قرآن حکیم            

مکمل سورت
سورت نمبر
آیت نمبر
ایک آیت
(41) سورۃ فصلت (مکی، آیات 54)
بِسْمِ اللّـٰهِ الرَّحْـمٰنِ الرَّحِيْـمِ
حٰمٓ (1)
ح مۤ۔
تَنْزِيْلٌ مِّنَ الرَّحْـمٰنِ الرَّحِيْـمِ (2)
(یہ کتاب) بڑے مہربان نہایت رحم والے کی طرف سے نازل ہوئی ہے۔
كِتَابٌ فُصِّلَتْ اٰيَاتُهٝ قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا لِّقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ (3)
کہ جس کی آیتیں عربی زبان میں علم والوں کے لیے واضح ہیں۔
بَشِيْـرًا وَّنَذِيْـرًاۚ فَاَعْرَضَ اَكْثَرُهُـمْ فَهُـمْ لَا يَسْـمَعُوْنَ (4)
خوشخبری دینے والی ڈرانے والی ہے، پھر ان میں سے اکثر نے تو منہ ہی پھیر لیا پھر وہ سنتے بھی نہیں۔
وَقَالُوْا قُلُوْبُنَا فِىٓ اَكِنَّـةٍ مِّمَّا تَدْعُوْنَـآ اِلَيْهِ وَفِىٓ اٰذَانِنَا وَقْرٌ وَّّمِنْ بَيْنِنَا وَبَيْنِكَ حِجَابٌ فَاعْمَلْ اِنَّنَا عَامِلُوْنَ (5)
اور کہتے ہیں ہمارے دل اس بات سے کہ جس کی طرف تو ہمیں بلاتا ہے پردوں میں ہیں، اور ہمارے کانوں میں بوجھ ہے اور ہمارے اور آپ کے درمیان پردہ پڑا ہوا ہے، پھر آپ اپنا کام کیے جائیں ہم بھی اپنا کام کر رہے ہیں۔
قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوحٰٓى اِلَىَّ اَنَّمَآ اِلٰـهُكُمْ اِلٰـهٌ وَّاحِدٌ فَاسْتَقِيْمُوٓا اِلَيْهِ وَاسْتَغْفِرُوْهُ ۗ وَوَيْلٌ لِّلْمُشْرِكِيْنَ (6)
آپ ان سے کہہ دیں کہ میں بھی تم جیسا ایک آدمی ہوں میری طرف یہی حکم آتا ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی ہے پھراس کی طرف سیدھے چلے جاؤ اور اس سے معافی مانگو، اور مشرکوں کے لیے ہلاکت ہے۔
اَلَّـذِيْنَ لَا يُؤْتُوْنَ الزَّكَاةَ وَهُـمْ بِالْاٰخِرَةِ هُـمْ كَافِرُوْنَ (7)
جو زکوٰۃ نہیں دیتے اور وہ آخرت کے بھی منکر ہیں۔
اِنَّ الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَـهُـمْ اَجْرٌ غَيْـرُ مَمْنُـوْنٍ (8)
بے شک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام بھی کیے ان کے لیے بے انتہا اجر ہے۔
قُلْ اَئِنَّكُمْ لَتَكْـفُرُوْنَ بِالَّـذِىْ خَلَقَ الْاَرْضَ فِىْ يَوْمَيْنِ وَتَجْعَلُوْنَ لَـهٝٓ اَنْدَادًا ۚ ذٰلِكَ رَبُّ الْعَالَمِيْنَ (9)
کہہ دو کیا تم اس کا انکار کرتے ہو جس نے دو دن میں زمین بنائی اور تم اس کے لیے شریک ٹھہراتے ہو، وہی سب جہانوں کا پروردگار ہے۔
وَجَعَلَ فِيْـهَا رَوَاسِىَ مِنْ فَوْقِهَا وَبَارَكَ فِيْـهَا وَقَدَّرَ فِـيْـهَآ اَقْوَاتَـهَا فِىٓ اَرْبَعَةِ اَيَّامٍ ؕ سَوَآءً لِّلسَّآئِلِيْنَ (10)
اور اس نے (زمین میں) اوپر سے پہاڑ رکھے اور اس میں برکت ڈالی اور چار دن میں اس کی غذاؤں کا تخمینہ کیا، (یہ جواب) پوچھنے والوں کے لیے پورا ہے۔
ثُـمَّ اسْتَوٰٓى اِلَى السَّمَآءِ وَهِىَ دُخَانٌ فَقَالَ لَـهَا وَلِلْاَرْضِ ائْتِيَا طَوْعًا اَوْ كَرْهًاۖ قَالَتَآ اَتَيْنَا طَـآئِعِيْنَ (11)
پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وہ دھواں تھا پس اس کو اور زمین کو فرمایا کہ خوشی سے آؤ یا جبر سے، دونوں نے کہا ہم خوشی سے آئے ہیں۔
فَقَضَاهُنَّ سَبْعَ سَـمَاوَاتٍ فِىْ يَوْمَيْنِ وَاَوْحٰى فِىْ كُلِّ سَـمَآءٍ اَمْرَهَا ۚ وَزَيَّنَّا السَّمَآءَ الـدُّنْيَا بِمَصَابِيْحَ وَحِفْظًا ۚ ذٰلِكَ تَقْدِيْـرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِـيْـمِ (12)
پھر انہیں دو دن میں سات آسمان بنا دیا اور اس نے ہر ایک آسمان میں اس کا کام القا کیا، اور ہم نے پہلے آسمان کو چراغوں سے زینت دی اور اسے محفوظ بنایا، یہ زبردست جاننے والے کا کام ہے۔
فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُكُمْ صَاعِقَةً مِّثْلَ صَاعِقَةِ عَادٍ وَّثَمُوْدَ (13)
پس اگر وہ نہ مانیں تو کہہ دو میں تمہیں کڑک سے ڈراتا ہوں جیسا کہ قوم عاد اور ثمود پر کڑک آئی تھی۔
اِذْ جَآءَتْهُـمُ الرُّسُلُ مِنْ بَيْنِ اَيْدِيْهِـمْ وَمِنْ خَلْفِهِـمْ اَلَّا تَعْبُدُوٓا اِلَّا اللّـٰهَ ۖ قَالُوْا لَوْ شَآءَ رَبُّنَا لَاَنْزَلَ مَلَآئِكَـةً فَاِنَّا بِمَآ اُرْسِلْتُـمْ بِهٖ كَافِرُوْنَ (14)
جب ان کے پاس رسول آئے ان کے سامنے سے اور ان کے پیچھے سے کہ سوائے اللہ کے کسی کی عبادت نہ کرو، تو کہنے لگے کہ اگر ہمارا رب چاہتا تو فرشتے نازل کر دیتا پس ہم تو اس چیز سے جو تم دے کر بھیجے گئے ہو منکر ہیں۔
فَاَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْـبَـرُوْا فِى الْاَرْضِ بِغَيْـرِ الْحَقِّ وَقَالُوْا مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ۖ اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّـٰهَ الَّـذِىْ خَلَقَهُـمْ هُوَ اَشَدُّ مِنْـهُـمْ قُوَّةً ۖ وَكَانُـوْا بِاٰيَاتِنَا يَجْحَدُوْنَ (15)
پس قوم عاد نے زمین میں ناحق تکبر کیا اور کہا ہم سے طاقت میں کون زیادہ ہے، کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ اللہ جس نے انہیں پیدا کیا ہے وہ ان سے طاقت میں کہیں بڑھ کر ہے، وہ ہماری آیتوں کا انکار کرتے رہے۔
فَاَرْسَلْنَا عَلَيْـهِـمْ رِيْحًا صَرْصَرًا فِىٓ اَيَّامٍ نَّحِسَاتٍ لِّنُذِيْقَهُـمْ عَذَابَ الْخِزْىِ فِى الْحَيَاةِ الـدُّنْيَا ۖ وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَخْزٰى ۖ وَهُـمْ لَا يُنْصَرُوْنَ (16)
پس ہم نے ان پر منحوس دنوں میں تیز آندھی بھیجی تاکہ ہم انہیں ذلت کے عذاب کا مزہ دنیا کی زندگی میں چکھا دیں اور آخرت کا عذاب تو اور بھی ذلت کا ہے اور ان کی مدد نہ کی جائے گی۔
وَاَمَّا ثَمُوْدُ فَهَدَيْنَاهُـمْ فَاسْتَحَبُّوا الْعَمٰى عَلَى الْـهُدٰى فَاَخَذَتْهُـمْ صَاعِقَةُ الْعَذَابِ الْـهُوْنِ بِمَا كَانُـوْا يَكْسِبُوْنَ (17)
اور وہ جو قوم ثمود تھی ہم نے انہیں ہدایت کی سو انہوں نے گمراہی کو بمقابلہ ہدایت کے پسند کیا پھر انہیں کڑاکے کے ذلیل کرنے والے عذاب نے آ لیا ان کے اعمال کے سبب سے۔
وَنَجَّيْنَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا وَكَانُـوْا يَتَّقُوْنَ (18)
اور جو لوگ ایمان لائے اور ڈرتے رہتے تھے ہم نے انہیں بچا لیا۔
وَيَوْمَ يُحْشَرُ اَعْدَآءُ اللّـٰهِ اِلَى النَّارِ فَـهُـمْ يُوْزَعُوْنَ (19)
اور جس دن اللہ کے دشمن دوزخ کی طرف ہانکے جائیں گے تو وہ روک لیے جائیں گے۔
حَتّـٰٓى اِذَا مَا جَآءُوْهَا شَهِدَ عَلَيْـهِـمْ سَمْعُهُـمْ وَاَبْصَارُهُـمْ وَجُلُوْدُهُـمْ بِمَا كَانُـوْا يَعْمَلُوْنَ (20)
یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس آ پہنچیں گے تو ان پر ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کی کھالیں گواہی دیں گی جو کچھ وہ کیا کرتے تھے۔
وَقَالُوْا لِجُلُوْدِهِـمْ لِمَ شَهِدْتُّـمْ عَلَيْنَا ۖ قَالُوٓا اَنْطَقَنَا اللّـٰهُ الَّـذِىٓ اَنْطَقَ كُلَّ شَىْءٍ وَّهُوَ خَلَقَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ (21)
وہ اپنی کھالوں سے کہیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف کیوں گواہی دی، وہ کہیں گی کہ ہمیں اللہ نے گویائی دی جس نے ہر چیز کو گویائی بخشی ہے اور اسی نے پہلی مرتبہ تمہیں پیدا کیا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔
وَمَا كُنْتُـمْ تَسْتَتِـرُوْنَ اَنْ يَّشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلَآ اَبْصَارُكُمْ وَلَا جُلُوْدُكُمْ وَلٰكِنْ ظَنَنْتُـمْ اَنَّ اللّـٰهَ لَا يَعْلَمُ كَثِيْـرًا مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ (22)
اور تم اپنے کانوں اور آنکھوں اور چمڑوں کی اپنے اوپر گواہی دینے سے پردہ نہ کرتے تھے لیکن تم نے یہ گمان کیا تھا جو کچھ تم کرتے ہو اس میں سے بہت سی چیزوں کو اللہ نہیں جانتا۔
وَذٰلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّـذِىْ ظَنَنْتُـمْ بِرَبِّكُمْ اَرْدَاكُمْ فَاَصْبَحْتُـمْ مِّنَ الْخَاسِرِيْنَ (23)
اور تمہارے اسی خیال نے جو تم نے اپنے رب کے حق میں کیا تھا تمہیں برباد کیا پھر تم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگئے۔
فَاِنْ يَّصْبِـرُوْا فَالنَّارُ مَثْوًى لَّـهُـمْ ۖ وَاِنْ يَّسْتَعْتِبُوْا فَمَا هُـمْ مِّنَ الْمُعْتَبِيْنَ (24)
پس اگر وہ صبر کریں تو بھی ان کا ٹھکانہ آگ ہی ہے، اور اگر وہ معافی چاہیں گے تو انہیں معافی نہیں دی جائے گی۔
وَقَيَّضْنَا لَـهُـمْ قُرَنَـآءَ فَزَيَّنُـوْا لَـهُـمْ مَّا بَيْنَ اَيْدِيْهِـمْ وَمَا خَلْفَهُـمْ وَحَقَّ عَلَيْـهِـمُ الْقَوْلُ فِىٓ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِـمْ مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ ۖ اِنَّـهُـمْ كَانُـوْا خَاسِرِيْنَ (25)
اور ہم نے ان کے لیے کچھ ہمنشین مقرر کر دیے پس انہوں نے ان کو وہ (برے کام) اچھے کر دکھائے جو پہلے کر چکے تھے اور جو پیچھے کریں گے اور ان پر حکم الٰہی ثابت ہو چکا تھا پہلی امتوں کے ضمن میں جو ان سے پہلے جنوں اور انسانوں میں سے گزر چکی تھیں، بے شک وہ نقصان اٹھانے والے تھے۔
وَقَالَ الَّـذِيْنَ كَفَرُوْا لَا تَسْـمَعُوْا لِـهٰذَا الْقُرْاٰنِ وَالْغَوْا فِيْهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ (26)
اور کافروں نے کہا کہ تم اس قرآن کو نہ سنو اور اس میں غل مچاؤ تاکہ تم غالب ہو جاؤ۔
فَلَنُذِيْقَنَّ الَّـذِيْنَ كَفَرُوْا عَذَابًا شَدِيْدًا وَّلَنَجْزِيَنَّـهُـمْ اَسْوَاَ الَّـذِىْ كَانُـوْا يَعْمَلُوْنَ (27)
پس ہم ضرور کافروں کو سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے اور ہم ان کے بدترین اعمال کا بدلہ دیں گے جو وہ کیا کرتے تھے۔
ذٰلِكَ جَزَآءُ اَعْدَآءِ اللّـٰهِ النَّارُ ۖ لَـهُـمْ فِيْـهَا دَارُ الْخُلْـدِ ۖ جَزَآءً بِمَا كَانُـوْا بِاٰيَاتِنَا يَجْحَدُوْنَ (28)
اللہ کے دشمنوں کی یہی سزا آگ ہی ہے، ان کے لیے اس میں ہمیشہ رہنے کا گھر ہے، اس کا بدلہ جو ہماری آیتوں کا انکار کیا کرتے تھے۔
وَقَالَ الَّـذِيْنَ كَفَرُوْا رَبَّنَـآ اَرِنَا اللَّـذَيْنِ اَضَلَّانَا مِنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ نَجْعَلْـهُمَا تَحْتَ اَقْدَامِنَا لِيَكُـوْنَا مِنَ الْاَسْفَلِيْنَ (29)
اور کافر کہیں گے اے ہمارے رب ہمیں وہ لوگ دکھا جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا جنوں اور انسانوں میں سے، ہم انہیں اپنے قدموں کے نیچے ڈال دیں تاکہ وہ بہت ذلیل ہوں۔
اِنَّ الَّـذِيْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّـٰهُ ثُـمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَيْـهِـمُ الْمَلَآئِكَـةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَلَا تَحْزَنُـوْا وَاَبْشِرُوْا بِالْجَنَّـةِ الَّتِىْ كُنْتُـمْ تُوْعَدُوْنَ (30)
بے شک جنہوں نے کہا تھا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر قائم رہے ان پر فرشتے اتریں گے کہ تم خوف نہ کرو اور نہ غم کرو اور جنت میں خوش رہو جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔
نَحْنُ اَوْلِيَآؤُكُمْ فِى الْحَيَاةِ الـدُّنْيَا وَفِى الْاٰخِرَةِ ۖ وَلَكُمْ فِيْـهَا مَا تَشْتَهِىٓ اَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيْـهَا مَا تَدَّعُوْنَ (31)
ہم تمہارے دنیا میں بھی دوست تھے اور آخرت میں بھی، اور بہشت میں تمہارے لیے ہر چیز موجود ہے جس کو تمہارا دل چاہے اور تم جو وہاں مانگو گے ملے گا۔
نُزُلًا مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِـيْـمٍ (32)
بخشنے والے نہایت رحم والے کی طرف سے مہمانی ہے۔
وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَآ اِلَى اللّـٰهِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَّقَالَ اِنَّنِىْ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ (33)
اور اس سے بہتر کس کی بات ہے جس نے لوگوں کو اللہ کی طرف بلایا اور خود بھی اچھے کام کیے اور کہا بے شک میں بھی فرمانبرداروں میں سے ہوں۔
وَلَا تَسْتَوِى الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ۚ اِدْفَـعْ بِالَّتِىْ هِىَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّـذِىْ بَيْنَكَ وَبَيْنَهٝ عَدَاوَةٌ كَاَنَّـهٝ وَلِـىٌّ حَـمِـيْـمٌ (34)
اور نیکی اور بدی برابر نہیں ہوتی، (برائی کا) دفعیہ اس بات سے کیجیے جو اچھی ہو پھر ناگہاں وہ شخص جو تیرے اور اس کے درمیان دشمنی تھی ایسا ہوگا گویا کہ وہ مخلص دوست ہے۔
وَمَا يُلَقَّاهَآ اِلَّا الَّـذِيْنَ صَبَـرُوْاۚ وَمَا يُلَقَّاهَآ اِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِـيْمٍ (35)
اور یہ بات نہیں دی جاتی مگر انہیں جو صابر ہوتے ہیں اور یہ بات نہیں دی جاتی مگر اس کو جو بڑا بخت والا ہے۔
وَاِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّـٰهِ ۖ اِنَّهٝ هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِـيْمُ (36)
اور اگر آپ کو شیطان سے کوئی وسوسہ آنے لگے تو اللہ کی پناہ مانگیے، بے شک وہی سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے۔
وَمِنْ اٰيَاتِهِ اللَّيْلُ وَالنَّـهَارُ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ ۚ لَا تَسْجُدُوْا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوْا لِلّـٰهِ الَّـذِىْ خَلَقَهُنَّ اِنْ كُنْتُـمْ اِيَّاهُ تَعْبُدُوْنَ (37)
اور اس کی نشانیوں میں سے رات اور دن اور سورج اور چاند ہیں، سورج کو سجدہ نہ کرو اور نہ چاند کو اور اس اللہ کو سجدہ کرو جس نے انہیں پیدا کیا ہے اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو۔
فَاِنِ اسْتَكْـبَـرُوْا فَالَّـذِيْنَ عِنْدَ رَبِّكَ يُسَبِّحُوْنَ لَـهٝ بِاللَّيْلِ وَالنَّـهَارِ وَهُـمْ لَا يَسْاَمُوْنَ ۩ (38)
پھر اگر وہ تکبر کریں تو وہ لوگ جو آپ کے رب کے پاس ہیں رات دن اس کی تسبیح کرتے ہیں اور تھکتے نہیں۔
وَمِنْ اٰيَاتِهٓ ٖ اَنَّكَ تَـرَى الْاَرْضَ خَاشِعَةً فَاِذَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْـهَا الْمَآءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ ۚ اِنَّ الَّـذِىٓ اَحْيَاهَا لَمُحْىِ الْمَوْتٰى ۚ اِنَّهٝ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْرٌ (39)
اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ تو زمین کو دبی ہوئی دیکھتا ہے پھر جب ہم اس پر پانی برساتے ہیں تو ابھرتی ہے اور پھولتی ہے، بے شک جس نے اسے زندہ کیا وہی مردوں کو زندہ کرے گا، بے شک وہی ہر چیز پر قادر ہے۔
اِنَّ الَّـذِيْنَ يُلْحِدُوْنَ فِىٓ اٰيَاتِنَا لَا يَخْفَوْنَ عَلَيْنَا ۗ اَفَمَنْ يُّلْقٰى فِى النَّارِ خَيْـرٌ اَمْ مَّنْ يَّاْتِـىٓ اٰمِنًا يَّوْمَ الْقِيَامَةِ ۚ اِعْمَلُوْا مَا شِئْتُـمْ ۖ اِنَّهٝ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْـرٌ (40)
بے شک جو لوگ ہماری آیتوں میں کجروی کرتے ہیں وہ ہم سے چھپے نہیں رہتے، کیا وہ شخص جو آگ میں ڈالا جائے گا بہتر ہے یا وہ جو قیامت کے دن امن سے آئے گا، جو چاہو کرو، جو کچھ تم کرتے ہو وہ دیکھ رہا ہے۔
اِنَّ الَّـذِيْنَ كَفَرُوْا بِالـذِّكْرِ لَمَّا جَآءَهُـمْ ۖ وَاِنَّهٝ لَكِتَابٌ عَزِيْزٌ (41)
بے شک وہ لوگ جنہوں نے نصیحت سے انکار کیا جب کہ وہ ان کے پاس آئی، اور تحقیق وہ البتہ عزت والی کتاب ہے۔
لَّا يَاْتِيْهِ الْبَاطِلُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهٖ ۖ تَنْزِيْلٌ مِّنْ حَكِـيْمٍ حَـمِيْدٍ (42)
جس میں نہ آگے اور نہ پیچھے سے غلطی کا دخل ہے، حکمت والے تعریف کیے ہوئے کی طرف سے نازل کی گئی ہے۔
مَّا يُقَالُ لَكَ اِلَّا مَا قَدْ قِيْلَ لِلرُّسُلِ مِنْ قَبْلِكَ ۚ اِنَّ رَبَّكَ لَـذُوْ مَغْفِرَةٍ وَّّذُوْ عِقَابٍ اَلِـيْمٍ (43)
آپ سے وہی بات کہی جاتی ہے جو آپ سے پہلے رسولوں سے کہی گئی تھی، بے شک آپ کا رب بخشنے والا اور دردناک عذاب دینے والا بھی ہے۔
وَلَوْ جَعَلْنَاهُ قُرْاٰنًا اَعْجَـمِيًّا لَّقَالُوْا لَوْلَا فُصِّلَتْ اٰيَاتُهٝ ۖ ءَاَعْجَـمِىٌّ وَّعَرَبِىٌّ ۗ قُلْ هُوَ لِلَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا هُدًى وَّشِفَـآءٌ ۖ وَالَّـذِيْنَ لَا يُؤْمِنُـوْنَ فِىٓ اٰذَانِـهِـمْ وَقْرٌ وَّّهُوَ عَلَيْـهِـمْ عَمًى ۚ اُولٰٓئِكَ يُنَادَوْنَ مِنْ مَّكَانٍ بَعِيْدٍ (44)
اور اگر ہم اسے عجمی زبان کا قرآن بنا دیتے تو کہتے کہ اس کی آیتیں صاف صاف بیان کیوں نہیں کی گئیں، کیا عجمی کتاب اور عربی رسول، کہہ دو یہ ایمان داروں کے لیے ہدایت اور شفا ہے، اور جو لوگ ایمان نہیں لاتے ان کے کان بہرے ہیں اور وہ قرآن ان کے حق میں نابینائی ہے، وہ لوگ (گویا کہ) دور جگہ سے پکارے جا رہے ہیں۔
وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتَابَ فَاخْتُلِفَ فِيْهِ ۗ وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِىَ بَيْنَـهُـمْ ۚ وَاِنَّـهُـمْ لَفِىْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِيْبٍ (45)
اور ہم نے موسٰی کو کتاب دی تھی پھر اس میں اختلاف کیا گیا، اور اگر آپ کے رب کی طرف سے ایک بات صادر نہ ہو چکی ہوتی تو ان کا فیصلہ ہی ہو چکا ہوتا، اور انہیں تو قرآن میں قوی شک ہے۔
مَّنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ ۖ وَمَنْ اَسَآءَ فَعَلَيْـهَا ۗ وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيْدِ (46)
جو کوئی نیک کام کرتا ہے تو اپنے لیے، اور برائی کرتا ہے تو اپنے سر پر، اور آپ کا رب تو بندوں پر کچھ بھی ظلم نہیں کرتا۔
اِلَيْهِ يُرَدُّ عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ وَمَا تَخْرُجُ مِنْ ثَمَرَاتٍ مِّنْ اَكْمَامِهَا وَمَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰى وَلَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلْمِهٖ ۚ وَيَوْمَ يُنَادِيْهِـمْ اَيْنَ شُرَكَآئِيْۙ قَالُوٓا اٰذَنَّاكَ مَا مِنَّا مِنْ شَهِيْدٍ (47)
قیامت کی خبر کا اسی کی طرف حوالہ دیا جاتا ہے، اور کوئی پھل اپنے غلافوں سے نہیں نکلتا اور نہ کوئی مادہ حاملہ ہوتی ہے اور نہ وضح حمل کرتی ہے مگر اس کے علم سے، اور جس دن انہیں پکارے گا کہ میرے شریک کہاں ہیں، کہیں گے ہم نے آپ سے عرض کر دیا کہ ہم میں سے کسی کو بھی خبر نہیں۔
وَضَلَّ عَنْـهُـمْ مَّا كَانُـوْا يَدْعُوْنَ مِنْ قَبْلُ ۖ وَظَنُّوْا مَا لَـهُـمْ مِّنْ مَّحِيْصٍ (48)
اور ان سے وہ کھو جائیں گے جنہیں اس سے پہلے پکارتے تھے، اور یقین کر لیں گے کہ انہیں کسی طرح بھی چھٹکارا نہیں۔
لَّا يَسْاَمُ الْاِنْسَانُ مِنْ دُعَآءِ الْخَيْـرِۖ وَاِنْ مَّسَّهُ الشَّرُّ فَيَئُوْسٌ قَنُـوْطٌ (49)
انسان بھلائی مانگنے سے نہیں تھکتا، اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچ جائے تو مایوس اور نا امید ہو جاتا ہے۔
وَلَئِنْ اَذَقْنَاهُ رَحْـمَةً مِّنَّا مِنْ بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُ لَيَقُوْلَنَّ هٰذَا لِـيْۙ وَمَآ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَـآئِمَةً وَّّلَئِنْ رُّجِعْتُ اِلٰى رَبِّـىٓ اِنَّ لِـىْ عِنْدَهٝ لَلْحُسْنٰى ۚ فَلَنُنَبِّئَنَّ الَّـذِيْنَ كَفَرُوْا بِمَا عَمِلُوْا وَلَنُذِيْقَنَّـهُـمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِيْظٍ (50)
اور اگر ہم اسے اس مصیبت کے بعد جو اس پر آئی تھی اپنی رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو کہتا ہے یہ میرا حق تھا، اور میں نہیں خیال کرتا کہ قیامت قائم ہوگی اور اگر میں اپنے رب کے پاس گیا بھی تو بے شک میرے لیے اس کے ہاں بھلائی ہی ہوگی، ہم کافروں کو ضرور بتائیں گے جو کچھ وہ کرتے رہے اور ہم ضرور انہیں سخت عذاب چکھائیں گے۔
وَاِذَآ اَنْعَمْنَا عَلَى الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ وَنَاٰ بِجَانِبِهٖۚ وَاِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ فَذُوْ دُعَآءٍ عَرِيْضٍ (51)
اور جب ہم نے انسان پر انعام کیا تو اس نے منہ پھیر لیا اور کنارہ کش ہو گیا، اور جب اس کو تکلیف پہنچی تو لمبی چوڑی دعا کرنے لگا۔
قُلْ اَرَاَيْتُـمْ اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللّـٰهِ ثُـمَّ كَفَرْتُـمْ بِهٖ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ هُوَ فِىْ شِقَاقٍ بَعِيْدٍ (52)
کہہ دو بھلا دیکھو تو سہی اگر یہ قرآن اللہ کی طرف سے ہو پھر تم اس کا انکار کر بیٹھے تو ایسے پرلے درجہ کے ضدی سے کون زیادہ گمراہ ہوگا۔
سَنُرِيْهِـمْ اٰيَاتِنَا فِى الْاٰفَاقِ وَفِىٓ اَنْفُسِهِـمْ حَتّـٰى يَتَبَيَّنَ لَـهُـمْ اَنَّهُ الْحَقُّ ۗ اَوَلَمْ يَكْـفِ بِرَبِّكَ اَنَّهٝ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ شَهِيْدٌ (53)
عنقریب ہم اپنی نشانیاں انہیں کائنات میں دکھائیں گے اور خود ان کے نفس میں یہاں تک کہ ان پر واضح ہو جائے گا کہ وہی حق ہے، کیا ان کے رب کی یہ بات کافی نہیں کہ وہ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے۔
اَلَآ اِنَّـهُـمْ فِىْ مِرْيَةٍ مِّنْ لِّـقَـآءِ رَبِّـهِـمْ ۗ اَلَآ اِنَّهٝ بِكُلِّ شَىْءٍ مُّحِيْطٌ (54)
خبردار! انہیں اپنے رب کے پاس حاضر ہونے میں شک ہے، خبردار! بے شک وہ ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے۔