَنَّكُمُ اللّـٰهُ بِشَىْءٍ مِّنَ الصَّيْدِ تَنَالُـهٝٓ اَيْدِيْكُمْ وَرِمَاحُكُمْ لِيَعْلَمَ اللّـٰهُ مَنْ يَّخَافُـهٝ بِالْغَيْبِ ۚ فَمَنِ اعْتَدٰى بَعْدَ ذٰلِكَ فَلَـهٝ عَذَابٌ اَلِيْـمٌ (94)
اے ایمان والو! البتہ اللہ تمہیں آزمائے گا اس شکار کی چیز میں جس پر تمہارے ہاتھ اور تمہارے نیزے پہنچیں گے تاکہ اللہ معلوم کرے کہ بن دیکھے اس سے کون ڈرتا ہے، پھر جس نے اس کے بعد زیادتی کی تو اس کے لیے دردناک عذاب ہے۔
يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَاَنْتُـمْ حُرُمٌ ۚ وَمَنْ قَتَلَـهٝ مِنْكُمْ مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآءٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّـعَمِ يَحْكُمُ بِهٖ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ هَدْيًا بَالِغَ الْكَعْبَةِ اَوْ كَفَّارَةٌ طَعَامُ مَسَاكِيْنَ اَوْ عَدْلُ ذٰلِكَ صِيَامًا لِّيَذُوْقَ وَبَالَ اَمْرِهٖ ۗ عَفَا اللّـٰهُ عَمَّا سَلَفَ ۚ وَمَنْ عَادَ فَيَنْتَقِمُ اللّـٰهُ مِنْهُ ۗ وَاللّـٰهُ عَزِيْزٌ ذُو انْتِقَامٍ (95)
اے ایمان والو! شکار کو نہ قتل کرو جب تم احرام میں ہو، اور تم میں سے جو کوئی اسے جان بوجھ کر مارے تو پھر بدلے میں اس مارے ہوئے کے برابر مویشی لازم ہے جو تم میں سے دو معتبر آدمی تجویز کریں بشرطیکہ قربانی کعبہ تک پہنچنے والی ہو یا کفارہ کا کھانا مسکینوں کو کھلانا ہو یا اس کے برابر روزے رکھے تاکہ اپنے کام کا وبال چکھے، اللہ نے اس چیز کو معاف کیا جو گزر چکی، اور جو کوئی پھر کرے گا اللہ اس سے بدلہ لے گا، اور اللہ غالب بدلہ لینے والا ہے۔
اُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهٝ مَتَاعًا لَّكُمْ وَلِلسَّيَّارَةِ ۖ وَحُرِّمَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ الْبَـرِّ مَا دُمْتُـمْ حُرُمًا ۗ وَاتَّقُوا اللّـٰهَ الَّـذِىٓ اِلَيْهِ تُحْشَـرُوْنَ (96)
تمہارے لیے دریا کا شکار کرنا اور اس کا کھانا حلال کیا گیا ہے تمہارے اور مسافروں کے فائدہ کے لیے، اور تم پر جنگل کا شکار کرنا حرام کیا گیا ہے جب تک کہ تم احرام میں ہو، اور اس اللہ سے ڈرو جس کی طرف جمع کیے جاؤ گے۔
جَعَلَ اللّـٰهُ الْكَعْبَةَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ قِيَامًا لِّلنَّاسِ وَالشَّهْرَ الْحَرَامَ وَالْـهَدْىَ وَالْقَلَآئِدَ ۚ ذٰلِكَ لِتَعْلَمُوٓا اَنَّ اللّـٰهَ يَعْلَمُ مَا فِى السَّمَاوَاتِ وَمَا فِى الْاَرْضِ وَاَنَّ اللّـٰهَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيْـمٌ (97)
اللہ نے کعبہ کو جو کہ بزرگی والا گھر ہے لوگوں کے لیے قیام کا باعث کر دیا ہے اور عزت والے مہینے کو بھی اور حرم میں قربانی والے جانور کو بھی اور وہ جن کے گلے میں پٹہ ڈال کر کعبہ کو لے جائیں، یہ اس لیے ہے تاکہ تم جان لو کہ بے شک اللہ کو معلوم ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور بے شک اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔
اِعْلَمُوٓا اَنَّ اللّـٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ وَاَنَّ اللّـٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْـمٌ (98)
جان لو کہ بے شک اللہ سخت عذاب والا بھی ہے اور بے شک اللہ بخشنے والا مہربان بھی ہے۔
مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلَاغُ ۗ وَاللّـٰهُ يَعْلَمُ مَا تُـبْدُوْنَ وَمَا تَكْـتُمُوْنَ (99)
رسول کے ذمہ سوائے پہنچانے کے اور کچھ نہیں، اور اللہ کو معلوم ہے جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو چھپاتے ہو۔
قُلْ لَّا يَسْتَوِى الْخَبِيْثُ وَالطَّيِّبُ وَلَوْ اَعْجَبَكَ كَثْرَةُ الْخَبِيْثِ ۚ فَاتَّقُوا اللّـٰهَ يَآ اُولِى الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ (100)
کہہ دو کہ ناپاک اور پاک برابر نہیں اگرچہ تمہیں ناپاک کی کثرت متاثر کرتی ہو، پس اے عقلمندو! اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تمہاری نجات ہو۔
يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا لَا تَسْاَلُوْا عَنْ اَشْيَآءَ اِنْ تُـبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْۚ وَاِنْ تَسْاَلُوْا عَنْـهَا حِيْنَ يُنَزَّلُ الْقُرْاٰنُ تُـبْدَ لَكُمْۖ عَفَا اللّـٰهُ عَنْـهَا ۗ وَاللّـٰهُ غَفُوْرٌ حَلِيْـمٌ (101)
اے ایمان والو! ایسی باتیں مت پوچھو کہ اگر تم پر ظاہر کی جائیں تو تمہیں بری لگیں، اور اگر یہ باتیں ایسے وقت میں پوچھو گے جب کہ قرآن نازل ہو رہا ہے تو تم پر ظاہر کر دی جائیں گی، گزشتہ سوالات اللہ نے معاف کر دیے ہیں، اور اللہ بخشنے والا بردبار ہے۔
قَدْ سَاَلَـهَا قَوْمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ ثُـمَّ اَصْبَحُوْا بِـهَا كَافِـرِيْنَ (102)
ایسی باتیں تم سے پہلے ایک جماعت پوچھ چکی ہے پھر ان باتوں کے وہ مخالف ہوگئے۔
مَا جَعَلَ اللّـٰهُ مِنْ بَحِيْـرَةٍ وَّلَا سَآئِبَةٍ وَّلَا وَصِيْلَـةٍ وَّلَا حَامٍ ۙ وَّلٰكِنَّ الَّـذِيْنَ كَفَرُوْا يَفْتَـرُوْنَ عَلَى اللّـٰهِ الْكَذِبَ ۖ وَاَكْثَرُهُـمْ لَا يَعْقِلُوْنَ (103)
اللہ نے بحیرہ اور سائبہ اور وصیلہ اور حام مقرر نہیں کیے، لیکن کافر اللہ پر بہتان باندھتے ہیں، اور ان میں سے اکثر سمجھتے نہیں۔
وَاِذَا قِيْلَ لَـهُـمْ تَعَالَوْا اِلٰى مَآ اَنْزَلَ اللّـٰهُ وَاِلَى الرَّسُوْلِ قَالُوْا حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ اٰبَآءَنَا ۚ اَوَلَوْ كَانَ اٰبَآؤُهُـمْ لَا يَعْلَمُوْنَ شَيْئًا وَّلَا يَـهْتَدُوْنَ (104)
اور جب انہیں کہا جاتا ہے کہ اس کی طرف آؤ جو اللہ نے نازل کیا ہے اور رسول کی طرف تو کہتے ہیں کہ ہمیں وہ کافی ہے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا، اگرچہ ان کے باپ دادا نہ کچھ علم رکھتے ہوں نہ انہوں نے ہدایت پائی ہو۔
يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا عَلَيْكُمْ اَنْفُسَكُمْ ۖ لَا يَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَيْتُـمْ ۚ اِلَى اللّـٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَـمِيْعًا فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُـمْ تَعْمَلُوْنَ (105)
اے ایمان والو! تم پر اپنی جان کی فکر لازم ہے، تمہارا کچھ نہیں بگاڑتا جو کوئی گمراہ ہو جب کہ تم ہدایت یافتہ ہو، تم سب کو اللہ کی طرف لوٹ کر جانا ہے پھر وہ تمہیں بتلا دے گا جو کچھ تم کرتے تھے۔
يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ حِيْنَ الْوَصِيَّةِ اثْنَانِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ اَوْ اٰخَرَانِ مِنْ غَيْـرِكُمْ اِنْ اَنْتُـمْ ضَرَبْتُـمْ فِى الْاَرْضِ فَاَصَابَتْكُمْ مُّصِيْبَةُ الْمَوْتِ ۚ تَحْبِـسُوْنَـهُمَا مِنْ بَعْدِ الصَّلَاةِ فَيُـقْسِمَانِ بِاللّـٰهِ اِنِ ارْتَبْتُـمْ لَا نَشْتَـرِىْ بِهٖ ثَمَنًا وَّلَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى ۙ وَلَا نَكْـتُـمُ شَهَادَةَ اللّـٰهِ اِنَّـآ اِذًا لَّمِنَ الْاٰثِمِيْنَ (106)
اے ایمان والو! جب تم میں سے کسی کو موت آ پہنچے تو وصیت کے وقت تمہارے درمیان تم میں سے دو معتبر آدمی گواہ ہونے چاہئیں، یا پھر غیروں میں سے دو گواہ ہوں اگر زمین میں سفر کرتے وقت تمہیں موت کی مصیبت آ پہنچے، اگر تمہیں شبہ ہو تو ان دونوں کو نماز کے بعد کھڑا کرو کہ وہ دونوں اللہ کی قسمیں کھائیں کہ ہم گواہی کے بدلے میں مال نہیں لیتے اگرچہ رشتہ داری ہی کیوں نہ ہو، اور نہ ہم اللہ کی گواہی چھپاتے ہیں ورنہ ہم بے شک گناہگار ہوں گے۔
فَاِنْ عُثِرَ عَلٰٓى اَنَّـهُمَا اسْتَحَقَّـآ اِثْمًا فَاٰخَرَانِ يَقُوْمَانِ مَقَامَهُمَا مِنَ الَّـذِيْنَ اسْتَحَقَّ عَلَيْـهِـمُ الْاَوْلَيَانِ فَيُـقْسِمَانِ بِاللّـٰهِ لَشَهَادَتُنَـآ اَحَقُّ مِنْ شَهَادَتِـهِمَا وَمَا اعْتَدَيْنَـآۖ اِنَّـآ اِذًا لَّمِنَ الظَّالِمِيْنَ (107)
پھر اگر اس بات کی اطلاع ہو جائے کہ وہ دونوں گناہ کے مستحق ہوئے تو ان کی جگہ ان میں سے دو گواہ کھڑے ہوں جن کا حق دبایا گیا ہے، پھر اللہ کی قسم کھائیں کہ ہماری گواہی ان کی گواہی سے زیادہ سچی ہے اور ہم نے زیادتی نہیں کی، ورنہ ہم بے شک ظالموں میں سے ہوں گے۔
ذٰلِكَ اَدْنٰٓى اَنْ يَّاْتُوْا بِالشَّهَادَةِ عَلٰى وَجْهِهَآ اَوْ يَخَافُـوٓا اَنْ تُرَدَّ اَيْمَانٌ بَعْدَ اَيْمَانِـهِـمْ ۗ وَاتَّقُوا اللّـٰهَ وَاسْـمَعُوْا ۗ وَاللّـٰهُ لَا يَـهْدِى الْقَوْمَ الْفَاسِقِيْنَ (108)
یہ اس بات کے زیادہ قریب کہ یہ لوگ ٹھیک طور پر گواہی دیں گے، یا یہ اس بات سے ڈر جائیں گے کہ قسمیں ان کی قسموں کے بعد رد کی جائیں گی، اور اللہ سے ڈرتے رہو اور سنو، اور اللہ نافرمانوں کو سیدھی راہ پر نہیں چلاتا۔
يَوْمَ يَجْـمَعُ اللّـٰهُ الرُّسُلَ فَيَقُوْلُ مَاذَآ اُجِبْتُـمْ ۖ قَالُوْا لَا عِلْمَ لَنَـآ ۖ اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُـوْبِ (109)
جس دن اللہ سب پیغمبروں کو جمع کرے گا پھر کہے گا کہ تمہیں (اپنی امتوں کی جانب سے) کیا جواب دیا گیا تھا، وہ کہیں گے کہ ہمیں کچھ خبر نہیں، تو ہی چھپی باتوں کا جاننے والا ہے۔
اِذْ قَالَ اللّـٰهُ يَا عِيْسَى ابْنَ مَرْيَـمَ اذْكُرْ نِعْمَتِىْ عَلَيْكَ وَعَلٰى وَالِـدَتِكَۘ اِذْ اَيَّدْتُّكَ بِرُوْحِ الْقُدُسِۖ تُكَلِّمُ النَّاسَ فِى الْمَهْدِ وَكَهْلًا ۖ وَاِذْ عَلَّمْتُكَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَالتَّوْرَاةَ وَالْاِنْجِيْلَ ۖ وَاِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّيْنِ كَهَيْئَةِ الطَّيْـرِ بِاِذْنِىْ فَـتَنْفُخُ فِيْـهَا فَتَكُـوْنُ طَيْـرًا بِاِذْنِىْ ۖ وَتُبْـرِئُ الْاَكْمَهَ وَالْاَبْـرَصَ بِاِذْنِىْ ۖ وَاِذْ تُخْرِجُ الْمَوْتٰى بِاِذْنِىْ ۖ وَاِذْ كَفَفْتُ بَنِىٓ اِسْرَآئِيْلَ عَنْكَ اِذْ جِئْتَـهُـمْ بِالْبَيِّنَاتِ فَقَالَ الَّـذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْـهُـمْ اِنْ هٰذَآ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِيْنٌ (110)
جب اللہ کہے گا کہ اے مریم کے بیٹے عیسیٰ! میرا احسان یاد کر جو تجھ پر اور تیری ماں پر ہوا ہے، جب میں نے پاک روح سے تیری مدد کی، تو لوگوں سے بات کرتا تھا گود میں اور ادھیڑ عمر میں، اور جب میں نے تجھے کتاب اور حکمت اور تورات اور انجیل سکھائی، اور جب تو مٹی سے جانور کی صورت میرے حکم سے بناتا تھا پھر تو اس میں پھونک مارتا تھا تب وہ میرے حکم سے اڑنے والا ہو جاتا تھا، اور مادر زاد اندھے کو اور کوڑھی کو میرے حکم سے اچھا کرتا تھا، اور جب مردوں کو میرے حکم سے نکال کھڑا کرتا تھا، اور جب میں نے بنی اسرائیل کو تجھ سے روکا جب تو ان کے پاس نشانیاں لے کر آیا پھر جو ان میں کافر تھے وہ کہنے لگے کہ یہ تو بس صریح جادو ہے۔
وَاِذْ اَوْحَيْتُ اِلَى الْحَوَارِيِّيْنَ اَنْ اٰمِنُـوْا بِىْ وَبِرَسُوْلِىْ قَالُـوٓا اٰمَنَّا وَاشْهَدْ بِاَنَّنَا مُسْلِمُوْنَ (111)
اور جب میں نے حواریوں کے دل میں ڈال دیا کہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لاؤ تو کہنے لگے کہ ہم ایمان لائے اور تو گواہ رہے کہ ہم اللہ کے فرمانبردار ہیں۔
اِذْ قَالَ الْحَوَارِيُّوْنَ يَا عِيْسَى ابْنَ مَرْيَـمَ هَلْ يَسْتَطِيْعُ رَبُّكَ اَنْ يُّنَزِّلَ عَلَيْنَا مَآئِدَةً مِّنَ السَّمَآءِ ۖ قَالَ اتَّقُوا اللّـٰهَ اِنْ كُنْتُـمْ مُّؤْمِنِيْنَ (112)
جب حواریوں نے کہا کہ اے مریم کے بیٹے عیسیٰ! کیا تیرا رب یوں کر سکتا ہے کہ ہم پر آسمان سے کھانا اتارے، کہا اللہ سے ڈرو اگر تم ایمان دار ہو۔
قَالُوْا نُرِيْدُ اَنْ نَّاْكُلَ مِنْـهَا وَتَطْمَئِنَّ قُلُوْبُنَا وَنَعْلَمَ اَنْ قَدْ صَدَقْتَنَا وَنَكُـوْنَ عَلَيْـهَا مِنَ الشَّاهِدِيْنَ (113)
انہوں نے کہا ہم چاہتے ہیں کہ اس میں سے کھائیں اور ہمارے دل مطمئن ہو جائیں اور ہم جان لیں کہ تو نے ہم سے سچ کہا ہے اور ہم اس پر گواہ رہیں۔
قَالَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَـمَ اللّـٰهُـمَّ رَبَّنَـآ اَنْزِلْ عَلَيْنَا مَـآئِدَةً مِّنَ السَّمَآءِ تَكُـوْنُ لَنَا عِيْدًا لِّاَوَّلِنَا وَاٰخِرِنَا وَاٰيَةً مِّنْكَ ۖ وَارْزُقْنَا وَاَنْتَ خَيْـرُ الرَّازِقِيْنَ (114)
مریم کے بیٹے عیسیٰ نے کہا اے اللہ ہمارے رب! ہم پر بھرا ہوا خوان آسمان سے اتار جو ہمارے پہلوں اور پچھلوں کے لیے عید ہو اور تیری طرف سے ایک نشانی ہو، اور ہمیں رزق دے اور تو ہی سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔
قَالَ اللّـٰهُ اِنِّـىْ مُنَزِّلُـهَا عَلَيْكُمْ ۖ فَمَنْ يَّكْـفُرْ بَعْدُ مِنْكُمْ فَاِنِّـىٓ اُعَذِّبُهٝ عَذَابًا لَّآ اُعَذِّبُهٝٓ اَحَدًا مِّنَ الْعَالَمِيْنَ (115)
اللہ نے فرمایا بے شک میں وہ خوان تم پر اتاروں گا، پھر اس کے بعد جو کوئی تم میں سے ناشکری کرے گا تو میں اسے ایسی سزا دوں گا جو دنیا میں کسی کو نہ دی ہوگی۔
وَاِذْ قَالَ اللّـٰهُ يَا عِيْسَى ابْنَ مَرْيَـمَ ءَاَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِىْ وَاُمِّىَ اِلٰـهَيْنِ مِنْ دُوْنِ اللّـٰهِ ۖ قَالَ سُبْحَانَكَ مَا يَكُـوْنُ لِىٓ اَنْ اَقُوْلَ مَا لَيْسَ لِىْ بِحَقٍّ ۚ اِنْ كُنْتُ قُلْتُهٝ فَقَدْ عَلِمْتَهٝ ۚ تَعْلَمُ مَا فِىْ نَفْسِىْ وَلَآ اَعْلَمُ مَا فِىْ نَفْسِكَ ۚ اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوْبِ (116)
اور جب اللہ فرمائے گا اے مریم کے بیٹے عیسیٰ! کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ اللہ کے سوا مجھے اور میری ماں کو بھی خدا بنا لو، وہ عرض کرے گا تو پاک ہے مجھے لائق نہیں کہ ایسی بات کہوں جس کا مجھے حق نہیں، اگر میں نے یہ کہا ہوگا تو تجھے ضرور معلوم ہوگا، جو میرے دل میں ہے تو جانتا ہے اور جو تیرے دل میں ہے وہ میں نہیں جانتا، بے شک تو ہی چھپی ہوئی باتوں کا جاننے والا ہے۔
مَا قُلْتُ لَـهُـمْ اِلَّا مَآ اَمَرْتَنِىْ بِهٓ ٖ اَنِ اعْبُدُوا اللّـٰهَ رَبِّىْ وَرَبَّكُمْ ۚ وَكُنْتُ عَلَيْـهِـمْ شَهِيْدًا مَّا دُمْتُ فِيْـهِـمْ ۖ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِىْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْـهِـمْ ۚ وَاَنْتَ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ شَهِيْدٌ (117)
میں نے ان سے اس کے سوا کچھ نہیں کہا جس کا تو نے مجھے حکم دیا تھا کہ اللہ کی بندگی کرو جو میرا اور تمہارا رب ہے، اور میں اس وقت تک ان کا نگران تھا جب تک ان میں رہا، پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا پھر تو ہی ان کا نگران تھا، اور تو ہر چیز سے خبردار ہے۔
اِنْ تُـعَذِّبْـهُـمْ فَاِنَّـهُـمْ عِبَادُكَ ۖ وَاِنْ تَغْفِرْ لَـهُـمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِـيْـمُ (118)
اگر تو انہیں عذاب دے تو وہ تیرے ہی بندے ہیں، اور اگر تو انہیں معاف کر دے تو بے شک تو زبردست حکمت والا ہے۔
قَالَ اللّـٰهُ هٰذَا يَوْمُ يَنْفَعُ الصَّادِقِيْنَ صِدْقُهُـمْ ۚ لَـهُـمْ جَنَّاتٌ تَجْرِىْ مِنْ تَحْتِـهَا الْاَنْـهَارُ خَالِـدِيْنَ فِيْـهَآ اَبَدًا ۚ رَّضِىَ اللّـٰهُ عَنْـهُـمْ وَرَضُوْا عَنْهُ ۚ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْـمُ (119)
اللہ فرمائے گا یہ وہ دن ہے جس میں سچوں کو ان کا سچ کام آئے گا، ان کے لیے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ان میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے، ان سے اللہ راضی ہوا اور وہ اس سے راضی ہوئے، یہی بڑی کامیابی ہے۔
لِلّـٰهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ وَمَا فِيْـهِنَّ ۚ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْرٌ (120)
آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب اللہ ہی کی سلطنت ہے، اور وہ ہرچیز پر قادر ہے۔