قرآن حکیم            

مکمل سورت
سورت نمبر
آیت نمبر
ایک آیت
(28) سورۃ القصص (مکی، آیات 88)
بِسْمِ اللّـٰهِ الرَّحْـمٰنِ الرَّحِيْـمِ
ٰطسٓمٓ (1)
ط س مۤ۔
تِلْكَ اٰيَاتُ الْكِتَابِ الْمُبِيْنِ (2)
یہ روشن کتاب کی آیتیں ہیں۔
نَتْلُوْا عَلَيْكَ مِنْ نَّبَاِ مُوْسٰى وَفِرْعَوْنَ بِالْحَقِّ لِقَوْمٍ يُّؤْمِنُـوْنَ (3)
ہم تجھے ایمان داروں کے فائدے کے لیے موسٰی اور فرعون کا کچھ صحیح حال سناتے ہیں۔
اِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِى الْاَرْضِ وَجَعَلَ اَهْلَـهَا شِيَعًا يَّسْتَضْعِفُ طَـآئِفَةً مِّنْـهُـمْ يُذَبِّـحُ اَبْنَآءَهُـمْ وَيَسْتَحْيِىْ نِسَآءَهُـمْ ۚ اِنَّهٝ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِيْنَ (4)
بے شک فرعون زمین پر سرکش ہو گیا تھا اور وہاں کے لوگوں کے کئی گروہ کر دیے تھے ان میں سے ایک گروہ کو کمزور کر رکھا تھا ان کے لڑکوں کو قتل کرتا تھا اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رکھتا تھا، بے شک وہ مفسدوں میں سے تھا۔
وَنُرِيْدُ اَنْ نَّمُنَّ عَلَى الَّـذِيْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِى الْاَرْضِ وَنَجْعَلَـهُـمْ اَئِمَّةً وَّّنَجْعَلَـهُـمُ الْوَارِثِيْنَ (5)
اور ہم چاہتے تھے کہ ان پر احسان کریں جو ملک میں کمزور کیے گئے تھے اور انہیں سردار بنا دیں اور انہیں وارث کریں۔
وَنُمَكِّنَ لَـهُـمْ فِى الْاَرْضِ وَنُرِىَ فِرْعَوْنَ وَهَامَانَ وَجُنُـوْدَهُمَا مِنْـهُـمْ مَّا كَانُـوْا يَحْذَرُوْنَ (6)
اور انہیں ملک پر قابض کریں اور فرعون اور ہامان اور ان کے لشکروں کو وہ چیز دکھا دیں جس کا وہ خطرہ کرتے تھے۔
وَاَوْحَيْنَـآ اِلٰٓى اُمِّ مُوْسٰٓى اَنْ اَرْضِعِيْهِ ۖ فَاِذَا خِفْتِ عَلَيْهِ فَاَلْقِيْهِ فِى الْيَـمِّ وَلَا تَخَافِىْ وَلَا تَحْزَنِىْ ۖ اِنَّا رَآدُّوْهُ اِلَيْكِ وَجَاعِلُوْهُ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ (7)
اور ہم نے موسٰی کی ماں کو حکم بھیجا کہ اسے دودھ پلا، پھر جب تجھے اس کا خوف ہو تو اسے دریا میں ڈال دے اور کچھ خوف اور غم نہ کر، بے شک ہم اسے تیرے پاس واپس پہنچا دیں گے اور اسے رسولوں میں سے بنانے والے ہیں۔
فَالْتَقَطَهٝٓ اٰلُ فِرْعَوْنَ لِيَكُـوْنَ لَـهُـمْ عَدُوًّا وَّحَزَنًا ۗ اِنَّ فِرْعَوْنَ وَهَامَانَ وَجُنُـوْدَهُمَا كَانُـوْا خَاطِئِيْنَ (8)
پھر اسے فرعون کے گھر والوں نے اٹھا لیا تاکہ بالآخر وہ ان کا دشمن اور غم کا باعث بنے، بے شک فرعون اور ہامان اور ان کے لشکر خطا کار تھے۔
وَقَالَتِ امْرَاَتُ فِرْعَوْنَ قُرَّتُ عَيْنٍ لِّـىْ وَلَكَ ۖ لَا تَقْتُلُوْهُۖ عَسٰٓى اَنْ يَّنْفَعَنَـآ اَوْ نَتَّخِذَهٝ وَلَـدًا وَّهُـمْ لَا يَشْعُرُوْنَ (9)
اور فرعون کی عورت نے کہا یہ تو میرے اور تیرے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، اسے قتل نہ کرو، شاید ہمارے کام آئے یا ہم اسے بیٹا بنالیں، اور انہیں کچھ خبر نہ تھی۔
وَاَصْبَحَ فُـؤَادُ اُمِّ مُوْسٰى فَارِغًا ۖ اِنْ كَادَتْ لَتُـبْدِىْ بِهٖ لَوْلَآ اَنْ رَّبَطْنَا عَلٰى قَلْبِـهَا لِتَكُـوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ (10)
اور صبح کو موسٰی کی ماں کا دل بے قرار ہوگیا، قریب تھی کہ بے قراری ظاہر کر دے اگر ہم اس کے دل کو صبر نہ دیتے تاکہ اسے ہمارے وعدے کا یقین رہے۔
وَقَالَتْ لِاُخْتِهٖ قُصِّيْهِ ۖ فَبَصُرَتْ بِهٖ عَنْ جُنُبٍ وَّهُـمْ لَا يَشْعُرُوْنَ (11)
اور اس کی بہن سے کہا اس کے پیچھے چلی جا، پھر اسے اجنبی ہو کر دیکھتی رہی اور انہیں خبر نہ ہوئی۔
وَحَرَّمْنَا عَلَيْهِ الْمَرَاضِعَ مِنْ قَبْلُ فَقَالَتْ هَلْ اَدُلُّـكُمْ عَلٰٓى اَهْلِ بَيْتٍ يَّكْـفُلُوْنَهٝ لَكُمْ وَهُـمْ لَـهٝ نَاصِحُوْنَ (12)
اور ہم نے پہلے سے اس پر دائیوں کا دودھ حرام کر دیا تھا، پھر بولی میں تمہیں ایسے گھر والے بتاؤں جو اس کی تمہارے لیے پرورش کریں اور وہ اس کے خیر خواہ ہوں۔
فَرَدَدْنَاهُ اِلٰٓى اُمِّهٖ كَىْ تَقَرَّ عَيْنُهَا وَلَا تَحْزَنَ وَلِتَعْلَمَ اَنَّ وَعْدَ اللّـٰهِ حَقٌّ وَّلٰكِنَّ اَكْثَرَهُـمْ لَا يَعْلَمُوْنَ (13)
پھر ہم نے اسے اس کی ماں کے پاس پہنچا دیا تاکہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور غمگین نہ ہو اور جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے لیکن اکثر آدمی نہیں جانتے۔
وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٝ وَاسْتَوٰٓى اٰتَيْنَاهُ حُكْمًا وَّعِلْمًا ۚ وَكَذٰلِكَ نَجْزِى الْمُحْسِنِيْنَ (14)
اور جب اپنی جوانی کو پہنچا اور پورا توانا ہوا تو ہم نے اسے حکمت اور علم دیا، اور ہم نیکوں کو اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں۔
وَدَخَلَ الْمَدِيْنَةَ عَلٰى حِيْنِ غَفْلَـةٍ مِّنْ اَهْلِهَا فَوَجَدَ فِيْـهَا رَجُلَيْنِ يَقْتَتِلَانِۖ هٰذَا مِنْ شِيْعَتِهٖ وَهٰذَا مِنْ عَدُوِّهٖ ۖ فَاسْتَغَاثَهُ الَّـذِىْ مِنْ شِيْعَتِهٖ عَلَى الَّـذِىْ مِنْ عَدُوِّهٖۙ فَوَكَزَهٝ مُوْسٰى فَقَضٰى عَلَيْهِ ۖ قَالَ هٰذَا مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ ۖ اِنَّهٝ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِيْنٌ (15)
اور شہر میں لوگوں کی بے خبری کے وقت داخل ہوا پھر وہاں دو شخصوں کو لڑتے ہوئے پایا، یہ ایک اس کی جماعت کا تھا اور یہ دوسرا اس کے دشمنوں میں سے تھا، پھر اس نے جو اس کی جماعت کا تھا اپنے دشمن پر اس سے مدد چاہی، تب موسٰی نے اس پر مکا مارا پس اس کا کام تمام کر دیا، کہا یہ تو شیطانی حرکت ہے، بے شک وہ کھلا دشمن اور گمراہ کرنے والا ہے۔
قَالَ رَبِّ اِنِّىْ ظَلَمْتُ نَفْسِىْ فَاغْفِرْ لِـىْ فَغَفَرَ لَـهٝ ۚ اِنَّهٝ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْـمُ (16)
کہا اے میرے رب! بے شک میں نے اپنی جان پر ظلم کیا سو مجھے بخش دے پھر اسے بخش دیا، بے شک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔
قَالَ رَبِّ بِمَآ اَنْعَمْتَ عَلَـىَّ فَلَنْ اَكُـوْنَ ظَهِيْـرًا لِّلْمُجْرِمِيْنَ (17)
کہا اے میرے رب! جیسا تو نے مجھ پر فضل کیا ہے پھر میں گناہگاروں کا کبھی مددگار نہیں ہوں گا۔
فَاَصْبَحَ فِى الْمَدِيْنَةِ خَآئِفًا يَّتَـرَقَّبُ فَاِذَا الَّـذِى اسْتَنْصَرَهٝ بِالْاَمْسِ يَسْتَصْرِخُهٝ ۚ قَالَ لَـهٝ مُوْسٰٓى اِنَّكَ لَغَوِىٌّ مُّبِيْنٌ (18)
پھر شہر میں ڈرتا انتظار کرتا ہوا صبح کو گیا پھر وہی شخص جس نے کل اس سے مدد مانگی تھی اسے پکار رہا ہے، موسٰی نے اس سے کہا کہ بے شک تو صریح گمراہ ہے۔
فَلَمَّآ اَنْ اَرَادَ اَنْ يَّبْطِشَ بِالَّـذِىْ هُوَ عَدُوٌّ لَّـهُمَاۙ قَالَ يَا مُوْسٰٓى اَتُرِيْدُ اَنْ تَقْتُلَنِىْ كَمَا قَتَلْتَ نَفْسًا بِالْاَمْسِ ۖ اِنْ تُرِيْدُ اِلَّآ اَنْ تَكُـوْنَ جَبَّارًا فِى الْاَرْضِ وَمَا تُرِيْدُ اَنْ تَكُـوْنَ مِنَ الْمُصْلِحِيْنَ (19)
پھر جب ارادہ کیا کہ اس پر ہاتھ ڈالے جو ان دونوں کا دشمن تھا، کہا اے موسٰی ! کیا تو چاہتا ہے کہ مجھے مار ڈالے جیسا تو نے کل ایک آدمی کو مار ڈالا ہے، تو یہی چاہتا ہے کہ ملک میں زبردستی کرتا پھرے اور تو نہیں چاہتا کہ اصلاح کرنے والوں میں سے ہو۔
وَجَآءَ رَجُلٌ مِّنْ اَقْصَى الْمَدِيْنَةِ يَسْعٰىۖ قَالَ يَا مُوْسٰٓى اِنَّ الْمَلَاَ يَاْتَمِرُوْنَ بِكَ لِيَقْتُلُوْكَ فَاخْرُجْ اِنِّىْ لَكَ مِنَ النَّاصِحِيْنَ (20)
اور شہر کے پرلے سرے سے ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا، کہا اے موسٰی! دریا والے تیرے متعلق مشورہ کرتے ہیں کہ تجھ کو مار ڈالیں سو نکل بے شک میں تیرا بھلا چاہنے والا ہوں۔
فَخَرَجَ مِنْـهَا خَآئِفًا يَّتَـرَقَّبُ ۖ قَالَ رَبِّ نَجِّنِىْ مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِيْنَ (21)
پھر وہاں سے ڈرتا انتظار کرتا ہوا نکلا، کہا اے میرے رب! مجھے ظالم قوم سے بچا لے۔
وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلْقَـآءَ مَدْيَنَ قَالَ عَسٰى رَبِّىٓ اَنْ يَّهْدِيَنِىْ سَوَآءَ السَّبِيْلِ (22)
اور جب مدین کی طرف رخ کیا تو کہا امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھا راستہ بتا دے گا۔
وَلَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدْيَنَ وَجَدَ عَلَيْهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ يَسْقُوْنَۖ وَوَجَدَ مِنْ دُوْنِهِـمُ امْرَاَتَيْنِ تَذُوْدَانِ ۖ قَالَ مَا خَطْبُكُمَا ۖ قَالَتَا لَا نَسْقِىْ حَتّــٰى يُصْدِرَ الرِّعَآءُ ۖ وَاَبُوْنَا شَيْخٌ كَبِيْـرٌ (23)
اور جب مدین کے پانی پر پہنچا وہاں لوگوں کی ایک جماعت کو پانی پلاتے ہوئے پایا، اور ان سے ورے دو عورتوں کو پایا جو اپنے جانور روکے ہوئے کھڑی تھیں، کہا تمہارا کیا حال ہے، بولیں جب تک چرواہے نہیں ہٹ جاتے ہم نہیں پلاتیں، اور ہمارا باپ بوڑھا بڑی عمر کا ہے۔
فَسَقٰى لَـهُمَا ثُـمَّ تَوَلّــٰٓى اِلَى الظِّلِّ فَقَالَ رَبِّ اِنِّىْ لِمَآ اَنْزَلْتَ اِلَىَّ مِنْ خَيْـرٍ فَقِيْرٌ (24)
پھر ان کے جانوروں کو پانی پلا دیا پھر سایہ کی طرف ہٹ کر آیا پھر کہا کہ اے میرے رب تو میری طرف جو اچھی چیز اتارے میں اس کا محتاج ہوں۔
فَجَآءَتْهُ اِحْدَاهُمَا تَمْشِىْ عَلَى اسْتِحْيَآءٍۖ قَالَتْ اِنَّ اَبِىْ يَدْعُوْكَ لِيَجْزِيَكَ اَجْرَ مَا سَقَيْتَ لَنَا ۚ فَلَمَّا جَآءَهٝ وَقَصَّ عَلَيْهِ الْقَصَصَۙ قَالَ لَا تَخَفْ ۖ نَجَوْتَ مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِيْنَ (25)
پھر ان دونوں میں سے ایک اس کے پاس شرم سے چلتی ہوئی آئی، کہا میرے باپ نے تمہیں بلایا ہے کہ تمہیں پلائی کی اجرت دے، پھر جب اس کے پاس پہنچا اور اس کو تمام حال بیان کیا، کہا خوف نہ کر، تو اس بے انصاف قوم سے بچ آیا ہے۔
قَالَتْ اِحْدَاهُمَا يَآ اَبَتِ اسْتَاْجِرْهُ ۖ اِنَّ خَيْـرَ مَنِ اسْتَاْجَرْتَ الْقَوِىُّ الْاَمِيْنُ (26)
ان دونوں میں سے ایک بولی اے باپ اسے نوکر رکھ لے، بے شک بہتر نوکر جسے تو رکھنا چاہے وہ ہے جو زور آور امانت دار ہو۔
قَالَ اِنِّـىٓ اُرِيْدُ اَنْ اُنْكِحَكَ اِحْدَى ابْنَتَىَّ هَاتَيْنِ عَلٰٓى اَنْ تَاْجُرَنِىْ ثَمَانِىَ حِجَجٍ ۖ فَاِنْ اَتْمَمْتَ عَشْرًا فَمِنْ عِنْدِكَ ۖ وَمَآ اُرِيْدُ اَنْ اَشُقَّ عَلَيْكَ ۚ سَتَجِدُنِـىٓ اِنْ شَآءَ اللّـٰهُ مِنَ الصَّالِحِيْنَ (27)
کہا میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دونوں بیٹیوں میں سے ایک کا تجھ سے نکاح کردوں اس شرط پر کہ تو آٹھ برس تک میری نوکری کرے، پھر اگر تو دس پورے کر دے تو تیری طرف سے احسان ہے، اور میں نہیں چاہتا کہ تجھے تکلیف میں ڈالوں، اگر اللہ نے چاہا تو مجھے نیک بختوں سے پائے گا۔
قَالَ ذٰلِكَ بَيْنِىْ وَبَيْنَكَ ۖ اَيَّمَا الْاَجَلَيْنِ قَضَيْتُ فَلَا عُدْوَانَ عَلَىَّ ۖ وَاللّـٰهُ عَلٰى مَا نَقُوْلُ وَكِيْلٌ (28)
کہا میرے اور تیرے درمیان یہ وعدہ ہو چکا، ان دونوں مدتوں میں سے جونسی پوری کردوں تو مجھ پر زیادتی نہ ہو، اور اللہ ہمارے قول پر گواہ ہے۔
فَلَمَّا قَضٰى مُوْسَى الْاَجَلَ وَسَارَ بِاَهْلِـهٓ ٖ اٰنَسَ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ نَارًاۚ قَالَ لِاَهْلِـهِ امْكُـثُـوٓا اِنِّـىٓ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّـىٓ اٰتِيْكُمْ مِّنْـهَا بِخَبَـرٍ اَوْ جَذْوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ (29)
پھر جب موسٰی وہ مدت پوری کر چکا اور اپنے گھر والوں کو لے کر چلا تو کوہِ طور کی طرف سے ایک آگ دیکھی، اپنے گھر والوں سے کہا ٹھہرو میں نے ایک آگ دیکھی ہے شاید تمہارے پاس وہاں کی کچھ خبر یا آگ کا انگارہ لے آؤں تاکہ تم سینکو۔
فَلَمَّآ اَتَاهَا نُـوْدِىَ مِنْ شَاطِئِ الْوَادِ الْاَيْمَنِ فِى الْبُقْعَةِ الْمُبَارَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ اَنْ يَّا مُوْسٰٓى اِنِّـىٓ اَنَا اللّـٰهُ رَبُّ الْعَالَمِيْنَ (30)
پھر جب اس کے پاس پہنچا تو میدان کے داہنے کنارے سے برکت والی جگہ میں ایک درخت سے آواز آئی کہ اے موسیٰ! میں اللہ جہان کا رب ہوں۔
وَاَنْ اَلْقِ عَصَاكَ ۖ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ كَاَنَّـهَا جَآنٌّ وَّلّـٰى مُدْبِرًا وَّلَمْ يُعَقِّبْ ۚ يَا مُوْسٰٓى اَقْبِلْ وَلَا تَخَفْ ۖ اِنَّكَ مِنَ الْاٰمِنِيْنَ (31)
اور یہ کہ اپنی لاٹھی ڈال دے، پھر جب اسے دیکھا کہ سانپ کی طرح لہرا رہا ہے تو منہ پھیر کر الٹا بھاگا اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھا، اے موسیٰ! سامنے آ اور ڈر نہیں، بے شک تو امن والوں سے ہے۔
اُسْلُكْ يَدَكَ فِىْ جَيْبِكَ تَخْرُجْ بَيْضَآءَ مِنْ غَيْـرِ سُوٓءٍۖ وَاضْمُمْ اِلَيْكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهْبِ ۖ فَذَانِكَ بُرْهَانَانِ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَمَلَئِهٖ ۚ اِنَّـهُـمْ كَانُـوْا قَوْمًا فَاسِقِيْنَ (32)
اپنے گریبان میں اپنا ہاتھ ڈال وہ بغیر کسی عیب کے چمکتا ہوا نکلے گا، اور رفع خوف کے لیے اپنا بازو اپنی طرف ملا، سو تیرے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے سرداروں کے لیے یہ دو سندیں ہیں، بے شک وہ نافرمان لوگ ہیں۔
قَالَ رَبِّ اِنِّىْ قَتَلْتُ مِنْـهُـمْ نَفْسًا فَاَخَافُ اَنْ يَّقْتُلُوْنِ (33)
کہا اے میرے رب! میں نے ان کے ایک آدمی کو قتل کیا ہے پس میں ڈرتا ہوں کہ مجھے مار ڈالیں گے۔
وَاَخِىْ هَارُوْنُ هُوَ اَفْصَحُ مِنِّىْ لِسَانًا فَاَرْسِلْـهُ مَعِىَ رِدْءًا يُّصَدِّقُنِىْ ۖ اِنِّـىٓ اَخَافُ اَنْ يُّكَذِّبُوْنِ (34)
اور میرے بھائی ہارون کی زبان مجھ سے زیادہ روان ہے اسے میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج کہ میری تصدیق کرے، کیونکہ میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے جھٹلائیں گے۔
قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيْكَ وَنَجْعَلُ لَكُمَا سُلْطَانًا فَلَا يَصِلُوْنَ اِلَيْكُمَا ۚ بِايَاتِنَـآ اَنْتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُـمَا الْغَالِبُوْنَ (35)
فرمایا ہم تیرے بازو کو تیرے بھائی سے مضبوط کردیں گے اور تمہیں غلبہ دیں گے پھر وہ تم تک پہنچ نہیں سکیں گے، ہماری نشانیوں کے سبب سے تم اور تمہارے تابعدار غالب رہیں گے۔
فَلَمَّا جَآءَهُـمْ مُّوْسٰى بِاٰيَاتِنَا بَيِّنَاتٍ قَالُوْا مَا هٰذَآ اِلَّا سِحْرٌ مُّفْتَرًى وَّمَا سَـمِعْنَا بِـهٰذَا فِـىٓ اٰبَـآئِنَا الْاَوَّلِيْنَ (36)
پھر جب موسٰی ان کے پاس ہماری کھلی نشانیاں لے کر آیا تو کہنے لگے کہ یہ تو محض ایک بنایا ہوا جادو ہے اور ہم نے اسے اپنے پہلے باپ دادا سے سنا ہی نہیں ہے۔
وَقَالَ مُوْسٰى رَبِّـىٓ اَعْلَمُ بِمَنْ جَآءَ بِالْـهُدٰى مِنْ عِنْدِهٖ وَمَنْ تَكُـوْنُ لَـهٝ عَاقِبَةُ الـدَّارِ ۖ اِنَّهٝ لَا يُفْلِـحُ الظَّالِمُوْنَ (37)
اور موسٰی نے کہا میرا رب خوب جانتا ہے جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور جس کے لیے آخرت کا گھر ہے، بے شک ظالم نجات نہیں پائیں گے۔
وَقَالَ فِرْعَوْنُ يَآ اَيُّـهَا الْمَلَاُ مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰـهٍ غَيْـرِيْۚ فَاَوْقِدْ لِـىْ يَا هَامَانُ عَلَى الطِّيْنِ فَاجْعَلْ لِّـىْ صَرْحًا لَّـعَلِّـىٓ اَطَّلِـعُ اِلٰٓى اِلٰـهِ مُوْسٰىۙ وَاِنِّىْ لَاَظُنُّهٝ مِنَ الْكَاذِبِيْنَ (38)
اور فرعون نے کہا اے سردارو! میں نہیں جانتا کہ میرے سوا تمہارا اور کوئی معبود ہے، پس اے ہامان! تو میرے لیے گارا پکوا پھر میرے لیے ایک بلند محل بنوا کہ میں موسٰی کے خدا کو جھانکوں، اور بے شک میں اسے جھوٹا سمجھتا ہوں۔
وَاسْتَكْـبَـرَ هُوَ وَجُنُـوْدُهٝ فِى الْاَرْضِ بِغَيْـرِ الْحَقِّ وَظَنُّـوٓا اَنَّـهُـمْ اِلَيْنَا لَا يُـرْجَعُوْنَ (39)
اور اس نے اور اس کے لشکروں نے زمین پر ناحق تکبر کیا اور خیال کیا کہ وہ ہماری طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے۔
فَاَخَذْنَاهُ وَجُنُـوْدَهٝ فَنَبَذْنَاهُـمْ فِى الْيَـمِّ ۖ فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِـبَةُ الظَّالِمِيْنَ (40)
پھر ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا، پھر انہیں دریا میں پھینک دیا سو دیکھ لو ظالموں کا کیا انجام ہوا۔
وَجَعَلْنَاهُـمْ اَئِمَّةً يَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ ۖ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا يُنْصَرُوْنَ (41)
اور ہم نے انہیں پیشوا بنایا وہ دوزخ کی طرف بلاتے تھے، اور قیامت کے دن انہیں مدد نہیں ملے گی۔
وَاَتْبَعْنَاهُـمْ فِىْ هٰذِهِ الـدُّنْيَا لَعْنَةً ۚ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ هُـمْ مِّنَ الْمَقْبُوْحِيْنَ (42)
اور ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی، اور وہ قیامت کے دن بھی بدحالوں میں ہوں گے۔
وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتَابَ مِنْ بَعْدِ مَآ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ الْاُوْلٰى بَصَآئِرَ لِلنَّاسِ وَهُدًى وَّرَحْـمَةً لَّعَلَّهُـمْ يَتَذَكَّرُوْنَ (43)
اور ہم نے موسٰی کو پہلی امتوں کے ہلاک کرنے کے بعد کتاب دی تھی جو لوگوں کے لیے بینائی اور ہدایت اور رحمت تھی تاکہ وہ سمجھیں۔
وَمَا كُنْتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِـيِّ اِذْ قَضَيْنَـآ اِلٰى مُوْسَى الْاَمْرَ وَمَا كُنْتَ مِنَ الشَّاهِدِيْنَ (44)
اور تم غربی جانب نہیں تھے جب ہم نے موسٰی کی طرف حکم بھیجا اور نہ اس واقعہ کو دیکھنے والے تھے۔
وَلٰكِنَّـآ اَنْشَاْنَا قُرُوْنًا فَتَطَاوَلَ عَلَيْـهِـمُ الْعُمُرُ ۚ وَمَا كُنْتَ ثَاوِيًا فِـىٓ اَهْلِ مَدْيَنَ تَتْلُوْا عَلَيْـهِـمْ اٰيَاتِنَاۙ وَلٰكِنَّا كُنَّا مُرْسِلِيْنَ (45)
لیکن ہم نے بہت سی نسلیں پیدا کیں پھر ان پر مدت دراز گزاری، اور تو مدین والوں میں نہیں رہتا تھا کہ انہیں ہماری آیتیں سناتا، لیکن ہم رسول بھیجتے رہے۔
وَمَا كُنْتَ بِجَانِبِ الطُّوْرِ اِذْ نَادَيْنَا وَلٰكِنْ رَّحْـمَةً مِّنْ رَّبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّـآ اَتَاهُـمْ مِّنْ نَّذِيْـرٍ مِّنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُـمْ يَتَذَكَّرُوْنَ (46)
اور تو طور کے کنارے پر نہ تھا جب ہم نے آواز دی لیکن تیرے رب کا یہ انعام ہے تاکہ ان لوگوں کو ڈرائے جن کے پاس تجھ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔
وَلَوْلَآ اَنْ تُصِيْبَـهُـمْ مُّصِيْبَةٌ بِمَا قَدَّمَتْ اَيْدِيْهِـمْ فَيَقُوْلُوْا رَبَّنَا لَوْلَآ اَرْسَلْتَ اِلَيْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِــعَ اٰيَاتِكَ وَنَكُـوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ (47)
اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ ان کے اپنے ہی اعمال کے سبب سے ان پر مصیبت نازل ہوجائے پھر کہتے اے ہمارے رب! تو نے ہمارے پاس رسول کیوں نہ بھیجا تاکہ ہم تیرے حکموں کی تابعداری کرتے اور ایمان والوں میں ہوتے۔
فَلَمَّا جَآءَهُـمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْا لَوْلَآ اُوْتِـىَ مِثْلَ مَآ اُوْتِـىَ مُوْسٰى ۚ اَوَلَمْ يَكْـفُرُوْا بِمَآ اُوْتِـىَ مُوْسٰى مِنْ قَبْلُ ۚ قَالُوْا سِحْرَانِ تَظَاهَرَاۖ وَقَالُـوٓا اِنَّا بِكُلٍّ كَافِرُوْنَ (48)
پھر جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آ پہنچا تو کہنے لگے کیوں نہیں دیا گیا جیسا موسٰی کو دیا گیا تھا، کیا انہوں نے اس چیز کا انکار نہیں کیا تھا جو موسٰی کو اس سے پہلے دی گئی تھی، کہنے لگے دونوں جادوگر آپس میں موافق ہیں، اور کہا ہم کسی کو بھی نہیں مانتے۔
قُلْ فَاْتُوْا بِكِـتَابٍ مِّنْ عِنْدِ اللّـٰهِ هُوَ اَهْدٰى مِنْهُمَآ اَتَّبِعْهُ اِنْ كُنْتُـمْ صَادِقِيْنَ (49)
کہہ دو پس اللہ کے ہاں سے کوئی ایسی کتاب لاؤ جو ان دونوں سے ہدایت میں بڑھ کر ہو کہ میں اس پر چلوں اگر تم سچے ہو۔
فَاِنْ لَّمْ يَسْتَجِيْبُوْا لَكَ فَاعْلَمْ اَنَّمَا يَتَّبِعُوْنَ اَهْوَآءَهُـمْ ۚ وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوَاهُ بِغَيْـرِ هُدًى مِّنَ اللّـٰهِ ۚ اِنَّ اللّـٰهَ لَا يَـهْدِى الْقَوْمَ الظَّالِمِيْنَ (50)
پھر اگر تمہارا کہنا نہ مانیں تو جان لو کہ وہ صرف اپنی خواہشوں کے تابع ہیں، اور اس سے بڑھ کر کون گمراہ ہوگا جو اللہ کی ہدایت چھوڑ کر اپنی خواہشوں پر چلتا ہو، بے شک اللہ ظالم قوم کو ہدایت نہیں کرتا۔
وَلَقَدْ وَصَّلْنَا لَـهُـمُ الْقَوْلَ لَعَلَّهُـمْ يَتَذَكَّرُوْنَ (51)
اور البتہ ہم ان کے پاس ہدایت بھیجتے رہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔
اَلَّـذِيْنَ اٰتَيْنَاهُـمُ الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِـهٖ هُـمْ بِهٖ يُؤْمِنُـوْنَ (52)
جن لوگوں کو ہم نے اس سے پہلے کتاب دی ہے وہ اس پر ایمان لاتے ہیں۔
وَاِذَا يُـتْلٰى عَلَيْـهِـمْ قَالُـوٓا اٰمَنَّا بِهٓ ٖ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّنَـآ اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِـهٖ مُسْلِمِيْنَ (53)
اور جب ان پر پڑھا جاتا ہے کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے، ہمارے رب کی طرف سے یہ حق ہے، ہم تو اسے پہلے ہی مانتے تھے۔
اُولٰٓئِكَ يُؤْتَوْنَ اَجْرَهُـمْ مَّرَّتَيْنِ بِمَا صَبَـرُوْا وَيَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُـمْ يُنْفِقُوْنَ (54)
یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ان کے صبر کی وجہ سے دگنا بدلہ ملے گا اور بھلائی سے برائی کو دور کرتے ہیں اور جو ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔
وَاِذَا سَـمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَقَالُوْا لَنَـآ اَعْمَالُنَا وَلَكُمْ اَعْمَالُكُمْۖ سَلَامٌ عَلَيْكُمْۖ لَا نَبْتَغِى الْجَاهِلِيْنَ (55)
اور جب بے ہودہ بات سنتے ہیں تو اس سے منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے لیے ہمارے اعمال تمہارے لیے تمہارے اعمال، تم پر سلام ہو، ہم بے سمجھوں کو نہیں چاہتے۔
اِنَّكَ لَا تَهْدِىْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّـٰهَ يَـهْدِىْ مَنْ يَّشَآءُ ۚ وَهُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِيْنَ (56)
بے شک تو ہدایت نہیں کر سکتا جسے تو چاہے لیکن اللہ ہدایت کرتا ہے جسے چاہے، اور وہ ہدایت والوں کو خوب جانتا ہے۔
وَقَالُـوٓا اِنْ نَّتَّبِــعِ الْـهُدٰى مَعَكَ نُـتَخَطَّفْ مِنْ اَرْضِنَا ۚ اَوَلَمْ نُمَكِّنْ لَّـهُـمْ حَرَمًا اٰمِنًا يُّجْبٰٓى اِلَيْهِ ثَمَرَاتُ كُلِّ شَىْءٍ رِّزْقًا مِّنْ لَّـدُنَّا وَلٰكِنَّ اَكْثَرَهُـمْ لَا يَعْلَمُوْنَ (57)
اور کہتے ہیں اگر ہم تیرے ساتھ ہدایت پر چلیں تو اپنے ملک سے اچک لیے جائیں، کیا ہم نے انہیں حرم میں جگہ نہیں دی جو امن کا مقام ہے جہاں ہر قسم کے میووں کا رزق ہماری طرف سے پہنچایا جاتا ہے لیکن اکثر ان میں سے نہیں جانتے۔
وَكَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْيَةٍ بَطِرَتْ مَعِيْشَتَـهَا ۖ فَتِلْكَ مَسَاكِنُـهُـمْ لَمْ تُسْكَنْ مِّنْ بَعْدِهِـمْ اِلَّا قَلِيْلًا ۖ وَكُنَّا نَحْنُ الْوَارِثِيْنَ (58)
اور ہم نے بہت سی بستیوں کو ہلاک کر ڈالا جو اپنے سامان عیش پر نازاں تھے، سو یہ ان کے گھر ہیں کہ ان کے بعد آباد نہیں ہوئے مگر بہت کم، اور ہم ہی وارث ہوئے۔
وَمَا كَانَ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرٰى حَتّـٰى يَبْعَثَ فِىٓ اُمِّهَا رَسُوْلًا يَّتْلُوْا عَلَيْـهِـمْ اٰيَاتِنَا ۚ وَمَا كُنَّا مُهْلِكِى الْقُرٰٓى اِلَّا وَاَهْلُـهَا ظَالِمُوْنَ (59)
اور تیرا رب بستیوں کو ہلاک نہیں کیا کرتا جب تک ان کے بڑے شہر میں پیغمبر نہ بھیج لے جو انہیں ہماری آیتیں پڑھ کر سنائے، اور ہم بستیوں کو ہلاک نہیں کیا کرتے مگر اس حالت میں کہ وہاں کے باشندے ظالم ہوں۔
وَمَآ اُوْتِيْتُـمْ مِّنْ شَىْءٍ فَمَتَاعُ الْحَيَاةِ الـدُّنْيَا وَزِيْنَتُـهَا ۚ وَمَا عِنْدَ اللّـٰهِ خَيْـرٌ وَّّاَبْقٰى ۚ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ (60)
اور جو چیز تمہیں دی گئی ہے وہ دنیا کی زندگی کا فائدہ اور اس کی زینت ہے، جو چیز اللہ کے ہاں ہے وہ بہتر اور باقی رہنے والی ہے، کیا تم نہیں سمجھتے۔
اَفَمَنْ وَّّعَدْنَاهُ وَعْدًا حَسَنًا فَهُوَ لَاقِيْهِ كَمَنْ مَّتَّعْنَاهُ مَتَاعَ الْحَيَاةِ الـدُّنْيَا ثُـمَّ هُوَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ الْمُحْضَرِيْنَ (61)
پھر کیا وہ شخص جس سے ہم نے اچھا وعدہ کیا ہو سو وہ اسے پانے والا بھی ہو اس کے برابر ہے جسے ہم نے دنیا کی زندگی کا فائدہ دیا پھر وہ قیامت کے دن پکڑا ہوا آئے گا۔
وَيَوْمَ يُنَادِيْهِـمْ فَيَقُوْلُ اَيْنَ شُرَكَـآئِىَ الَّـذِيْنَ كُنْتُـمْ تَزْعُمُوْنَ (62)
اور جس دن انہیں پکارے گا پھر کہے گا میرے شریک کہاں ہیں جن کا تم دعوٰی کرتے تھے۔
قَالَ الَّـذِيْنَ حَقَّ عَلَيْـهِـمُ الْقَوْلُ رَبَّنَا هٰٓؤُلَآءِ الَّـذِيْنَ اَغْوَيْنَاۚ اَغْوَيْنَاهُـمْ كَمَا غَوَيْنَا ۚ تَبَـرَّاْنَـآ اِلَيْكَ ۖ مَا كَانُـوٓا اِيَّانَا يَعْبُدُوْنَ (63)
جن پر الزام قائم ہوگا وہ کہیں گے اے رب ہمارے! وہ یہی ہیں جنہیں ہم نے بہکایا تھا، انہیں ہم نے گمراہ کیا تھا جیسا کہ ہم گمراہ تھے، ہم تیرے روبرو بیزار ہوتے ہیں، یہ ہمیں نہیں پوجتے تھے۔
وَقِيْلَ ادْعُوْا شُرَكَـآءَكُمْ فَدَعَوْهُـمْ فَلَمْ يَسْتَجِيْبُوْا لَـهُـمْ وَرَاَوُا الْعَذَابَ ۚ لَوْ اَنَّـهُـمْ كَانُـوْا يَـهْتَدُوْنَ (64)
اور کہا جائے گا اپنے شریکوں کو پکارو پھر انہیں پکاریں گے تو وہ انہیں جواب نہ دیں گے اور عذاب دیکھیں گے، کاش یہ لوگ ہدایت پر ہوتے۔
وَيَوْمَ يُنَادِيْهِـمْ فَيَقُوْلُ مَاذَآ اَجَبْتُـمُ الْمُرْسَلِيْنَ (65)
اور جس دن انہیں پکارے گا پھر کہے گا تم نے پیغام پہنچانے والوں کو کیا جواب دیا تھا۔
فَـعَمِيَتْ عَلَيْـهِـمُ الْاَنْبَآءُ يَوْمَئِذٍ فَـهُـمْ لَا يَتَسَآءَلُوْنَ (66)
پھر اس دن انہیں کوئی بات نہیں سوجھے گی پھر وہ آپس میں بھی نہیں پوچھ سکیں گے۔
فَاَمَّا مَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَعَسٰٓى اَنْ يَّكُـوْنَ مِنَ الْمُفْلِحِيْنَ (67)
پھر جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور نیک عمل کیے سو امید ہے کہ وہ نجات پانے والوں میں سے ہوگا۔
وَرَبُّكَ يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ وَيَخْتَارُ ۗ مَا كَانَ لَـهُـمُ الْخِيَـرَةُ ۚ سُبْحَانَ اللّـٰهِ وَتَعَالٰى عَمَّا يُشْرِكُـوْنَ (68)
اور تیرا رب جو چاہے پیدا کرتا ہے اور جسے چاہے پسند کرے، انہیں کوئی اختیار نہیں ہے، اللہ ان کے شرک سے پاک اور برتر ہے۔
وَرَبُّكَ يَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوْرُهُـمْ وَمَا يُعْلِنُـوْنَ (69)
اور تیرا رب جانتا ہے جو ان کے سینوں میں پوشیدہ ہے اور جو ظاہر کرتے ہیں۔
وَهُوَ اللّـٰهُ لَآ اِلٰـهَ اِلَّا هُوَ ۖ لَـهُ الْحَـمْدُ فِى الْاُوْلٰى وَالْاٰخِرَةِ ۖ وَلَـهُ الْحُكْمُ وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ (70)
اور وہی اللہ ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں، دنیا اور آخرت میں اسی کی تعریف ہے، اور اسی کی حکومت ہے اور تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔
قُلْ اَرَاَيْتُـمْ اِنْ جَعَلَ اللّـٰهُ عَلَيْكُمُ اللَّيْلَ سَرْمَدًا اِلٰى يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَنْ اِلٰـهٌ غَيْـرُ اللّـٰهِ يَاْتِيْكُمْ بِضِيَـآءٍ ۖ اَفَلَا تَسْـمَعُوْنَ (71)
کہہ دو بھلا یہ تو بتاؤ اگر اللہ تم پر ہمیشہ کے لیے قیامت تک رات ہی رہنے دے تو اللہ کے سوا کون سا معبود ہے جو تمہارے لیے روشنی لائے، کیا تم سنتے نہیں ہو۔
قُلْ اَرَاَيْتُـمْ اِنْ جَعَلَ اللّـٰهُ عَلَيْكُمُ النَّـهَارَ سَرْمَدًا اِلٰى يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَنْ اِلٰـهٌ غَيْـرُ اللّـٰهِ يَاْتِيْكُمْ بِلَيْلٍ تَسْكُنُـوْنَ فِيْهِ ۖ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ (72)
کہہ دو بھلا یہ تو بتاؤ اگر اللہ تم پر ہمیشہ کے لیے قیامت تک دن ہی رہنے دے تو اللہ کے سوا کون سا معبود ہے جو تمہارے لیے رات لائے جس میں آرام پاؤ، کیا تم دیکھتے نہیں ہو۔
وَمِنْ رَّحْـمَتِهٖ جَعَلَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّـهَارَ لِتَسْكُنُـوْا فِيْهِ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِـهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُـرُوْنَ (73)
اور اس نے اپنی رحمت سے تمہارے لیے رات اور دن کو بنایا تاکہ تم اس میں آرام پاؤ اور اپنے رب کا فضل تلاش کرو اور تاکہ تم شکر کرو۔
وَيَوْمَ يُنَادِيْهِـمْ فَيَقُوْلُ اَيْنَ شُرَكَآئِىَ الَّـذِيْنَ كُنْتُـمْ تَزْعُمُوْنَ (74)
اور جس دن انہیں پکارے گا پھر کہے گا وہ کہاں ہیں جنہیں تم میرا شریک سمجھتے تھے۔
وَنَزَعْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِيْدًا فَقُلْنَا هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ فَعَلِمُوٓا اَنَّ الْحَقَّ لِلّـٰهِ وَضَلَّ عَنْـهُـمْ مَّا كَانُـوْا يَفْتَـرُوْنَ (75)
اور ہم ہر امت میں سے ایک گواہ نکال کر لائیں گے پھر کہیں گے کہ اپنی دلیل پیش کرو تب جان لیں گے کہ سچی بات اللہ ہی کی تھی اور جو جھوٹ بنایا کرتے تھے ان سے جاتا رہے گا۔
اِنَّ قَارُوْنَ كَانَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰى فَبَغٰى عَلَيْـهِـمْ ۖ وَاٰتَيْنَاهُ مِنَ الْكُنُـوْزِ مَآ اِنَّ مَفَاتِحَهٝ لَـتَنُـوٓءُ بِالْعُصْبَةِ اُولِى الْقُوَّةِۖ اِذْ قَالَ لَـهٝ قَوْمُهٝ لَا تَفْرَحْ ۖ اِنَّ اللّـٰهَ لَا يُحِبُّ الْفَرِحِيْنَ (76)
بے شک قارون موسٰی کی قوم میں سے تھا پھر ان پر اکڑنے لگا، اور ہم نے اسے اتنے خزانے دیے تھے کہ اس کی کنجیاں ایک طاقت ور جماعت کو اٹھانی مشکل ہوتیں، جب اس سے اس کی قوم نے کہا اِترا مت، بے شک اللہ اِترانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
وَابْتَـغِ فِيْمَآ اٰتَاكَ اللّـٰهُ الـدَّارَ الْاٰخِرَةَ ۖ وَلَا تَنْسَ نَصِيْبَكَ مِنَ الـدُّنْيَا ۖ وَاَحْسِنْ كَمَآ اَحْسَنَ اللّـٰهُ اِلَيْكَ ۖ وَلَا تَبْـغِ الْفَسَادَ فِى الْاَرْضِ ۖ اِنَّ اللّـٰهَ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِيْنَ (77)
اور جو کچھ تجھے اللہ نے دیا ہے اس سے آخرت کا گھر حاصل کر، اور اپنا حصہ دنیا میں سے نہ بھول، اور بھلائی کر جس طرح اللہ نے تیرے ساتھ بھلائی کی ہے، اور ملک میں فساد کا خواہاں نہ ہو، بے شک اللہ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
قَالَ اِنَّمَآ اُوْتِيْتُهٝ عَلٰى عِلْمٍ عِنْدِىْ ۚ اَوَلَمْ يَعْلَمْ اَنَّ اللّـٰهَ قَدْ اَهْلَكَ مِنْ قَبْلِـهٖ مِنَ الْقُرُوْنِ مَنْ هُوَ اَشَدُّ مِنْهُ قُوَّةً وَّّاَكْثَرُ جَـمْعًا ۚ وَلَا يُسْاَلُ عَنْ ذُنُـوْبِهِـمُ الْمُجْرِمُوْنَ (78)
کہا یہ تو مجھے ایک ہنر سے ملا ہے جو میرے پاس ہے، کیا اسے معلوم نہیں کہ اللہ نے اس سے پہلے بہت سی امتیں جو اس سے قوت میں بڑھ کر اور جمیعت میں زیادہ تھیں ہلاک کر ڈالی ہیں، اور گناہگاروں سے ان کے گناہوں کے بارے میں پوچھا نہیں جائے گا۔
فَخَرَجَ عَلٰى قَوْمِهٖ فِىْ زِيْنَتِهٖ ۖ قَالَ الَّـذِيْنَ يُرِيْدُوْنَ الْحَيَاةَ الـدُّنْيَا يَا لَيْتَ لَنَا مِثْلَ مَآ اُوْتِـىَ قَارُوْنُۙ اِنَّهٝ لَـذُوْ حَظٍّ عَظِيْـمٍ (79)
اپنی قوم کے سامنے اپنے ٹھاٹھ سے نکلا، جو لوگ دنیا کی زندگی کے طالب تھے کہنے لگے اے کاش ہمارے لیے بھی ویسا ہوتا جیسا کہ قارون کو دیا گیا ہے، بے شک وہ بڑے نصیب والا ہے۔
وَقَالَ الَّـذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَيْلَكُمْ ثَوَابُ اللّـٰهِ خَيْـرٌ لِّمَنْ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًاۚ وَّلَا يُلَقَّاهَآ اِلَّا الصَّابِـرُوْنَ (80)
اور علم والوں نے کہا تم پر افسوس ہے اللہ کا ثواب بہتر ہے اس کے لیے جو ایمان لایا اور نیک کام کیا، مگر صبر کرنے والوں کے سوا نہیں ملا کرتا۔
فَخَسَفْنَا بِهٖ وَبِدَارِهِ الْاَرْضَۖ فَمَا كَانَ لَـهٝ مِنْ فِئَةٍ يَّنْصُرُوْنَهٝ مِنْ دُوْنِ اللّـٰهِ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُنْتَصِرِيْنَ (81)
پھر ہم نے اسے اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا، پھر اس کی ایسی کوئی جماعت نہ تھی جو اسے اللہ سے بچا لیتی اور نہ وہ خود بچ سکا۔
وَاَصْبَحَ الَّـذِيْنَ تَمَنَّوْا مَكَانَهٝ بِالْاَمْسِ يَقُوْلُوْنَ وَيْكَاَنَّ اللّـٰهَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَيَقْدِرُ ۖ لَوْلَآ اَنْ مَّنَّ اللّـٰهُ عَلَيْنَا لَخَسَفَ بِنَا ۖ وَيْكَاَنَّهٝ لَا يُفْلِحُ الْكَافِرُوْنَ (82)
اور وہ لوگ جو کل اس کے مرتبہ کی تمنا کرتے تھے آج صبح کو کہنے لگے کہ ہائے شامت! اللہ اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے روزی کشادہ کر دیتا ہے اور تنگ کر دیتا ہے، اگر ہم پر اللہ کا احسان نہ ہوتا تو ہمیں بھی دھنسا دیتا، ہائے! کافر نجات نہیں پا سکتے۔
تِلْكَ الـدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُـهَا لِلَّـذِيْنَ لَا يُرِيْدُوْنَ عُلُـوًّا فِى الْاَرْضِ وَلَا فَسَادًا ۚ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِيْنَ (83)
یہ آخرت کا گھر ہم انہیں کو دیتے ہیں جو ملک میں ظلم اور فساد کا ارادہ نہیں رکھتے، اور نیک انجام تو پرہیزگاروں ہی کا ہے۔
مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَـهٝ خَيْـرٌ مِّنْـهَا ۖ وَمَنْ جَآءَ بِالسَّيِّئَةِ فَلَا يُجْزَى الَّـذِيْنَ عَمِلُوا السَّيِّئَاتِ اِلَّا مَا كَانُـوْا يَعْمَلُوْنَ (84)
جو بھلائی لے کر آیا اسے اس سے بہتر ملے گا، اور جو برائی لے کر آیا پس برائیاں کرنے والوں کو وہی سزا ملے گی جو کچھ وہ کرتے تھے۔
اِنَّ الَّـذِىْ فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْاٰنَ لَرَآدُّكَ اِلٰى مَعَادٍ ۚ قُلْ رَّبِّىٓ اَعْلَمُ مَنْ جَآءَ بِالْـهُدٰى وَمَنْ هُوَ فِىْ ضَلَالٍ مُّبِيْنٍ (85)
جس نے تم پر قرآن فرض کیا وہ تمہیں لوٹنے کی جگہ پھیر لائے گا، کہہ دو میرا رب خوب جانتا ہے کہ ہدایت کون لے کر آیا ہے اور کون صریح گمراہی میں پڑا ہوا ہے۔
وَمَا كُنْتَ تَـرْجُـوٓا اَنْ يُّلْقٰٓى اِلَيْكَ الْكِتَابُ اِلَّا رَحْـمَةً مِّنْ رَّبِّكَ ۖ فَلَا تَكُـوْنَنَّ ظَهِيْـرًا لِّلْكَافِـرِيْنَ (86)
اور تمہیں امید نہ تھی کہ تم پر کتاب اتاری جائے گی مگر تمہارے رب کی مہربانی ہوئی، پھر تم کافروں کی طرفداری نہ کرنا۔
وَلَا يَصُدُّنَّكَ عَنْ اٰيَاتِ اللّـٰهِ بَعْدَ اِذْ اُنْزِلَتْ اِلَيْكَ ۖ وَادْعُ اِلٰى رَبِّكَ ۖ وَلَا تَكُـوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ (87)
اور وہ تمہیں اللہ کی آیتوں سے روک نہ دیں بعد اس کے کہ تم پر نازل ہو چکی ہیں، اور اپنے رب کی طرف بلاؤ، اور مشرکوں میں ہرگز شامل نہ ہو۔
وَلَا تَدْعُ مَعَ اللّـٰهِ اِلٰـهًا اٰخَرَ ۘ لَآ اِلٰـهَ اِلَّا هُوَ ۚ كُلُّ شَىْءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجْهَهٝ ۚ لَـهُ الْحُكْمُ وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ (88)
اور اللہ کے ساتھ اور کسی معبود کو نہ پکار، اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں، اس کی ذات کے سوا ہر چیز فنا ہونے والی ہے، اسی کا حکم ہے اور اسی کی طرف تم لوٹ کر جاؤ گے۔