قرآن حکیم            

مکمل سورت
سورت نمبر
آیت نمبر
ایک آیت
(44) سورۃ الدخان (مکی، آیات 59)
بِسْمِ اللّـٰهِ الرَّحْـمٰنِ الرَّحِيْـمِ
حٰمٓ (1)
ح مۤ۔
وَالْكِتَابِ الْمُبِيْنِ (2)
روشن کتاب کی قسم ہے۔
اِنَّـآ اَنْزَلْنَاهُ فِىْ لَيْلَـةٍ مُّبَارَكَةٍ ۚ اِنَّا كُنَّا مُنْذِرِيْنَ (3)
ہم نے اسے مبارک رات میں نازل کیا ہے، بے شک ہمیں ڈرانا مقصود تھا۔
فِـيْـهَا يُفْرَقُ كُلُّ اَمْرٍ حَكِـيْمٍ (4)
سارے کام جو حکمت پر مبنی ہیں اسی رات تصفیہ پاتے ہیں۔
اَمْرًا مِّنْ عِنْدِنَا ۚ اِنَّا كُنَّا مُرْسِلِيْنَ (5)
ہمارے خاص حکم سے، کیوں کہ ہمیں رسول بھیجنا منظور تھا۔
رَحْـمَةً مِّنْ رَّبِّكَ ۚ اِنَّهٝ هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِـيْمُ (6)
آپ کے پروردگار کی رحمت ہے، بے شک وہی سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے۔
رَبِّ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَيْنَـهُمَا ۖ اِنْ كُنْتُـمْ مُّوْقِنِيْنَ (7)
آسمانوں اور زمین کا رب ہے اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، اگر تم یقین کرنے والے ہو۔
لَآ اِلٰـهَ اِلَّا هُوَ يُحْيِىْ وَيُمِيْتُ ۖ رَبُّكُمْ وَرَبُّ اٰبَآئِكُمُ الْاَوَّلِيْنَ (8)
اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں، زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے، تمہارا بھی رب ہے اور تمہارے پہلے باپ دادا کا بھی۔
بَلْ هُـمْ فِىْ شَكٍّ يَّلْعَبُوْنَ (9)
بلکہ وہ تو شک میں کھیل رہے ہیں۔
فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَاْتِى السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِيْنٍ (10)
سو اس دن کا انتظار کیجیے کہ آسمان دھواں ظاہر لائے۔
يَغْشَى النَّاسَ ۖ هٰذَا عَذَابٌ اَلِـيْـمٌ (11)
جو لوگوں کو ڈھانپ لے، یہی دردناک عذاب ہے۔
رَّبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ اِنَّا مُؤْمِنُـوْنَ (12)
اے ہمارے رب! ہم سے یہ عذاب دور کر دے بے شک ہم ایمان لانے والے ہیں۔
اَنّـٰى لَـهُـمُ الـذِّكْرٰى وَقَدْ جَآءَهُـمْ رَسُوْلٌ مُّبِيْنٌ (13)
وہ کہاں سمجھتے ہیں حالانکہ ان کے پاس کھول کر سنانے والا رسول بھی آچکا ہے۔
ثُـمَّ تَوَلَّوْا عَنْهُ وَقَالُوْا مُعَلَّـمٌ مَّجْنُـوْنٌ (14)
پھر اس سے بھی پھر گئے اور کہا کہ سکھایا ہوا دیوانہ ہے۔
اِنَّا كَاشِفُو الْعَذَابِ قَلِيْلًا ۚ اِنَّكُمْ عَآئِدُوْنَ (15)
ہم اس عذاب کو تھوڑی دیر کے لیے ہٹا دیں گے تم پھر وہی کرنے والے ہو۔
يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرٰىۚ اِنَّا مُنْتَقِمُوْنَ (16)
جس دن ہم بڑی سخت پکڑ پکڑیں گے، بے شک ہم بدلہ لینے والے ہیں۔
وَلَقَدْ فَتَنَّا قَبْلَـهُـمْ قَوْمَ فِرْعَوْنَ وَجَآءَهُـمْ رَسُوْلٌ كَرِيْـمٌ (17)
اور ان سے پہلے ہم فرعون کی قوم کو آزما چکے ہیں اور ان کے پاس ایک عزت والا رسول بھی آیا تھا۔
اَنْ اَدُّوٓا اِلَـىَّ عِبَادَ اللّـٰهِ ۖ اِنِّىْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِيْنٌ (18)
کہ اللہ کے بندوں کو میرے حوالہ کردو، بے شک میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں۔
وَاَنْ لَّا تَعْلُوْا عَلَى اللّـٰهِ ۖ اِنِّـىٓ اٰتِيْكُمْ بِسُلْطَانٍ مُّبِيْنٍ (19)
اور یہ کہ اللہ کے خلاف سرکشی نہ کرو، میں تمہارے پاس کھلی دلیل لایا ہوں۔
وَاِنِّىْ عُذْتُ بِرَبِّىْ وَرَبِّكُمْ اَنْ تَـرْجُـمُوْنِ (20)
اور بے شک میں نے اپنے اور تمہارے رب کی پناہ لی ہے اس واسطے کہ تم مجھے سنگسار کرو۔
وَاِنْ لَّمْ تُؤْمِنُـوْا لِـىْ فَاعْتَزِلُوْنِ (21)
اور اگر تم میری بات پر ایمان نہیں لاتے تو مجھ سے الگ ہو جاؤ۔
فَدَعَا رَبَّهٝٓ اَنَّ هٰٓؤُلَآءِ قَوْمٌ مُّجْرِمُوْنَ (22)
پس اس نے اپنے رب کو پکارا کہ یہ تو مجرم لوگ ہیں۔
فَاَسْرِ بِعِبَادِىْ لَيْلًا اِنَّكُمْ مُّتَّبَعُوْنَ (23)
حکم ہوا پس میرے بندوں کو رات کے وقت لے چل کیوں کہ تمہارا پیچھا کیا جائے گا۔
وَاتْـرُكِ الْبَحْرَ رَهْوًا ۖ اِنَّـهُـمْ جُنْدٌ مُّغْرَقُوْنَ (24)
اور سمندر کو ٹھہرا ہوا چھوڑ دے، بے شک وہ لشکر ڈوبنے والے ہیں۔
كَمْ تَـرَكُوْا مِنْ جَنَّاتٍ وَّّعُيُوْنٍ (25)
کتنے انہوں نے باغات اور چشمے چھوڑے ہیں۔
وَزُرُوْعٍ وَّمَقَامٍ كَرِيْمٍ (26)
اور کھیتیاں اور مقام عمدہ۔
وَنَعْمَةٍ كَانُـوْا فِيْـهَا فَاكِهِيْنَ (27)
اور نعمت کے ساز و سامان جس میں وہ مزے کیا کرتے تھے۔
كَذٰلِكَ ۖ وَاَوْرَثْنَاهَا قَوْمًا اٰخَرِيْنَ (28)
اسی طرح ہوا، اور ہم نے ان کا ایک دوسری قوم کو وارث کر دیا۔
فَمَا بَكَتْ عَلَيْـهِـمُ السَّمَآءُ وَالْاَرْضُ وَمَا كَانُـوْا مُنْظَرِيْنَ (29)
پس ان پر نہ آسمان رویا اور نہ زمین اور نہ ان کو مہلت دی گئی۔
وَلَقَدْ نَجَّيْنَا بَنِىٓ اِسْرَآئِيْلَ مِنَ الْعَذَابِ الْمُهِيْنِ (30)
اور ہم نے بنی اسرائیل کو اس ذلت کےعذاب سے نجات دی۔
مِنْ فِرْعَوْنَ ۚ اِنَّهٝ كَانَ عَالِيًا مِّنَ الْمُسْرِفِيْنَ (31)
(یعنی) فرعون سے، بے شک وہ ایک سرکش حد سے بڑھنے والا تھا۔
وَلَقَدِ اخْتَـرْنَاهُـمْ عَلٰى عِلْمٍ عَلَى الْعَالَمِيْنَ (32)
اور ہم نے اپنے علم سے ان کو جہان والوں پر چن لیا تھا۔
وَاٰتَيْنَاهُـمْ مِّنَ الْاٰيَاتِ مَا فِيْهِ بَلَآءٌ مُّبِيْنٌ (33)
اور ہم نے ان کو نشانیاں دی تھیں جن میں صریح آزمائش تھی۔
اِنَّ هٰٓؤُلَآءِ لَيَقُوْلُوْنَ (34)
بے شک یہ لوگ کہتے ہیں۔
اِنْ هِىَ اِلَّا مَوْتَتُنَا الْاُوْلٰى وَمَا نَحْنُ بِمُنْشَرِيْنَ (35)
کہ اور مرنا نہیں ہے مگر یہی ہمارا پہلی بار کا مرنا، اور ہم دوبارہ اٹھائے جانے والے نہیں۔
فَاْتُوْا بِاٰبَآئِنَآ اِنْ كُنْتُـمْ صَادِقِيْنَ (36)
پس ہمارے باپ دادا کو لے آؤ اگر تم سچے ہو۔
اَهُـمْ خَيْـرٌ اَمْ قَوْمُ تُبَّـعٍۙ وَّالَّـذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِـمْ ۚ اَهْلَكْنَاهُـمْ ۖ اِنَّـهُـمْ كَانُـوْا مُجْرِمِيْنَ (37)
کیا وہ بہتر ہیں یا تبع کی قوم، اور وہ لوگ جو ان سے پہلے ہوئے، ہم نے انہیں ہلاک کردیا، کیوں کہ وہ مجرم تھے۔
وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَيْنَـهُمَا لَاعِبِيْنَ (38)
اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ اس کے درمیان میں ہے کھیل کے لیے نہیں بنایا۔
مَا خَلَقْنَاهُمَآ اِلَّا بِالْحَقِّ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَهُـمْ لَا يَعْلَمُوْنَ (39)
ہم نے انہیں بہت ہی مصلحت سے بنایا ہے لیکن اکثر ان میں سے نہیں جانتے۔
اِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ مِيْقَاتُهُـمْ اَجْـمَعِيْنَ (40)
بے شک فیصلہ کا دن ان سب کے لیے مقرر ہو چکا ہے۔
يَوْمَ لَا يُغْنِىْ مَوْلًى عَنْ مَّوْلًى شَيْئًا وَّلَا هُـمْ يُنْصَرُوْنَ (41)
جس دن کوئی دوست کسی دوست کے کچھ بھی کام نہیں آئے گا اور نہ انہیں مدد ملے گی۔
اِلَّا مَنْ رَّحِمَ اللّـٰهُ ۚ اِنَّهٝ هُوَ الْعَزِيْزُ الرَّحِـيْمُ (42)
مگر جس پر اللہ نے رحم کیا، بے شک وہ زبردست رحم والا ہے۔
اِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّـوْمِ (43)
بے شک تھوہر کا درخت۔
طَعَامُ الْاَثِيْـمِ (44)
گناہگاروں کا کھانا ہے۔
كَالْمُهْلِ يَغْلِـىْ فِى الْبُطُوْنِ (45)
پگھلے ہوئے تانبے کی طرح پیٹو ں میں کھولے گا۔
كَغَلْـىِ الْحَـمِـيْمِ (46)
جیسے پکتا ہوا پانی کھولتا ہے۔
خُذُوْهُ فَاعْتِلُوْهُ اِلٰٓى سَوَآءِ الْجَحِـيْمِ (47)
اسے پکڑ لو پس اسے دوزخ کے درمیان دھکیل کر لے جاؤ۔
ثُـمَّ صُبُّوْا فَوْقَ رَاْسِهٖ مِنْ عَذَابِ الْحَـمِـيْمِ (48)
پھر اس کے سر پر عذاب کا کھولتا ہوا پانی ڈالو۔
ذُقْ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْكَرِيْمُ (49)
چکھ بے شک تو تو بڑا عزت والا بزرگی والا ہے۔
اِنَّ هٰذَا مَا كُنْتُـمْ بِهٖ تَمْتَـرُوْنَ (50)
بے شک یہی ہے جس کی نسبت تم شک کیا کرتے تھے۔
اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِىْ مَقَامٍ اَمِيْنٍ (51)
بے شک پرہیزگار ہی امن کی جگہ میں ہوں گے۔
فِىْ جَنَّاتٍ وَّّعُيُوْنٍ (52)
باغوں اور چشموں میں۔
يَلْبَسُوْنَ مِنْ سُنْدُسٍ وَّاِسْتَبْـرَقٍ مُّتَقَابِلِيْنَ (53)
باریک ریشم اور گاڑھا پہن کر آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔
كَذٰلِكَۖ وَزَوَّجْنَاهُـمْ بِحُوْرٍ عِيْنٍ (54)
یونہی ہوگا، اور ہم ان کا نکاح بڑی آنکھوں والی حوروں سے کر دیں گے۔
يَدْعُوْنَ فِيْـهَا بِكُلِّ فَاكِهَةٍ اٰمِنِيْنَ (55)
وہ اس میں ہر قسم کا میوہ امن و اطمینان سے طلب کریں گے۔
لَا يَذُوْقُوْنَ فِيْـهَا الْمَوْتَ اِلَّا الْمَوْتَةَ الْاُوْلٰى ۖ وَوَقَاهُـمْ عَذَابَ الْجَحِـيْمِ (56)
وہاں پہلی موت کے سوا اور موت کا مزہ نہ چکھیں گے، اور انہیں اللہ دوزح کے عذاب سے بچا لے گا۔
فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكَ ۚ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِـيْمُ (57)
یہ آپ کے رب کا فضل ہوگا، یہی وہ بڑی کامیابی ہے۔
فَاِنَّمَا يَسَّرْنَاهُ بِلِسَانِكَ لَعَلَّهُـمْ يَتَذَكَّرُوْنَ (58)
اس قرآن کو ہم نے آپ کی زبان میں آسان کر دیا تاکہ وہ سمجھیں۔
فَارْتَقِبْ اِنَّـهُـمْ مُّرْتَقِبُوْنَ (59)
پس آپ انتظار کیجیے بے شک وہ بھی انتظار کر رہے ہیں۔