قرآن حکیم            

مکمل سورت
سورت نمبر
آیت نمبر
ایک آیت
(27) سورۃ النمل (مکی، آیات 93)
بِسْمِ اللّـٰهِ الرَّحْـمٰنِ الرَّحِيْـمِ
ٰطـسٓ ۚ تِلْكَ اٰيَاتُ الْقُرْاٰنِ وَكِتَابٍ مُّبِيْنٍ (1)
ط سۤ، یہ آیتیں قرآن کی اور کتاب روشن کی ہیں۔
هُدًى وَّبُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِيْنَ (2)
ایمان داورں کے لیے ہدایت اور خوشخبری ہے۔
اَلَّـذِيْنَ يُقِيْمُوْنَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُوْنَ الزَّكَاةَ وَهُـمْ بِالْاٰخِرَةِ هُـمْ يُوْقِنُـوْنَ (3)
جو نماز ادا کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔
اِنَّ الَّـذِيْنَ لَا يُؤْمِنُـوْنَ بِالْاٰخِرَةِ زَيَّنَّا لَـهُـمْ اَعْمَالَـهُـمْ فَهُـمْ يَعْمَهُوْنَ (4)
البتہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہم نے ان کے اعمال ان کے لیے اچھے کر دکھائے ہیں پس وہ سرگرداں پھرتے ہیں۔
اُولٰٓئِكَ الَّـذِيْنَ لَـهُـمْ سُوٓءُ الْعَذَابِ وَهُـمْ فِى الْاٰخِرَةِ هُـمُ الْاَخْسَرُوْنَ (5)
وہی ہیں جنہیں برا عذاب ہونا ہے اور وہ آخرت میں بڑے ہی خسارہ میں ہوں گے۔
وَاِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْاٰنَ مِنْ لَّـدُنْ حَكِـيْـمٍ عَلِيْـمٍ (6)
اور تجھے بڑے حکمت والے علم والے کی طرف سے قرآن دیا جا رہا ہے۔
اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِاَهْلِـهٓ ٖ اِنِّـىٓ اٰنَسْتُ نَارًاۚ سَاٰتِيْكُمْ مِّنْـهَا بِخَبَـرٍ اَوْ اٰتِيْكُمْ بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ (7)
جب موسٰی نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ میں نے آگ دیکھی ہے، میں ابھی وہاں سے تمہارے پاس کوئی خبر لاتا ہوں یا کوئی انگارا سلگا کر لاتا ہوں تاکہ تم سینکو۔
فَلَمَّا جَآءَهَا نُـوْدِىَ اَنْ بُوْرِكَ مَنْ فِى النَّارِ وَمَنْ حَوْلَـهَاۚ وَسُبْحَانَ اللّـٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ (8)
پھر جب موسٰی وہاں آئے تو آواز آئی کہ جو آگ میں اور اس کے پاس ہے وہ با برکت ہے، اور اللہ پاک ہے جو تمام جہان کا رب ہے۔
يَا مُوْسٰٓى اِنَّهٝٓ اَنَا اللّـٰهُ الْعَزِيْزُ الْحَكِـيْمُ (9)
اے موسٰی! وہ میں اللہ ہوں زبردست حکمت والا۔
وَاَلْقِ عَصَاكَ ۚ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ كَاَنَّـهَا جَآنٌّ وَّلّـٰى مُدْبِرًا وَّلَمْ يُعَقِّبْ ۚ يَا مُوْسٰى لَا تَخَفْۚ اِنِّىْ لَا يَخَافُ لَـدَىَّ الْمُرْسَلُوْنَ (10)
اور اپنی لاٹھی ڈال دے، پھر جب اسے دیکھا کہ وہ سانپ کی طرح چل رہی ہے تو پیٹھ پھیر کر بھاگا اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھا، اے موسٰی ڈرو مت، کیونکہ میرے حضور میں رسول ڈرا نہیں کرتے۔
اِلَّا مَنْ ظَلَمَ ثُـمَّ بَدَّلَ حُسْنًا بَعْدَ سُوٓءٍ فَاِنِّـىْ غَفُوْرٌ رَّحِـيْـمٌ (11)
مگر جس نے ظلم کیا پھر برائی کے بعد اسے نیکی سے بدل دیا ہو تو میں بخشنے والا مہربان ہوں۔
وَاَدْخِلْ يَدَكَ فِىْ جَيْبِكَ تَخْرُجْ بَيْضَآءَ مِنْ غَيْـرِ سُوٓءٍ ۖ فِىْ تِسْعِ اٰيَاتٍ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَقَوْمِهٖ ۚ اِنَّـهُـمْ كَانُـوْا قَوْمًا فَاسِقِيْنَ (12)
اور اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈال دے وہ سفید بے عیب نکلے گا، یہ نو نشانیاں فرعون اور اس کی قوم کی طرف لے کر جا، کیونکہ وہ بدکار لوگ ہیں۔
فَلَمَّا جَآءَتْهُـمْ اٰيَاتُنَا مُبْصِرَةً قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِيْنٌ (13)
پھر جب ان کے پاس آنکھیں کھولنے والی ہماری نشانیاں آئیں تو کہنے لگے یہ تو صاف جادو ہے۔
وَجَحَدُوْا بِـهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَآ اَنْفُسُهُـمْ ظُلْمًا وَّعُلُـوًّا ۚ فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِيْنَ (14)
اور انہوں نے ان کا ظلم اور تکبر سے انکار کر دیا حالانکہ ان کے دل یقین کر چکے تھے، پھر دیکھ مفسدوں کا انجام کیسا ہوا۔
وَلَقَدْ اٰتَيْنَا دَاوُوْدَ وَسُلَيْمَانَ عِلْمًا ۖ وَقَالَا الْحَـمْدُ لِلّـٰهِ الَّـذِىْ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِيْـرٍ مِّنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِيْنَ (15)
اور ہم نے داؤد اور سلیمان کو علم دیا، اور کہنے لگے اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں بہت سے ایمان دار بندوں پر فضیلت دی۔
وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُوْدَ ۖ وَقَالَ يَآ اَيُّـهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّيْـرِ وَاُوْتِيْنَا مِنْ كُلِّ شَىْءٍ ۖ اِنَّ هٰذَا لَـهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِيْنُ (16)
اور سلیمان داؤد کا وارث ہوا، اور کہا اے لوگو ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے اور ہمیں ہر قسم کے ساز و سامان دیے گئے ہیں، بے شک یہ صریح فضیلت ہے۔
وَحُشِرَ لِسُلَيْمَانَ جُنُـوْدُهٝ مِنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ وَالطَّيْـرِ فَهُـمْ يُوْزَعُوْنَ (17)
اور سلیمان کے پاس اس کے لشکر جن اور انسان اور پرندے جمع کیے جاتے پھر ان کی جماعتیں بنائی جاتیں۔
حَتّــٰٓى اِذَآ اَتَوْا عَلٰى وَادِ النَّمْلِۙ قَالَتْ نَمْلَـةٌ يَّّآ اَ يُّهَا النَّمْلُ ادْخُلُوْا مَسَاكِنَكُمْۚ لَا يَحْطِمَنَّكُمْ سُلَيْمَانُ وَجُنُـوْدُهٝ ۙ وَهُـمْ لَا يَشْعُرُوْنَ (18)
یہاں تک کہ جب چیونٹیوں کے میدان پر پہنچے، ایک چیونٹی نے کہا اے چیونٹیو اپنے گھروں میں گھس جاؤ، تمہیں سلیمان اور اس کی فوجیں نہ پیس ڈالیں، اور انہیں خبر بھی نہ ہو۔
فَـتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنْ قَوْلِـهَا وَقَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِىٓ اَنْ اَشْكُـرَ نِعْمَتَكَ الَّتِىٓ اَنْعَمْتَ عَلَـىَّ وَعَلٰى وَالِـدَىَّ وَاَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَـرْضَاهُ وَاَدْخِلْنِىْ بِرَحْـمَتِكَ فِىْ عِبَادِكَ الصَّالِحِيْنَ (19)
پھر اس کی بات سے مسکرا کر ہنس پڑا اور کہا اے میرے رب مجھے توفیق دے کہ میں تیرے احسان کا شکر کروں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کیا اور یہ کہ میں نیک کام کروں جو تو پسند کرے اور مجھے اپنی رحمت سے اپنے نیک بندوں میں شامل کر لے۔
وَتَفَقَّدَ الطَّيْـرَ فَقَالَ مَا لِـىَ لَآ اَرَى الْـهُـدْهُدَ اَمْ كَانَ مِنَ الْغَآئِبِيْنَ (20)
اور پرندوں کی حاضری لی تو کہا کیا بات ہے جو میں ہُدہُد کو نہیں دیکھتا کیا وہ غیر حاضر ہے۔
لَاُعَذِّبَنَّهٝ عَذَابًا شَدِيْدًا اَوْ لَاَذْبَحَنَّهٝٓ اَوْ لَيَاْتِيَنِّىْ بِسُلْطَانٍ مُّبِيْنٍ (21)
میں اسے سخت سزا دوں گا یا اسے ذبح کر دوں گا یا وہ میرے پاس کوئی صاف دلیل بیان کرے۔
فَمَكَثَ غَيْـرَ بَعِيْدٍ فَقَالَ اَحَطْتُ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِهٖ وَجِئْتُكَ مِنْ سَبَاٍ بِنَبَاٍ يَقِيْنٍ (22)
پھر تھوڑی دیر کے بعد ہُدہُد حاضر ہوا اور کہا کہ میں حضور کے پاس وہ خبر لایا ہوں جو حضور کو معلوم نہیں اور سبا سے آپ کے پاس ایک یقینی خبر لایا ہوں۔
اِنِّىْ وَجَدْتُّ امْرَاَةً تَمْلِكُهُـمْ وَاُوْتِيَتْ مِنْ كُلِّ شَىْءٍ وَّلَـهَا عَرْشٌ عَظِيْـمٌ (23)
میں نے ایک عورت کو پایا جو ان پر بادشاہی کرتی ہے اور اسے ہر چیز دی گئی ہے اور اس کا بڑا تخت ہے۔
وَجَدْتُّهَا وَقَوْمَهَا يَسْجُدُوْنَ لِلشَّمْسِ مِنْ دُوْنِ اللّـٰهِ وَزَيَّنَ لَـهُـمُ الشَّيْطَانُ اَعْمَالَـهُـمْ فَصَدَّهُـمْ عَنِ السَّبِيْلِ فَـهُـمْ لَا يَـهْتَدُوْنَ (24)
میں نے پایا کہ وہ اور اس کی قوم اللہ کے سوا سورج کو سجدہ کرتے ہیں اور شیطان نے ان کے اعمال کو انہیں آراستہ کر دکھایا ہے اور انہیں راستہ سے روک دیا ہے سو وہ راہ پر نہیں چلتے۔
اَلَّا يَسْجُدُوْا لِلّـٰهِ الَّـذِىْ يُخْرِجُ الْخَبْءَ فِى السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ وَيَعْلَمُ مَا تُخْفُوْنَ وَمَا تُعْلِنُـوْنَ (25)
اللہ ہی کو کیوں نہ سجدہ کریں جو آسمانوں اور زمین کی چھپی ہوئی چیزوں کو ظاہر کرتا ہے، اور سب جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اور جو ظاہر کرتے ہو۔
اَللَّـهُ لَآ اِلٰـهَ اِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيْـمِ ۩ (26)
اللہ ہی ایسا ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور وہ عرش عظیم کا مالک ہے۔
قَالَ سَنَنْظُرُ اَصَدَقْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْكَاذِبِيْنَ (27)
کہا ہم ابھی دیکھ لیتے ہیں کہ تو سچ کہتا ہے یا جھوٹوں میں سے ہے۔
اِذْهَبْ بِّكِـتَابِىْ هٰذَا فَاَلْقِهْ اِلَيْـهِـمْ ثُـمَّ تَوَلَّ عَنْـهُـمْ فَانْظُرْ مَاذَا يَرْجِعُوْنَ (28)
میرا یہ خط لے جا اور ان کی طرف ڈال دے پھر ان کے ہاں سے واپس آجا پھر دیکھ وہ کیا جواب دیتے ہیں۔
قَالَتْ يَآ اَيُّـهَا الْمَلَاُ اِنِّـىٓ اُلْقِىَ اِلَـىَّ كِتَابٌ كَرِيْـمٌ (29)
کہنے لگی اے دربار والو! میرے پاس ایک معزز خط ڈالا گیا ہے۔
اِنَّهٝ مِنْ سُلَيْمَانَ وَاِنَّهٝ بِسْمِ اللّـٰهِ الرَّحْـمٰنِ الرَّحِيْـمِ (30)
وہ خط سلیمان کی طرف سے ہے اور وہ یہ ہے، اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں جو بے حد مہربان نہایت رحم والا ہے۔
اَلَّا تَعْلُوْا عَلَـىَّ وَاْتُوْنِىْ مُسْلِمِيْنَ (31)
میرے سامنے تکبر نہ کرو اور میرے پاس مطیع ہو کر چلی آؤ۔
قَالَتْ يَآ اَيُّـهَا الْمَلَاُ اَفْتُوْنِىْ فِـىٓ اَمْرِيْۚ مَا كُنْتُ قَاطِعَةً اَمْرًا حَتّـٰى تَشْهَدُوْنِ (32)
کہنے لگی اے دربار والو! مجھے میرے کام میں مشورہ دو، میں کوئی بات تمہارے حاضر ہوئے بغیر طے نہیں کرتی۔
قَالُوْا نَحْنُ اُولُوْا قُوَّةٍ وَّّاُولُوْا بَاْسٍ شَدِيْدٍۙ وَّالْاَمْرُ اِلَيْكِ فَانْظُرِىْ مَاذَا تَاْمُرِيْنَ (33)
کہنے لگے ہم بڑے طاقتور اور بڑے لڑنے والے ہیں، اور کام تیرے اختیار میں ہے سو دیکھ لے جو حکم دینا ہے۔
قَالَتْ اِنَّ الْمُلُوْكَ اِذَا دَخَلُوْا قَرْيَةً اَفْسَدُوْهَا وَجَعَلُوٓا اَعِزَّةَ اَهْلِهَآ اَذِلَّـةً ۚ وَكَذٰلِكَ يَفْعَلُوْنَ (34)
کہنے لگی بادشاہ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں اسے خراب کر دیتے ہیں اور وہاں کے سرداروں کو بے عزت کرتے ہیں، اور ایسا ہی کریں گے۔
وَاِنِّىْ مُرْسِلَـةٌ اِلَيْـهِـمْ بِهَدِيَّةٍ فَنَاظِرَةٌ بِـمَ يَرْجِــعُ الْمُرْسَلُوْنَ (35)
اور میں ان کی طرف کچھ تحفہ بھیجتی ہوں پھر دیکھتی ہوں کہ ایلچی کیا جواب لے کر آتے ہیں۔
فَلَمَّا جَآءَ سُلَيْمَانَ قَالَ اَتُمِدُّوْنَنِ بِمَالٍۚ فَمَآ اٰتَانِىَ اللّـٰهُ خَيْـرٌ مِّمَّآ اٰتَاكُمْۚ بَلْ اَنْتُـمْ بِهَدِيَّتِكُمْ تَفْرَحُوْنَ (36)
پھر جب سلیمان کے پاس آیا فرمایا کیا تم میری مال سے مدد کرنا چاہتے ہو، سو جو کچھ مجھے اللہ نے دیا ہے اس سے بہتر ہے جو تمہیں دیا ہے، بلکہ تم ہی اپنے تحفہ سے خوش رہو۔
اِرْجِــعْ اِلَيْـهِـمْ فَلَنَاْتِيَنَّـهُـمْ بِجُنُـوْدٍ لَّا قِبَلَ لَـهُـمْ بِـهَا وَلَنُخْرِجَنَّـهُـمْ مِّنْهَآ اَذِلَّـةً وَّّهُـمْ صَاغِرُوْنَ (37)
ان کی طرف واپس جاؤ ہم ان پر ایسے لشکر لے کر پہنچیں گے جن کا وہ مقابلہ نہ کر سکیں گے اور ہم انہیں وہاں سے ذلیل کر کے نکال دیں گے۔
قَالَ يَآ اَيُّـهَا الْمَلَاُ اَيُّكُمْ يَاْتِيْنِىْ بِعَرْشِهَا قَبْلَ اَنْ يَّاْتُوْنِىْ مُسْلِمِيْنَ (38)
کہا اے دربار والو! تم میں کوئی ہے کہ میرے پاس اس کا تخت لے آئے اس سے پہلے کہ وہ میرے پاس فرمانبردار ہو کر آئیں۔
قَالَ عِفْرِيْتٌ مِّنَ الْجِنِّ اَنَا اٰتِيْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ تَقُوْمَ مِنْ مَّقَامِكَ ۖ وَاِنِّىْ عَلَيْهِ لَقَوِىٌّ اَمِيْنٌ (39)
جنوں میں سے ایک دیو نے کہا میں تمہیں وہ لا دیتا ہوں اس سے پہلے کہ تو اپنی جگہ سے اٹھے، اور میں اس کے لیے طاقتور امانت دار ہوں۔
قَالَ الَّـذِىْ عِنْدَهٝ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتَابِ اَنَا اٰتِيْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ يَّرْتَدَّ اِلَيْكَ طَرْفُكَ ۚ فَلَمَّا رَاٰهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهٝ قَالَ هٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّيْۖ لِيَبْلُوَنِـىٓ ءَاَشْكُـرُ اَمْ اَكْفُرُ ۖ وَمَنْ شَكَـرَ فَاِنَّمَا يَشْكُـرُ لِنَفْسِهٖ ۖ وَمَنْ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّىْ غَنِىٌّ كَرِيْـمٌ (40)
اس شخص نے کہا جس کے پاس کتاب کا علم تھا کہ میں اسے تیری آنکھ جھپکنے سے پہلے لا دیتا ہوں، پھر جب اسے اپنے روبرو رکھا دیکھا تو کہنے لگا یہ میرے رب کا ایک فضل ہے، تاکہ میری آزمائش کرے کیا میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری، اور جو شخص شکر کرتا ہے اپنے ہی نفع کے لیے شکر کرتا ہے، اور جو ناشکری کرتا ہے تو میرا رب بھی بے پروا عزت والا ہے۔
قَالَ نَكِّـرُوْا لَـهَا عَرْشَهَا نَنْظُرْ اَتَهْتَدِىٓ اَمْ تَكُـوْنُ مِنَ الَّـذِيْنَ لَا يَـهْتَدُوْنَ (41)
کہا اس کے لیے اس کے تخت کی صورت بدل دو ہم دیکھیں کیا اسے پتہ لگتا ہے یا انہیں میں ہوتی ہے جنہیں پتہ نہیں لگتا۔
فَلَمَّا جَآءَتْ قِيْلَ اَهٰكَـذَا عَرْشُكِ ۖ قَالَتْ كَاَنَّـهٝ هُوَ ۚ وَاُوْتِيْنَا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهَا وَكُنَّا مُسْلِمِيْنَ (42)
پھر جب آئی کہا گیا کیا تیرا تخت ایسا ہی ہے، کہنے لگی گویا کہ یہ وہی ہے، اور ہمیں تو پہلے ہی معلوم ہو گیا تھا اور ہم فرمانبردار ہو چکے ہیں۔
وَصَدَّهَا مَا كَانَتْ تَّعْبُدُ مِنْ دُوْنِ اللّـٰهِ ۖ اِنَّـهَا كَانَتْ مِنْ قَوْمٍ كَافِـرِيْنَ (43)
اور اسے ان چیزوں سے روک دیا جنہیں اللہ کے سوا پوجتی تھی، بے شک وہ کافروں میں سے تھی۔
قِيْلَ لَـهَا ادْخُلِى الصَّرْحَ ۖ فَلَمَّا رَاَتْهُ حَسِبَتْهُ لُجَّةً وَّّكَشَفَتْ عَنْ سَاقَـيْـهَا ۚ قَالَ اِنَّهٝ صَرْحٌ مُّمَرَّدٌ مِّنْ قَوَارِيْـرَ ۗ قَالَتْ رَبِّ اِنِّىْ ظَلَمْتُ نَفْسِىْ وَاَسْلَمْتُ مَعَ سُلَيْمَانَ لِلّـٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ (44)
اسے کہا گیا اس محل میں داخل ہو، پھر جب اسے دیکھا خیال کیا کہ وہ گہرا پانی ہے اور اپنی پنڈلیاں کھولیں، کہا یہ تو ایسا محل ہے جس میں شیشے جڑے ہوئے ہیں، کہنے لگی اے میرے رب میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا تھا اور میں سلیمان کے ساتھ اللہ کی فرمانبردار ہوئی جو سارے جہاں کا رب ہے۔
وَلَقَدْ اَرْسَلْنَـآ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُـمْ صَالِحًا اَنِ اعْبُدُوا اللّـٰهَ فَاِذَا هُـمْ فَرِيْقَانِ يَخْتَصِمُوْنَ (45)
اور ہم نے ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا کہ اللہ کی بندگی کرو، پھر وہ دو فریق ہو کر آپس میں جھگڑنے لگے۔
قَالَ يَا قَوْمِ لِمَ تَسْتَعْجِلُوْنَ بِالسَّيِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ ۖ لَوْلَا تَسْتَغْفِرُوْنَ اللّـٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَـمُوْنَ (46)
کہا اے میری قوم بھلائی سے پہلے برائی کو کیوں جلدی مانگتے ہو، اللہ سے گناہ کیوں نہیں بخشواتے تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔
قَالُوْا اطَّيَّـرْنَا بِكَ وَبِمَنْ مَّعَكَ ۚ قَالَ طَـآئِرُكُمْ عِنْدَ اللّـٰهِ ۖ بَلْ اَنْتُـمْ قَوْمٌ تُفْتَنُـوْنَ (47)
کہنے لگے ہمیں تو تجھ سے اور تیرے ساتھیوں سے نحوست معلوم ہوئی، کہا تمہاری نحوست اللہ کی طرف سے ہے، بلکہ تم لوگ آزمائش میں ڈالے گئے ہو۔
وَكَانَ فِى الْمَدِيْنَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ يُّفْسِدُوْنَ فِى الْاَرْضِ وَلَا يُصْلِحُوْنَ (48)
اور اس شہر میں نو آدمی ایسے تھے جو زمین میں فساد کرتے تھے اور اصلاح نہیں کرتے تھے۔
قَالُوْا تَقَاسَـمُوْا بِاللّـٰهِ لَنُـبَيِّتَنَّهٝ وَاَهْلَـهٝ ثُـمَّ لَنَقُوْلَنَّ لِوَلِـيِّهٖ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ اَهْلِـهٖ وَاِنَّا لَصَادِقُوْنَ (49)
کہنے لگے آپس میں اللہ کی قسم کھاؤ کہ صالح اور اس کے گھر والوں پر شب خوں ماریں پھر اس کے وارث سے کہہ دیں کہ ہم تو اس کے کنبہ کی ہلاکت کے وقت موجود ہی نہ تھے اور بے شک ہم سچے ہیں۔
وَمَكَـرُوْا مَكْـرًا وَّمَكَـرْنَا مَكْـرًا وَّهُـمْ لَا يَشْعُرُوْنَ (50)
اور انہوں نے ایک داؤ کیا اور ہم نے بھی ایسا داؤ کیا کہ انہیں خبر بھی نہ ہوئی۔
فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ مَكْرِهِـمْ اَنَّا دَمَّرْنَاهُـمْ وَقَوْمَهُـمْ اَجْـمَعِيْنَ (51)
پھر دیکھو ان کے داؤ کا کیا انجام ہوا کہ ہم نے انہیں اور ان کی ساری قوم کو ہلاک کر دیا۔
فَتِلْكَ بُيُوتُهُـمْ خَاوِيَةً بِمَا ظَلَمُوْا ۗ اِنَّ فِىْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّقَوْمٍ يَعْلَمُوْنَ (52)
سو یہ ان کے گھر ہیں جو ان کے ظلم کے سبب سے ویران پڑے ہیں، بے شک اس میں دانشمندوں کے لیے عبرت ہے۔
وَاَنْجَيْنَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا وَكَانُـوْا يَتَّقُوْنَ (53)
اور ہم نے ایمان اور تقوٰی والوں کو نجات دی۔
وَلُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٓ ٖ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ وَاَنْتُـمْ تُبْصِرُوْنَ (54)
اور لوط کو، جب اس نے اپنی قوم سے کہا کیا تم بے حیائی کرتے ہو حالانکہ تم سمجھ دار ہو۔
اَئِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِ ۚ بَلْ اَنْتُـمْ قَوْمٌ تَجْهَلُوْنَ (55)
کیا تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں پر خواہش کر کے آتے ہو، بلکہ تم لوگ جاہل ہو۔
فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٓ ٖ اِلَّآ اَنْ قَالُـوٓا اَخْرِجُـوٓا اٰلَ لُوْطٍ مِّنْ قَرْيَتِكُمْ ۖ اِنَّـهُـمْ اُنَاسٌ يَّتَطَهَّرُوْنَ (56)
پھر اس کی قوم کا اور کوئی جواب نہ تھا سوائے اس کے کہ یہ کہا لوط کے گھر والوں کو اپنی بستی سے نکال دو، یہ لوگ بڑے پاک بنتے ہیں۔
فَاَنْجَيْنَاهُ وَاَهْلَـهٝٓ اِلَّا امْرَاَتَهٝ ۖ قَدَّرْنَاهَا مِنَ الْغَابِـرِيْنَ (57)
پھر ہم نے لوط اور اس کے گھر والوں کو سوائے اس کی بیوی کے بچا لیا، ہم اس کو پیچھے رہنے والوں میں ٹھہرا چکے تھے۔
وَاَمْطَرْنَا عَلَيْـهِـمْ مَّطَرًا ۖ فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِيْنَ (58)
اور ہم نے ان پر مینہ برسایا، پھر ڈرائے ہوؤں کا مینہ برا تھا۔
قُلِ الْحَـمْدُ لِلّـٰهِ وَسَلَامٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّـذِيْنَ اصْطَفٰى ۗ آللَّـهُ خَيْـرٌ اَمَّا يُشْرِكُـوْنَ (59)
کہہ دے سب تعریف اللہ کے لیے ہے اور اس کے برگزیدہ بندوں پر سلام ہے، بھلا اللہ بہتر ہے یا جنہیں وہ شریک بناتے ہیں۔
اَمَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضَ وَاَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَنْبَتْنَا بِهٖ حَدَآئِقَ ذَاتَ بَهْجَةٍۚ مَّا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُنْبِتُـوْا شَجَرَهَا ۗ ءَاِلٰـهٌ مَّعَ اللّـٰهِ ۚ بَلْ هُـمْ قَوْمٌ يَّعْدِلُوْنَ (60)
بھلا کس نے آسمان اور زمین بنائے اور تمہارے لیے آسمان سے پانی اتارا پھر ہم نے اس سے رونق والے باغ اگائے، تمہارا کام نہ تھا کہ ان کے درخت اگاتے، کیا اللہ تعالٰی کے ساتھ کوئی اور بھی معبود ہے، بلکہ یہ لوگ کج روی کر رہے ہیں۔
اَمَّنْ جَعَلَ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّجَعَلَ خِلَالَـهَآ اَنْهَارًا وَّجَعَلَ لَـهَا رَوَاسِىَ وَجَعَلَ بَيْنَ الْبَحْرَيْنِ حَاجِزًا ۗ ءَاِلٰـهٌ مَّعَ اللّـٰهِ ۚ بَلْ اَكْثَرُهُـمْ لَا يَعْلَمُوْنَ (61)
بھلا زمین کو ٹھہرنے کی جگہ کس نے بنایا اور اس میں ندیاں جاری کیں اور زمین کے لنگر بنائے اور دو دریاؤں میں پردہ رکھا، کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور بھی معبود ہے، بلکہ اکثر ان میں بے سمجھ ہیں۔
اَمَّنْ يُّجِيْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوٓءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَآءَ الْاَرْضِ ۗ ءَاِلٰـهٌ مَّعَ اللّـٰهِ ۚ قَلِيْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَ (62)
بھلا کون ہے جو بے قرار کی دعا قبول کرتا ہے اور برائی کو دور کرتا ہے اور تمہیں زمین میں نائب بناتا ہے، کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے، تم بہت ہی کم سمجھتے ہو۔
اَمَّنْ يَّهْدِيْكُمْ فِىْ ظُلُمَاتِ الْبَـرِّ وَالْبَحْرِ وَمَنْ يُّرْسِلُ الرِّيَاحَ بُشْرًا بَيْنَ يَدَىْ رَحْـمَتِهٖ ۗ ءَاِلٰـهٌ مَّعَ اللّـٰهِ ۚ تَعَالَى اللّـٰهُ عَمَّا يُشْرِكُـوْنَ (63)
بھلا کون ہے جو تمہیں جنگل اور دریا کے اندھیروں میں راستہ بتاتا ہے اور اپنی رحمت سے پہلے کون خوشخبری کی ہوائیں چلاتا ہے، کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے، اللہ ان کے شرک کرنے سے بہت بلند ہے۔
اَمَّنْ يَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُـمَّ يُعِيْدُهٝ وَمَنْ يَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ ۗ ءَاِلٰـهٌ مَّعَ اللّـٰهِ ۚ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ كُنْتُـمْ صَادِقِيْنَ (64)
بھلا کون ہے جو از سرِ نو خلقت کو پیدا کرتا ہے پھر اسے دوبارہ بنائے گا اور کون ہے وہ جو تمہیں آسمان اور زمین سے روزی دیتا ہے، کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور بھی معبود ہے، کہہ دے اپنی دلیل لاؤ اگر تم سچے ہو۔
قُلْ لَّا يَعْلَمُ مَنْ فِى السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ الْغَيْبَ اِلَّا اللّـٰهُ ۚ وَمَا يَشْعُرُوْنَ اَيَّانَ يُبْعَثُوْنَ (65)
کہہ دے اللہ کے سوا آسمانوں اور زمین میں کوئی بھی غیب کی بات نہیں جانتا، اور انہیں اس کی بھی خبر نہیں کہ کب اٹھائے جائیں گے۔
بَلِ ادَّارَكَ عِلْمُهُـمْ فِى الْاٰخِرَةِ ۚ بَلْ هُـمْ فِىْ شَكٍّ مِّنْـهَا ۖ بَلْ هُـمْ مِّنْـهَا عَمُوْنَ (66)
بلکہ آخرت کے معاملے میں تو ان کی سمجھ گئی گزری ہے، بلکہ وہ اس سے شک میں ہیں، بلکہ وہ اس سے اندھے ہی ہیں۔
وَقَالَ الَّـذِيْنَ كَفَرُوٓا ءَاِذَا كُنَّا تُرَابًا وَّاٰبَـآؤُنَـآ اَئِنَّا لَمُخْرَجُوْنَ (67)
اور کافر کہتے ہیں کہ کیا جب ہم اور ہمارے باپ دادا مٹی ہوگئے کیا ہم زمین سے نکالے جائیں گے۔
لَقَدْ وُعِدْنَا هٰذَا نَحْنُ وَاٰبَـآؤُنَـا مِنْ قَبْلُ ۙ اِنْ هٰذَآ اِلَّآ اَسَاطِيْـرُ الْاَوَّلِيْنَ (68)
اس کا تو ہم سے اور ہمارے پہلے باپ دادا سے وعدہ ہوتا آیا ہے، یہ تو صرف پہلوں کی کہانیاں ہیں۔
قُلْ سِيْـرُوْا فِى الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِيْنَ (69)
کہہ دے تم زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ گناہگاروں کا کیا انجام ہوا۔
وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْـهِـمْ وَلَا تَكُنْ فِىْ ضَيْقٍ مِّمَّا يَمْكُـرُوْنَ (70)
اور ان پر غم نہ کر اور ان کے فریب کرنے سے تنگ دل نہ ہو۔
وَيَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُـمْ صَادِقِيْنَ (71)
اور کہتے ہیں یہ وعدہ کب ہوگا اگر تم سچے ہو۔
قُلْ عَسٰٓى اَنْ يَّكُـوْنَ رَدِفَ لَكُمْ بَعْضُ الَّـذِىْ تَسْتَعْجِلُوْنَ (72)
کہہ دے شاید بعض وہ چیزیں جن کی تم جلدی کرتے ہو تمہاری پیٹھ کے پیچھے آ لگی ہوں۔
وَاِنَّ رَبَّكَ لَـذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَهُـمْ لَا يَشْكُـرُوْنَ (73)
اور بے شک تیرا رب تو لوگوں پر فضل کرتا ہے لیکن ان میں سے اکثر شکر نہیں کرتے۔
وَاِنَّ رَبَّكَ لَيَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوْرُهُـمْ وَمَا يُعْلِنُـوْنَ (74)
اور بے شک تیرا رب جانتا ہے جو ان کے دلوں میں پوشیدہ ہے اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں۔
وَمَا مِنْ غَآئِبَةٍ فِى السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ اِلَّا فِىْ كِتَابٍ مُّبِيْنٍ (75)
اور آسمان اور زمین میں ایسی کوئی پوشیدہ بات نہیں جو روشن کتاب میں نہ ہو۔
اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ يَقُصُّ عَلٰى بَنِىٓ اِسْرَآئِيْلَ اَكْثَرَ الَّـذِىْ هُـمْ فِيْهِ يَخْتَلِفُوْنَ (76)
بے شک یہ قرآن بنی اسرائیل پر اکثر ان باتوں کو ظاہر کرتا ہے جن میں وہ اختلاف کرتے ہیں۔
وَاِنَّهٝ لَـهُدًى وَّرَحْـمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ (77)
اور بے شک وہ ایمانداروں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔
اِنَّ رَبَّكَ يَقْضِىْ بَيْنَـهُـمْ بِحُكْمِهٖ ۚ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْعَلِيْـمُ (78)
بے شک تیرا رب ان کے درمیان اپنے حکم سے فیصلہ کرے گا، اور وہ غالب علم والا ہے۔
فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّـٰهِ ۖ اِنَّكَ عَلَى الْحَقِّ الْمُبِيْنِ (79)
سو اللہ پر بھروسہ کر، بے شک تو صریح حق پر ہے۔
اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَلَا تُسْمِـعُ الصُّمَّ الـدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِـرِيْنَ (80)
البتہ تو مردوں کو نہیں سنا سکتا اور نہ بہروں کو اپنی پکار سنا سکتا ہے جب وہ پیٹھ پھیر کر لوٹیں۔
وَمَآ اَنْتَ بِـهَادِى الْعُمْىِ عَنْ ضَلَالَتِـهِـمْ ۖ اِنْ تُسْمِـعُ اِلَّا مَنْ يُّؤْمِنُ بِاٰيَاتِنَا فَهُـمْ مُّسْلِمُوْنَ (81)
اور نہ تو اندھوں کو ان کی گمراہی دور کر کے ہدایت کر سکتا ہے، تو ان ہی کو سنا سکتا ہے جو ہماری آیتوں پر ایمان لائیں سو وہی مان بھی لیتے ہیں۔
وَاِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْـهِـمْ اَخْرَجْنَا لَـهُـمْ دَآبَّةً مِّنَ الْاَرْضِ تُكَلِّمُهُـمْ اَنَّ النَّاسَ كَانُـوْا بِاٰيَاتِنَا لَا يُوْقِنُـوْنَ (82)
اور جب ان پر وعدہ پورا ہوگا تو ہم ان کے لیے زمین سے ایک جانور نکالیں گے جو ان سے باتیں کرے گا کہ لوگ ہماری آیتوں پر یقین نہیں لاتے تھے۔
وَيَوْمَ نَحْشُرُ مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ فَوْجًا مِّمَّنْ يُّكَذِّبُ بِاٰيَاتِنَا فَهُـمْ يُوْزَعُوْنَ (83)
اور جس دن ہم ہر امت میں سے ایک گروہ ان لوگوں کا جمع کریں گے جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے تھے پھر ان کی جماعت بندی ہوگی۔
حَتّــٰٓى اِذَا جَآءُوْا قَالَ اَكَذَّبْتُـمْ بِاٰيَاتِىْ وَلَمْ تُحِيْطُوْا بِـهَا عِلْمًا اَمَّاذَا كُنْتُـمْ تَعْمَلُوْنَ (84)
یہاں تک کہ جب سب حاضر ہوں گے کہے گا کیا تم نے میری آیتوں کو جھٹلایا تھا حالانکہ تم انہیں سمجھے بھی نہ تھے، یا تم کیا کرتے رہے ہو۔
وَوَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْـهِـمْ بِمَا ظَلَمُوْا فَهُـمْ لَا يَنْطِقُوْنَ (85)
اور ان کے ظلم سے ان پر الزام قائم ہو جائے گا پھر وہ بول بھی نہ سکیں گے۔
اَلَمْ يَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا اللَّيْلَ لِيَسْكُنُـوْا فِيْهِ وَالنَّـهَارَ مُبْصِرًا ۚ اِنَّ فِىْ ذٰلِكَ لَاٰيَاتٍ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُـوْنَ (86)
کیا نہیں دیکھتے کہ ہم نے رات بنائی تاکہ اس میں چین حاصل کریں اور دیکھنے کو دن بنایا، البتہ اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو ایمان لاتے ہیں۔
وَيَوْمَ يُنْفَخُ فِى الصُّوْرِ فَفَزِعَ مَنْ فِى السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِى الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّـٰهُ ۚ وَكُلٌّ اَتَوْهُ دَاخِرِيْنَ (87)
اور جس دن صور پھونکا جائے گا تو جو کوئی آسمان میں ہے اور جو کوئی زمین میں ہے سب ہی گھبرائیں گے مگر جسے اللہ چاہے، اور سب اس کے پاس عاجز ہو کر چلے آئیں گے۔
وَتَـرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُـهَا جَامِدَةً وَّّهِىَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ ۚ صُنْـعَ اللّـٰهِ الَّـذِىٓ اَتْقَنَ كُلَّ شَىْءٍ ۚ اِنَّهٝ خَبِيْـرٌ بِمَا تَفْعَلُوْنَ (88)
اور تو جو پہاڑوں کو جمے ہوئے دیکھ رہا ہے یہ تو بادلوں کی طرح اڑتے پھریں گے، اس اللہ کی کاریگری سے جس نے ہر چیز کو مضبوط بنا رکھا ہے، اسے خبر ہے جو تم کرتے ہو۔
مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَـهٝ خَيْـرٌ مِّنْهَاۚ وَهُـمْ مِّنْ فَزَعٍ يَّوْمَئِذٍ اٰمِنُـوْنَ (89)
جو نیکی لائے گا سو اسے اس سے بہتر بدلہ ملے گا اور وہ اس دن کی گھبراہٹ سے بھی امن میں ہوں گے۔
وَمَنْ جَآءَ بِالسَّيِّئَةِ فَكُـبَّتْ وُجُوْهُهُـمْ فِى النَّارِ ؕ هَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُـمْ تَعْمَلُوْنَ (90)
اور جو برائی لائے گا سو ان کے منہ آگ میں اوندھے ڈالے جائیں گے، تمہیں وہی بدلہ مل رہا ہے جو تم کرتے تھے۔
اِنَّمَآ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ رَبَّ هٰذِهِ الْبَلْـدَةِ الَّـذِىْ حَرَّمَهَا وَلَـهٝ كُلُّ شَىْءٍ ۖ وَاُمِرْتُ اَنْ اَكُـوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ (91)
مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ اس شہر کے مالک کی بندگی کروں جس نے اسے عزت دی ہے اور ہر ایک چیز اسی کی ہے، اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں فرمانبرداروں میں رہوں۔
وَاَنْ اَتْلُوَ الْقُرْاٰنَ ۖ فَمَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا يَـهْتَدِىْ لِنَفْسِهٖ ۖ وَمَنْ ضَلَّ فَقُلْ اِنَّمَآ اَنَا مِنَ الْمُنْذِرِيْنَ (92)
اور یہ بھی کہ قرآن سنا دوں، پھر جو کوئی راہ پر آ گیا تو وہ اپنے بھلے کو راہ پر آتا ہے، اور جو گمراہ ہوا تو کہہ دو میں تو صرف ڈرانے والوں میں سے ہوں۔
وَقُلِ الْحَـمْدُ لِلّـٰهِ سَيُـرِيْكُمْ اٰيَاتِهٖ فَتَعْرِفُوْنَـهَا ۚ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ (93)
اور کہہ دو سب تعریف اللہ کے لیے ہے تمہیں عنقریب اپنی نشانیاں دکھا دے گا، پھر تم انہیں پہچان لو گے اور تیرا رب اس سے بے خبر نہیں جو تم کرتے ہو۔