قرآن حکیم            

مکمل سورت
سورت نمبر
آیت نمبر
ایک آیت
(30) سورۃ الروم (مکی، آیات 60)
بِسْمِ اللّـٰهِ الرَّحْـمٰنِ الرَّحِيْـمِ
الٓـمٓ (1)
ا ل مۤ۔
غُلِبَتِ الرُّوْمُ (2)
روم مغلوب ہو گئے۔
فِىٓ اَدْنَى الْاَرْضِ وَهُـمْ مِّنْ بَعْدِ غَلَبِهِـمْ سَيَغْلِبُوْنَ (3)
نزدیک کے ملک میں اور وہ مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب آجائیں گے۔
فِىْ بِضْعِ سِنِيْنَ ۗ لِلّـٰهِ الْاَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْ بَعْدُ ۚ وَيَوْمَئِذٍ يَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُـوْنَ (4)
چند ہی سال میں، پہلے اور پچھلے سب کام اللہ کے ہاتھ میں ہیں، اور اس دن مسلمان خوش ہوں گے۔
بِنَصْرِ اللّـٰهِ ۚ يَنْصُرُ مَنْ يَّشَآءُ ۖ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الرَّحِـيْمُ (5)
اللہ کی مدد سے، مدد کرتا ہے جس کی چاہتا ہے، اور وہ غالب رحم والا ہے۔
وَعْدَ اللّـٰهِ ۖ لَا يُخْلِفُ اللّـٰهُ وَعْدَهٝ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ (6)
اللہ کا وعدہ ہو چکا، اللہ اپنے وعدہ کا خلاف نہیں کرے گا لیکن اکثر آدمی نہیں جانتے۔
يَعْلَمُوْنَ ظَاهِرًا مِّنَ الْحَيَاةِ الـدُّنْيَا وَهُـمْ عَنِ الْاٰخِرَةِ هُـمْ غَافِلُوْنَ (7)
دنیا کی زندگی کی ظاہر باتیں جانتے ہیں اور وہ آخرت سے غافل ہی ہیں۔
اَوَلَمْ يَتَفَكَّـرُوْا فِىٓ اَنْفُسِهِـمْ ۗ مَّا خَلَقَ اللّـٰهُ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَيْنَـهُمَآ اِلَّا بِالْحَقِّ وَاَجَلٍ مُّسَمًّى ۗ وَاِنَّ كَثِيْـرًا مِّنَ النَّاسِ بِلِقَآءِ رَبِّـهِـمْ لَكَافِرُوْنَ (8)
کیا وہ اپنے دل میں خیال نہیں کرتے، کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے عمدگی سے اور وقت مقرر تک کے لیے بنایا ہے، اور بے شک بہت سے لوگ اپنے رب سے ملنے کے منکر ہیں۔
اَوَلَمْ يَسِيْـرُوْا فِى الْاَرْضِ فَيَنْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّـذِيْنَ مِنْ قَبْلِـهِـمْ ۚ كَانُـوٓا اَشَدَّ مِنْـهُـمْ قُوَّةً وَّّاَثَارُوا الْاَرْضَ وَعَمَرُوْهَآ اَكْثَرَ مِمَّا عَمَرُوْهَا وَجَآءَتْهُـمْ رُسُلُـهُـمْ بِالْبَيِّنَاتِ ۖ فَمَا كَانَ اللّـٰهُ لِيَظْلِمَهُـمْ وَلٰكِنْ كَانُـوٓا اَنْفُسَهُـمْ يَظْلِمُوْنَ (9)
کیا انہوں نے ملک میں پھر کر نہیں دیکھا کہ ان سے پہلوں کا کیسا انجام ہوا، وہ ان سے بھی بڑھ کر قوت والے تھے اور انہوں نے زمین کو جوتا تھا اور ان لوگوں سے بہت زیادہ آباد کیا تھا اور ان کے پاس ان کے رسول معجزات لے کر بھی آئے تھے، پھر اللہ ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا بلکہ وہی اپنے نفسوں پر ظلم کرتے تھے۔
ثُـمَّ كَانَ عَاقِبَةَ الَّـذِيْنَ اَسَآءُوا السُّوٓاٰىٓ اَنْ كَذَّبُوْا بِاٰيَاتِ اللّـٰهِ وَكَانُـوْا بِـهَا يَسْتَهْزِئُـوْنَ (10)
پھر برا کرنے والوں کا انجام بھی برا ہی ہوا اس لیے کہ انہوں نے اللہ کی آیتوں کو جھٹلایا اور ان کی ہنسی اڑاتے رہے۔
اَللَّـهُ يَبْدَاُ الْخَلْقَ ثُـمَّ يُعِيْدُهٝ ثُـمَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ (11)
اللہ ہی مخلوق کو پہلی بار پیدا کرتا ہے پھر وہ اسے دوبارہ پیدا کرے گا پھر اس کے پاس لوٹ کر آؤ گے۔
وَيَوْمَ تَـقُومُ السَّاعَةُ يُبْلِسُ الْمُجْرِمُوْنَ (12)
اور جس دن قیامت قائم ہوگی گناہگار نا امید ہو جائیں گے۔
وَلَمْ يَكُنْ لَّـهُـمْ مِّنْ شُرَكَـآئِهِـمْ شُفَعَآءُ وَكَانُـوْا بِشُرَكَـآئِهِـمْ كَافِـرِيْنَ (13)
اور ان کے معبودوں میں سے کوئی ان کی سفارش کرنے والا نہ ہوگا اور اپنے معبودوں سے منکر ہو جائیں گے۔
وَيَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ يَوْمَئِذٍ يَّتَفَرَّقُوْنَ (14)
اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن لوگ جدا جدا ہوجائیں گے۔
فَاَمَّا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فَـهُـمْ فِىْ رَوْضَةٍ يُّحْبَـرُوْنَ (15)
پھر جو ایما ن لائے اور نیک کام کیے سو وہ بہشت میں خوش حال ہوں گے۔
وَاَمَّا الَّـذِيْنَ كَفَرُوْا وَكَذَّبُوْا بِاٰيَاتِنَا وَلِقَآءِ الْاٰخِرَةِ فَاُولٰٓئِكَ فِى الْعَذَابِ مُحْضَرُوْنَ (16)
اور جنہوں نے انکار کیا اور ہماری آیتوں اور آخرت کے آنے کو جھٹلایا وہ عذاب میں ڈالے جائیں گے۔
فَسُبْحَانَ اللّـٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ (17)
پھر اللہ کی تسبیح کرو جب تم شام کرو اور جب تم صبح کرو۔
وَلَـهُ الْحَـمْدُ فِى السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ وَعَشِيًّا وَّحِيْنَ تُظْهِرُوْنَ (18)
اور آسمانوں اور زمین میں اسی کی تعریف ہے اور پچھلے پہر بھی اور جب دوپہر ہو۔
يُخْرِجُ الْحَىَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَيُحْىِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِـهَا ۚ وَكَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ (19)
زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے اور زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کرتا ہے، اور اسی طرح تم نکالے جاؤ گے۔
وَمِنْ اٰيَاتِهٓ ٖ اَنْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُـمَّ اِذَآ اَنْتُـمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ (20)
اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ تمہیں مٹی سے بنایا پھر تم انسان بن کر پھیل رہے ہو۔
وَمِنْ اٰيَاتِهٓ ٖ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُـوٓا اِلَيْـهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّّرَحْـمَةً ۚ اِنَّ فِىْ ذٰلِكَ لَاٰيَاتٍ لِّـقَوْمٍ يَّتَفَكَّـرُوْنَ (21)
اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ تمہارے لیے تمہیں میں سے بیویاں پیدا کیں تاکہ ان کے پاس چین سے رہو اور تمہارے درمیان محبت اور مہربانی پیدا کر دی، جو لوگ غور کرتے ہیں ان کے لیے اس میں نشانیاں ہیں۔
وَمِنْ اٰيَاتِهٖ خَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافُ اَلْسِنَتِكُمْ وَاَلْوَانِكُمْ ۚ اِنَّ فِىْ ذٰلِكَ لَاٰيَاتٍ لِّلْعَالِمِيْنَ (22)
اور اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا اور تمہاری زبانوں اور رنگتوں کا مختلف ہونا ہے، بے شک اس میں علم والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔
وَمِنْ اٰيَاتِهٖ مَنَامُكُمْ بِاللَّيْلِ وَالنَّـهَارِ وَابْتِغَآؤُكُمْ مِّنْ فَضْلِـهٖ ۚ اِنَّ فِىْ ذٰلِكَ لَاٰيَاتٍ لِّـقَوْمٍ يَسْـمَعُوْنَ (23)
اور اس کی نشانیوں میں سے تمہارا رات اور دن میں سونا اور اس کے فضل کا تلاش کرنا ہے، بے شک اس میں سننے والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔
وَمِنْ اٰيَاتِهٖ يُرِيْكُمُ الْبَـرْقَ خَوْفًا وَّطَمَعًا وَّيُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَيُحْيِىْ بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِـهَا ۚ اِنَّ فِىْ ذٰلِكَ لَاٰيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ (24)
اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ تمہیں خوف اور امید دلانے کو بجلی دکھاتا ہے اور اوپر سے پانی برساتا ہے پھراس سے زمین خشک ہو جانے کے بعد زندہ کرتا ہے، بے شک اس میں عقلمندوں کے لیے نشانیاں ہیں۔
وَمِنْ اٰيَاتِهٓ ٖ اَنْ تَقُوْمَ السَّمَآءُ وَالْاَرْضُ بِاَمْرِهٖ ۚ ثُـمَّ اِذَا دَعَاكُمْ دَعْوَةً مِّنَ الْاَرْضِ اِذَآ اَنْتُـمْ تَخْرُجُوْنَ (25)
اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ آسمان اور زمین اس کے حکم سے قائم ہیں، پھر جب تمہیں پکار کر زمین میں سے بلائے گا اسی وقت تم نکل آؤ گے۔
وَلَـهٝ مَنْ فِى السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ ۖ كُلٌّ لَّـهٝ قَانِتُوْنَ (26)
اور اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، سب اس کے حکم کے تابع ہیں۔
وَهُوَ الَّـذِىْ يَبْدَاُ الْخَلْقَ ثُـمَّ يُعِيْدُهٝ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ ۚ وَلَـهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِى السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ ۚ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِـيْمُ (27)
اور وہی ہے جو پہلی بار بناتا ہے پھر اسے لوٹائے گا اور وہ اس پر آسان ہے، اور آسمانوں اور زمین میں اس کی شان نہایت بلند ہے، اور وہ غالب حکمت والا ہے۔
ضَرَبَ لَكُمْ مَّثَلًا مِّنْ اَنْفُسِكُمْ ۖ هَلْ لَّكُمْ مِّنْ مَّا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ مِّنْ شُرَكَـآءَ فِىْ مَا رَزَقْنَاكُمْ فَاَنْتُـمْ فِيْهِ سَوَآءٌ تَخَافُوْنَـهُـمْ كَخِيْفَتِكُمْ اَنْفُسَكُمْ ۚ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰيَاتِ لِقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ (28)
وہ تمہارے لیے تمہارے ہی حال کی ایک مثال بیان فرماتا ہے، کیا جن کے تم مالک ہو وہ اس میں تمہارے شریک ہیں جو ہم نے تمہیں دیا ہے کہ پھر اس میں تم برابر ہو، تم ان سے اس طرح ڈرتے (فکرمند) ہو جس طرح اپنوں سے ڈرتے (فکرمند) ہو، اس طرح ہم عقل والوں کے لیے آیتیں کھول کر بیان کرتے ہیں۔
بَلِ اتَّبَعَ الَّـذِيْنَ ظَلَمُوٓا اَهْوَآءَهُـمْ بِغَيْـرِ عِلْمٍ ۖ فَمَنْ يَّهْدِىْ مَنْ اَضَلَّ اللّـٰهُ ۖ وَمَا لَـهُـمْ مِّنْ نَّاصِرِيْنَ (29)
بلکہ یہ بے انصاف بے سمجھے اپنی خوہشوں پر چلتے ہیں، پھر کون ہدایت کر سکتا ہے جسے اللہ نے گمراہ کر دیا اور ان کا کوئی بھی مددگار نہیں۔
فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّيْنِ حَنِيْفًا ۚ فِطْرَتَ اللّـٰهِ الَّتِىْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْـهَا ۚ لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللّـٰهِ ۚ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْقَـيِّـمُ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ (30)
سو تو ایک طرف کا ہو کر دین پرسیدھا منہ کیے چلا جا، اللہ کی دی ہوئی قابلیت پر جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے، اللہ کی بناوٹ میں ردو بدل نہیں، یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر آدمی نہیں جانتے۔
مُنِيْبِيْنَ اِلَيْهِ وَاتَّقُوْهُ وَاَقِيْمُوا الصَّلَاةَ وَلَا تَكُـوْنُـوْا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ (31)
اسی کی طرف رجوع کیے رہو اور اس سے ڈرو اور نماز قائم کرو اور مشرکوں میں سے نہ ہوجاؤ۔
مِنَ الَّـذِيْنَ فَرَّقُوْا دِيْنَـهُـمْ وَكَانُـوْا شِيَعًا ۖ كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَـدَيْهِـمْ فَرِحُوْنَ (32)
جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور کئی فرقے ہو گئے، سب فرقے اسی سے خوش ہیں جو ان کے پا س ہے۔
وَاِذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ دَعَوْا رَبَّـهُـمْ مُّنِيْبِيْنَ اِلَيْهِ ثُـمَّ اِذَآ اَذَاقَـهُـمْ مِّنْهُ رَحْـمَةً اِذَا فَرِيْقٌ مِّنْـهُـمْ بِرَبِّهِـمْ يُشْرِكُـوْنَ (33)
اور لوگوں کو جب کوئی دکھ پہنچتا ہے تو اپنے رب کی طرف رجوع ہو کر اسے پکارتے ہیں پھر جب وہ انہیں اپنی رحمت کا مزہ چکھاتا ہے توایک گروہ ان میں سے اپنے رب سے شرک کرنے لگتا ہے۔
لِيَكْـفُرُوْا بِمَآ اٰتَيْنَاهُـمْ ۚ فَـتَمَتَّعُوْا فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ (34)
تاکہ جو ہم نے انہیں دیا ہے اس کی ناشکری کریں، سو فائدہ اٹھا لو عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا۔
اَمْ اَنْزَلْنَا عَلَيْـهِـمْ سُلْطَانًا فَهُوَ يَتَكَلَّمُ بِمَا كَانُـوْا بِهٖ يُشْرِكُـوْنَ (35)
کیا ہم نے ان کے لیے کوئی سند بھیجی ہے کہ وہ انہیں شرک کرنا بتا رہی ہے۔
وَاِذَآ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْـمَةً فَرِحُوْا بِـهَا ۖ وَاِنْ تُصِبْهُـمْ سَيِّئَةٌ بِمَا قَدَّمَتْ اَيْدِيْهِـمْ اِذَا هُـمْ يَقْنَطُوْنَ (36)
اور جب ہم لوگوں کو رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو اس پر خوش ہوجاتے ہیں، اور اگر انہیں ان کے گذشتہ اعمال کے سبب سے دکھ پہنچتا ہے تو فورً‌ا نا امید ہو جاتے ہیں۔
اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّـٰهَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَآءُ وَيَقْدِرُ ۚ اِنَّ فِىْ ذٰلِكَ لَاٰيَاتٍ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُـوْنَ (37)
کیا وہ نہیں دیکھتے کہ اللہ جس کے لیے چاہتا ہے رزق کشادہ کرتا ہے اور تنگ کرتا ہے، بے شک اس میں ایمان لانے والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔
فَـاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٝ وَالْمِسْكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ ۚ ذٰلِكَ خَيْـرٌ لِّلَّـذِيْنَ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَ اللّـٰهِ ۖ وَاُولٰٓئِكَ هُـمُ الْمُفْلِحُوْنَ (38)
پھر رشتہ دار اور محتاج اور مسافر کو اس کا حق دے، یہ بہتر ہے ان کے لیے جو اللہ کی رضا چاہتے ہیں اور وہی نجات پانے والے ہیں۔
وَمَآ اٰتَيْتُـمْ مِّنْ رِّبًا لِّيَـرْبُوَ فِىٓ اَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا يَرْبُوْا عِنْدَ اللّـٰهِ ۖ وَمَا اٰتَيْتُـمْ مِّنْ زَكَاةٍ تُرِيْدُوْنَ وَجْهَ اللّـٰهِ فَاُولٰٓئِكَ هُـمُ الْمُضْعِفُوْنَ (39)
اور جو سود پر تم دیتے ہو تاکہ لوگوں کے مال میں بڑھتا رہے سو اللہ کے ہاں وہ نہیں بڑھتا، اور جو زکوٰۃ دیتے ہو جس سے اللہ کی رضا چاہتے ہو سو یہ وہ ہی لوگ ہیں جن کے دونے ہوئے۔
اَللَّـهُ الَّـذِىْ خَلَقَكُمْ ثُـمَّ رَزَقَكُمْ ثُـمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُـمَّ يُحْيِيْكُمْ ۖ هَلْ مِنْ شُرَكَـآئِكُمْ مَّنْ يَّفْعَلُ مِنْ ذٰلِكُمْ مِّنْ شَىْءٍ ۚ سُبْحَانَهٝ وَتَعَالٰى عَمَّا يُشْرِكُـوْنَ (40)
اللہ وہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا پھر تمہیں روزی دی پھر تمہیں مارے گا پھر تمہیں زندہ کرے گا، کیا تمہارے معبودوں میں سے کبھی کوئی ایسا ہے جو ان کاموں میں سے کچھ بھی کر سکے، وہ پاک ہے اور ان کے شریکوں سے بلند ہے۔
ظَهَرَ الْفَسَادُ فِى الْبَـرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَيْدِى النَّاسِ لِيُذِيْقَهُـمْ بَعْضَ الَّـذِىْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُـمْ يَرْجِعُوْنَ (41)
خشکی اور تری میں لوگوں کے اعمال کے سبب سے فساد پھیل گیا ہے تاکہ اللہ انہیں ان کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے تاکہ وہ باز آجائیں۔
قُلْ سِيْـرُوْا فِى الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّـذِيْنَ مِنْ قَبْلُ ۚ كَانَ اَكْثَرُهُـمْ مُّشْرِكِيْنَ (42)
کہہ دو ملک میں چلو پھرو اور دیکھو جو لوگ پہلے گزرے ہیں ان کا کیسا انجام ہوا، ان میں سے اکثر مشرک ہی تھے۔
فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلـدِّيْنِ الْقَيِّـمِ مِنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِـىَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَـهٝ مِنَ اللّـٰهِ ۖ يَوْمَئِذٍ يَّصَّدَّعُوْنَ (43)
سو تو اپنا منہ سیدھی راہ پرسیدھا رکھ اس سے پہلے کہ وہ دن آ پہنچے جسے اللہ کی طرف سے پھرنا نہیں، اس دن لوگ جدا جدا ہوں گے۔
مَنْ كَفَرَ فَعَلَيْهِ كُفْرُهٝ ۖ وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِاَنْفُسِهِـمْ يَمْهَدُوْنَ (44)
جس نے کفر کیا سو اس کے کفر کا وبال اسی پر ہے، اور جس نے اچھے کام کیے تو وہ اپنے لیے سامان کر رہے ہیں۔
لِيَجْزِىَ الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْ فَضْلِـهٖ ۚ اِنَّهٝ لَا يُحِبُّ الْكَافِـرِيْنَ (45)
تاکہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے اللہ انہیں اپنے فضل سے بدلہ دے، بے شک اللہ ناشکروں کو پسند نہیں کرتا۔
وَمِنْ اٰيَاتِهٓ ٖ اَنْ يُّرْسِلَ الرِّيَاحَ مُبَشِّرَاتٍ وَّّلِيُذِيْقَكُمْ مِّنْ رَّحْـمَتِهٖ وَلِتَجْرِىَ الْفُلْكُ بِاَمْرِهٖ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِـهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُـرُوْنَ (46)
اور اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ خوشخبری لانے والی ہوائیں چلاتا ہے اور تاکہ تمہیں اپنی مہربانی کا کچھ مزہ چکھا دیں اور تاکہ کشتیاں اس کے حکم سے چلیں اور تاکہ اس کے فضل سے تلاش کرو اور تاکہ تم شکر کرو۔
وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ رُسُلًا اِلٰى قَوْمِهِـمْ فَجَآءُوْهُـمْ بِالْبَيِّنَاتِ فَانْتَقَمْنَا مِنَ الَّـذِيْنَ اَجْرَمُوْا ۖ وَكَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِيْنَ (47)
اور ہم تم سے پہلے کتنے رسول اپنی اپنی قوم کے پاس بھیج چکے ہیں سو ان کے پاس نشانیاں لے کر آئے پھر ہم نے ان سے بدلہ لیا جو گناہگار تھے، اور مومنوں کی مدد ہم پر لازم تھی۔
اَللَّـهُ الَّـذِىْ يُـرْسِلُ الرِّيَاحَ فَتُثِيْـرُ سَحَابًا فَيَبْسُطُهٝ فِى السَّمَآءِ كَيْفَ يَشَآءُ وَيَجْعَلُـهٝ كِسَفًا فَتَـرَى الْوَدْقَ يَخْرُجُ مِنْ خِلَالِـهٖ ۖ فَاِذَآ اَصَابَ بِهٖ مَنْ يَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٓ ٖ اِذَا هُـمْ يَسْتَبْشِرُوْنَ (48)
اللہ وہ ہے جو ہوائیں چلاتا ہے پھر وہ بادل کو اٹھاتی ہیں پھر اسے آسمان میں جس طرح چاہے پھیلا دیتا ہے اور اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے پھر تو مینہ کو دیکھے گا کہ اس کے اندر سے نکلتا ہے، پھر جب اسے اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے پہنچاتا ہے تو وہ خوش ہو جاتے ہیں۔
وَاِنْ كَانُـوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ يُّنَزَّلَ عَلَيْـهِـمْ مِّنْ قَبْلِـهٖ لَمُبْلِسِيْنَ (49)
اور اگرچہ ان پر برسنے سے پہلے وہ نا امید تھے۔
فَانْظُرْ اِلٰٓى اٰثَارِ رَحْـمَتِ اللّـٰهِ كَيْفَ يُحْىِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِـهَا ۚ اِنَّ ذٰلِكَ لَمُحْىِ الْمَوْتٰى ۖ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْرٌ (50)
پھر تو اللہ کی رحمت کی نشانیوں کو دیکھ کہ زمین کو خشک ہونے کے بعد کس طرح سر سبز کرتا ہے، بے شک وہی مردوں کو پھر زندہ کرنے والا ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
وَلَئِنْ اَرْسَلْنَا رِيْحًا فَرَاَوْهُ مُصْفَرًّا لَّظَلُّوْا مِنْ بَعْدِهٖ يَكْـفُرُوْنَ (51)
اور اگر ہم ایسی ہوا چلائیں کہ جس سے وہ کھیتی کو زرد دیکھیں تو اس کے بعد وہ ناشکری کرنے لگ جائیں۔
فَاِنَّكَ لَا تُسْمِـعُ الْمَوْتٰى وَلَا تُسْمِـعُ الصُّمَّ الـدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِـرِيْنَ (52)
بے شک تو مردوں کو نہیں سنا سکتا اور نہ بہروں کو آواز سنا سکتا ہے جب وہ پیٹھ پھیر کر پھر جائیں۔
وَمَآ اَنْتَ بِـهَادِ الْعُمْىِ عَنْ ضَلَالَتِـهِـمْ ۖ اِنْ تُسْمِـعُ اِلَّا مَنْ يُّؤْمِنُ بِاٰيَاتِنَا فَهُـمْ مُّسْلِمُوْنَ (53)
اور تم اندھوں کو ان کے الٹے راستے سے سیدھے راستہ پر نہیں لا سکتے، تم تو بس انہیں لوگوں کو سنا سکتے ہو جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں سو وہی ماننے والے ہیں۔
اَللَّـهُ الَّـذِىْ خَلَقَكُمْ مِّنْ ضَعْفٍ ثُـمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ ضَعْفٍ قُوَّةً ثُـمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ قُوَّةٍ ضَعْفًا وَّشَيْبَةً ۚ يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ ۖ وَهُوَ الْعَلِيْـمُ الْقَدِيْـرُ (54)
اللہ ہی ہے جس نے تمہیں کمزوری کی حالت میں پیدا کیا پھر کمزوری کے بعد قوت عطا کی پھر قوت کے بعد ضعف اور بڑھاپا بنایا، جو چاہتاہے پیدا کرتا ہے، اور وہی جاننے والا قدرت والا ہے۔
وَيَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ يُقْسِمُ الْمُجْرِمُوْنَ مَا لَبِثُوْا غَيْـرَ سَاعَةٍ ۚ كَذٰلِكَ كَانُـوْا يُؤْفَكُـوْنَ (55)
اور جس دن قیامت قائم ہوگی گناہگار قسمیں کھائیں گے کہ ہم ایک گھڑی سے بھی زیادہ نہیں ٹھہرے تھے، اسی طرح وہ الٹے جاتے تھے۔
وَقَالَ الَّـذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَالْاِيْمَانَ لَقَدْ لَبِثْتُـمْ فِىْ كِتَابِ اللّـٰهِ اِلٰى يَوْمِ الْبَعْثِ ۖ فَهٰذَا يَوْمُ الْبَعْثِ وَلٰكِنَّكُمْ كُنْتُـمْ لَا تَعْلَمُوْنَ (56)
اور جن لوگوں کو علم اور ایمان دیا گیا تھا کہیں گے کہ اللہ کی کتاب کے مطابق تم قیامت تک رہے ہو، سو یہ قیامت کا ہی دن ہے لیکن تمہیں اس کا یقین ہی نہ تھا۔
فَيَوْمَئِذٍ لَّا يَنْفَعُ الَّـذِيْنَ ظَلَمُوْا مَعْذِرَتُهُـمْ وَلَا هُـمْ يُسْتَعْتَبُوْنَ (57)
تو اس دن ظالموں کو ان کا عذر کچھ فائدہ نہ دے گا اور نہ ان سے توبہ قبول کی جائے گی۔
وَلَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِىْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ ۚ وَلَئِنْ جِئْتَـهُـمْ بِاٰيَةٍ لَّيَقُوْلَنَّ الَّـذِيْنَ كَفَرُوٓا اِنْ اَنْتُـمْ اِلَّا مُبْطِلُوْنَ (58)
اور ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر طرح کی مثال بیان کر دی ہے، اور اگر تم ان کے سامنے کوئی نشانی پیش کرو تو کافر یہ کہہ دیں گے کہ تم تو جھوٹے ہو۔
كَذٰلِكَ يَطْبَعُ اللّـٰهُ عَلٰى قُلُوْبِ الَّـذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ (59)
جو لوگ یقین نہیں کرتے اللہ ان کے دلوں پر یونہی مہر کر دیتا ہے۔
فَاصْبِـرْ اِنَّ وَعْدَ اللّـٰهِ حَقٌّ وَّلَا يَسْتَخِفَّنَّكَ الَّـذِيْنَ لَا يُوْقِنُـوْنَ (60)
سو تو صبر کر بے شک اللہ کا وعدہ سچا ہے اور جو لوگ یقین نہیں رکھتے وہ تجھے بے برداشت نہ بنا دیں۔