قرآن حکیم            

مکمل سورت
سورت نمبر
آیت نمبر
ایک آیت
(32) سورۃ السجدۃ (مکی، آیات 30)
بِسْمِ اللّـٰهِ الرَّحْـمٰنِ الرَّحِيْـمِ
الٓـمٓ (1)
ا ل مۤ۔
تَنْزِيْلُ الْكِتَابِ لَا رَيْبَ فِيْهِ مِنْ رَّبِّ الْعَالَمِيْنَ (2)
اس میں کچھ شک نہیں کہ یہ کتاب جہان کے پالنے والے کی طرف سے نازل ہوئی ہے۔
اَمْ يَقُوْلُوْنَ افْتَـرَاهُ ۚ بَلْ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّآ اَتَاهُـمْ مِّنْ نَّذِيْـرٍ مِّنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُـمْ يَـهْتَدُوْنَ (3)
کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے خود بنائی ہے، بلکہ یہ سچی کتاب تیرے رب کی طرف سے ہے تاکہ تو اس قوم کو ڈرائے جن کے پاس تجھ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تاکہ وہ راہ پر آئیں۔
اَللَّـهُ الَّـذِىْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَيْنَـهُمَا فِىْ سِتَّةِ اَيَّامٍ ثُـمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ ۖ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّّلِـيٍّ وَّلَا شَفِيْـعٍ ۚ اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ (4)
اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان میں ہے چھ روز میں بنایا پھر عرش پر قائم ہوا، تمہارے لیے اس کے سوا نہ کوئی کارساز ہے نہ سفارشی، پھر کیا تم نہیں سمجھتے۔
يُدَبِّـرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَآءِ اِلَى الْاَرْضِ ثُـمَّ يَعْرُجُ اِلَيْهِ فِىْ يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٝٓ اَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ (5)
وہ آسمان سے لے کر زمین تک ہر کام کی تدبیر کرتا ہے پھر اس دن بھی جس کی مقدار تمہاری گنتی سے ہزار برس ہوگی وہ انتظام اس کی طرف رجوع کرے گا۔
ذٰلِكَ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ الْعَزِيْزُ الرَّحِـيْمُ (6)
وہی چھپی اور کھلی بات کا جاننے والا زبردست مہربان ہے۔
اَلَّـذِىٓ اَحْسَنَ كُلَّ شَىْءٍ خَلَقَهٝ ۖ وَبَدَاَ خَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِيْنٍ (7)
جس نے جو چیز بنائی خوب بنائی، اور انسان کی پیدائش مٹی سے شروع کی۔
ثُـمَّ جَعَلَ نَسْلَـهٝ مِنْ سُلَالَـةٍ مِّنْ مَّـآءٍ مَّهِيْنٍ (8)
پھر اس کی اولاد نچڑے ہوئے حقیر پانی سے بنائی۔
ثُـمَّ سَوَّاهُ وَنَفَخَ فِيْهِ مِنْ رُّوْحِهٖ ۖ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْئِدَةَ ۚ قَلِيْلًا مَّا تَشْكُـرُوْنَ (9)
پھر اس کے اعضا درست کیے اور اس میں اپنی روح پھونکی، اور تمہارے لیے کان اور آنکھیں اور دل بنایا، تم بہت تھوڑا شکر کرتے ہو۔
وَقَالُوٓا ءَاِذَا ضَلَلْنَا فِى الْاَرْضِ ءَاِنَّا لَفِىْ خَلْقٍ جَدِيْدٍ ۚ بَلْ هُـمْ بِلِقَـآءِ رَبِّـهِـمْ كَافِرُوْنَ (10)
اور کہتے ہیں کہ ہم جب زمین میں نیست و نابود ہو گئے تو کیا پھر نئے سرے سے پیدا ہوں گے، بلکہ وہ اپنے رب سے ملنے کے منکر ہیں۔
قُلْ يَتَوَفَّاكُمْ مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّـذِىْ وُكِّلَ بِكُمْ ثُـمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ (11)
کہہ دو تمہاری جان موت کا وہ فرشتہ قبض کرے گا جو تم پر مقرر کیا گیا ہے پھر تم اپنے رب کے پاس لوٹائے جاؤ گے۔
وَلَوْ تَـرٰٓى اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِـمْ عِنْدَ رَبِّهِـمْۚ رَبَّنَـآ اَبْصَرْنَا وَسَـمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُـوْنَ (12)
اور کبھی تو دیکھے جس وقت منکر اپنے رب کے سامنے سر جھکائے ہوئے ہوں گے، اے رب ہمارے ہم نے دیکھ اور سن لیا اب ہمیں پھر بھیج دے کہ اچھے کام کریں ہمیں یقین آ گیا ہے۔
وَلَوْ شِئْنَا لَاٰتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدَاهَا وَلٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّىْ لَاَمْلَاَنَّ جَهَنَّـمَ مِنَ الْجِنَّـةِ وَالنَّاسِ اَجْـمَعِيْنَ (13)
اور اگر ہم چاہتے تو ہر شخص کو ہدایت پر لے آتے لیکن ہماری بات پوری ہو کر رہی کہ ہم جنوں اور آدمیوں سے جہنم بھر کر رہیں گے۔
فَذُوْقُوْا بِمَا نَسِيْتُـمْ لِقَـآءَ يَوْمِكُمْ هٰذَاۚ اِنَّا نَسِيْنَاكُمْ ۖ وَذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ بِمَا كُنْتُـمْ تَعْمَلُوْنَ (14)
تو اب اس کا مزہ چکھو کہ تم اپنے اس دن کے آنے کو بھول گئے تھے، ہم نے تمہیں بھلا دیا، اور اپنے کیے کے بدلہ میں ہمیشہ کا عذاب چکھو۔
اِنَّمَا يُؤْمِنُ بِاٰيَاتِنَا الَّـذِيْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِـهَا خَرُّوْا سُجَّدًا وَّسَبَّحُوْا بِحَـمْدِ رَبِّـهِـمْ وَهُـمْ لَا يَسْتَكْبِـرُوْنَ ۩ (15)
بس ہماری آیتوں پر وہ ایمان لاتے ہیں کہ جب انہیں وہ آیتیں یاد دلائی جاتی ہیں تو وہ سجدہ میں گر پڑتے ہیں اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح بیان کرتے ہیں اور وہ تکبر نہیں کرتے۔
تَتَجَافٰى جُنُـوْبُـهُـمْ عَنِ الْمَضَاجِـعِ يَدْعُوْنَ رَبَّـهُـمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا وَّمِمَّا رَزَقْنَاهُـمْ يُنْفِقُوْنَ (16)
اپنے بستروں سے اٹھ کر اپنے رب کو خوف اور امید سے پکارتے ہیں اور ہمارے دیے میں سے کچھ خرچ بھی کرتے ہیں۔
فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّـآ اُخْفِىَ لَـهُـمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍۚ جَزَآءً بِمَا كَانُـوْا يَعْمَلُوْنَ (17)
پھر کوئی شخص نہیں جانتا کہ ان کے عمل کے بدلہ میں ان کی آنکھوں کی کیا ٹھنڈک چھپا رکھی ہے، یہ ان کو ان کے اعمال کا صلہ ملا ہے۔
اَفَمَنْ كَانَ مُؤْمِنًا كَمَنْ كَانَ فَاسِقًا ۚ لَّا يَسْتَوُوْنَ (18)
کیا مومن اس کے برابر ہے جو نا فرمان ہو، نہیں برابر ہو سکتے۔
اَمَّا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فَلَـهُـمْ جَنَّاتُ الْمَاْوٰىۚ نُزُلًا بِمَا كَانُـوْا يَعْمَلُوْنَ (19)
سو وہ لوگ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے تو ان کی مہمانی میں ہمیشہ رہنے کے باغ ہیں، ان کاموں کے سبب جو وہ کیا کرتے تھے
وَاَمَّا الَّـذِيْنَ فَسَقُوْا فَمَاْوَاهُـمُ النَّارُ ۖ كُلَّمَآ اَرَادُوٓا اَنْ يَّخْرُجُوْا مِنْهَآ اُعِيْدُوْا فِيْـهَا وَقِيْلَ لَـهُـمْ ذُوْقُوْا عَذَابَ النَّارِ الَّـذِىْ كُنْتُـمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ (20)
اور جنہوں نے نافرمانی کی ان کا ٹھکانا آگ ہے، جب وہاں سے نکلنے کا ارداہ کریں گے تو اس میں پھر لوٹا دیے جائیں گے اور انہیں کہا جائے گا آگ کا وہ عذاب چکھو جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔
وَلَنُذِيْقَنَّـهُـمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰى دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَكْبَـرِ لَعَلَّـهُـمْ يَرْجِعُوْنَ (21)
اور ہم انہیں قریب کا عذاب بھی اس بڑے عذاب سے پہلے چکھائیں گے تاکہ وہ باز آ جائیں۔
وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰيَاتِ رَبِّهٖ ثُـمَّ اَعْرَضَ عَنْـهَا ۚ اِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِيْنَ مُنْتَقِمُوْنَ (22)
اور اس سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جسے اس کے رب کی آیتوں سے سمجھایا جائے پھر وہ ان سے منہ موڑے، ہمیں تو گنہگاروں سے بدلہ لینا ہے۔
وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتَابَ فَلَا تَكُنْ فِىْ مِرْيَةٍ مِّنْ لِّـقَآئِهٖ ۖ وَجَعَلْنَاهُ هُدًى لِّـبَنِىٓ اِسْرَآئِيْلَ (23)
اور البتہ ہم نے موسٰی کو کتاب دی تھی پھر آپ اس کے ملنے میں شک نہ کریں، اور ہم نے ہی اسے بنی اسرائیل کے لیے راہ نما بنایا تھا۔
وَجَعَلْنَا مِنْـهُـمْ اَئِمَّةً يَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَـرُوْا ۖ وَكَانُـوْا بِاٰيَاتِنَا يُوْقِنُـوْنَ (24)
اور ہم نے ان میں سے پیشوا بنائے تھے جو ہمارے حکم سے رہنمائی کرتے تھے جب انہوں نے صبر کیا تھا، اور وہ ہماری آیتوں پر یقین بھی رکھتے تھے۔
اِنَّ رَبَّكَ هُوَ يَفْصِلُ بَيْنَـهُـمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِيْمَا كَانُـوْا فِيْهِ يَخْتَلِفُوْنَ (25)
بے شک تیرا رب ہی قیامت کے دن ان میں فیصلہ کرے گا جس بات میں وہ اختلاف کرتے تھے۔
اَوَلَمْ يَـهْدِ لَـهُـمْ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِـهِـمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ يَمْشُوْنَ فِىْ مَسَاكِـنِـهِـمْ ۚ اِنَّ فِىْ ذٰلِكَ لَاٰيَاتٍ ۖ اَفَلَا يَسْـمَعُوْنَ (26)
کیا انھیں اس سے بھی رہنمائی نہ ہوئی کہ ان سے پہلے ہم نے کتنی جماعتیں ہلاک کر دی ہیں جن کے گھروں میں یہ چلتے پھرتے ہیں، بے شک اس میں بڑی نشانیاں ہیں، پھر کیا وہ سنتے بھی نہیں۔
اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّا نَسُوْقُ الْمَآءَ اِلَى الْاَرْضِ الْجُرُزِ فَنُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا تَاْكُلُ مِنْهُ اَنْعَامُهُـمْ وَاَنْفُسُهُـمْ ۖ اَفَلَا يُبْصِرُوْنَ (27)
کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم پانی کو خشک زمین کی طرف رواں کر کے اس سے کھیتی نکالتے ہیں جس سے ان کے چار پائے اور وہ خود بھی کھاتے ہیں، پھر کیا وہ دیکھتے نہیں۔
وَيَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْفَتْحُ اِنْ كُنْتُـمْ صَادِقِيْنَ (28)
اور کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو یہ فیصلہ کب ہوگا۔
قُلْ يَوْمَ الْفَتْحِ لَا يَنْفَعُ الَّـذِيْنَ كَفَرُوٓا اِيْمَانُـهُـمْ وَلَا هُـمْ يُنْظَرُوْنَ (29)
کہہ دو کہ فیصلہ کے دن کافروں کو ان کا ایمان لانا نفع نہ دے گا اور نہ ہی انہیں مہلت دی جائے گی۔
فَاَعْرِضْ عَنْـهُـمْ وَانْتَظِرْ اِنَّـهُـمْ مُّنْتَظِرُوْنَ (30)
سو ان سے کنارہ کر اور انتظار کر، وہ بھی انتظار کر رہے ہیں۔