قرآن حکیم            

مکمل سورت
سورت نمبر
آیت نمبر
ایک آیت
(40) سورۃ غافر (مکی، آیات 85)
بِسْمِ اللّـٰهِ الرَّحْـمٰنِ الرَّحِيْـمِ
حٰمٓ (1)
ح مۤ۔
تَنْزِيْلُ الْكِتَابِ مِنَ اللّـٰهِ الْعَزِيْزِ الْعَلِـيْمِ (2)
یہ کتاب اللہ کی طرف سے نازل ہوئی ہے جو غالب ہر چیز کا جاننے والا ہے۔
غَافِـرِ الذَّنْبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِيْدِ الْعِقَابِ ذِى الطَّوْلِ ۖ لَآ اِلٰـهَ اِلَّا هُوَ ۖ اِلَيْهِ الْمَصِيْـرُ (3)
گناہ بخشنے والا اور توبہ قبول کرنے والا سخت عذاب دینے والا قدرت والا ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
مَا يُجَادِلُ فِىٓ اٰيَاتِ اللّـٰهِ اِلَّا الَّـذِيْنَ كَفَرُوْا فَلَا يَغْرُرْكَ تَقَلُّبُـهُـمْ فِى الْبِلَادِ (4)
اللہ کی آیتوں میں نہیں جھگڑتے مگر وہ لوگ جو کافر ہیں پس ان کا شہروں میں چلنا پھرنا آپ کو دھوکا نہ دے۔
كَذَّبَتْ قَبْلَـهُـمْ قَوْمُ نُـوْحٍ وَّالْاَحْزَابُ مِنْ بَعْدِهِـمْ ۖ وَهَمَّتْ كُلُّ اُمَّةٍ بِرَسُوْلِـهِـمْ لِيَاْخُذُوْهُ ۖ وَجَادَلُوْا بِالْبَاطِلِ لِيُدْحِضُوْا بِهِ الْحَقَّ فَاَخَذْتُهُـمْ ۖ فَكَـيْفَ كَانَ عِقَابِ (5)
ان سے پہلے قوم نوح اور ان کے بعد اور فرقے بھی جھٹلا چکے ہیں، اور ہر ایک امت نے اپنے رسول کو پکڑنے کا ارادہ کیا، اور غلط باتوں کے ساتھ بحث کرتے رہے تاکہ اس سے دین حق کو مٹا دیں، پھر ہم نے انھیں پکڑ لیا پھر کیسی سزا ہوئی۔
وَكَذٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّـذِيْنَ كَفَرُوٓا اَنَّـهُـمْ اَصْحَابُ النَّارِ (6)
اور اسی طرح منکروں پر اللہ کا کلام پورا ہوا کہ وہ دوزخی ہیں۔
اَلَّـذِيْنَ يَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَـهٝ يُسَبِّحُوْنَ بِحَـمْدِ رَبِّـهِـمْ وَيُؤْمِنُـوْنَ بِهٖ وَيَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْاۚ رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَىْءٍ رَّحْـمَةً وَّّعِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّـذِيْنَ تَابُوْا وَاتَّبَعُوْا سَبِيْلَكَ وَقِـهِـمْ عَذَابَ الْجَحِـيْمِ (7)
جو (فرشتے) عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں اور جو اس کے گرد ہیں وہ اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے رہتے ہیں اور اس پر ایمان لاتے ہیں اور ایمانداروں کے لیے بخشش مانگتے ہیں، کہ اے ہمارے رب تیری رحمت اور تیرا علم سب پر حاوی ہے پھر جن لوگوں نے توبہ کی ہے اور تیرے راستے پر چلتے ہیں انہیں بخش دے اور انہیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے۔
رَبَّنَا وَاَدْخِلْـهُـمْ جَنَّاتِ عَدْنِ ِ ۨ الَّتِىْ وَعَدْتَّهُـمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِهِـمْ وَاَزْوَاجِهِـمْ وَذُرِّيَّاتِـهِـمْ ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِـيْمُ (8)
اے ہمارے رب! اور انہیں بہشتوں میں داخل کر جو ہمیشہ رہیں گی جن کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے اور ان کو جو ان کے باپ دادوں اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد میں سے نیک ہیں، بے شک تو غالب حکمت والا ہے۔
وَقِـهِـمُ السَّيِّئَاتِ ۚ وَمَنْ تَقِ السَّيِّئَاتِ يَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِـمْتَهٝ ۚ وَذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِـيْمُ (9)
اور انہیں برائیوں سے بچا، اور جس کو تو اس دن برائیوں سے بچائے گا سو اس پر تو نے رحم کر دیا، اور یہ بڑی کامیابی ہے۔
اِنَّ الَّـذِيْنَ كَفَرُوْا يُنَادَوْنَ لَمَقْتُ اللّـٰهِ اَكْبَـرُ مِنْ مَّقْتِكُمْ اَنْفُسَكُمْ اِذْ تُدْعَوْنَ اِلَى الْاِيْمَانِ فَتَكْـفُرُوْنَ (10)
بے شک جو لوگ کافر ہیں انہیں پکار کر کہا جائے گا جیسی تمہیں (اس وقت) اپنے سے نفرت ہے اس سے بڑھ کر اللہ کو (تم سے) نفرت تھی جبکہ تم ایمان کی طرف بلائے جاتے تھے پھر نہیں مانا کرتے تھے۔
قَالُوْا رَبَّنَآ اَمَتَّنَا اثْنَتَيْنِ وَاَحْيَيْتَنَا اثْنَتَيْنِ فَاعْتَـرَفْنَا بِذُنُـوْبِنَا فَهَلْ اِلٰى خُرُوْجٍ مِّنْ سَبِيْلٍ (11)
وہ کہیں گے اے ہمارے رب تو نے ہمیں دو بار موت دی اور تو نے ہمیں دوبارہ زندہ کیا پس ہم نے اپنے گناہوں کا اقرار کرلیا پس کیا نکلنے کی بھی کوئی راہ ہے۔
ذٰلِكُمْ بِاَنَّهٝٓ اِذَا دُعِىَ اللّـٰهُ وَحْدَهٝ كَفَرْتُـمْ ۖ وَاِنْ يُّشْرَكْ بِهٖ تُؤْمِنُـوْا ۚ فَالْحُكْمُ لِلّـٰهِ الْعَلِـيِّ الْكَبِيْـرِ (12)
یہ عذاب اس لیے ہے کہ جب تمہیں اکیلے اللہ کی طرف بلایا جاتا تھا تو انکار کرتے تھے، اور جب اس کے ساتھ شریک کیا جاتا تھا تو مان لیتے تھے، سو یہ فیصلہ اللہ کا ہے جو عالیشان بڑے رتبے والا ہے۔
هُوَ الَّـذِىْ يُرِيْكُمْ اٰيَاتِهٖ وَيُنَزِّلُ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ رِزْقًا ۚ وَمَا يَتَذَكَّرُ اِلَّا مَنْ يُّنِيْبُ (13)
وہی ہے جو تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور تمہارے لیے آسمان سے رزق نازل کرتا ہے، اور سمجھتا وہی ہے جو (اللہ کی طرف) رجوع کرتا ہے۔
فَادْعُوا اللّـٰهَ مُخْلِصِيْنَ لَـهُ الـدِّيْنَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُوْنَ (14)
پس اللہ کو پکارو اس کے لیے عبادت کو خالص کرتے ہوئے اگرچہ کافر برا منائیں۔
رَفِـيْعُ الـدَّرَجَاتِ ذُو الْعَرْشِۖ يُلْقِى الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰى مَنْ يَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ لِيُنْذِرَ يَوْمَ التَّلَاقِ (15)
وہ اونچے درجوں والا عرش کا مالک ہے، اپنے حکم سے اپنے بندوں میں سے جس کے پاس چاہتا ہے وحی بھیجتا ہے تاکہ وہ ملاقات (قیامت) کے دن سے ڈرائے۔
يَوْمَ هُـمْ بَارِزُوْنَ ۖ لَا يَخْفٰى عَلَى اللّـٰهِ مِنْـهُـمْ شَيْءٌ ۚ لِّمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ ۖ لِلّـٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ (16)
جس دن وہ سب نکل کھڑے ہوں گے، اللہ پر ان کی کوئی بات چھپی نہ رہے گی، آج کس کی حکومت ہے، اللہ ہی کی جو ایک ہے بڑا غالب۔
اَلْيَوْمَ تُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ ۚ لَا ظُلْمَ الْيَوْمَ ۚ اِنَّ اللّـٰهَ سَرِيْعُ الْحِسَابِ (17)
آج کے دن ہر شخص اپنے کیے کا بدلہ پائے گا، آج کچھ ظلم نہ ہوگا، بے شک اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔
وَاَنْذِرْهُـمْ يَوْمَ الْاٰزِفَـةِ اِذِ الْقُلُوْبُ لَـدَى الْحَنَاجِرِ كَاظِمِيْنَ ۚ مَا لِلظَّالِمِيْنَ مِنْ حَـمِيْـمٍ وَّلَا شَفِيْـعٍ يُّطَاعُ (18)
اور انہیں قریب آنے والی (مصیبت) کے دن سے ڈرا جب کہ غم کے مارے کلیجے منہ کو آ رہے ہوں گے، ظالموں کا کوئی حمایتی نہیں ہوگا اور نہ کوئی سفارشی جس کی بات مانی جائے۔
يَعْلَمُ خَآئِنَةَ الْاَعْيُنِ وَمَا تُخْفِى الصُّدُوْرُ (19)
وہ آنکھوں کی خیانت اور دل کے بھید جانتا ہے۔
وَاللّـٰهُ يَقْضِىْ بِالْحَقِّ ۖ وَالَّـذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَقْضُوْنَ بِشَىْءٍ ۗ اِنَّ اللّـٰهَ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْـرُ (20)
اور اللہ ہی انصاف کے ساتھ فیصلہ کرے گا، اور جنہیں وہ اس کے سوا پکارتے ہیں وہ کچھ بھی فیصلہ نہیں کر سکتے، بے شک اللہ ہی سب کچھ سننے والا دیکھنے والا ہے۔
اَوَلَمْ يَسِيْـرُوْا فِى الْاَرْضِ فَيَنْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّـذِيْنَ كَانُـوْا مِنْ قَبْلِـهِـمْ ۚ كَانُـوْا هُـمْ اَشَدَّ مِنْـهُـمْ قُوَّةً وَّّاٰثَارًا فِى الْاَرْضِ فَاَخَذَهُـمُ اللّـٰهُ بِذُنُـوْبِهِـمْۚ وَمَا كَانَ لَـهُـمْ مِّنَ اللّـٰهِ مِنْ وَّّاقٍ (21)
کیا انہوں نے زمین میں سیر نہیں کی کہ وہ دیکھتے ان لوگوں کا انجام کیسا تھا جو ان سے پہلے ہو گزرے ہیں، وہ قوت میں ان سے بڑھ کر تھے اور زمین میں آثار کے اعتبار سے بھی پھر اللہ نے انہیں ان کے گناہوں کے سبب سے پکڑ لیا، اور ان کے لیے اللہ سے کوئی بچانے والا نہ تھا۔
ذٰلِكَ بِاَنَّـهُـمْ كَانَتْ تَّاْتِـيْهِـمْ رُسُلُـهُـمْ بِالْبَيِّنَاتِ فَكَـفَرُوْا فَاَخَذَهُـمُ اللّـٰهُ ۚ اِنَّهٝ قَوِىٌّ شَدِيْدُ الْعِقَابِ (22)
یہ اس لیے کہ ان کے پاس ان کے رسول روشن دلیلیں لے کر آتے تھے تو وہ انکار کرتے تھے پس انہیں اللہ نے پکڑ لیا، بے شک وہ بڑا قوت والا سخت عذاب دینے والا ہے۔
وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰيَاتِنَا وَسُلْطَانٍ مُّبِيْنٍ (23)
اور ہم نے موسٰی کو اپنے معجزات اور واضح دلیل دے کر بھیجا تھا۔
اِلٰى فِرْعَوْنَ وَهَامَانَ وَقَارُوْنَ فَقَالُوْا سَاحِرٌ كَذَّابٌ (24)
فرعون اور ہامان اور قارون کی طرف، تو وہ کہنے لگے بڑا جھوٹا جادوگر ہے۔
فَلَمَّا جَآءَهُـمْ بِالْحَقِّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْا اقْتُلُوٓا اَبْنَآءَ الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا مَعَهٝ وَاسْتَحْيُوْا نِسَآءَهُـمْ ۚ وَمَا كَيْدُ الْكَافِـرِيْنَ اِلَّا فِىْ ضَلَالٍ (25)
پس جب وہ ان کے پاس ہماری طرف سے سچا دین لائے تو کہنے لگے ان لوگوں کے بیٹوں کو قتل کردو جو موسٰی پر ایمان لائے ہیں اور ان کی عورتوں کو زندہ رہنے دو، اور کافروں کے داؤ تو محض غلط ہوا کرتے ہیں۔
وَقَالَ فِرْعَوْنُ ذَرُوْنِـىٓ اَقْتُلْ مُوْسٰى وَلْيَدْعُ رَبَّهٝ ۖ اِنِّـىٓ اَخَافُ اَنْ يُّبَدِّلَ دِيْنَكُمْ اَوْ اَنْ يُّظْهِرَ فِى الْاَرْضِ الْفَسَادَ (26)
اور فرعون نے کہا مجھے چھوڑ دو میں موسٰی کو قتل کردوں اور وہ اپنے رب کو پکارے، میں ڈرتا ہوں کہ وہ تمہارے دین کو بدل ڈالے گا یا یہ کہ زمین میں فساد پھیلائے گا۔
وَقَالَ مُوْسٰٓى اِنِّىْ عُذْتُ بِرَبِّىْ وَرَبِّكُمْ مِّنْ كُلِّ مُتَكَـبِّـرٍ لَّا يُؤْمِنُ بِيَوْمِ الْحِسَابِ (27)
اور موسٰی نے کہا میں تو اپنی اور تمہارے رب کی پناہ لے چکا ہوں ہر ایک متکبّر سے جو حساب کے دن پر یقین نہیں رکھتا۔
وَقَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ يَكْـتُـمُ اِيْمَانَهٝٓ اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ يَّقُوْلَ رَبِّىَ اللّـٰهُ وَقَدْ جَآءَكُمْ بِالْبَيِّنَاتِ مِنْ رَّبِّكُمْ ۖ وَاِنْ يَّكُ كَاذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبُهٝ ۖ وَاِنْ يَّكُ صَادِقًا يُّصِبْكُمْ بَعْضُ الَّـذِىْ يَعِدُكُمْ ۖ اِنَّ اللّـٰهَ لَا يَـهْدِىْ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ (28)
اور فرعون کی قوم میں سے ایک ایمان دار آدمی نے کہا جو اپنا ایمان چھپاتا تھا کہ کیا تم ایسے آدمی کو قتل کرتے ہو جو یہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے اور تمہارے پاس وہ روشن دلیلیں تمہارے رب کی طرف سے لایا ہے، اور اگر وہ جھوٹا ہے تو اسی پر اس کے جھوٹ کا وبال ہے، اور اگر وہ سچا ہے تو تمہیں کچھ نہ کچھ وہ (عذاب) جس کا وہ تم سے وعدہ کرتا ہے پہنچے گا، اور اللہ اس کو راہ پر نہیں لاتا جو حد سے بڑھنے والا بڑا جھوٹا ہے۔
يَا قَوْمِ لَكُمُ الْمُلْكُ الْيَوْمَ ظَاهِرِيْنَ فِى الْاَرْضِۖ فَمَنْ يَّنصُرُنَا مِنْ بَاْسِ اللّـٰهِ اِنْ جَآءَنَا ۚ قَالَ فِرْعَوْنُ مَآ اُرِيْكُمْ اِلَّا مَآ اَرٰى وَمَآ اَهْدِيْكُمْ اِلَّا سَبِيْلَ الرَّشَادِ (29)
اے میری قوم آج تو تمہاری حکومت ہے تم ملک میں غالب ہو، ہماری کون مدد کرے گا اگر ہم پر اللہ کا عذاب آگیا، فرعون نے کہا میں تو تمہیں وہی سوجھاتا ہوں جو مجھے سوجھی ہے اور میں تمہیں سیدھا ہی راستہ بتاتا ہوں۔
وَقَالَ الَّـذِىٓ اٰمَنَ يَا قَوْمِ اِنِّـىٓ اَخَافُ عَلَيْكُمْ مِّثْلَ يَوْمِ الْاَحْزَابِ (30)
اور اس شخص نے کہا جو ایمان لایا تھا کہ اے میری قوم مجھے تو تمہاری نسبت (پہلی) امتوں جیسے دن کا اندیشہ ہو رہا ہے۔
مِثْلَ دَاْبِ قَوْمِ نُـوْحٍ وَّعَادٍ وَّثَمُوْدَ وَالَّـذِيْنَ مِنْ بَعْدِهِـمْ ۚ وَمَا اللّـٰهُ يُرِيْدُ ظُلْمًا لِّلْعِبَادِ (31)
جیسا کہ قوم نوح اور عاد اور ثمود اور ان سے پچھلوں کا حال ہوا، اور اللہ تو بندوں پر کچھ بھی ظلم نہیں کرنا چاہتا۔
وَيَا قَوْمِ اِنِّـىٓ اَخَافُ عَلَيْكُمْ يَوْمَ التَّنَادِ (32)
اور اے میری قوم مجھے تم پر چیخ و پکار (قیامت) کے دن کا اندیشہ ہے۔
يَوْمَ تُـوَلُّوْنَ مُدْبِـرِيْنَ مَا لَكُمْ مِّنَ اللّـٰهِ مِنْ عَاصِمٍ ۗ وَمَنْ يُّضْلِلِ اللّـٰهُ فَمَا لَـهٝ مِنْ هَادٍ (33)
جس دن تم پیٹھ پھیر کر بھاگو گے اللہ سے تمہیں کوئی بچانے والا نہیں ہوگا، اور جسے اللہ گمراہ کر دے پھر اسے کوئی راہ بتانے والا نہیں۔
وَلَقَدْ جَآءَكُمْ يُوْسُفُ مِنْ قَبْلُ بِالْبَيِّنَاتِ فَمَا زِلْتُـمْ فِىْ شَكٍّ مِّمَّا جَآءَكُمْ بِهٖ ۖ حَتّـٰٓى اِذَا هَلَكَ قُلْتُـمْ لَنْ يَّبْعَثَ اللّـٰهُ مِنْ بَعْدِهٖ رَسُوْلًا ۚ كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّـٰهُ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ مُّرْتَابٌ (34)
اور تمہارے پاس یوسف بھی اس سے پہلے واضح دلیلیں لے کر آچکا پس تم ہمیشہ اس سے شک میں رہے جو وہ تمہارے پاس لایا، یہاں تک کہ جب وہ فوت ہوگیا تو تم نےکہا کہ اللہ اس کے بعد کوئی رسول ہرگز نہیں بھیجے گا، اسی طرح اللہ گمراہ کرتا ہے اس کو جو حد سے بڑھنے والا شک کرنے والا ہے۔
اَلَّـذِيْنَ يُجَادِلُوْنَ فِىٓ اٰيَاتِ اللّـٰهِ بِغَيْـرِ سُلْطَانٍ اَتَاهُـمْ ۖ كَبُـرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّـٰهِ وَعِنْدَ الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا ۚ كَذٰلِكَ يَطْبَعُ اللّـٰهُ عَلٰى كُلِّ قَلْبِ مُتَكَـبِّـرٍ جَبَّارٍ (35)
جو لوگ اللہ کی آیتوں میں کسی دلیل کے سوا جو ان کے پاس پہنچی ہو جھگڑتے ہیں، اللہ اور ایمان والوں کے نزدیک (یہ) بڑی نازیبا بات ہے، اللہ ہر ایک متکبر سرکش کے دل پر اسی طرح مہر کر دیا کرتا ہے۔
وَقَالَ فِرْعَوْنُ يَا هَامَانُ ابْنِ لِـىْ صَرْحًا لَّعَلِّـىٓ اَبْلُغُ الْاَسْبَابَ (36)
اور فرعون نے کہا اے ہامان میرے لیے ایک محل بنا تاکہ میں راستوں پر پہنچوں۔
اَسْبَابَ السَّمَاوَاتِ فَاَطَّلِعَ اِلٰٓى اِلٰـهِ مُوْسٰى وَاِنِّىْ لَاَظُنُّهٝ كَاذِبًا ۚ وَكَذٰلِكَ زُيِّنَ لِفِرْعَوْنَ سُوٓءُ عَمَلِـهٖ وَصُدَّ عَنِ السَّبِيْلِ ۚ وَمَا كَيْدُ فِرْعَوْنَ اِلَّا فِىْ تَبَابٍ (37)
یعنی آسمان کے راستوں پر پھر موسٰی کے خدا کی طرف جھانک کر دیکھوں اور میں تو اسے جھوٹا خیال کرتا ہوں، اور اسی طرح فرعون کو اس کا برا عمل اچھا معلوم ہوا اور وہ راستہ سے روکا گیا تھا، اور فرعون کی ہر تدبیر غارت ہی گئی۔
وَقَالَ الَّـذِىٓ اٰمَنَ يَا قَوْمِ اتَّبِعُوْنِ اَهْدِكُمْ سَبِيْلَ الرَّشَادِ (38)
اور اس شخص نے کہا جو ایمان لایا تھا اے میری قوم تم میری پیروی کرو میں تمہیں نیکی کی راہ بتاؤں گا۔
يَا قَوْمِ اِنَّمَا هٰذِهِ الْحَيَاةُ الـدُّنْيَا مَتَاعٌ وَّاِنَّ الْاٰخِرَةَ هِىَ دَارُ الْقَرَارِ (39)
اے میری قوم دنیا کی زندگی بس (چند روزہ) فائدے ہیں اور آخرت کا گھر ہی ٹھہرنے کی جگہ ہے۔
مَنْ عَمِلَ سَيِّئَةً فَلَا يُجْزٰٓى اِلَّا مِثْلَـهَا ۖ وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓئِكَ يَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ يُـرْزَقُوْنَ فِيْـهَا بِغَيْـرِ حِسَابٍ (40)
جس نے برا کام کیا تو اتنی ہی سزا پائے گا، اور جس نے نیک کام کیا خواہ وہ مرد ہو یا عورت اور وہ ایماندار بھی ہو سو وہ جنت میں داخل ہوں گے جہاں انہیں بے حساب روزی ملے گی۔
وَيَا قَوْمِ مَا لِـىٓ اَدْعُوْكُمْ اِلَى النَّجَاةِ وَتَدْعُوْنَنِىٓ اِلَى النَّارِ (41)
اور اے میری قوم کیا بات ہے میں تو تمہیں نجات کی طرف بلاتا ہوں اور تم مجھے دوزخ کی طرف بلاتے ہو۔
تَدْعُوْنَنِىْ لِاَكْفُرَ بِاللّـٰهِ وَاُشْرِكَ بِهٖ مَا لَيْسَ لِـىْ بِهٖ عِلْمٌۖ وَّاَنَا اَدْعُوْكُمْ اِلَى الْعَزِيْزِ الْغَفَّارِ (42)
تم مجھے اس بات کی طرف بلاتے ہو کہ میں اللہ کا منکر ہو جاؤں اور اس کے ساتھ اسے شریک کروں جسے میں جانتا بھی نہیں، اور میں تمہیں غالب بخشنے والے کی طرف بلاتا ہوں۔
لَا جَرَمَ اَنَّمَا تَدْعُوْنَنِىٓ اِلَيْهِ لَيْسَ لَـهٝ دَعْوَةٌ فِى الـدُّنْيَا وَلَا فِى الْاٰخِرَةِ وَاَنَّ مَرَدَّنَـآ اِلَى اللّـٰهِ وَاَنَّ الْمُسْرِفِيْنَ هُـمْ اَصْحَابُ النَّارِ (43)
بے شک تم مجھے جس کی طرف بلاتے ہو وہ نہ دنیا میں بلانے کے قابل ہے اور نہ آخرت میں اور بے شک ہمیں اللہ کی طرف لوٹ کر جانا ہے اور بے شک حد سے بڑھنے والے ہی دوزخی ہیں۔
فَسَتَذْكُرُوْنَ مَآ اَقُوْلُ لَكُمْ ۚ وَاُفَوِّضُ اَمْرِىٓ اِلَى اللّـٰهِ ۚ اِنَّ اللّـٰهَ بَصِيْـرٌ بِالْعِبَادِ (44)
پھر تم میری بات کو یاد کرو گے، اور میں اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں، بے شک اللہ بندوں کو دیکھ رہا ہے۔
فَوَقَاهُ اللّـٰهُ سَيِّئَاتِ مَا مَكَـرُوْا ۖ وَحَاقَ بِاٰلِ فِرْعَوْنَ سُوٓءُ الْعَذَابِ (45)
پھر اللہ نے اسے تو ان کے فریبوں کی برائی سے بچایا، اور خود فرعونیوں پر سخت عذاب آ پڑا۔
اَلنَّارُ يُعْرَضُوْنَ عَلَيْـهَا غُدُوًّا وَّعَشِيًّا ۖ وَيَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ اَدْخِلُوٓا اٰلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ (46)
وہ صبح اور شام آگ کے سامنے لائے جاتے ہیں، اور جس دن قیامت قائم ہوگی (حکم ہوگا) فرعونیوں کو سخت عذاب میں لے جاؤ۔
وَاِذْ يَتَحَآجُّوْنَ فِى النَّارِ فَيَقُوْلُ الضُّعَفَآءُ لِلَّـذِيْنَ اسْتَكْـبَـرُوٓا اِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ اَنْتُـمْ مُّغْنُـوْنَ عَنَّا نَصِيْبًا مِّنَ النَّارِ (47)
اور جب دوزخی آپس میں جھگڑیں گے پھر کمزور سرکشوں سے کہیں گے کہ ہم تمہارے پیرو تھے پھر کیا تم ہم سے کچھ بھی آگ دور کر سکتے ہو۔
قَالَ الَّـذِيْنَ اسْتَكْـبَـرُوٓا اِنَّا كُلٌّ فِـيْهَاۙ اِنَّ اللّـٰهَ قَدْ حَكَمَ بَيْنَ الْعِبَادِ (48)
سرکش کہیں گے ہم تم سبھی اس میں پڑے ہوئے ہیں، بے شک اللہ اپنے بندوں میں فیصلہ کر چکا ہے۔
وَقَالَ الَّـذِيْنَ فِى النَّارِ لِخَزَنَةِ جَهَنَّـمَ ادْعُوْا رَبَّكُمْ يُخَفِّفْ عَنَّا يَوْمًا مِّنَ الْعَذَابِ (49)
اور دوزخی جہنم کے داروغہ سے کہیں گے کہ تم اپنے رب سے عرض کرو کہ وہ ہم سے کسی روز تو عذاب ہلکا کر دیا کرے۔
قَالُوٓا اَوَلَمْ تَكُ تَاْتِيْكُمْ رُسُلُكُمْ بِالْبَيِّنَاتِ ۖ قَالُوْا بَلٰى ۚ قَالُوْا فَادْعُوْا ۗ وَمَا دُعَآءُ الْكَافِـرِيْنَ اِلَّا فِىْ ضَلَالٍ (50)
وہ کہیں گے کیا تمہارے پاس تمہارے رسول نشانیاں لے کر نہ آئے تھے، کہیں گے ہاں (آئے تھے)، کہیں گے پس پکارو، اور کافروں کا پکارنا محض بے سود ہوگا۔
اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا فِى الْحَيَاةِ الـدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ (51)
ہم اپنے رسولوں اور ایمانداروں کے دنیا کی زندگی میں بھی مددگار ہیں اور اس دن جب کہ گواہ کھڑے ہوں گے۔
يَوْمَ لَا يَنْفَعُ الظَّالِمِيْنَ مَعْذِرَتُهُـمْ ۖ وَلَـهُـمُ اللَّعْنَةُ وَلَـهُـمْ سُوٓءُ الـدَّارِ (52)
جس دن ظالموں کو ان کا عذر کرنا کچھ بھی نفع نہ دے گا، اور ان پر پھٹکار پڑے گی اور ان کے لیے برا گھر ہوگا۔
وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْـهُدٰى وَاَوْرَثْنَا بَنِىٓ اِسْرَآئِيْلَ الْكِتَابَ (53)
اور ہم نے موسٰی کو ہدایت دی تھی اور ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب کا وارث کر دیا تھا۔
هُدًى وَّذِكْرٰى لِاُولِى الْاَلْبَابِ (54)
جو عقلمندوں کے لیے ہدایت اور نصیحت تھی۔
فَاصْبِـرْ اِنَّ وَعْدَ اللّـٰهِ حَقٌّ وَّاسْتَغْفِرْ لِـذَنْبِكَ وَسَبِّـحْ بِحَـمْدِ رَبِّكَ بِالْعَشِيِّ وَالْاِبْكَارِ (55)
پس صبر کر بے شک اللہ کا وعدہ سچا ہے اور اپنے گناہ کی معافی مانگ اور شام اور صبح اپنے رب کی حمد کے ساتھ پاکی بیان کر۔
اِنَّ الَّـذِيْنَ يُجَادِلُوْنَ فِىٓ اٰيَاتِ اللّـٰهِ بِغَيْـرِ سُلْطَانٍ اَتَاهُـمْ ۙ اِنْ فِىْ صُدُوْرِهِـمْ اِلَّا كِبْـرٌ مَّا هُـمْ بِبَالِغِيْهِ ۚ فَاسْتَعِذْ بِاللّـٰهِ ۖ اِنَّهٝ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْـرُ (56)
بے شک جو لوگ اللہ کی آیتوں میں بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی دلیل آئی ہو جھگڑتے ہیں، اور کچھ نہیں بس ان کے دل میں بڑائی ہے کہ وہ اس تک کبھی پہنچنے والے نہیں، سو اللہ سے پناہ مانگو، کیوں کہ وہ سننے والا دیکھنے والا ہے۔
لَخَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَـرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ (57)
البتہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا آدمیوں کے پیدا کرنے کی نسبت بڑا کام ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔
وَمَا يَسْتَوِى الْاَعْمٰى وَالْبَصِيْـرُۙ وَالَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَلَا الْمُسِيٓءُ ۚ قَلِيْلًا مَّا تَـتَذَكَّرُوْنَ (58)
اور اندھا اور دیکھنے والا برابر نہیں، اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کیے وہ اور بدکار برابر نہیں، تم بہت ہی کم سمجھتے ہو۔
اِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِيَةٌ لَّا رَيْبَ فِـيْهَاۖ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يُؤْمِنُـوْنَ (59)
بے شک قیامت آنے والی ہے اس میں کوئی شک نہیں، لیکن اکثر لوگ یقین نہیں کرتے۔
وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِـىٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ ۚ اِنَّ الَّـذِيْنَ يَسْتَكْبِـرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِىْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّـمَ دَاخِرِيْنَ (60)
اور تمہارے رب نے فرمایا ہے مجھے پکارو میں تمہاری دعا قبول کروں گا، بے شک جو لوگ میری عبادت سے سرکشی کرتے ہیں عنقریب وہ ذلیل ہو کر دوزخ میں داخل ہوں گے۔
اَللَّـهُ الَّـذِىْ جَعَلَ لَكُمُ اللَّيْلَ لِتَسْكُـنُـوْا فِيْهِ وَالنَّـهَارَ مُبْصِرًا ۚ اِنَّ اللّـٰهَ لَـذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَشْكُـرُوْنَ (61)
اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی تاکہ اس میں آرام کرو اور دن کو ہر چیز دکھانے والا بنایا، بے شک اللہ لوگوں پر بڑے فضل والا ہے لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔
ذٰلِكُمُ اللّـٰهُ رَبُّكُمْ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍۚ لَّآ اِلٰـهَ اِلَّا هُوَ ۖ فَاَنّـٰى تُؤْفَكُـوْنَ (62)
یہی اللہ تمہارا رب ہے ہر چیز کا پیدا کرنے والا، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، پھر کہاں الٹے جا رہے ہو۔
كَذٰلِكَ يُؤْفَكُ الَّـذِيْنَ كَانُـوْا بِاٰيَاتِ اللّـٰهِ يَجْحَدُوْنَ (63)
اسی طرح وہ لوگ بھی الٹے چلا کرتے تھے جو اللہ کی نشانیوں کا انکار کیا کرتے تھے۔
اَللَّـهُ الَّـذِىْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّالسَّمَآءَ بِنَـآءً وَّصَوَّرَكُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَكُمْ وَرَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّيِّبَاتِ ۚ ذٰلِكُمُ اللّـٰهُ رَبُّكُمْ ۖ فَتَبَارَكَ اللّـٰهُ رَبُّ الْعَالَمِيْنَ (64)
اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو آرام گاہ بنایا اور آسمان کو چھت اور تمہاری صورتیں بنائیں اور پاکیزہ چیزوں سے تمہیں رزق دیا، وہی اللہ تمہارا پالنے والا ہے، پس سارے جہان کا پالنے والا اللہ بابرکت ہے۔
هُوَ الْحَىُّ لَآ اِلٰـهَ اِلَّا هُوَ فَادْعُوْهُ مُخْلِصِيْنَ لَـهُ الدِّيْنَ ۗ اَلْحَـمْدُ لِلّـٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ (65)
وہی ہمیشہ زندہ ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں پس اسی کو پکارو خاص اسی کی بندگی کرتے ہوئے، سب تعریف اللہ کے لیے ہے جو سارے جہان کا پالنے والا ہے۔
قُلْ اِنِّىْ نُهِيْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّـذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّـٰهِ لَمَّا جَآءَنِىَ الْبَيِّنَاتُ مِنْ رَّبِّيْۖ وَاُمِرْتُ اَنْ اُسْلِمَ لِرَبِّ الْعَالَمِيْنَ (66)
کہہ دو مجھے تو ان چیزوں کی عبادت سے منع کیا گیا ہے جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو جب کہ میرے رب کی طرف سے میرے پاس کھلی کھلی نشانیاں آچکی ہیں، اور مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں رب العالمین کے سامنے سر جھکاؤں۔
هُوَ الَّـذِىْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُـمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُـمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُـمَّ يُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُـمَّ لِتَبْلُغُوٓا اَشُدَّكُمْ ثُـمَّ لِتَكُـوْنُـوْا شُيُوْخًا ۚ وَمِنْكُمْ مَّنْ يُّـتَوَفّــٰى مِنْ قَبْلُ ۖ وَلِتَبْلُغُوٓا اَجَلًا مُّسَمًّى وَّلَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ (67)
وہی ہے جس نے تمہیں مٹی سے پھر نطفے سے پھر خون بستہ سے پیدا کیا پھر وہ تمہیں بچہ بنا کر نکالتا ہے پھر باقی رکھتا ہے تاکہ تم اپنی جوانی کو پہنچو پھر یہاں تک کہ تم بوڑھے ہو جاتے ہو، کچھ تم میں اس سے پہلے مر جاتے ہیں، بعض کو زندہ رکھتا ہے تاکہ تم وقت مقررہ تک پہنچو اور تاکہ تم سمجھو۔
هُوَ الَّـذِىْ يُحْيِىْ وَيُمِيْتُ ۖ فَاِذَا قَضٰٓى اَمْرًا فَاِنَّمَا يَقُوْلُ لَـهٝ كُنْ فَـيَكُـوْنُ (68)
وہی ہے جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے، پس جب وہ کسی امر کا فیصلہ کر لیتا ہے تو صرف اس سے یہی کہتا ہے کو ہوجا تو وہ ہو جاتا ہے۔
اَلَمْ تَـرَ اِلَى الَّـذِيْنَ يُجَادِلُوْنَ فِىٓ اٰيَاتِ اللّـٰهِ اَنّـٰى يُصْرَفُوْنَ (69)
کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اللہ کی آیتوں میں جھگڑتے ہیں وہ کہاں پھرے چلے جا رہے ہیں۔
اَلَّـذِيْنَ كَذَّبُوْا بِالْكِتَابِ وَبِمَآ اَرْسَلْنَا بِهٖ رُسُلَنَا ۖ فَسَوْفَ يَعْلَمُوْنَ (70)
وہ لوگ جنہوں نے کتاب کو اور جو کچھ ہم نے رسولوں کو دے کر بھیجا تھا سب کو جھٹلا دیا، پس انہیں معلوم ہو جائے گا۔
اِذِ الْاَغْلَالُ فِـىٓ اَعْنَاقِهِـمْ وَالسَّلَاسِلُ يُسْحَبُوْنَ (71)
جب کہ طوق اور زنجیریں ان کے گلے میں ڈال کر گھسیٹے جائیں گے۔
فِى الْحَـمِيْـمِ ثُـمَّ فِى النَّارِ يُسْجَرُوْنَ (72)
کھولتے پانی میں پھر آگ میں جھونکے جائیں گے۔
ثُـمَّ قِيْلَ لَـهُـمْ اَيْنَ مَا كُنْتُـمْ تُشْرِكُـوْنَ (73)
پھر ان سے کہا جائے گا کہاں ہیں جنہیں تم شریک بتاتے تھے۔
مِنْ دُوْنِ اللّـٰهِ ۖ قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا بَلْ لَّمْ نَكُنْ نَّدْعُوْا مِنْ قَبْلُ شَيْئًا ۚ كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّـٰهُ الْكَافِـرِيْنَ (74)
اللہ کے سوا، وہ کہیں گے ہم سے وہ کھو گئے بلکہ ہم تو اس سے پہلے کسی چیز کو بھی نہیں پکارتے تھے، اسی طرح اللہ کافروں کو گمراہ کرتا ہے۔
ذٰلِكُمْ بِمَا كُنْتُـمْ تَفْرَحُوْنَ فِى الْاَرْضِ بِغَيْـرِ الْحَقِّ وَبِمَا كُنْتُـمْ تَمْرَحُوْنَ (75)
یہ عذاب تمہیں اس لیے ہوا کہ تم ملک میں ناحق خوشیاں مناتے تھے اور اس لیے بھی کہ تم اترایا کرتے تھے۔
اُدْخُلُوٓا اَبْوَابَ جَهَنَّـمَ خَالِـدِيْنَ فِيْـهَا ۖ فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَـبِّـرِيْنَ (76)
جہنم کے دروازوں میں ہمیشہ رہنے کے لیے داخل ہو جاؤ، پھر تکبر کرنے والوں کا کیا ہی برا ٹھکانہ ہے۔
فَاصْبِـرْ اِنَّ وَعْدَ اللّـٰهِ حَقٌّ ۚ فَاِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّـذِىْ نَعِدُهُـمْ اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَاِلَيْنَا يُـرْجَعُوْنَ (77)
پھر صبر کر بے شک اللہ کا وعدہ سچا ہے، پھر جس (عذاب) کا ہم ان سے وعدہ کر رہے ہیں کچھ تھوڑا سا اگر ہم آپ کو دکھا دیں یا ہم آپ کو وفات دے دیں تو ہماری طرف ہی سب لوٹائے جائیں گے۔
وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ مِنْـهُـمْ مَّنْ قَصَصْنَا عَلَيْكَ وَمِنْـهُـمْ مَّنْ لَّمْ نَقْصُصْ عَلَيْكَ ۗ وَمَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ يَّاْتِـىَ بِاٰيَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّـٰهِ ۚ فَاِذَا جَآءَ اَمْرُ اللّـٰهِ قُضِىَ بِالْحَقِّ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْمُبْطِلُوْنَ (78)
اور ہم نے آپ سے پہلے کئی رسول بھیجے تھے بعض ان میں سے وہ ہیں جن کا حال ہم نے آپ پر بیان کر دیا اور بعض وہ ہیں کہ ہم نے آپ پر ان کا حال بیان نہیں کیا، اور کسی رسول سے یہ نہ ہو سکا کہ کوئی معجزہ اذنِ الٰہی کے سوا ظاہر کر سکے، پھر جس وقت اللہ کا حکم آئے گا ٹھیک ٹھیک فیصلہ ہو جائے گا اور اس وقت باطل پرست نقصان اٹھائیں گے۔
اَللَّـهُ الَّـذِىْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَنْعَامَ لِتَـرْكَبُوْا مِنْـهَا وَمِنْهَا تَاْكُلُوْنَ (79)
اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے چوپائے بنائے تاکہ تم ان میں سے بعض پر سوار ہو اور بعض کو تم کھاتے ہو۔
وَلَكُمْ فِيْـهَا مَنَافِــعُ وَلِتَبْلُغُوْا عَلَيْـهَا حَاجَةً فِىْ صُدُوْرِكُمْ وَعَلَيْـهَا وَعَلَى الْفُلْكِ تُحْـمَلُوْنَ (80)
اور تمہارے لیے ان میں بہت سے فوائد ہیں اور تاکہ تم ان پر سوار ہو کر اپنی حاجت کو پہنچو جو تمہارے سینوں میں ہے اور ان پر اور نیز کشتیوں پر تم سوار کیے جاتے ہو۔
وَيُرِيْكُمْ اٰيَاتِهٖ فَاَىَّ اٰيَاتِ اللّـٰهِ تُنْكِـرُوْنَ (81)
اور وہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے پس تم اللہ کی کون کون سی نشانیوں کا انکار کرو گے۔
اَفَلَمْ يَسِيْـرُوْا فِى الْاَرْضِ فَيَنْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّـذِيْنَ مِنْ قَبْلِـهِـمْ ۚ كَانُـوٓا اَكْثَرَ مِنْـهُـمْ وَاَشَدَّ قُوَّةً وَّّاٰثَارًا فِى الْاَرْضِ فَمَآ اَغْنٰى عَنْـهُـمْ مَّا كَانُـوْا يَكْسِبُوْنَ (82)
پس کیا انہوں نے ملک میں چل پھر کر نہیں دیکھا کہ جو لوگ ان سے پہلے ہو گزرے ہیں ان کا کیا انجام ہوا، وہ لوگ ان سے زیادہ تھے اور قوت اور نشانوں میں (بھی) جو کہ زمین پر چھوڑ گئے ہیں بڑھے ہوئے تھے پس ان کے نہ کام آیا جو کچھ وہ کماتے تھے۔
فَلَمَّا جَآءَتْهُـمْ رُسُلُـهُـمْ بِالْبَيِّنَاتِ فَرِحُوْا بِمَا عِنْدَهُـمْ مِّنَ الْعِلْمِ وَحَاقَ بِـهِـمْ مَّا كَانُـوْا بِهٖ يَسْتَهْزِئُوْنَ (83)
پس جب ان کے رسول ان کے پاس کھلی دلیلیں لائے تو وہ اپنے علم و دانش پر اترانے لگے اور جس پر وہ ہنسی کرتے تھے وہ ان پر الٹ پڑا۔
فَلَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا قَالُوٓا اٰمَنَّا بِاللّـٰهِ وَحْدَهٝ وَكَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهٖ مُشْرِكِيْنَ (84)
پھر جب انہوں نے ہمارا عذاب آتے دیکھا تو کہنے لگے کہ ہم اللہ پر ایمان لائے جو ایک ہے اور ہم نے ان چیزوں کا انکار کیا جنہیں ہم اس کا شریک ٹھہراتے تھے۔
فَلَمْ يَكُ يَنْفَعُهُـمْ اِيْمَانُـهُـمْ لَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا ۖ سُنَّتَ اللّـٰهِ الَّتِىْ قَدْ خَلَتْ فِىْ عِبَادِهٖ ۖ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْكَافِرُوْنَ (85)
پس انہیں ان کے ایمان نے نفع نہ دیا جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا، یہ سنت الٰہی ہے جو اس کے بندوں میں گزر چکی ہے، اور اس وقت کافر خسارہ میں رہ گئے۔