قرآن حکیم            

مکمل سورت
سورت نمبر
آیت نمبر
ایک آیت
(35) سورۃ فاطر (مکی، آیات 45)
بِسْمِ اللّـٰهِ الرَّحْـمٰنِ الرَّحِيْـمِ
اَلْحَـمْدُ لِلّـٰهِ فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ جَاعِلِ الْمَلَآئِكَـةِ رُسُلًا اُولِـىٓ اَجْنِحَةٍ مَّثْنٰى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ ۚ يَزِيْدُ فِى الْخَلْقِ مَا يَشَآءُ ۚ اِنَّ اللّـٰهَ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْرٌ (1)
سب تعریف اللہ کے لیے ہے جو آسمانوں اور زمین کا بنانے والا ہے فرشتوں کو رسول بنانے والا ہے جن کے دو دو تین تین چار چار پر ہیں، وہ پیدائش میں جو چاہے زیادہ کر دیتا ہے، بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
مَّا يَفْتَحِ اللّـٰهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَّحْـمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَـهَا ۖ وَمَا يُمْسِكْ فَلَا مُرْسِلَ لَـهٝ مِنْ بَعْدِهٖ ۚ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِـيْمُ (2)
اللہ بندوں کے لیے جو رحمت کھولتا ہے اسے کوئی بند نہیں کر سکتا، اور جسے وہ بند کر دے تو اس کے بعد کوئی کھولنے والا نہیں، اور وہ زبردست حکمت والا ہے۔
يَآ اَيُّـهَا النَّاسُ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّـٰهِ عَلَيْكُمْ ۚ هَلْ مِنْ خَالِقٍ غَيْـرُ اللّـٰهِ يَرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ ۚ لَآ اِلٰـهَ اِلَّا هُوَ ۖ فَاَنّـٰى تُؤْفَكُـوْنَ (3)
اے لوگو اللہ کے اس احسان کو یاد کرو جو تم پر ہے، بھلا اللہ کے سوا کوئی اور بھی خالق ہے جو تمہیں آسمان اور زمین سے روزی دیتا ہو، اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں، پھر کہاں الٹے جا رہے ہو۔
وَاِنْ يُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ ۚ وَاِلَى اللّـٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ (4)
اور اگر وہ آپ کو جھٹلائیں تو آپ سے پہلے بھی کئی رسول جھٹلائے گئے، اور اللہ ہی کی طرف سب کام لوٹائے جاتے ہیں۔
يَآ اَيُّـهَا النَّاسُ اِنَّ وَعْدَ اللّـٰهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَيَاةُ الـدُّنْيَا ۖ وَلَا يَغُرَّنَّكُمْ بِاللّـٰهِ الْغَرُوْرُ (5)
اے لوگو بے شک اللہ کا وعدہ سچا ہے پھر تمہیں دنیا کی زندگی دھوکے میں نہ ڈالے، اور تمہیں اللہ کے بارے میں دھوکہ باز دھوکا نہ دے۔
اِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوْهُ عَدُوًّا ۚ اِنَّمَا يَدْعُوْا حِزْبَهٝ لِيَكُـوْنُـوْا مِنْ اَصْحَابِ السَّعِيْـرِ (6)
بے شک شیطان تو تمہارا دشمن ہے سو تم بھی اسے دشمن سمجھو، وہ تو اپنی جماعت کو بلاتا ہے تاکہ وہ دوزخیوں میں سے ہوجائیں۔
اَلَّـذِيْنَ كَفَرُوْا لَـهُـمْ عَذَابٌ شَدِيْدٌ ۖ وَالَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَـهُـمْ مَّغْفِرَةٌ وَّّاَجْرٌ كَبِيْـرٌ (7)
جن لوگوں نے انکار کیا ان کے لیے سخت عذاب ہے، اور جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے انہیں کے لیے بخشش اور بڑا اجر ہے۔
اَفَمَنْ زُيِّنَ لَـهٝ سُوٓءُ عَمَلِـهٖ فَرَاٰهُ حَسَنًا ۖ فَاِنَّ اللّـٰهَ يُضِلُّ مَنْ يَّشَآءُ وَيَـهْدِىْ مَنْ يَّشَآءُ ۖ فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْـهِـمْ حَسَرَاتٍ ۚ اِنَّ اللّـٰهَ عَلِيْـمٌ بِمَا يَصْنَعُوْنَ (8)
بھلا جس کے برے کام بھلے کر دکھائے ہوں پھر وہ ان کو اچھا بھی جانتا ہو (نیک کے برابر ہو سکتا ہے)، پھر اللہ جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے، پھر آپ ان پر افسوس کھا کھا کر ہلاک نہ ہوجائیں، کیونکہ اللہ خوب جانتا ہے جو وہ کر رہے ہیں۔
وَاللّـٰهُ الَّـذِىٓ اَرْسَلَ الرِّيَاحَ فَتُثِيْـرُ سَحَابًا فَسُقْنَاهُ اِلٰى بَلَدٍ مَّيِّتٍ فَاَحْيَيْنَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِـهَا ۚ كَذٰلِكَ النُّشُوْرُ (9)
اور اللہ ہی وہ ہے جو ہوائیں چلاتا ہے پھروہ بادل اٹھاتی ہیں پھر ہم اسے مرے ہوئے شہروں کی طرف چلاتے ہیں پھر ہم اس سے زمین کو مرنے کے بعد زندہ کرتے ہیں، اسی طرح دوبارہ اٹھایا جانا ہے۔
مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعِزَّةَ فَلِلّـٰـهِ الْعِزَّةُ جَـمِيْعًا ۚ اِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِـحُ يَرْفَعُهٝ ۚ وَالَّـذِيْنَ يَمْكُـرُوْنَ السَّيِّئَاتِ لَـهُـمْ عَذَابٌ شَدِيْدٌ ۖ وَمَكْـرُ اُولٰٓئِكَ هُوَ يَبُوْرُ (10)
جو شخص عزت چاہتا ہو سو اللہ ہی کے لیے سب عزت ہے، اسی کی طرف سب پاکیزہ باتیں چڑھتی ہیں اور نیک عمل اس کو بلند کرتا ہے، اور جو لوگ بری تدبیریں کرتے ہیں انہی کے لیے سخت عذاب ہے، اور ان کی بری تدبیر ہی برباد ہوگی۔
وَاللّـٰهُ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُـمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُـمَّ جَعَلَكُمْ اَزْوَاجًا ۚ وَمَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰى وَلَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلْمِهٖ ۚ وَمَا يُعَمَّرُ مِنْ مُّعَمَّرٍ وَّلَا يُنْقَصُ مِنْ عُمُرِهٓ ٖ اِلَّا فِىْ كِتَابٍ ۚ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّـٰهِ يَـسِيْـرٌ (11)
اور اللہ ہی نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر نطفہ سے پھر تمہیں جوڑے بنایا، اور کوئی مادہ حاملہ نہیں ہوتی اور نہ وہ جنتی ہے مگر اس کے علم سے، اور نہ کوئی بڑی عمر والا عمر دیا جاتا ہے اور نہ اس کی عمر کم کی جاتی ہے مگر وہ کتاب میں درج ہے، بے شک یہ بات اللہ پر آسان ہے۔
وَمَا يَسْتَوِى الْبَحْرَانِ هٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ سَآئِــغٌ شَرَابُهٝ وَهٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ ۖ وَمِنْ كُلٍّ تَاْكُلُوْنَ لَحْمًا طَرِيًّا وَّتَسْتَخْرِجُوْنَ حِلْيَةً تَلْبَسُوْنَـهَا ۖ وَتَـرَى الْفُلْكَ فِيْهِ مَوَاخِرَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِـهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُـرُوْنَ (12)
اور دو سمندر برابر نہیں ہوتے یہ ایک میٹھا پیاس بجھانے والا ہے کہ اس کا پینا خوشگوار ہے اور یہ دوسرا کھاری کڑوا ہے، اور ہر ایک میں سے تم تازہ گوشت کھاتے ہو اور زیور نکالتے ہو جو تم پہنتے ہو، اور تو جہازوں کو دیکھتا ہے کہ اس میں پانی کو پھاڑتے جاتے ہیں تاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو اور تاکہ اس کا شکر کرو۔
يُوْلِـجُ اللَّيْلَ فِى النَّـهَارِ وَيُوْلِـجُ النَّـهَارَ فِى اللَّيْلِۙ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَۖ كُلٌّ يَّجْرِىْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى ۚ ذٰلِكُمُ اللّـٰهُ رَبُّكُمْ لَـهُ الْمُلْكُ ۚ وَالَّـذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ مَا يَمْلِكُـوْنَ مِنْ قِطْمِيْـرٍ (13)
وہ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے، اور اسی نے سورج اور چاند کو کام میں لگا رکھا ہے، ہر ایک وقت مقرر تک چل رہا ہے، یہی اللہ تمہارا رب ہے اسی کی بادشاہی ہے، اور جنہیں تم اس کے سوا پکارتے ہو وہ ایک گٹھلی کے چھلکے کے مالک نہیں۔
اِنْ تَدْعُوْهُـمْ لَا يَسْـمَعُوْا دُعَآءَكُمْ وَلَوْ سَـمِعُوْا مَا اسْتَجَابُوْا لَكُمْ ۖ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْـفُرُوْنَ بِشِرْكِكُمْ ۚ وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيْـرٍ (14)
اگر تم انہیں پکارو تو وہ تمہاری پکار کو نہیں سنتے اور اگر وہ سن بھی لیں تو تمہیں جواب نہیں دیتے، اور قیامت کے دن تمہارے شرک کا انکار کر دیں گے، اور تمہیں خبر رکھنے والے کی طرح کوئی نہیں بتائے گا۔
يَآ اَيُّـهَا النَّاسُ اَنْتُـمُ الْفُقَرَآءُ اِلَى اللّـٰهِ ۖ وَاللّـٰهُ هُوَ الْغَنِىُّ الْحَـمِيْدُ (15)
اے لوگو تم اللہ کی طرف محتاج ہو، اور اللہ بے نیاز تعریف کیا ہوا ہے۔
اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ وَيَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِيْدٍ (16)
اگر وہ چاہے تو تمہیں لے جائے اور نئی مخلوق لے آئے۔
وَمَا ذٰلِكَ عَلَى اللّـٰهِ بِعَزِيْزٍ (17)
اور یہ بات اللہ تعالیٰ پر کچھ مشکل نہیں۔
وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى ۚ وَاِنْ تَدْعُ مُثْقَلَـةٌ اِلٰى حِـمْلِهَا لَا يُحْـمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَّّلَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى ۗ اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّـذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّـهُـمْ بِالْغَيْبِ وَاَقَامُوا الصَّلَاةَ ۚ وَمَنْ تَزَكّـٰى فَاِنَّمَا يَتَزَكّـٰى لِنَفْسِهٖ ۚ وَاِلَى اللّـٰهِ الْمَصِيْـرُ (18)
اور کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا، اور اگر کوئی بوجھ والا اپنے بوجھ کی طرف بلائے گا تو اس کے بوجھ میں سے کچھ بھی اٹھایا نہ جائے گا اگرچہ قریبی رشتہ داری ہو، بے شک آپ انہیں لوگوں کو ڈراتے ہیں جو بن دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں، اور جو پاک ہوتا ہے سو وہ اپنے ہی لیے پاک ہوتا ہے، اور اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
وَمَا يَسْتَوِى الْاَعْمٰى وَالْبَصِيْـرُ (19)
اور اندھا اور دیکھنے والا برابر نہیں ہے۔
وَلَا الظُّلُمَاتُ وَلَا النُّوْرُ (20)
اور نہ اندھیرے اور نہ روشنی۔
وَلَا الظِّلُّ وَلَا الْحَرُوْرُ (21)
اور نہ سایہ اور نہ دھوپ۔
وَمَا يَسْتَوِى الْاَحْيَآءُ وَلَا الْاَمْوَاتُ ۚ اِنَّ اللّـٰهَ يُسْمِـعُ مَنْ يَّشَآءُ ۖ وَمَآ اَنْتَ بِمُسْمِـعٍ مَّنْ فِى الْقُبُوْرِ (22)
اور زندے اور مردے برابر نہیں ہیں، بے شک اللہ سناتا ہے جسے چاہے، اور آپ انہیں سنانے والے نہیں جو قبروں میں ہیں۔
اِنْ اَنْتَ اِلَّا نَذِيْرٌ (23)
نہیں ہیں آپ مگر ڈرانے والے۔
اِنَّـآ اَرْسَلْنَاكَ بِالْحَقِّ بَشِيْـرًا وَّنَذِيْـرًا ۚ وَاِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِيْـهَا نَذِيْرٌ (24)
بے شک ہم نے آپ کو سچا دین دے کر خوشخبری اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے، اور کوئی امت نہیں گزری مگر اس میں ایک ڈرانے والا گزر چکا ہے۔
وَاِنْ يُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كَذَّبَ الَّـذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِـمْۚ جَآءَتْهُـمْ رُسُلُـهُـمْ بِالْبَيِّنَاتِ وَبِالزُّبُرِ وَبِالْكِتَابِ الْمُنِيْـرِ (25)
اور اگر وہ آپ کو جھٹلائیں تو ان لوگوں نے بھی جھٹلایا ہے جو ان سے پہلے ہوئے، ان کے پاس ان کے رسول واضح دلیلیں اور صحیفے اور کتاب روشن لے کر آئے۔
ثُـمَّ اَخَذْتُ الَّـذِيْنَ كَفَرُوْا ۖ فَكَـيْفَ كَانَ نَكِـيْـرِ (26)
پھر میں نے انہیں پکڑا جو منکر ہوئے، پھر میرا عذاب کیسا ہوا۔
اَلَمْ تَـرَ اَنَّ اللّـٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخْرَجْنَا بِهٖ ثَمَرَاتٍ مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُهَا ۚ وَمِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌ بِيْضٌ وَّّحُـمْرٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهَا وَغَرَابِيْبُ سُوْدٌ (27)
کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ ہی آسمان سے پانی اتارتا ہے پھر ہم اس کے ذریعے سے پھل نکالتے ہیں جن کے رنگ مختلف ہوتے ہیں، اور پہاڑوں میں مختلف رنگتوں کے کچھ تو سفید اور کچھ سرخ اور بہت سیاہ بھی ہیں۔
وَمِنَ النَّاسِ وَالدَّوَآبِّ وَالْاَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٝ كَذٰلِكَ ۗ اِنَّمَا يَخْشَى اللّـٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَآءُ ۗ اِنَّ اللّـٰهَ عَزِيْزٌ غَفُوْرٌ (28)
اور اسی طرح آدمیوں اور زمین پر چلنے والے جانوروں اور چوپایوں کے بھی مختلف رنگ ہیں، بے شک اللہ سے اس کے بندوں میں سے عالم ہی ڈرتے ہیں، بے شک اللہ غالب بخشنے والا ہے۔
اِنَّ الَّـذِيْنَ يَتْلُوْنَ كِتَابَ اللّـٰهِ وَاَقَامُوا الصَّلَاةَ وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنَاهُـمْ سِرًّا وَّعَلَانِيَةً يَّرْجُوْنَ تِجَارَةً لَّنْ تَبُوْرَ (29)
بے شک جو لوگ اللہ کی کتاب پڑھتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور پوشیدہ اور ظاہر اس میں سے خرچ کرتے ہیں جو ہم نے انہیں دیا ہے وہ ایسی تجارت کے امیدوار ہیں کہ اس میں خسارہ نہیں۔
لِيُـوَفِّـيَـهُـمْ اُجُوْرَهُـمْ وَيَزِيْدَهُـمْ مِّنْ فَضْلِـهٖ ۚ اِنَّهٝ غَفُوْرٌ شَكُـوْرٌ (30)
تاکہ اللہ انہیں ان کے اجر پورے دے اور انہیں اپنے فضل سے زیادہ دے، بے شک وہ بخشنے والا قدردان ہے۔
وَالَّـذِىٓ اَوْحَيْنَـآ اِلَيْكَ مِنَ الْكِتَابِ هُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ ۗ اِنَّ اللّـٰهَ بِعِبَادِهٖ لَخَبِيْـرٌ بَصِيْـرٌ (31)
اور وہ کتاب جو ہم نے آپ کی طرف وحی کی ہے وہ ٹھیک ہے اس کتاب کی تصدیق کرنے والی ہے جو اس سے پہلے آچکی، بے شک اللہ اپنے بندو ں سے باخبر دیکھنے والا ہے۔
ثُـمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتَابَ الَّـذِيْنَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا ۖ فَمِنْـهُـمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖۚ وَمِنْـهُـمْ مُّقْتَصِدٌۚ وَمِنْـهُـمْ سَابِقٌ بِالْخَيْـرَاتِ بِاِذْنِ اللّـٰهِ ۚ ذٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِيْـرُ (32)
پھر ہم نے اپنی کتاب کا ان کو وارث بنایا جنہیں ہم نے اپنے بندوں میں سے چن لیا، پس بعض ان میں سے اپنے نفس پر ظلم کرنے والے ہیں، اور بعض ان میں سے میانہ رو ہیں، اور بعض ان میں سے اللہ کے حکم سے نیکیوں میں پیش قدمی کرنے والے ہیں، یہی تو اللہ کا بڑا فضل ہے۔
جَنَّاتُ عَدْنٍ يَّدْخُلُوْنَـهَا يُحَلَّوْنَ فِيْـهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّلُؤْلُـؤًا ۖ وَلِبَاسُهُـمْ فِيْـهَا حَرِيْرٌ (33)
ہمیشہ رہنے کے باغ ہیں وہ ان میں داخل ہوں گے انہیں وہاں سونے کے کنگن اور موتی پہنائے جائیں گے، اور اس میں ان کا لباس ریشم کا ہوگا۔
وَقَالُوا الْحَـمْدُ لِلّـٰهِ الَّـذِىٓ اَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ ۖ اِنَّ رَبَّنَا لَغَفُوْرٌ شَكُـوْرٌ (34)
اور وہ کہیں گے اللہ کا شکر ہے جس نے ہم سے غم دور کر دیا، بے شک ہمارا رب بخشنے والا قدردان ہے۔
اَلَّـذِىٓ اَحَلَّنَا دَارَ الْمُقَامَةِ مِنْ فَضْلِـهٖۚ لَا يَمَسُّنَا فِيْـهَا نَصَبٌ وَّلَا يَمَسُّنَا فِيْـهَا لُـغُوْبٌ (35)
وہ جس نے اپنے فضل سے ہمیں سدا رہنے کی جگہ میں اتارا، جہاں ہمیں نہ کوئی رنج پہنچتا ہے اور نہ کوئی تکلیف۔
وَالَّـذِيْنَ كَفَرُوْا لَـهُـمْ نَارُ جَهَنَّـمَ لَا يُقْضٰى عَلَيْـهِـمْ فَيَمُوْتُوْا وَلَا يُخَفَّفُ عَنْـهُـمْ مِّنْ عَذَابِـهَا ۚ كَذٰلِكَ نَجْزِىْ كُلَّ كَفُوْرٍ (36)
اور جو منکر ہو گئے ان کے لیے دوزخ کی آگ ہے نہ ان پر قضا آئے گی کہ مرجائیں اور نہ ہی ان سے اس کا عذاب ہلکا کیا جائے گا، اس طرح ہم ہر ناشکرے کو سزا دیا کرتے ہیں۔
وَهُـمْ يَصْطَرِخُوْنَ فِـيْهَاۚ رَبَّنَآ اَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا غَيْـرَ الَّـذِىْ كُنَّا نَعْمَلُ ۚ اَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَّا يَتَذَكَّرُ فِيْهِ مَنْ تَذَكَّرَ وَجَآءَكُمُ النَّذِيْـرُ ۖ فَذُوْقُوْا فَمَا لِلظَّالِمِيْنَ مِنْ نَّصِيْـرٍ (37)
اور وہ اس میں چلّائیں گے کہ اے ہمارے رب ہمیں نکال، ہم نیک کام کریں برخلاف ان کاموں کے جو کیا کرتے تھے، کیا ہم نے تمہیں اتنی عمر نہیں دی تھی جس میں سمجھنے والا سمجھ سکتا تھا اور تمہارے پاس ڈرانے والا آیا تھا، پس مزہ چکھو پس ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔
اِنَّ اللّـٰهَ عَالِمُ غَيْبِ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ ۚ اِنَّهٝ عَلِيْـمٌ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ (38)
بے شک اللہ آسمانوں اور زمین کے غیب جانتا ہے، بے شک وہ سینوں کے بھید خوب جانتا ہے۔
هُوَ الَّـذِىْ جَعَلَكُمْ خَلَآئِفَ فِى الْاَرْضِ ۚ فَمَنْ كَفَرَ فَعَلَيْهِ كُفْرُهٝ ۖ وَلَا يَزِيْدُ الْكَافِـرِيْنَ كُفْرُهُـمْ عِنْدَ رَبِّـهِـمْ اِلَّا مَقْتًا ۖ وَلَا يَزِيْدُ الْكَافِـرِيْنَ كُفْرُهُـمْ اِلَّا خَسَارًا (39)
وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں قائم مقام بنایا، پس جو کفر کرے گا اس کے کفر کا وبال اسی پر ہوگا، اور کافروں کا کفر ان کے رب کے ہاں ناراضگی کے سوا اور کچھ نہیں زیادہ کرتا۔
قُلْ اَرَاَيْتُـمْ شُرَكَآءَكُمُ الَّـذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّـٰهِ ؕ اَرُوْنِىْ مَاذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَـهُـمْ شِرْكٌ فِى السَّمَاوَاتِۚ اَمْ اٰتَيْنَاهُـمْ كِتَابًا فَـهُـمْ عَلٰى بَيِّنَتٍ مِّنْهُ ۚ بَلْ اِنْ يَّعِدُ الظَّالِمُوْنَ بَعْضُهُـمْ بَعْضًا اِلَّا غُرُوْرًا (40)
کہہ دو کیا تم نے اپنے ان معبودوں کو بھی دیکھا جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، وہ مجھے دکھاؤ کہ انہوں نے زمین میں کیا پیدا کیا ہے یا ان کا کچھ حصہ آسمانوں میں بھی ہے، یا انہیں ہم نے کوئی کتاب دی ہے کہ وہ اس کی سند رکھتے ہیں، (نہیں) بلکہ ظالم آپس میں ایک دوسرے کو دھوکہ دیتے ہیں۔
اِنَّ اللّـٰهَ يُمْسِكُ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضَ اَنْ تَزُوْلَا ۚ وَلَئِنْ زَالَتَآ اِنْ اَمْسَكَـهُمَا مِنْ اَحَدٍ مِّنْ بَعْدِهٖ ۚ اِنَّهٝ كَانَ حَلِيْمًا غَفُوْرًا (41)
بے شک اللہ ہی آسمانوں اور زمین کو تھامے ہوئے ہے اس سے کہ وہ اپنی جگہ سے ٹل جائیں، اور اگر وہ دونوں اپنی جگہ سے ہٹ جائیں تو ان کو کوئی بھی اس کے بعد روک نہیں سکتا، بے شک وہ بردبار بخشنے والا ہے۔
وَاَقْسَمُوْا بِاللّـٰهِ جَهْدَ اَيْمَانِـهِـمْ لَئِنْ جَآءَهُـمْ نَذِيْرٌ لَّيَكُـوْنُنَّ اَهْدٰى مِنْ اِحْدَى الْاُمَمِ ۖ فَلَمَّا جَآءَهُـمْ نَذِيْرٌ مَّا زَادَهُـمْ اِلَّا نُفُوْرًا (42)
اور وہ اللہ کی پختہ قسمیں کھاتے تھے کہ اگر ان کے پاس کوئی بھی ڈرانے والا آیا تو ہر ایک امت سے زیادہ ہدایت پر ہوں گے، پھر جب ان کے پاس ڈرانے والا آیا تو اس سے ان کو اور بھی نفرت بڑھ گئی۔
اِسْتِكْـبَارًا فِى الْاَرْضِ وَمَكْـرَ السَّيِّئِ ۚ وَلَا يَحِيْقُ الْمَكْـرُ السَّيِّئُ اِلَّا بِاَهْلِـهٖ ۚ فَهَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّا سُنَّتَ الْاَوَّلِيْنَ ۚ فَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّـٰهِ تَبْدِيْلًا ۖ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّـٰهِ تَحْوِيْلًا (43)
کہ ملک میں سرکشی اور بری تدبیریں کرنے لگ گئے، اور بری تدبیر تو تدبیرکرنے والے ہی پر الٹ پڑتی ہے، پھر کیا وہ اسی برتاؤ کے منتظر ہیں جو پہلے لوگوں سے برتا گیا، پس تو اللہ کے قانون میں کوئی تبدیلی نہیں پائے گا، اور تو اللہ کے قانوں میں کوئی تغیر نہیں پائے گا۔
اَوَلَمْ يَسِيْـرُوْا فِى الْاَرْضِ فَيَنْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّـذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِـمْ وَكَانُـوٓا اَشَدَّ مِنْـهُـمْ قُوَّةً ۚ وَمَا كَانَ اللّـٰهُ لِيُعْجِزَهٝ مِنْ شَىْءٍ فِى السَّمَاوَاتِ وَلَا فِى الْاَرْضِ ۚ اِنَّهٝ كَانَ عَلِيْمًا قَدِيْـرًا (44)
کیا انہوں نے زمین میں سیر نہیں کی کہ وہ دیکھتے ان لوگوں کا کیسا برا انجام ہوا جو ان سے پہلے تھے اور وہ ان سے زیادہ طاقتور تھے، اور اللہ ایسا نہیں ہے کہ اسے کوئی چیز آسمانوں میں اور نہ زمین میں عاجز کر دے، بے شک وہ جاننے والا قدرت والا ہے۔
وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللّـٰهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوْا مَا تَـرَكَ عَلٰى ظَهْرِهَا مِنْ دَآبَّةٍ وَّّلٰكِنْ يُّؤَخِّرُهُـمْ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى ۖ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُـهُـمْ فَاِنَّ اللّـٰهَ كَانَ بِعِبَادِهٖ بَصِيْـرًا (45)
اور اگر اللہ لوگوں سے ان کے اعمال پر گرفت کرتا تو سطح زمین پر کوئی جاندار نہ چھوڑتا لیکن وہ انہیں ایک وقت مقرر تک ڈھیل دیتا ہے، پس جب ان کا وقت مقرر آجائے گا تو بے شک اللہ اپنے بندوں کو خوب دیکھ رہا ہے۔