قرآن حکیم            

مکمل سورت
سورت نمبر
آیت نمبر
ایک آیت
(31) سورۃ لقمان (مکی، آیات 34)
بِسْمِ اللّـٰهِ الرَّحْـمٰنِ الرَّحِيْـمِ
الٓـمٓ (1)
ا ل مۤ۔
تِلْكَ اٰيَاتُ الْكِتَابِ الْحَكِـيْـمِ (2)
یہ آیتیں حکمت والی کتاب کی ہیں۔
هُدًى وَّرَحْـمَةً لِّلْمُحْسِنِيْنَ (3)
جو نیک بختوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔
اَلَّـذِيْنَ يُقِيْمُوْنَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُوْنَ الزَّكَاةَ وَهُـمْ بِالْاٰخِرَةِ هُـمْ يُوْقِنُـوْنَ (4)
وہ جو نماز ادا کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور آخرت پر بھی یقین رکھتے ہیں۔
اُولٰٓئِكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِـمْ ۖ وَاُولٰٓئِكَ هُـمُ الْمُفْلِحُوْنَ (5)
یہی لوگ اپنے رب کی ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ نجات پانے والے ہیں۔
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّشْتَـرِىْ لَـهْوَ الْحَدِيْثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيْلِ اللّـٰهِ بِغَيْـرِ عِلْمٍ وَّيَتَّخِذَهَا هُزُوًا ۚ اُولٰٓئِكَ لَـهُـمْ عَذَابٌ مُّهِيْنٌ (6)
اور بعض ایسے آدمی بھی ہیں جو کھیل کی باتوں کے خریدار ہیں تاکہ بن سمجھے اللہ کی راہ سے بہکائیں اور اس کی ہنسی اڑائیں، ایسے لوگوں کے لیے ذلت کا عذاب ہے۔
وَاِذَا تُـتْلٰى عَلَيْهِ اٰيَاتُنَا وَلّـٰى مُسْتَكْبِـرًا كَاَنْ لَّمْ يَسْـمَعْهَا كَاَنَّ فِىٓ اُذُنَيْهِ وَقْرًا ۖ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِيْـمٍ (7)
اور جب اس پر ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو تکبر کرتا ہوا منہ موڑ لیتا ہے جیسے اس نے سنا ہی نہیں گویا اس کے دونوں کان بہرے ہیں، سو اسے دردناک عذاب کی خوشخبری دے۔
اِنَّ الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَـهُـمْ جَنَّاتُ النَّعِـيْمِ (8)
بے شک جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کیے ان کے لیے نعمت کے باغ ہیں۔
خَالِـدِيْنَ فِيْـهَا ۖ وَعْدَ اللّـٰهِ حَقًّا ۚ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِـيْمُ (9)
جہاں ہمیشہ رہیں گے، اللہ کا سچا وعدہ ہو چکا، اور وہ زبردست حکمت والا ہے۔
خَلَقَ السَّمَاوَاتِ بِغَيْـرِ عَمَدٍ تَـرَوْنَـهَا ۖ وَاَلْقٰى فِى الْاَرْضِ رَوَاسِىَ اَنْ تَمِيْدَ بِكُمْ وَبَثَّ فِيْـهَا مِنْ كُلِّ دَآبَّةٍ ۚ وَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَنْبَتْنَا فِيْـهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِيْمٍ (10)
آسمانوں کو بے ستون بنایا تم انہیں دیکھ رہے ہو، اور زمین میں مضبوط پہاڑ رکھ دیے تاکہ تمہیں لے کر ادھر ادھر نہ جھکے اور اس میں ہر قسم کے جانور پھیلا دیے، اور ہم نے آسمان سے مینہ برسایا پھر ہم نے زمین میں ہر قسم کی عمدہ چیزیں اگائیں۔
هٰذَا خَلْقُ اللّـٰهِ فَاَرُوْنِىْ مَاذَا خَلَقَ الَّـذِيْنَ مِنْ دُوْنِهٖ ۚ بَلِ الظَّالِمُوْنَ فِىْ ضَلَالٍ مُّبِيْنٍ (11)
یہ تو اللہ کی ساخت ہے پھر مجھے دکھاؤ کہ اس کے سوا غیر نے کیا پیدا کیا ہے، بلکہ ظالم صریح گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں۔
وَلَقَدْ اٰتَيْنَا لُقْمَانَ الْحِكْمَةَ اَنِ اشْكُـرْ لِلّـٰهِ ۚ وَمَنْ يَّشْكُـرْ فَاِنَّمَا يَشْكُـرُ لِنَفْسِهٖ ۖ وَمَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللّـٰهَ غَنِىٌّ حَـمِيْدٌ (12)
اور ہم نے لقمان کو دانائی عطا فرمائی کہ اللہ کا شکر کرتے رہو، اور جو شخص شکر کرے گا وہ اپنے ذاتی نفع کے لیے شکر کرتا ہے، اور جو ناشکری کرے گا تو اللہ بے نیاز خوبیوں والا ہے۔
وَاِذْ قَالَ لُقْمَانُ لِابْنِهٖ وَهُوَ يَعِظُهٝ يَا بُنَىَّ لَا تُشْرِكْ بِاللّـٰهِ ۖ اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِـيْمٌ (13)
اور جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ بیٹا اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا، بے شک شرک کرنا بڑا بھاری ظلم ہے۔
وَوَصَّيْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِـدَيْهِۚ حَـمَلَتْهُ اُمُّهٝ وَهْنًا عَلٰى وَهْنٍ وَّفِصَالُـهٝ فِىْ عَامَيْنِ اَنِ اشْكُـرْ لِـىْ وَلِوَالِـدَيْكَۚ اِلَـىَّ الْمَصِيْـرُ (14)
اور ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے متعلق تاکید کی ہے، اس کی ماں نے ضعف پر ضعف اٹھا کر اسے پیٹ میں رکھا اور دو برس میں اس کا دودھ چھڑانا ہے تو (انسان) میری اور اپنے ماں باپ کی شکر گزاری کرے، میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔
وَاِنْ جَاهَدَاكَ عَلٰٓى اَنْ تُشْرِكَ بِىْ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا ۖ وَصَاحِبْهُمَا فِى الـدُّنْيَا مَعْرُوْفًا ۖ وَاتَّبِــعْ سَبِيْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَـىَّ ۚ ثُـمَّ اِلَـىَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُـمْ تَعْمَلُوْنَ (15)
اور اگر تجھ پر اس بات کا زور ڈالیں تو میرے ساتھ اس کو شریک بنائے جس کو تو جانتا بھی نہ ہو تو ان کا کہنا نہ مان، اور دنیا میں ان کے ساتھ نیکی سے پیش آ، اور ان لوگوں کی راہ پر چل جو میری طرف رجوع ہوگئے، پھر تمہیں لوٹ کر میرے ہی پاس آنا ہے پھر میں تمہیں بتاؤں گا کہ تم کیا کیا کرتے تھے۔
يَا بُنَىَّ اِنَّهَآ اِنْ تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَـتَكُنْ فِىْ صَخْرَةٍ اَوْ فِى السَّمَاوَاتِ اَوْ فِى الْاَرْضِ يَاْتِ بِـهَا اللّـٰهُ ۚ اِنَّ اللّـٰهَ لَطِيْفٌ خَبِيْـرٌ (16)
بیٹا اگر کوئی عمل رائی کے دانہ کے برابر ہو پھر وہ کسی پتھر کے اندر ہو یا وہ آسمان کے اندر ہو یا زمین کے اندر ہو تب بھی اللہ اس کو حاضر کر دے گا، بے شک اللہ بڑا باریک بین باخبر ہے۔
يَا بُنَىَّ اَقِمِ الصَّلَاةَ وَاْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَاصْبِـرْ عَلٰى مَآ اَصَابَكَ ۖ اِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ (17)
بیٹا نماز پڑھا کر اور اچھے کاموں کی نصیحت کیا کر اور برے کاموں سے منع کیا کر اور تجھ پر جو مصیبت آئے اس پر صبر کیا کر، بے شک یہ ہمت کے کاموں میں سے ہیں۔
وَلَا تُصَعِّـرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمْشِ فِى الْاَرْضِ مَرَحًا ۖ اِنَّ اللّـٰهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍ (18)
اور لوگوں سے اپنا رخ نہ پھیر اور زمین پر اترا کر نہ چل، بے شک اللہ کسی تکبر کرنے والے فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔
وَاقْصِدْ فِىْ مَشْيِكَ وَاغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ ۚ اِنَّ اَنْكَـرَ الْاَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَـمِيْـرِ (19)
اور اپنے چلنے میں میانہ روی اختیار کر اور اپنی آواز پست کر، بے شک آوازوں میں سب سے بری آواز گدھوں کی ہے۔
اَلَمْ تَـرَوْا اَنَّ اللّـٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِى السَّمَاوَاتِ وَمَا فِى الْاَرْضِ وَاَسْبَغَ عَلَيْكُمْ نِعَمَهٝ ظَاهِرَةً وَّّبَاطِنَةً ۗ وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُّجَادِلُ فِى اللّـٰهِ بِغَيْـرِ عِلْمٍ وَّلَا هُدًى وَّلَا كِتَابٍ مُّنِيْـرٍ (20)
کیا تم نے نہیں دیکھا جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب کو اللہ نے تمہارے کام پر لگا رکھا ہے اور تم پر اپنی ظاہری اور باطنی نعمتیں پوری کر دی ہیں، اور لوگوں میں سے ایسے بھی ہیں جو اللہ کے معاملے میں جھگڑتے ہیں نہ انہیں علم ہے اور نہ ہدایت ہے اور نہ روشنی بخشنے والی کتاب ہے۔
وَاِذَا قِيْلَ لَـهُـمُ اتَّبِعُوْا مَآ اَنْزَلَ اللّـٰهُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِــعُ مَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ اٰبَآءَنَا ۚ اَوَلَوْ كَانَ الشَّيْطَانُ يَدْعُوْهُـمْ اِلٰى عَذَابِ السَّعِيْـرِ (21)
اور جب ان سے کہا جاتا ہے اس پر چلو جو اللہ نے نازل کیا ہے تو کہتے ہیں کہ ہم تو اس پر چلیں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے، کیا (تب بھی) اگرچہ شیطان ان کے بڑوں کو دوزخ کے عذاب کی طرف بلاتا رہا ہو۔
وَمَنْ يُّسْلِمْ وَجْهَهٝٓ اِلَى اللّـٰهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى ۗ وَاِلَى اللّـٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ (22)
اور جس نے نیک ہو کر اپنا منہ اللہ کے سامنے جھکا دیا تو اس نے مضبوط کڑے کو تھام لیا، اور آخر کار ہر معاملہ اللہ ہی کے حضور میں پیش ہونا ہے۔
وَمَنْ كَفَرَ فَلَا يَحْزُنْكَ كُفْرُهٝ ۚ اِلَيْنَا مَرْجِعُـهُـمْ فَنُنَبِّئُـهُـمْ بِمَا عَمِلُوْا ۚ اِنَّ اللّـٰهَ عَلِيْـمٌ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ (23)
اور جس نے انکار کیا پس تو اس کے انکار سے غم نہ کھا، انہیں ہمارے پاس آنا ہے پھر ہم انہیں بتا دیں گے کہ انہوں نے کیا کیا ہے، بے شک اللہ دلوں کے راز جانتا ہے۔
نُمَتِّعُهُـمْ قَلِيْلًا ثُـمَّ نَضْطَرُّهُـمْ اِلٰى عَذَابٍ غَلِيْظٍ (24)
ہم انہیں تھوڑا سا عیش دے رہے ہیں پھر ہم انہیں سخت عذاب کی طرف گھسیٹ کر لے جائیں گے۔
وَلَئِنْ سَاَلْتَـهُـمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضَ لَيَقُوْلُنَّ اللّـٰهُ ۚ قُلِ الْحَـمْدُ لِلّـٰهِ ۚ بَلْ اَكْثَرُهُـمْ لَا يَعْلَمُوْنَ (25)
اور اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے بنایا ہے تو ضرور کہیں گے کہ اللہ نے، کہہ دو الحمد للہ، بلکہ ان میں سے اکثر نہیں جانتے۔
لِلّـٰهِ مَا فِى السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ ۚ اِنَّ اللّـٰهَ هُوَ الْغَنِىُّ الْحَـمِيْدُ (26)
اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، بے شک اللہ بے نیاز سب خوبیوں والا ہے۔
وَلَوْ اَنَّمَا فِى الْاَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ اَقْلَامٌ وَّّالْبَحْرُ يَمُدُّهٝ مِنْ بَعْدِهٖ سَبْعَةُ اَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمَاتُ اللّـٰهِ ۗ اِنَّ اللّـٰهَ عَزِيْزٌ حَكِـيْمٌ (27)
اور اگر زمین میں جو درخت ہیں وہ سب قلم ہوجائیں اور دریا سیاہی اس کے بعد اس دریا میں سات اور دریا سیاہی کے آ ملیں تو بھی اللہ کی باتیں ختم نہ ہوں، بے شک اللہ زبردست حکمت والا ہے۔
مَّا خَلْقُكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ ۗ اِنَّ اللّـٰهَ سَـمِيْعٌ بَصِيْـرٌ (28)
تم سب کا پیدا کرنا اور مرنے کے بعد زندہ کرنا ایسا ہی ہے جیسا ایک شخص کا، بے شک اللہ سنتا دیکھتا ہے۔
اَلَمْ تَـرَ اَنَّ اللّـٰهَ يُوْلِـجُ اللَّيْلَ فِى النَّـهَارِ وَيُوْلِـجُ النَّـهَارَ فِى اللَّيْلِ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَۖ كُلٌّ يَّجْرِىْ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّاَنَّ اللّـٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْـرٌ (29)
کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور سورج اور چاند کو کام پر لگا رکھا ہے، ہر ایک وقت مقرر تک چلتا رہے گا اور یہ کہ اللہ تمہارے کام سے خبردار ہے۔
ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّـٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَاَنَّ مَا يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهِ الْبَاطِلُ وَاَنَّ اللّـٰهَ هُوَ الْعَلِـىُّ الْكَبِيْـرُ (30)
یہ اس لیے کہ اللہ ہی حق ہے اور اس کے سوا جس کو وہ پکارتے ہیں جھوٹ ہے اور اللہ ہی بلند مرتبہ بزرگ ہے۔
اَلَمْ تَـرَ اَنَّ الْفُلْكَ تَجْرِىْ فِى الْبَحْرِ بِنِعْمَتِ اللّـٰهِ لِيُـرِيَكُمْ مِّنْ اٰيَاتِهٖ ۚ اِنَّ فِىْ ذٰلِكَ لَاٰيَاتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُـوْرٍ (31)
کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ ہی کے فضل سے دریا میں کشتیاں چلتی ہیں تاکہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھائے، بے شک اس میں ہر ایک صابر شاکر کےلیے نشانیاں ہیں۔
وَاِذَا غَشِيَـهُـمْ مَّوْجٌ كَالظُّلَلِ دَعَوُا اللّـٰهَ مُخْلِصِيْنَ لَـهُ الدِّيْنَۚ فَلَمَّا نَجَّاهُـمْ اِلَى الْبَـرِّ فَمِنْـهُـمْ مُّقْتَصِدٌ ۚ وَمَا يَجْحَدُ بِاٰيَاتِنَآ اِلَّا كُلُّ خَتَّارٍ كَفُوْرٍ (32)
اور جب انہیں سائبانوں کی طرح موج ڈھانک لیتی ہے تو خالص اعتقاد سے اللہ ہی کو پکارتے ہیں، پھر جب انہیں نجات دے کر خشکی کی طرف لے آتا ہے تو بعض ان میں سے راہِ راست پر رہتے ہیں، اور ہماری نشانیوں سے وہی لوگ انکار کرتے ہیں جو بدعہد ناشکرگزار ہیں۔
يَآ اَيُّـهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ وَاخْشَوْا يَوْمًا لَّا يَجْزِىْ وَالِـدٌ عَنْ وَّّلَـدِهٖ ؕ وَلَا مَوْلُوْدٌ هُوَ جَازٍ عَنْ وَّّالِـدِهٖ شَيْئًا ۚ اِنَّ وَعْدَ اللّـٰهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَيَاةُ الـدُّنْيَاۖ وَلَا يَغُرَّنَّكُمْ بِاللّـٰهِ الْغَرُوْرُ (33)
اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو اور اس دن سے ڈرو جس میں نہ باپ اپنے بیٹے کے کام آئے گا، اور نہ بیٹا اپنے باپ کے کچھ کام آئے گا، اللہ کا وعدہ سچا ہے پھر دنیا کی زندگی تمہیں دھوکا میں نہ ڈال دے، اور نہ دغاباز تمہیں اللہ سے دھوکہ میں رکھیں۔
اِنَّ اللّـٰهَ عِنْدَهٝ عِلْمُ السَّاعَةِۚ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَۚ وَيَعْلَمُ مَا فِى الْاَرْحَامِ ۖ وَمَا تَدْرِىْ نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا ۖ وَمَا تَدْرِىْ نَفْسٌ بِاَيِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ ۚ اِنَّ اللّـٰهَ عَلِيْـمٌ خَبِيْـرٌ (34)
بے شک اللہ ہی کو قیامت کی خبر ہے، اور وہی مینہ برساتا ہے، اور وہی جانتا ہے جو کچھ ماؤں کے پیٹوں میں ہوتا ہے، اور کوئی نہیں جانتا کہ کل کیا کرے گا، اور کوئی نہیں جانتا کہ کس زمین پر مرے گا، بے شک اللہ جاننے والا خبردار ہے۔