قرآن حکیم            

مکمل سورت
سورت نمبر
آیت نمبر
ایک آیت
(20) سورۃ طہ (مکی، آیات 135)
بِسْمِ اللّـٰهِ الرَّحْـمٰنِ الرَّحِيْـمِ
ٰطهٰ (1)
ط ہ۔
مَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰى (2)
ہم نے تم پر قرآن اس لیے نازل نہیں کیا کہ تم تکلیف اٹھاؤ۔
اِلَّا تَذْكِـرَةً لِّمَنْ يَّخْشٰى (3)
بلکہ اس شخص کے لیے نصیحت ہے جو ڈرتا ہے۔
تَنْزِيْلًا مِّمَّنْ خَلَقَ الْاَرْضَ وَالسَّمَاوَاتِ الْعُـلٰى (4)
اس کی طرف سے نازل ہوا ہے جس نے زمین اور بلند آسمانوں کو پیدا کیا۔
اَلرَّحْـمٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوٰى (5)
رحمان جو عرش پر جلوہ گر ہے۔
لَـهٝ مَا فِى السَّمَاوَاتِ وَمَا فِى الْاَرْضِ وَمَا بَيْنَـهُمَا وَمَا تَحْتَ الثَّرٰى (6)
اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور جو کچھ گیلی زمین کے نیچے ہے۔
وَاِنْ تَجْهَرْ بِالْقَوْلِ فَاِنَّهٝ يَعْلَمُ السِّـرَّ وَاَخْفٰى (7)
اور اگر تو پکار کر بات کہے تو وہ پوشیدہ اور اس سے بھی زیادہ پوشیدہ کو جانتا ہے۔
اَللّـٰهُ لَآ اِلٰـهَ اِلَّا هُوَ ۖ لَـهُ الْاَسْـمَآءُ الْحُسْنٰى (8)
اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، اس کے سب نام اچھے ہیں۔
وَهَلْ اَتَاكَ حَدِيْثُ مُوْسٰى (9)
اور کیا تجھے موسٰی کی بات پہنچی ہے۔
اِذْ رَاٰ نَارًا فَقَالَ لِاَهْلِـهِ امْكُـثُـوٓا اِنِّـىٓ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّـىٓ اٰتِيْكُمْ مِّنْـهَا بِقَبَسٍ اَوْ اَجِدُ عَلَى النَّارِ هُدًى (10)
جب اس نے آگ دیکھی تو اپنے گھر والوں سے کہا کہ ٹھہرو میں نے آگ دیکھی ہے شاید کہ میں اس سے تمہارے پاس کوئی چنگاری لاؤں یا وہاں کوئی رہبر پاؤں۔
فَلَمَّآ اَتَاهَا نُـوْدِىَ يَا مُوْسٰى (11)
پھر جب وہ اس کے پاس آئے تو آواز آئی کہ اے موسٰی۔
اِنِّـىٓ اَنَا رَبُّكَ فَاخْلَعْ نَعْلَيْكَ ۖ اِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى (12)
میں تمہارا رب ہوں سو تم اپنی جوتیاں اتار دو، بے شک تم پاک وادی طوٰی میں ہو۔
وَاَنَا اخْتَـرْتُكَ فَاسْتَمِعْ لِمَا يُوْحٰى (13)
اور میں نے تجھے پسند کیا ہے جو کچھ وحی کی جارہی ہےاسے سن لو۔
اِنَّنِىٓ اَنَا اللّـٰهُ لَآ اِلٰـهَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدْنِىْۙ وَاَقِمِ الصَّلَاةَ لِـذِكْرِىْ (14)
بے شک میں ہی اللہ ہوں میرے سوا کوئی معبود نہیں پس میری ہی بندگی کر، اور میری ہی یاد کے لیے نماز پڑھا کر۔
اِنَّ السَّاعَةَ اٰتِيَةٌ اَكَادُ اُخْفِيْـهَا لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍ بِمَا تَسْعٰى (15)
بے شک قیامت آنے والی ہے میں اسے پوشیدہ رکھنا چاہتا ہوں تاکہ ہر شخص کو اس کے کیے کا بدلہ مل جائے۔
فَلَا يَصُدَّنَّكَ عَنْـهَا مَنْ لَّا يُؤْمِنُ بِـهَا وَاتَّبَعَ هَوَاهُ فَـتَـرْدٰى (16)
سو تمہیں قیامت سے ایسا شخص باز نہ رکھنے پائے جو اس پر ایمان نہیں رکھتا اور اپنی خواہشوں پر چلتا ہے کہ پھر تم تباہ ہوجاؤ۔
وَمَا تِلْكَ بِـيَمِيْنِكَ يَا مُوْسٰى (17)
اور اے موسٰی تیرے دائیں ہاتھ میں کیا ہے۔
قَالَ هِىَ عَصَاىَۚ اَتَوَكَّؤُا عَلَيْـهَا وَاَهُشُّ بِـهَا عَلٰى غَنَمِىْ وَلِىَ فِيْـهَا مَاٰرِبُ اُخْرٰى (18)
کہا یہ میری لاٹھی ہے، اس پر ٹیک لگاتا ہوں اور اس سے اپنی بکریوں پر پتے جھاڑتا ہوں اور اس میں میرے لیے اور بھی فائدے ہیں۔
قَالَ اَلْقِهَا يَا مُوْسٰى (19)
فرمایا اے موسٰی اسے ڈال دو۔
فَاَلْقَاهَا فَاِذَا هِىَ حَيَّةٌ تَسْعٰى (20)
پھر اسے ڈال دیا تو اسی وقت وہ دوڑتا ہوا سانپ ہوگیا۔
قَالَ خُذْهَا وَلَا تَخَفْ ۖ سَنُعِيْدُهَا سِيْـرَتَـهَا الْاُوْلٰى (21)
فرمایا اسے پکڑ لے اور نہ ڈر، ہم ابھی اسے پہلی حالت پر پھیر دیں گے۔
وَاضْمُمْ يَدَكَ اِلٰى جَنَاحِكَ تَخْرُجْ بَيْضَآءَ مِنْ غَيْـرِ سُوٓءٍ اٰيَةً اُخْرٰى (22)
اور اپنا ہاتھ اپنی بغل سے ملا دے بلا عیب سفید ہو کر نکلے گا یہ دوسری نشانی ہے۔
لِنُرِيَكَ مِنْ اٰيَاتِنَا الْكُبْـرٰى (23)
تاکہ ہم تجھے اپنی بڑی نشانیوں میں سے بعض دکھائیں۔
اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٝ طَغٰى (24)
فرعون کے پاس جا بے شک وہ سرکش ہو گیا ہے۔
قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِىْ صَدْرِىْ (25)
کہا اے میرے رب میرا سینہ کھول دے۔
وَيَسِّـرْ لِـىٓ اَمْرِىْ (26)
اور میرا کام آسان کر۔
وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِىْ (27)
اور میری زبان سے گرہ کھول دے۔
يَفْقَهُوْا قَوْلِىْ (28)
کہ میری بات سمجھ لیں۔
وَاجْعَلْ لِّىْ وَزِيْـرًا مِّنْ اَهْلِىْ (29)
اور میرے لیے میرے کنبے میں سے ایک معاون بنا دے۔
هَارُوْنَ اَخِىْ (30)
ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔
اُشْدُدْ بِهٓ ٖ اَزْرِىْ (31)
اس سے میری کمر مضبوط کردے۔
وَاَشْرِكْهُ فِىٓ اَمْرِىْ (32)
اور اسے میرے کام میں شریک کر دے۔
كَىْ نُسَبِّحَكَ كَثِيْـرًا (33)
تاکہ ہم تیری پاک ذات کا بہت بیان کریں۔
وَنَذْكُـرَكَ كَثِيْـرًا (34)
اور تجھے بہت یاد کریں۔
اِنَّكَ كُنْتَ بِنَا بَصِيْـرًا (35)
بے شک تو ہمیں خوب دیکھتا ہے۔
قَالَ قَدْ اُوْتِيْتَ سُؤْلَكَ يَا مُوْسٰى (36)
فرمایا اے موسٰی تیری درخواست منظور ہے۔
وَلَقَدْ مَنَنَّا عَلَيْكَ مَرَّةً اُخْرٰى (37)
اور البتہ تحقیق ہم نے تجھ پر ایک دفعہ اور بھی احسان کیا ہے۔
اِذْ اَوْحَيْنَـآ اِلٰٓى اُمِّكَ مَا يُوْحٰٓى (38)
جب ہم نے تیری ماں کے دل میں بات ڈال دی تھی۔
اَنِ اقْذِفِيْهِ فِى التَّابُوْتِ فَاقْذِفِيْهِ فِى الْيَـمِّ فَلْيُلْقِهِ الْيَـمُّ بِالسَّاحِلِ يَاْخُذْهُ عَدُوٌّ لِّىْ وَعَدُوٌّ لَّـهٝ ۚ وَاَلْقَيْتُ عَلَيْكَ مَحَبَّةً مِّنِّىْۚ وَلِتُصْنَـعَ عَلٰى عَيْنِىْ (39)
کہ اسے صندوق میں ڈال دے پھر اسے دریا میں ڈال دے پھر دریا اسے کنارے پر ڈال دے گا اسے میرا دشمن اور اس کا دشمن اٹھا لے گا، اور میں نے تجھ پر اپنی طرف سے محبت ڈال دی، اور تاکہ تو میرے سامنے پرورش پائے۔
اِذْ تَمْشِىٓ اُخْتُكَ فَتَقُوْلُ هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰى مَنْ يَّكْـفُلُـهٝ ۖ فَرَجَعْنَاكَ اِلٰٓى اُمِّكَ كَىْ تَقَرَّ عَيْنُـهَا وَلَا تَحْزَنَ ۚ وَقَتَلْتَ نَفْسًا فَنَجَّيْنَاكَ مِنَ الْغَمِّ وَفَتَنَّاكَ فُتُوْنًا ۚ فَلَبِثْتَ سِنِيْنَ فِىٓ اَهْلِ مَدْيَنَ ثُـمَّ جِئْتَ عَلٰى قَدَرٍ يَّا مُوْسٰى (40)
جب تیری بہن کہتی جا رہی تھی کیا تمہیں ایسی عورت بتاؤں جو اسے اچھی طرح پالے، پھر ہم نے تجھے تیری ماں کے پاس پہنچا دیا کہ اس کی آنکھ ٹھنڈی ہو اور غم نہ کھائے، اور تو نے ایک شخص کو مار ڈالا پھر ہم نے تجھے اس غم سے نکالا اور ہم نے تجھے کئی مرتبہ آزمائش میں ڈالا، پھر تو مدین والوں میں کئی برس رہا پھر تو اے موسٰی تقدیر سے یہاں آیا۔
وَاصْطَنَعْتُكَ لِنَفْسِىْ (41)
اور میں نے تجھے خاص اپنے واسطے بنایا۔
اِذْهَبْ اَنْتَ وَاَخُوْكَ بِاٰيَاتِىْ وَلَا تَنِيَا فِى ذِكْرِىْ (42)
تو اور تیرا بھائی میری نشانیاں لے کر جاؤ اور میری یاد میں کوتاہی نہ کرو۔
اِذْهَبَآ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٝ طَغٰى (43)
فرعون کے پاس جاؤ بے شک وہ سرکش ہو گیا ہے۔
فَقُوْلَا لَـهٝ قَوْلًا لَّيِّنًا لَّـعَلَّـهٝ يَتَذَكَّـرُ اَوْ يَخْشٰى (44)
سو اس سے نرمی سے بات کرو شاید وہ نصیحت حاصل کرے یا ڈر جائے۔
قَالَا رَبَّنَـآ اِنَّنَا نَخَافُ اَنْ يَّفْرُطَ عَلَيْنَـآ اَوْ اَنْ يَّطْغٰى (45)
کہا اے ہمارے رب ہمیں ڈر ہے کہ وہ ہم پر زیادتی کرے یا یہ کہ زیادہ سرکشی کرے۔
قَالَ لَا تَخَافَـآ اِنَّنِىْ مَعَكُـمَآ اَسْـمَعُ وَاَرٰى (46)
فرمایا ڈرو مت میں تمہارے ساتھ سنتا اور دیکھتا ہوں۔
فَاْتِيَاهُ فَقُوْلَآ اِنَّا رَسُوْلَا رَبِّكَ فَاَرْسِلْ مَعَنَا بَنِىٓ اِسْرَآئِيْلَ وَلَا تُعَذِّبْـهُـمْ ۖ قَدْ جِئْنَاكَ بِاٰيَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ ۖ وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى (47)
سو تم دونوں اس کے پاس جاؤ اور کہو کہ بے شک ہم تیرے رب کی طرف سے پیغام لے کر آئے ہیں کہ بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے اور انہیں تکلیف نہ دے، ہم تیرے پاس تیرے رب کی طرف سے نشانی لے کر آئے ہیں، اور سلامتی اس کے لیے ہے جو سیدھی راہ پر چلے۔
اِنَّا قَدْ اُوْحِىَ اِلَيْنَـآ اَنَّ الْعَذَابَ عَلٰى مَنْ كَذَّبَ وَتَوَلّـٰى (48)
بے شک ہمیں وحی سے بتایا گیا ہے کہ عذاب اسی پر ہوگا جو جھٹلائے اور منہ پھیر لے۔
قَالَ فَمَنْ رَّبُّكُـمَا يَا مُوْسٰى (49)
کہا اے موسٰی پھر تمہارا رب کون ہے۔
قَالَ رَبُّنَا الَّـذِىٓ اَعْطٰى كُلَّ شَىْءٍ خَلْقَهٝ ثُـمَّ هَدٰى (50)
کہا ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی صورت عطا کی پھر راہ دکھائی۔
قَالَ فَمَا بَالُ الْقُرُوْنِ الْاُوْلٰى (51)
کہا پھر پہلی جماعتوں کا کیا حال ہے۔
قَالَ عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّىْ فِىْ كِتَابٍ ۖ لَّا يَضِلُّ رَبِّىْ وَلَا يَنْسَى (52)
کہا ان کا علم میرے رب کے ہاں کتاب میں ہے، میرا رب نہ غلطی کرتا ہے اور نہ بھولتا ہے۔
اَلَّـذِىْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا وَّسَلَكَ لَكُمْ فِيْـهَا سُبُلًا وَّاَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً ۖ فَاَخْرَجْنَا بِهٓ ٖ اَزْوَاجًا مِّنْ نَّبَاتٍ شَتّـٰى (53)
جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا بنایا اور تمہارے لیے اس میں راستے بنائے اور آسمان سے پانی نازل کیا، پھر ہم نے اس میں طرح طرح کی مختلف سبزیاں نکالیں۔
كُلُوْا وَارْعَوْا اَنْعَامَكُمْ ۗ اِنَّ فِىْ ذٰلِكَ لَاٰيَاتٍ لِّاُولِى النُّـهٰى (54)
کھاؤ اور اپنے مویشیوں کو چراؤ، بے شک اس میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔
مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ وَفِيْـهَا نُعِيْدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً اُخْرٰى (55)
اسی زمین سے ہم نے تمہیں بنایا اور اسی میں لوٹائیں گے اور دوبارہ اِسی سے نکالیں گے۔
وَلَقَدْ اَرَيْنَاهُ اٰيَاتِنَا كُلَّهَا فَكَذَّبَ وَاَبٰى (56)
اور ہم نے فرعون کو اپنی سب نشانیاں دکھا دیں پھر اس نے جھٹلایا اور انکار کیا۔
قَالَ اَجِئْتَنَا لِتُخْرِجَنَا مِنْ اَرْضِنَا بِسِحْرِكَ يَا مُوْسٰى (57)
کہا اے موسٰی کیا تو ہمیں اپنے جادو سے ہمارے ملک سے نکالنے کے لیے آیا ہے۔
فَلَنَاْتِيَنَّكَ بِسِحْرٍ مِّثْلِـهٖ فَاجْعَلْ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ مَوْعِدًا لَّا نُخْلِفُهٝ نَحْنُ وَلَآ اَنْتَ مَكَانًا سُوًى (58)
سو ہم بھی تیرے مقابلے میں ایک ایسا ہی جادو لائیں گے سو ہمارے اور اپنے درمیان ایک وعدہ مقرر کر دے نہ ہم اس کے خلاف کریں اور نہ تو، کسی صاف میدان میں۔
قَالَ مَوْعِدُكُمْ يَوْمُ الزِّيْنَةِ وَاَنْ يُّحْشَرَ النَّاسُ ضُحًى (59)
کہا تمہارا وعدہ جشن کا دن ہے اور دن چڑھے لوگ اکٹھے کیے جائیں۔
فَـتَوَلّـٰى فِرْعَوْنُ فَجَمَعَ كَيْدَهٝ ثُـمَّ اَتٰى (60)
پھر فرعون لوٹ گیا اور اپنے مکر کا سامان جمع کیا پھر آیا۔
قَالَ لَـهُـمْ مُّوْسٰى وَيْلَكُمْ لَا تَفْتَـرُوْا عَلَى اللّـٰهِ كَذِبًا فَيُسْحِتَكُمْ بِعَذَابٍ ۖ وَقَدْ خَابَ مَنِ افْتَـرٰى (61)
موسٰی نے کہا افسوس تم اللہ پر بہتان نہ باندھو ورنہ وہ کسی عذاب سے تمہیں ہلاک کر دے گا، اور بے شک جس نے جھوٹ بنایا وہ غارت ہوا۔
فَتَنَازَعُوٓا اَمْرَهُـمْ بَيْنَـهُـمْ وَاَسَرُّوا النَّجْوٰى (62)
پھر ان کا آپس میں اختلاف ہو گیا اور خفیہ گفتگو کرتے رہے۔
قَالُـوٓا اِنْ هٰذَانِ لَسَاحِرَانِ يُرِيْدَانِ اَنْ يُّخْرِجَاكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِهِمَا وَيَذْهَبَا بِطَـرِيْقَتِكُمُ الْمُثْلٰى (63)
کہا بے شک یہ دونوں جادوگر ہیں چاہتے ہیں کہ اپنے جادو کے زور سے تمہیں تمہارے ملک سے نکال دیں اور تمہارے عمدہ طریقہ کو موقوف کر دیں۔
فَاَجْـمِعُوْا كَيْدَكُمْ ثُـمَّ ائْـتُـوْا صَفًّا ۚ وَقَدْ اَفْلَحَ الْيَوْمَ مَنِ اسْتَعْلٰى (64)
پھر تم اپنی تدبیر جمع کر کے صف باندھ کر آؤ، اور تحقیق آج جیت گیا جو غالب رہا۔
قَالُوْا يَا مُوْسٰٓى اِمَّآ اَنْ تُلْقِىَ وَاِمَّآ اَنْ نَّكُـوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَلْقٰى (65)
کہا اے موسٰی یا تو ڈال اور یا ہم پہلے ڈالنے والے ہوں۔
قَالَ بَلْ اَلْقُوْا ۖ فَاِذَا حِبَالُـهُـمْ وَعِصِيُّـهُـمْ يُخَيَّلُ اِلَيْهِ مِنْ سِحْرِهِـمْ اَنَّـهَا تَسْعٰى (66)
کہا بلکہ تم ڈالو، پس اچانک ان کی رسیاں اور لاٹھیاں ان کے جادو سے اس کے خیال میں دوڑ رہی ہیں۔
فَاَوْجَسَ فِىْ نَفْسِهٖ خِيْفَةً مُّوْسٰى (67)
پھر موسٰی نے اپنے دل میں ڈر محسوس کیا۔
قُلْنَا لَا تَخَفْ اِنَّكَ اَنْتَ الْاَعْلٰى (68)
ہم نے کہا ڈرو مت بے شک تو ہی غالب ہوگا۔
وَاَلْقِ مَا فِىْ يَمِيْنِكَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوْا ۖ اِنَّمَا صَنَعُوْا كَيْدُ سَاحِرٍ ۖ وَلَا يُفْلِـحُ السَّاحِرُ حَيْثُ اَتٰى (69)
اور جو تیرے دائیں ہاتھ میں ہے ڈال دے کہ نگل جائے جو کچھ کہ انہوں نے بنایا ہے، صرف جادوگر کا فریب ہے، اور جادوگر کا بھلا نہیں ہوتا جہاں بھی ہو۔
فَاُلْقِىَ السَّحَرَةُ سُجَّدًا قَالُـوٓا اٰمَنَّا بِرَبِّ هَارُوْنَ وَ مُوْسٰى (70)
پھر جادوگر سجدہ میں گر پڑے کہا ہم ہارون اور موسٰی کے رب پر ایمان لائے۔
قَالَ اٰمَنْتُـمْ لَـهٝ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ ۖ اِنَّهٝ لَكَبِيْـرُكُمُ الَّـذِىْ عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ ۖ فَلَاُقَطِّعَنَّ اَيْدِيَكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ وَّلَاُصَلِّـبَنَّكُمْ فِىْ جُذُوْعِ النَّخْلِۖ وَلَـتَعْلَمُنَّ اَيُّنَـآ اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبْقٰى (71)
کہا تم میری اجازت سے پہلے ہی اس پر ایمان لے آئے، بے شک یہ تمہارا سردار ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا، سو اب میں تمہارے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹواؤں گا اور تمہیں کھجور کے تنوں پر سولی دوں گا، اور تمہیں معلوم ہوجائے گا ہم میں سے کس کا عذاب سخت اور دیر تک رہنے والا ہے۔
قَالُوْا لَنْ نُّؤْثِرَكَ عَلٰى مَا جَآءَنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالَّـذِىْ فَطَرَنَا ۖ فَاقْضِ مَآ اَنْتَ قَاضٍ ۖ اِنَّمَا تَقْضِىْ هٰذِهِ الْحَيَاةَ الـدُّنْيَا (72)
کہا ہم تجھے ہرگز ترجیح نہ دیں گے ان کھلی ہوئی نشانیوں کے مقابلہ میں جو ہمارے پاس آ چکی ہیں اور نہ اس کے مقابلہ میں جس نے ہمیں پیدا کیا ہے، سو تو کر گزر جو تجھے کرنا ہے، تو صرف اس دنیا کی زندگی پر حکم چلا سکتا ہے۔
اِنَّـآ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا لِيَغْفِرَ لَنَا خَطَايَانَا وَمَآ اَكْـرَهْتَنَا عَلَيْهِ مِنَ السِّحْرِ ۗ وَاللّـٰهُ خَيْـرٌ وَّاَبْقٰى (73)
بے شک ہم اپنے رب پر ایمان لائے ہیں تاکہ ہمارے گناہ معاف کرے اور جو تو نے ہم سے زبردستی جادو کرایا، اور اللہ بہتر اور سدا باقی رہنے والا ہے۔
اِنَّهٝ مَنْ يَّاْتِ رَبَّهٝ مُجْرِمًا فَاِنَّ لَـهٝ جَهَنَّـمَۖ لَا يَمُوْتُ فِيْـهَا وَلَا يَحْيٰى (74)
بے شک جو شخص اپنے رب کے پاس مجرم ہو کر آئے گا سو اس کے لیے دوزخ ہے، جس میں نہ مرے گا اور نہ جیے گا۔
وَمَنْ يَّاْتِهٖ مُؤْمِنًا قَدْ عَمِلَ الصَّالِحَاتِ فَاُولٰٓئِكَ لَـهُـمُ الـدَّرَجَاتُ الْعُلٰى (75)
اور جو اس کے پاس مومن ہو کر آئے گا حالانکہ اس نے اچھے کام بھی کیے ہوں تو ان کے لیے بلند مرتبے ہوں گے۔
جَنَّاتُ عَدْنٍ تَجْرِىْ مِنْ تَحْتِـهَا الْاَنْـهَارُ خَالِـدِيْنَ فِيْـهَا ۚ وَذٰلِكَ جَزَآءُ مَنْ تَزَكّـٰى (76)
ہمیشہ رہنے کے باغ جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے، اور یہ اس کی جزا ہے جو گناہ سے پاک ہوا۔
وَلَقَدْ اَوْحَيْنَـآ اِلٰى مُوْسٰٓى اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِىْ فَاضْرِبْ لَـهُـمْ طَرِيْقًا فِى الْبَحْرِ يَبَسًاۙ لَّا تَخَافُ دَرَكًا وَّلَا تَخْشٰى (77)
اور ہم نے البتہ موسٰی کو وحی کی کہ میرے بندوں کو راتوں رات لے جا پھر ان کے لیے دریا میں خشک راستہ بنا دے، پکڑے جانے سے نہ ڈر اور نہ کسی خطرہ کا خوف کھا۔
فَاَتْبَعَهُـمْ فِرْعَوْنُ بِجُنُـوْدِهٖ فَغَشِيَـهُـمْ مِّنَ الْيَـمِّ مَا غَشِيَـهُـمْ (78)
پھر فرعون نے اپنے لشکر کو لے کر ان کا پیچھا کیا پھر انہیں دریا نے ڈھانپ لیا جیسا ڈھانپا۔
وَاَضَلَّ فِرْعَوْنُ قَوْمَهٝ وَمَا هَدٰى (79)
اور فرعون نے اپنی قوم کو بہکایا اور راہ پر نہ لایا۔
يَا بَنِىٓ اِسْرَآئِيْلَ قَدْ اَنْجَيْنَاكُمْ مِّنْ عَدُوِّكُمْ وَوَاعَدْنَاكُمْ جَانِبَ الطُّوْرِ الْاَيْمَنَ وَنَزَّلْنَا عَلَيْكُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوٰى (80)
اے بنی اسرائیل ہم نے تمہیں تمہارے دشمن سے نجات دی اور تم سے طور کی دائیں طرف کا وعدہ کیا اور تم پر من و سلوٰی اتارا۔
كُلُوْا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَلَا تَطْغَوْا فِيْهِ فَيَحِلَّ عَلَيْكُمْ غَضَبِىْ ۖ وَمَنْ يَّحْلِلْ عَلَيْهِ غَضَبِىْ فَقَدْ هَوٰى (81)
کھاؤ جو ستھری چیزیں ہم نے تمہیں دی ہیں اور اس میں حد سے نہ گزرو کہ پھر تم پر میرا غضب نازل ہوگا، اور جس پر میرا غضب نازل ہوا سو وہ گڑھے میں جا گرا۔
وَاِنِّـىْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُـمَّ اهْتَدٰى (82)
اور بے شک میں بڑا بخشنے والا ہوں اس کو جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور اچھے کام کرے پھر ہدایت پر قائم رہے۔
وَمَآ اَعْجَلَكَ عَنْ قَوْمِكَ يَا مُوْسٰى (83)
اور اے موسٰی تجھے اپنی قوم سے پہلے جلدی آنے کا کیا سبب ہوا۔
قَالَ هُـمْ اُولَآءِ عَلٰٓى اَثَرِىْ وَعَجِلْتُ اِلَيْكَ رَبِّ لِتَـرْضٰى (84)
کہا وہ بھی میرے پیچھے یہ آ رہے ہیں اور اے میرے رب میں جلدی تیری طرف آیا تاکہ تو خوش ہو۔
قَالَ فَاِنَّا قَدْ فَـتَنَّا قَوْمَكَ مِنْ بَعْدِكَ وَاَضَلَّهُـمُ السَّامِـرِىُّ (85)
فرمایا تیری قوم کو تیرے بعد ہم نے آزمائش میں ڈال دیا ہے اور انہیں سامری نے گمراہ کردیا ہے۔
فَرَجَعَ مُوْسٰٓى اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا ۚ قَالَ يَا قَوْمِ اَلَمْ يَعِدْكُمْ رَبُّكُمْ وَعْدًا حَسَنًا ۚ اَفَطَالَ عَلَيْكُمُ الْعَهْدُ اَمْ اَرَدْتُّـمْ اَنْ يَّحِلَّ عَلَيْكُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَخْلَفْتُـمْ مَّوْعِدِىْ (86)
پھر موسٰی اپنی قوم کی طرف غصہ میں بھرے ہوئے افسوس کرتے ہوئے لوٹے، کہا اے میری قوم کیا تمہارے رب نے تم سے اچھا وعدہ نہیں کیا تھا، پھر کیا تم پر بہت زمانہ گزر گیا تھا یا تم نے چاہا کہ تم پر تمہارے رب کا غصہ نازل ہو تب تم نے مجھ سے وعدہ خلافی کی۔
قَالُوْا مَآ اَخْلَفْنَا مَوْعِدَكَ بِمَلْكِنَا وَلٰكِنَّا حُـمِّلْنَـآ اَوْزَارًا مِّنْ زِيْنَةِ الْقَوْمِ فَقَذَفْنَاهَا فَكَذٰلِكَ اَلْقَى السَّامِرِىُّ (87)
کہا ہم نے اپنے اختیار سے آپ سے وعدہ خلافی نہیں کی لیکن ہم سے اس قوم کے زیور کا بوجھ اٹھوایا گیا تھا سو ہم نے اسے ڈال دیا پھر اسی طرح سامری نے ڈال دیا۔
فَاَخْرَجَ لَـهُـمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّـهٝ خُـوَارٌ فَقَالُوْا هٰذَآ اِلٰـهُكُمْ وَاِلٰـهُ مُوْسٰىۖ فَـنَسِىْ (88)
پھر ان کے لیے ایک بچھڑا نکال لایا ایک جسم جس میں گائے کی آواز تھی، پھر کہا یہ تمہارا اور موسٰی کا معبود ہے، سو وہ بھول گیا ہے۔
اَفَلَا يَرَوْنَ اَلَّا يَرْجِــعُ اِلَيْـهِـمْ قَوْلًاۙ وَّلَا يَمْلِكُ لَـهُـمْ ضَرًّا وَّلَا نَفْعًا (89)
کیا پس وہ نہیں دیکھتے کہ وہ انہیں کسی بات کا جواب نہیں دیتا، اور ان کے نقصان اور نفع کا بھی اسے اختیار نہیں۔
وَلَقَدْ قَالَ لَـهُـمْ هَارُوْنُ مِنْ قَبْلُ يَا قَوْمِ اِنَّمَا فُتِنْتُـمْ بِهٖ ۖ وَاِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحْـمٰنُ فَاتَّبِعُوْنِىْ وَاَطِيْعُـوٓا اَمْرِىْ (90)
اور انہیں ہارون نے اس سے پہلے کہہ دیا تھا اے میری قوم اس سے تمہاری آزمائش کی گئی ہے، اور بے شک تمہارا رب رحمان ہے سو میری پیروی کرو اور میرا کہا مانو۔
قَالُوْا لَنْ نَّـبْـرَحَ عَلَيْهِ عَاكِفِيْنَ حَتّـٰى يَرْجِــعَ اِلَيْنَا مُوْسٰى (91)
کہا ہم برابر اسی پر جمے بیٹھے رہیں گے یہاں تک کہ موسٰی ہمارے پاس لوٹ کر آئے۔
قَالَ يَا هَارُوْنُ مَا مَنَعَكَ اِذْ رَاَيْتَـهُـمْ ضَلُّوْا (92)
کہا اے ہارون تمہیں کس چیز نے روکا جب تم نے دیکھا تھا کہ وہ گمراہ ہو گئے ہیں۔
اَلَّا تَـتَّبِعَنِ ۖ اَفَـعَصَيْتَ اَمْرِىْ (93)
تو میرے پیچھے نہ آیا، کیا تو نے بھی میری حکم عدولی کی۔
قَالَ يَا ابْنَ اُمَّ لَا تَاْخُذْ بِلِحْيَتِىْ وَلَا بِرَاْسِىْ ۖ اِنِّـىْ خَشِيْتُ اَنْ تَقُوْلَ فَرَّقْتَ بَيْنَ بَنِىٓ اِسْرَآئِيْلَ وَلَمْ تَـرْقُبْ قَوْلِىْ (94)
کہا اے میری ماں کے بیٹے میری داڑھی اور سر نہ پکڑ، بے شک میں ڈرا اس سے کہ تو کہے گا تو نے بنی اسرائیل میں پھوٹ ڈال دی اور میرے فیصلہ کا انتظار نہ کیا۔
قَالَ فَمَا خَطْبُكَ يَا سَامِرِىُّ (95)
کہا اے سامری تیرا کیا معاملہ ہے۔
قَالَ بَصُرْتُ بِمَا لَمْ يَبْصُرُوْا بِهٖ فَقَبَضْتُ قَبْضَةً مِّنْ اَثَرِ الرَّسُوْلِ فَنَبَذْتُـهَا وَكَذٰلِكَ سَوَّلَتْ لِىْ نَفْسِىْ (96)
کہا میں نے وہ چیز دیکھی تھی جو دوسروں نے نہ دیکھی پھر میں نے رسول کے نقشِ قدم کی ایک مٹھی مٹی میں لے کر ڈال دی اور میرے دل نے مجھے ایسی ہی بات سوجھائی۔
قَالَ فَاذْهَبْ فَاِنَّ لَكَ فِى الْحَيَاةِ اَنْ تَقُوْلَ لَا مِسَاسَ ۖ وَاِنَّ لَكَ مَوْعِدًا لَّنْ تُخْلَفَهٝ ۖ وَانْظُرْ اِلٰٓى اِلٰـهِكَ الَّـذِىْ ظَلْتَ عَلَيْهِ عَاكِفًا ۖ لَّنُحَرِّقَنَّهٝ ثُـمَّ لَنَنْسِفَنَّهٝ فِى الْيَـمِّ نَسْفًا (97)
کہا بس چلا جا تیرے لیے زندگی میں یہ سزا ہے کہ تو کہے گا ہاتھ نہ لگانا، اور تیرے لیے ایک وعدہ ہے جو تجھ سے ٹلنے والا نہیں، اور تو اپنے معبود کو دیکھ جس پر تو جما بیٹھا تھا، ہم اسے ضرور جلا دیں گے پھر اسے دریا میں بکھیر کر بہا دیں گے۔
اِنَّمَآ اِلٰـهُكُمُ اللّـٰهُ الَّـذِىْ لَآ اِلٰـهَ اِلَّا هُوَ ۚ وَسِعَ كُلَّ شَىْءٍ عِلْمًا (98)
تمہارا معبود وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، اس کے علم میں سب چیز سما گئی ہے۔
كَذٰلِكَ نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ اَنْبَآءِ مَا قَدْ سَبَقَ ۚ وَقَدْ اٰتَيْنَاكَ مِنْ لَّـدُنَّا ذِكْرًا (99)
ہم اسی طرح سے تجھے گزشتہ لوگوں کی کچھ خبریں سناتے ہیں، اور ہم نے تجھے اپنے ہاں سے ایک نصیحت نامہ دیا ہے۔
مَّنْ اَعْرَضَ عَنْهُ فَاِنَّهٝ يَحْمِلُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وِزْرًا (100)
جس نے اس سے منہ پھیرا سو وہ قیامت کے دن بوجھ اٹھائے گا۔
خَالِـدِيْنَ فِيْهِ ۖ وَسَآءَ لَـهُـمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حِـمْلًا (101)
اس میں ہمیشہ رہیں گے اور ان کے لیے قیامت کے دن برا بوجھ ہوگا۔
يَوْمَ يُنْفَخُ فِى الصُّوْرِ ۚ وَنَحْشُـرُ الْمُجْرِمِيْنَ يَوْمَئِذٍ زُرْقًا (102)
جس دن صور میں پھونکا جائے گا، اور ہم اس دن مجرموں کو نیلی آنکھوں والے کر کے جمع کر دیں گے۔
يَتَخَافَتُوْنَ بَيْنَـهُـمْ اِنْ لَّبِثْتُـمْ اِلَّا عَشْـرًا (103)
چپکے چپکے آپس میں باتیں کہتے ہوں گے کہ تم صرف دس دن ٹھہرے ہو۔
نَّحْنُ اَعْلَمُ بِمَا يَقُوْلُوْنَ اِذْ يَقُوْلُ اَمْثَلُـهُـمْ طَرِيْقَةً اِنْ لَّبِثْتُـمْ اِلَّا يَوْمًا (104)
ہم خوب جان لیں گے جو کچھ وہ کہیں گے جب ان میں سے بڑا سمجھدار کہے گا کہ تم صرف ایک ہی دن ٹھہرے ہو۔
وَيَسْاَلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنْسِفُهَا رَبِّىْ نَسْفًا (105)
اور تجھ سے پہاڑوں کا حال پوچھتے ہیں سو کہہ دے میرا رب انہیں بالکل اڑا دے گا۔
فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا (106)
پھر زمین کو چٹیل میدان کر کے چھوڑے گا۔
لَّا تَـرٰى فِيْـهَا عِوَجًا وَّلَآ اَمْتًا (107)
تو اس میں کجی اور ٹیلا نہیں دیکھے گا۔
يَوْمَئِذٍ يَّتَّبِعُوْنَ الـدَّاعِىَ لَا عِوَجَ لَـهٝ ۖ وَخَشَعَتِ الْاَصْوَاتُ لِلرَّحْـمٰنِ فَلَا تَسْـمَعُ اِلَّا هَمْسًا (108)
اس دن پکارنے والے کا اتباع کریں گے اس میں کوئی کجی نہیں ہوگی، اور رحمان کے ڈر سے آوازیں دب جائیں گی پھر تو پاؤں کی آہٹ کے سوا کچھ نہیں سنے گا۔
يَوْمَئِذٍ لَّا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَـهُ الرَّحْـمٰنُ وَرَضِىَ لَـهٝ قَوْلًا (109)
اس دن سفارش کام نہیں آئے گی مگر جسے رحمان نے اجازت دی اور اس کی بات پسند کی۔
يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْـهِـمْ وَمَا خَلْفَهُـمْ وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِهٖ عِلْمًا (110)
وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے اور پیچھے ہے اور ان کا علم اسے احاطہ نہیں کر سکتا۔
وَعَنَتِ الْوُجُوْهُ لِلْحَىِّ الْقَيُّوْمِ ۖ وَقَدْ خَابَ مَنْ حَـمَلَ ظُلْمًا (111)
اور سب منہ حی و قیوم کے سامنے جھک جائیں گے، اور تحقیق نامراد ہوا جس نے ظلم کا بوجھ اٹھایا۔
وَمَنْ يَّعْمَلْ مِنَ الصَّالِحَاتِ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا يَخَافُ ظُلْمًا وَّلَا هَضْمًا (112)
اور جو نیک کام کرے گا اور وہ مومن بھی ہو تو اسے ظلم اور حق تلفی کا کوئی خوف نہیں ہوگا۔
وَكَذٰلِكَ اَنْزَلْنَاهُ قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا وَّصَرَّفْنَا فِيْهِ مِنَ الْوَعِيْدِ لَعَلَّهُـمْ يَتَّقُوْنَ اَوْ يُحْدِثُ لَـهُـمْ ذِكْرًا (113)
اور اسی طرح ہم نے اسے عربی قرآن نازل کیا ہے اور ہم نے اس میں طرح طرح سے ڈرانے کی باتیں سنائیں تاکہ وہ ڈریں یا ان میں سمجھ پیدا کر دے۔
فَـتَعَالَى اللّـٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ ۗ وَلَا تَعْجَلْ بِالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ يُّقْضٰٓى اِلَيْكَ وَحْيُهٝ ۖ وَقُلْ رَّبِّ زِدْنِىْ عِلْمًا (114)
سو اللہ بادشاہ حقیقی بلند مرتبے والا ہے، اور تو قرآن کے لینے میں جلدی نہ کر جب تک اس کا اترنا پورا نہ ہوجائے، اور کہہ اے میرے رب مجھے اور زیادہ علم دے۔
وَلَقَدْ عَهِدْنَـآ اِلٰٓى اٰدَمَ مِنْ قَبْلُ فَـنَسِىَ وَلَمْ نَجِدْ لَـهٝ عَزْمًا (115)
اور ہم نے اس سے پہلے آدم سے بھی عہد لیا تھا پھر وہ بھول گیا اور ہم نے اس میں پختگی نہ پائی۔
وَاِذْ قُلْنَا لِلْمَلَآئِكَـةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوٓا اِلَّآ اِبْلِيْسَۖ اَبٰى (116)
اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سوائے ابلیس کے سب نے سجدہ کیا، اس نے انکار کیا۔
فَقُلْنَا يَآ اٰدَمُ اِنَّ هٰذَا عَدُوٌّ لَّكَ وَلِزَوْجِكَ فَلَا يُخْرِجَنَّكُـمَا مِنَ الْجَنَّـةِ فَتَشْقٰى (117)
پھر ہم نے کہا اے آدم بے شک یہ تیرا اور تیری بیوی کا دشمن ہے سو تمہیں جنت سے نہ نکلوا دے کہ پھر تو تکلیف میں پڑ جائے۔
اِنَّ لَكَ اَلَّا تَجُوْعَ فِيْـهَا وَلَا تَعْرٰى (118)
بے شک تو اس میں بھوکا اور ننگا نہیں ہوگا۔
وَاَنَّكَ لَا تَظْمَاُ فِيْـهَا وَلَا تَضْحٰى (119)
اور بے شک تو اس میں نہ پیاسا ہوگا اور نہ تجھے دھوپ لگے گی۔
فَوَسْوَسَ اِلَيْهِ الشَّيْطَانُ قَالَ يَآ اٰدَمُ هَلْ اَدُلُّكَ عَلٰى شَجَرَةِ الْخُلْـدِ وَمُلْكٍ لَّا يَبْلٰى (120)
پھر شیطان نے اس کے دل میں خیال ڈالا کہا اے آدم کیا میں تجھے ہمیشگی کا درخت بتاؤں اور ایسی بادشاہی جس میں ضعف نہ آئے۔
فَاَكَلَا مِنْـهَا فَبَدَتْ لَـهُمَا سَوْاٰتُـهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفَانِ عَلَيْـهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّـةِ ۚ وَعَصٰٓى اٰدَمُ رَبَّهٝ فَغَوٰى (121)
پھر دونوں نے اس درخت سے کھایا تب ان پر ان کی برہنگی ظاہر ہوگئی اور اپنے اوپر جنت کے پتے چپکانے لگے، اور آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی پھر بھٹک گیا۔
ثُـمَّ اجْتَبَاهُ رَبُّهٝ فَتَابَ عَلَيْهِ وَهَدٰى (122)
پھر اس کے رب نے اسے سرفراز کیا پھر اس کی توبہ قبول کی اور راہ دکھائی۔
قَالَ اهْبِطَا مِنْـهَا جَـمِيْعًا ۖ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ ۖ فَاِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ مِّنِّىْ هُدًىۙ فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَاىَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشْقٰى (123)
فرمایا تم دونوں یہاں سے نکل جاؤ، تم میں سے ایک دوسرے کا دشمن ہے، پھر اگر تمہیں میری طرف سے ہدایت پہنچے، پھر جو میری ہدایت پر چلے گا تو گمراہ نہیں ہوگا اور نہ تکلیف اٹھائے گا۔
وَمَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِىْ فَاِنَّ لَـهٝ مَعِيْشَةً ضَنْكًا وَّنَحْشُـرُهٝ يَوْمَ الْقِيَامَةِ اَعْمٰى (124)
اور جو میرے ذکر سے منہ پھیرے گا تو اس کی زندگی بھی تنگ ہوگی اور اسے قیامت کے دن اندھا کر کے اٹھائیں گے۔
قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِىٓ اَعْمٰى وَقَدْ كُنْتُ بَصِيْـرًا (125)
کہے گا اے میرے رب تو نے مجھے اندھا کر کے کیوں اٹھایا حالانکہ میں بینا تھا۔
قَالَ كَذٰلِكَ اَتَـتْكَ اٰيَاتُنَا فَـنَسِيْتَـهَا ۖ وَكَذٰلِكَ الْيَوْمَ تُنْسٰى (126)
فرمائے گا اسی طرح تیرے پاس ہماری آیتیں پہنچی تھیں پھر تو نے انھیں بھلا دیا تھا، اور اسی طرح آج تو بھی بھلایا گیا ہے۔
وَكَذٰلِكَ نَجْزِىْ مَنْ اَسْرَفَ وَلَمْ يُؤْمِنْ بِاٰيَاتِ رَبِّهٖ ۚ وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَشَدُّ وَاَبْقٰى (127)
اور اسی طرح ہم بدلہ دیں گے جو حد سے نکلا اور اپنے رب کی آیتوں پر ایمان نہیں لیا، اور البتہ آخرت کا عذاب بڑا سخت اور دیرپا ہے۔
اَفَلَمْ يَـهْدِ لَـهُـمْ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَـهُـمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ يَمْشُوْنَ فِىْ مَسَاكِنِـهِـمْ ۗ اِنَّ فِىْ ذٰلِكَ لَاٰيَاتٍ لِّاُولِى النُّـهٰى (128)
سو کیا انہیں اس بات سے بھی سمجھ نہیں آئی کہ ہم نے ان سے پہلے کئی جماعتیں ہلاک کر دی ہیں یہ لوگ ان کی جگہوں پر پھرتے ہیں، بے شک اس میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔
وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَكَانَ لِزَامًا وَّاَجَلٌ مُّسَمًّى (129)
اور اگر تیرے رب کی طرف سے ایک بات پہلے طے شدہ نہ ہوتی اور معیاد معین نہ ہوتی تو عذاب لازمی طور پر ہوتا۔
فَاصْبِـرْ عَلٰى مَا يَقُوْلُوْنَ وَسَبِّـحْ بِحَـمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوْبِـهَا ۖ وَمِنْ اٰنَـآىِٔ اللَّيْلِ فَسَبِّـحْ وَاَطْرَافَ النَّـهَارِ لَعَلَّكَ تَـرْضٰى (130)
پس صبر کر اس پر جو کہتے ہیں اور سورج کے نکلنے اور ڈوبنے سے پہلے اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح بیان کر، اور رات کی کچھ گھڑیوں میں اور دن کے اول اور آخر میں تسبیح کر تاکہ تجھے خوشی حاصل ہو۔
وَلَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٓ ٖ اَزْوَاجًا مِّنْـهُـمْ زَهْرَةَ الْحَيَاةِ الـدُّنْيَا لِنَفْتِنَـهُـمْ فِيْهِ ۚ وَرِزْقُ رَبِّكَ خَيْـرٌ وَّاَبْقٰى (131)
اور تو اپنی نظر ان چیزوں کی طرف نہ دوڑا جو ہم نے مختلف قسم کے لوگوں کو دنیاوی زندگی کی رونق کے سامان دے رکھے ہیں تاکہ ہم انہیں اس میں آزمائیں، اور تیرے رب کا رزق بہتر اور دیرپا ہے۔
وَاْمُرْ اَهْلَكَ بِالصَّلَاةِ وَاصْطَبِـرْ عَلَيْـهَا ۖ لَا نَسْاَلُكَ رِزْقًا ۖ نَّحْنُ نَرْزُقُكَ ۗ وَالْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوٰى (132)
اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم کر اور خود بھی اس پر قائم رہ، ہم تجھ سے روزی نہیں مانگتے، ہم تجھے روزی دیتے ہیں، اور پرہیزگاری کا انجام اچھا ہے۔
وَقَالُوْا لَوْلَا يَاْتِيْنَا بِاٰيَـةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ ۚ اَوَلَمْ تَاْتِـهِـمْ بَيِّنَةُ مَا فِى الصُّحُفِ الْاُوْلٰى (133)
اور لوگ کہتے ہیں کہ یہ ہمارے پاس اپنے رب سے کوئی نشانی کیوں نہیں لے آتا، کیا ان کے پاس پہلی کتابوں کی شہادت نہیں پہنچی۔
وَلَوْ اَنَّـآ اَهْلَكْنَاهُـمْ بِعَذَابٍ مِّنْ قَبْلِـهٖ لَقَالُوْا رَبَّنَا لَوْلَآ اَرْسَلْتَ اِلَيْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِــعَ اٰيَاتِكَ مِنْ قَبْلِ اَنْ نَّذِلَّ وَنَخْزٰى (134)
اور اگر ہم انہیں اس سے پہلے کسی عذاب سے ہلاک کر دیتے تو کہتے اے ہمارے رب تو نے ہمارے پاس کوئی رسول کیوں نہ بھیجا تاکہ ہم ذلیل و خوار ہونے سے پہلے تیرے حکموں پر چلتے۔
قُلْ كُلٌّ مُّتَـرَبِّصٌ فَـتَـرَبَّصُوْا ۖ فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ اَصْحَابُ الصِّرَاطِ السَّوِىِّ وَمَنِ اهْتَدٰى (135)
کہہ دو ہر ایک انتظار کرنے والا ہے سو تم بھی انتظار کرو، آئندہ تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ سیدھی راہ پر کون ہے اور ہدایت پانے والا کون ہے۔