قرآن حکیم            

مکمل سورت
سورت نمبر
آیت نمبر
ایک آیت
(2) سورۃ البقرۃ (مدنی، آیات 286)
بِسْمِ اللّـٰهِ الرَّحْـمٰنِ الرَّحِيْـمِ
الٓــمٓ (1)
ا ل مۤ۔
ذٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ ۖ فِيْهِ ۚ هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ (2)
یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی بھی شک نہیں، پرہیز گارو ں کے لیے ہدایت ہے۔
اَلَّـذِيْنَ يُؤْمِنُـوْنَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيْمُوْنَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُـمْ يُنْفِقُوْنَ (3)
جو بن دیکھے ایمان لاتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں ا ور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس میں خرچ کرتے ہیں۔
وَالَّـذِيْنَ يُؤْمِنُـوْنَ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَبِالْاٰخِرَةِ هُـمْ يُوْقِنُـوْنَ (4)
اور جو ایمان لاتے ہیں اس پر جو اتارا گیا آپ پر، اور جو آپ سے پہلے اتارا گیا، اور آخرت پر بھی وہ یقین رکھتے ہیں۔
اُولٰٓئِكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّـهِـمْ ۖ وَاُولٰٓئِكَ هُـمُ الْمُفْلِحُوْنَ (5)
وہی لوگ اپنے رب کے راستہ پر ہیں، اور وہی نجات پانے والے ہیں۔
اِنَّ الَّـذِيْنَ كَفَرُوْا سَوَآءٌ عَلَيْـهِـمْ ءَاَنْذَرْتَـهُـمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُـمْ لَا يُؤْمِنُـوْنَ (6)
بے شک جو لوگ انکار کر چکے ہیں، برابر ہے انہیں تو ڈرائے یا نہ ڈرائے، وہ ایمان نہیں لائیں گے۔
خَتَمَ اللّـٰهُ عَلٰى قُلُوْبِـهِـمْ وَعَلٰى سَمْعِهِـمْ ۖ وَعَلٰٓى اَبْصَارِهِـمْ غِشَاوَةٌ ۖ وَّلَـهُـمْ عَذَابٌ عَظِـيْمٌ (7)
اللہ نے ان کے دلوں اورکانوں پرمہر لگا دی ہے، اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے، اوران کے لیے بڑا عذا ب ہے۔
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّـٰهِ وَبِالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَمَا هُـمْ بِمُؤْمِنِيْنَ (8)
اور کچھ ایسے بھی لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان لائے حالانکہ وہ ایمان دار نہیں ہیں۔
يُخَادِعُوْنَ اللّـٰهَ وَالَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا وَمَا يَخْدَعُوْنَ اِلَّا اَنْفُسَهُـمْ وَمَا يَشْعُرُوْنَ (9)
اللہ اور ایمان داروں کو دھوکا دیتے ہیں، حالانکہ وہ اپنے آپ ہی کو دھوکہ دے رہے ہیں اور نہیں سمجھتے۔
فِىْ قُلُوْبِـهِـمْ مَّرَضٌ فَزَادَهُـمُ اللّـٰهُ مَرَضًا ۖ وَلَـهُـمْ عَذَابٌ اَلِيْـمٌ بِمَا كَانُـوْا يَكْذِبُوْنَ (10)
ان کے دلوں میں بیماری ہے پھر اللہ نے اِن کی بیماری بڑھا دی، اور انُ کے لیے دردناک عذاب ہے اس لیے کہ وہ جھوٹ بولتے تھے۔
وَاِذَا قِيْلَ لَـهُـمْ لَا تُفْسِدُوْا فِى الْاَرْضِ قَالُوْا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ (11)
اور جب اُنہیں کہا جاتا ہے کہ ملک میں فساد نہ ڈالو تو کہتے ہیں کہ ہم ہی تو اصلاح کرنے والے ہیں۔
اَ لَا اِنَّـهُـمْ هُـمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَلٰكِنْ لَّا يَشْعُرُوْنَ (12)
خبردار بے شک وہی لوگ فسادی ہیں لیکن نہیں سمجھتے۔
وَاِذَا قِيْلَ لَـهُـمْ اٰمِنُـوْا كَمَآ اٰمَنَ النَّاسُ قَالُوْآ اَنُؤْمِنُ كَمَآ اٰمَنَ السُّفَهَآءُ ۗ اَ لَآ اِنَّـهُـمْ هُـمُ السُّفَهَآءُ وَلٰكِنْ لَّا يَعْلَمُوْنَ (13)
اور جب انہیں کہا جاتا ہے ایمان لاؤ جس طرح اور لوگ ایمان لائے ہیں تو کہتے ہیں کیا ہم ایمان لائیں جس طرح بے وقوف ایمان لائے ہیں، خبردار وہی بے وقوف ہیں لیکن نہیں جانتے۔
وَاِذَا لَقُوا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا قَالُوْآ اٰمَنَّا وَاِذَا خَلَوْا اِلٰى شَيَاطِيْنِـهِـمْ قَالُوْآ اِنَّا مَعَكُمْ اِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِئُوْنَ (14)
اور جب ایمانداروں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے، اور جب اپنے شیطانوں کے پاس اکیلے ہوتے ہیں تو کہتے ہیں ہم توتمہارے ساتھ ہیں، ہم تو صرف ہنسی کرنے والے ہیں۔
اَللَّـهُ يَسْتَهْزِئُ بِـهِـمْ وَيَمُدُّهُـمْ فِىْ طُغْيَانِـهِـمْ يَعْمَهُوْنَ (15)
اللہ ان سے ہنسی کرتا ہے اور انہیں مہلت دیتا ہے کہ وہ اپنی گمراہی میں حیران رہیں۔
اُولٰٓئِكَ الَّـذِيْنَ اشْتَـرَوُا الضَّلَالَـةَ بِالْـهُـدٰى فَمَا رَبِحَتْ تِّجَارَتُهُـمْ وَمَا كَانُـوْا مُهْتَدِيْنَ (16)
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خریدی سو ان کی تجارت نے نفع نہ دیا اور ہدایت پانے والے نہ ہوئے۔
مَثَلُـهُـمْ كَمَثَلِ الَّـذِى اسْتَوْقَدَ نَارًا فَلَمَّا اَضَاءَتْ مَا حَوْلَـهُ ذَهَبَ اللّـٰهُ بِنُـوْرِهِـمْ وَتَـرَكَـهُـمْ فِىْ ظُلُـمَاتٍ لَّا يُبْصِرُوْنَ (17)
ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے آگ جلائی پھر جب آگ نے اس کے آس پاس کو روشن کر دیا تو اللہ نے ان کی روشنی بجھا دی اور انہیں اندھیروں میں چھوڑا کہ کچھ نہیں دیکھتے۔
صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُـمْ لَا يَرْجِعُوْنَ (18)
بہرے گونگے اندھے ہیں سو وہ نہیں لوٹیں گے۔
اَوْ كَصَيِّبٍ مِّنَ السَّمَآءِ فِيْهِ ظُلُمَاتٌ وَّرَعْدٌ وَّبَـرْقٌ ۚ يَجْعَلُوْنَ اَصَابِعَهُـمْ فِىٓ اٰذَانِـهِـمْ مِّنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الْمَوْتِ ۚ وَاللّـٰهُ مُحِيْطٌ بِالْكَافِـرِيْنَ (19)
یا جیسا کہ آسمان سے بارش ہو جس میں اندھیرے اور گرج اور بجلی ہو ،اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں کڑک کے سبب سے موت کے ڈر سے دیتے ہوں، اور اللہ کافروں کو گھیرے ہوئے ہے۔
يَكَادُ الْبَـرْقُ يَخْطَفُ اَبْصَارَهُـمْ ۖ كُلَّمَآ اَضَآءَ لَـهُـمْ مَّشَوْا فِيْهِ وَاِذَآ اَظْلَمَ عَلَيْـهِـمْ قَامُوْا ۚ وَلَوْ شَآءَ اللّـٰهُ لَذَهَبَ بِسَمْعِهِـمْ وَاَبْصَارِهِـمْ ۚ اِنَّ اللّـٰهَ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْرٌ (20)
قریب ہے کہ بجلی ان کے آنکھیں اچک لے، جب ان پر چمکتی ہے تو اس کی روشنی میں چلتے ہیں اور جب ان پر اندھیرا ہوتا ہے تو ٹھر جاتے ہیں، اور اگر اللہ چاہے تو ان کے کان اور آنکھیں لے جائے، بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
يٰٓـاَ يُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّكُمُ الَّـذِىْ خَلَقَكُمْ وَالَّـذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ (21)
اے لوگو اپنے رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں پیدا کیا اور انہیں جو تم سے پہلے تھے تاکہ تم پرہیزگار ہو جاؤ۔
اَلَّذِىْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ فِرَاشًا وَّالسَّمَآءَ بِنَآءً وَّاَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخْرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَّكُمْ ۖ فَلَا تَجْعَلُوْا لِلّـٰهِ اَنْدَادًا وَّاَنْتُـمْ تَعْلَمُوْنَ (22)
جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا اور آسمان کو چھت بنایا اور آسمان سے پانی اتارا پھر اس سے تمہارے کھانے کے لیے پھل نکالے، سو کسی کو اللہ کا شریک نہ بناؤ حالانکہ تم جانتے بھی ہو۔
وَاِنْ كُنْتُـمْ فِىْ رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِهٖ وَادْعُوْا شُهَدَآءَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّـٰهِ اِنْ كُنْتُـمْ صَادِقِيْنَ (23)
اور اگر تمہیں اس چیز میں شک ہے جو ہم نے اپنے بندے پر نازل کی ہے تو ایک سورت اس جیسی لے آؤ، اور اللہ کے سوا جس قدر تمہارے حمایتی ہوں بلا لو اگر تم سچے ہو۔
فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا وَلَنْ تَفْعَلُوْا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِىْ وَقُوْدُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ ۖ اُعِدَّتْ لِلْكَافِـرِيْنَ (24)
بھلا اگر ایسا نہ کر سکو، اور ہرگز نہ کر سکو گے، تو اس آگ سے بچو جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں، جو کافرو ں کے لیے تیار کی گئی ہے۔
وَبَشِّرِ الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ اَنَّ لَـهُـمْ جَنَّاتٍ تَجْرِىْ مِنْ تَحْتِـهَا الْاَنْـهَارُ ۖ كُلَّمَا رُزِقُوْا مِنْـهَا مِنْ ثَمَرَةٍ رِّزْقًا ۙ قَالُوْا هٰذَا الَّـذِىْ رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ ۖ وَاُتُوْا بِهٖ مُتَشَابِهًا ۖ وَلَـهُـمْ فِيْـهَآ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ ۖ وَّهُـمْ فِيْـهَا خَالِـدُوْنَ (25)
اوران لوگو ں کو خوشخبری دے جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے کہ ان کے لیے باغ ہیں ان کے نیچے نہریں بہتی ہیں، جب انہیں وہاں کا کوئی پھل کھانے کو ملے گا تو کہیں گے یہ تو وہی ہے جو ہمیں اس سے پہلے ملا تھا، اور انہیں ہم شکل پھل دیئے جائیں گے، اور ان کے لیے وہاں پاکیزہ عورتیں ہوں گی، اوروہ وہیں ہمیشہ رہیں گے۔
اِنَّ اللّـٰهَ لَا يَسْتَحْيِىٓ اَنْ يَّضْرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوْضَةً فَمَا فَوْقَهَا ۚ فَاَمَّا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا فَيَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِـمْ ۖ وَاَمَّا الَّـذِيْنَ كَفَرُوْا فَيَقُوْلُوْنَ مَاذَا اَرَادَ اللّـٰهُ بِـهٰذَا مَثَلًا ۘ يُضِلُّ بِهٖ كَثِيْـرًا وَّيَـهْدِىْ بِهٖ كَثِيْـرًا ۚ وَمَا يُضِلُّ بِهٖ اِلَّا الْفَاسِقِيْنَ (26)
بے شک اللہ نہیں شرماتا اس بات سے کہ کوئی مثال بیان کرے مچھر کی یا اس چیز کی جو اس سے بڑھ کر ہے، سو جو لوگ مومن ہیں وہ اسے اپنے رب کی طرف سے صحیح جانتے ہیں اور جو کافر ہیں سو کہتے ہیں اللہ کا اس مثال سے کیا مطلب ہے، اللہ اس مثال سے بہتوں کو گمراہ کرتا ہے اور بہتوں کو اس سے ہدایت کرتا ہے، اوراس سے گمراہ تو بدکاروں ہی کو کیا کرتا ہے۔
اَلَّـذِيْنَ يَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّـٰهِ مِنْ بَعْدِ مِيْثَاقِهٖ وَيَقْطَعُوْنَ مَآ اَمَرَ اللّـٰهُ بِهٓ ٖ اَنْ يُّوْصَلَ وَيُفْسِدُوْنَ فِى الْاَرْضِ ۚ اُولٰٓئِكَ هُـمُ الْخَاسِرُوْنَ (27)
جو اللہ کے عہد کو پختہ کرنے کے بعد توڑتے ہیں اور جس کے جوڑنے کا اللہ نے حکم دیا ہے اسے توڑتے ہیں اور ملک میں فساد کرتے ہیں، وہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں۔
كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ بِاللّـٰهِ وَكُنْتُـمْ اَمْوَاتًا فَاَحْيَاكُمْ ۖ ثُـمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُـمَّ يُحْيِيْكُمْ ثُـمَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ (28)
تم اللہ کا کیونکر انکار کرسکتے ہو حالانکہ تم بے جان تھے پھر تمہیں زندہ کیا پھر تمہیں مارے گا پھر تمہیں زندہ کرے گا پھر تم اسی کے پاس لوٹ کر جاؤ گے۔
هُوَ الَّـذِىْ خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِى الْاَرْضِ جَـمِيْعًا ثُـمَّ اسْتَوٰٓى اِلَى السَّمَآءِ فَسَوَّاهُنَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ ۚ وَهُوَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيْـمٌ (29)
اللہ وہ ہے جس نے جو کچھ زمین میں ہے سب تمہارے لیے پیدا کیا ہے، پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا تو انہیں سات آسمان بنایا، اور وہ ہر چیز جانتا ہے۔
وَاِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَآئِكَـةِ اِنِّىْ جَاعِلٌ فِى الْاَرْضِ خَلِيْفَةً ۖ قَالُوْا اَتَجْعَلُ فِيْـهَا مَنْ يُّفْسِدُ فِيْـهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَآءَ ۚ وَنَحْنُ نُسَبِّـحُ بِحَـمْدِكَ وَنُـقَدِّسُ لَكَ ۖ قَالَ اِنِّىْ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ (30)
اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا میں زمین میں ایک نائب بنانے والا ہوں، فرشتوں نے کہا کیا تو زمین میں ایسے شخص کو نائب بنانا چاہتا ہے جو فساد پھیلائے اور خون بہائے حالانکہ ہم تیری حمد کے ساتھ تسبیح بیان کرتے اور تیری پاکی بیان کرتے ہیں، فرمایا میں جو کچھ جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے۔
وَعَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْـمَآءَ كُلَّهَا ثُـمَّ عَرَضَهُـمْ عَلَى الْمَلَآئِكَـةِ فَقَالَ اَنْبِئُوْنِىْ بِاَسْـمَآءِ هٰٓؤُلَآءِ اِنْ كُنْتُـمْ صَادِقِيْنَ (31)
اور اللہ نے آدم کو سب چیزوں کے نام سکھائے پھر ان سب چیزوں کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا پھر فرمایا مجھے ان کے نام بتاؤ اگر تم سچے ہو۔
قَالُوْا سُبْحَانَكَ لَا عِلْمَ لَنَآ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا ۖ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَلِـيْمُ الْحَكِـيْمُ (32)
انہوں نے کہا تو پاک ہے، ہم تو اتنا ہی جانتے ہیں جتنا تو نے ہمیں بتایاہے، بے شک تو بڑے علم والا حکمت والا ہے۔
قَالَ يَآ اٰدَمُ اَنْبِئْـهُـمْ بِاَسْـمَآئِهِـمْ ۖ فَلَمَّآ اَنْبَاَهُـمْ بِاَسْـمَآئِهِـمْ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ اِنِّـىٓ اَعْلَمُ غَيْبَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ وَاَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَمَا كُنْتُـمْ تَكْـتُمُوْنَ (33)
فرمایا اے آدم ان چیزو ں کے نام بتا دو ،پھر جب آدم نے انہیں اُن کے نام بتا دیئے فرمایا کیا میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی چھپی ہوئی چیزیں جانتا ہوں اور جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو چھپاتے ہو اسے بھی جانتا ہوں۔
وَاِذْ قُلْنَا لِلْمَلَآئِكَـةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوٓا اِلَّآ اِبْلِيْسَ اَبٰى وَاسْتَكْبَـرَ وَكَانَ مِنَ الْكَافِـرِيْنَ (34)
اورجب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو انہوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس کہ اس نے انکار کیا اورتکبر کیا اورکافروں میں سے ہو گیا۔
وَقُلْنَا يَآ اٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَكُلَا مِنْـهَا رَغَدًا حَيْثُ شِئْتُمَا وَلَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُـوْنَا مِنَ الظَّالِمِيْنَ (35)
اور ہم نے کہا اے آدم تم اور تمہاری بیوی جنت میں جا کر رہو اور اس میں جو چاہو اور جہاں سے چاہو کھاؤ اور اس درخت کے نزدیک نہ جاؤ پھر ظالموں میں سے ہو جاؤ گے۔
فَاَزَلَّهُمَا الشَّيْطَانُ عَنْـهَا فَاَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِيْهِ ۖ وَقُلْنَا اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ ۖ وَلَكُمْ فِى الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّمَتَاعٌ اِلٰى حِيْنٍ (36)
پھر شیطان نے ان کو وہاں سے ڈگمگایا پھر انہیں اس عزت و راحت سے نکالا کہ جس میں تھے، اور ہم نے کہا تم سب اترو کہ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو، اور تمہارے لیے زمین میں ٹھکانا ہے اور سامان ایک وقت معین تک۔
فَتَلَقَّىٰٓ اٰدَمُ مِنْ رَّبِّهٖ كَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ ۚ اِنَّهٝ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيْـمُ (37)
پھر آدم نے اپنے رب سے چند کلمات حاصل کیے پھر اس کی توبہ قبول فرمائی، بے شک وہ توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔
قُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْـهَا جَـمِيْعًا ۖ فَاِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ مِّنِّىْ هُدًى فَمَنْ تَبِــعَ هُدَاىَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْـهِـمْ وَلَا هُـمْ يَحْزَنُـوْنَ (38)
ہم نے کہا کہ تم سب یہاں سے نیچے اتر جاؤ، پھر اگرتمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے پس جو میری ہدایت پر چلیں گے ان پرنہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
وَالَّـذِيْنَ كَفَرُوْا وَكَذَّبُوْا بِاٰيَاتِنَآ اُولٰٓئِكَ اَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُـمْ فِيْـهَا خَالِـدُوْنَ (39)
اور جو انکار کریں گے اور ہماری آیتوں کو جھٹلائیں گے وہی دوزخی ہو ں گے، جو اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
يَا بَنِىٓ اِسْرَآئِيْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِىَ الَّتِىٓ اَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَاَوْفُوْا بِعَهْدِىٓ اُوْفِ بِعَهْدِكُمْ وَاِيَّاىَ فَارْهَبُوْنِ (40)
اے بنی اسرائیل میرے احسان یاد کرو جو میں نے تم پر کیے اور تم میرا عہد پورا کرو میں تمہارا عہد پورا کروں گا اور مجھ ہی سے ڈرا کرو۔
وَاٰمِنُـوْا بِمَآ اَنْزَلْتُ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ وَلَا تَكُـوْنُـوْآ اَوَّلَ كَافِـرٍ بِهٖ ۖ وَلَا تَشْتَـرُوْا بِاٰيَاتِىْ ثَمَنًا قَلِيْلًا وَّاِيَّاىَ فَاتَّقُوْنِ (41)
اور اس کتاب پر ایمان لاؤ جو میں نے نازل کی، تصدیق کرتی ہے اس کی جو تمہارے پاس ہے، اور تم ہی سب سے پہلے اس کےمنکر نہ بنو، اور میری آیتو ں کو تھوڑی قیمت پر نہ بیچو اور مجھ ہی سے ڈرو۔
وَلَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَكْـتُمُوا الْحَقَّ وَاَنْتُـمْ تَعْلَمُوْنَ (42)
اور سچ میں جھوٹ نہ ملاؤ اور جان بوجھ کر حق کو نہ چھپاؤ حالانکہ تم جانتے ہو۔
وَاَقِيْمُوا الصَّلَاةَ وَاٰتُوا الزَّكَاةَ وَارْكَعُوْا مَعَ الرَّاكِعِيْنَ (43)
اور نماز قائم کرو اور زکوۃٰ دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔
اَتَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَاَنْتُـمْ تَتْلُوْنَ الْكِتَابَ ۚ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ (44)
کیا لوگوں کو تم نیکی کا حکم کرتے ہو اور اپنے آپ کو بھول جاتے ہو حالانکہ تم کتاب پڑھتے ہو، پھر کیوں نہیں سمجھتے۔
وَاسْتَعِيْنُـوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ ۚ وَاِنَّـهَا لَكَبِيْـرَةٌ اِلَّا عَلَى الْخَاشِعِيْنَ (45)
اور صبر کرنے اور نماز پڑھنے سے مدد لیا کرو، اور بے شک نماز مشکل ہے مگر (سوائے) ان پر جو عاجزی کرنے والے ہیں۔
اَلَّـذِيْنَ يَظُنُّوْنَ اَنَّـهُـمْ مُّلَاقُوْا رَبِّـهِـمْ وَاَنَّـهُـمْ اِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ (46)
جو یہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں ضرور اپنے رب سے ملنا ہے اور ہمیں اس کے پاس لوٹ کر جانا ہے۔
يَا بَنِىٓ اِسْرَآئِيْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِىَ الَّتِىٓ اَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَاَنِّىْ فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعَالَمِيْنَ (47)
اے بنی اسرائیل میری ان نعمتوں کو یاد کرو جو میں نے تمہیں دی تھیں اور میں نے تمہیں جہان پر فضیلت دی تھی۔
وَاتَّقُوْا يَوْمًا لَّا تَجْزِىْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَيْئًا وَّلَا يُقْبَلُ مِنْـهَا شَفَاعَةٌ وَّّلَا يُؤْخَذُ مِنْـهَا عَدْلٌ وَّلَا هُـمْ يُنْصَرُوْنَ (48)
اوراس دن سے ڈرو جس دن کوئی شخص کسی کے کچھ بھی کام نہ آئے گا اور نہ ان کے لیے کوئی سفارش قبول ہو گی اورنہ اس کی طرف سے بدلہ لیا جائے گا اور نہ ان کی مدد کی جائے گی۔
وَاِذْ نَجَّيْنَاكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ يَسُوْمُوْنَكُمْ سُوٓءَ الْعَذَابِ يُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَيَسْتَحْيُوْنَ نِسَآءَكُمْ ۚ وَفِىْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِيْمٌ (49)
اور جب ہم نے تمہیں فرعونیوں سے نجات دی، و ہ تمہیں بری طرح عذاب دیا کرتے تھے، تمہارے بیٹوں کو ذبح کرتے تھے اور تمہاری بیٹیوں کو زندہ رکھتے تھے، اور اس میں تمہارے رب کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی۔
وَاِذْ فَرَقْنَا بِكُمُ الْبَحْرَ فَاَنْجَيْنَاكُمْ وَاَغْرَقْنَآ اٰلَ فِرْعَوْنَ وَاَنْتُـمْ تَنْظُرُوْنَ (50)
اور جب ہم نے تمہارے لیے سمندر کو پھاڑ دیا پھر تمہیں تو بچا لیا اور تمہارے دیکھتے دیکھتے فرعونیوں کو ڈبو دیا۔
وَاِذْ وَاعَدْنَا مُوْسٰٓى اَرْبَعِيْنَ لَيْلَـةً ثُـمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْ بَعْدِهٖ وَاَنْتُـمْ ظَالِمُوْنَ (51)
اورجب ہم نے موسیٰ سے چالیس رات کا وعدہ کیا، پھر اس کے بعد تم نے بچھڑا بنا لیا، حالانکہ تم ظالم تھے۔
ثُـمَّ عَفَوْنَا عَنْكُمْ مِّنْ بَعْدِ ذٰلِكَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ (52)
پھر اس کے بعدبھی ہم نے تمہیں معاف کر دیا تاکہ تم شکر کرو۔
وَاِذْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتَابَ وَالْفُرْقَانَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ (53)
اورجب ہم نے موسیٰ کو کتاب اورقانون فیصل دیا تاکہ تم ہدایت پاؤ۔
وَاِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ يَا قَوْمِ اِنَّكُمْ ظَلَمْتُـمْ اَنْفُسَكُمْ بِاتِّخَاذِكُمُ الْعِجْلَ فَتُوْبُوْآ اِلٰى بَارِئِكُمْ فَاقْتُلُوٓا اَنْفُسَكُمْ ذٰلِكُمْ خَيْـرٌ لَّكُمْ عِنْدَ بَارِئِكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ ۚ اِنَّهٝ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيْـمُ (54)
اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم بے شک تم نے بچھڑا بنا کر اپنی جانوں پر ظلم کیا، سو اپنے پیدا کرنے والے کے آگے توبہ کرو پھر اپنے آپ کو قتل کرو، تمہارے لیے تمہارے خالق کے نزدیک یہی بہتر ہے، پھر اس نے تمہاری توبہ قبول کر لی، بے شک وہی بڑا توبہ قبول کرنے والا نہایت رحم والا ہے۔
وَاِذْ قُلْتُـمْ يَا مُوْسٰى لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّـٰى نَرَى اللّـٰهَ جَهْرَةً فَاَخَذَتْكُمُ الصَّاعِقَةُ وَاَنْتُـمْ تَنْظُرُوْنَ (55)
اور جب تم نے کہا اے موسیٰ ہم ہرگز تیرا یقین نہیں کریں گے جب تک کہ روبرو اللہ کو دیکھ نہ لیں، تب تمہیں بجلی نے دیکھتے ہی دیکھتے آ لیا۔
ثُـمَّ بَعَثْنَاكُمْ مِّنْ بَعْدِ مَوْتِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ (56)
پھر ہم نے تمہیں تمہاری موت کے بعد زندہ کر اٹھایا تاکہ تم شکر کرو۔
وَظَلَّلْنَا عَلَيْكُمُ الْغَمَامَ وَاَنْزَلْنَا عَلَيْكُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوٰى ۖ كُلُوْا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ ۖ وَمَا ظَلَمُوْنَا وَلٰكِنْ كَانُـوْا اَنْفُسَهُـمْ يَظْلِمُوْنَ (57)
اور ہم نے تم پر ابر کا سایہ کیا اور تم پر من اور سلویٰ اتارا، جو کچھ ہم نے تمہیں پاکیزہ چیزیں عطا کی ہیں اِن میں سے کھاؤ، اور انُہوں نے ہمارا کچھ نقصان نہ کیا بلکہ اپنا ہی نقصان کرتے رہے۔
وَاِذْ قُلْنَا ادْخُلُوْا هٰذِهِ الْقَرْيَةَ فَكُلُوْا مِنْـهَا حَيْثُ شِئْتُـمْ رَغَدًا وَّادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّقُوْلُوْا حِطَّـةٌ نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطَايَاكُمْ ۚ وَسَنَزِيْدُ الْمُحْسِنِيْنَ (58)
اور جب ہم نے کہا اس شہر میں داخل ہو جاؤ پھر اس میں جہاں سے چاہو بے تکلفی سے کھاؤ اور دروازہ میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو اور کہتے جاؤ بخش دے، تو ہم تمہارے قصور معاف کر دیں گے، اور نیکی کرنے والوں کو زیادہ بھی دیں گے۔
فَبَدَّلَ الَّـذِيْنَ ظَلَمُوْا قَوْلًا غَيْـرَ الَّـذِىْ قِيْلَ لَـهُـمْ فَاَنْزَلْنَا عَلَى الَّـذِيْنَ ظَلَمُوْا رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُـوْا يَفْسُقُوْنَ (59)
پھر ظالموں نے بدل ڈالا کلمہ سوائے اس کے جو انہیں کہا گیا تھا، سو ہم نے ان ظالموں پر اُن کی نافرمانی کی وجہ سے آسمان سے عذاب نازل کیا۔
وَاِذِ اسْتَسْقٰى مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ فَقُلْنَا اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ ۖ فَانْفَجَرَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَيْنًا ۖ قَدْ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَـهُـمْ ۖ كُلُوْا وَاشْرَبُوْا مِنْ رِّزْقِ اللّـٰهِ وَلَا تَعْثَوْا فِى الْاَرْضِ مُفْسِدِيْنَ (60)
پھر جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لیے پانی مانگا تو ہم نے کہا اپنے عصا کو پتھر پر مار، سو اس سے بارہ چشمے بہہ نکلے ہر قوم نے اپنا گھاٹ پہچان لیا، اللہ کے دیے ہوئے رزق میں سے کھاؤ پیو اور زمین میں فساد مچاتےنہ پھرو۔
وَاِذْ قُلْتُـمْ يَا مُوْسٰى لَنْ نَّصْبِرَ عَلٰى طَعَامٍ وَّاحِدٍ فَادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُخْرِجْ لَنَا مِمَّا تُنْبِتُ الْاَرْضُ مِنْ بَقْلِهَا وَقِثَّـآئِهَا وَفُوْمِهَا وَعَدَسِهَا وَبَصَلِهَا ۖ قَالَ اَتَسْتَبْدِلُوْنَ الَّـذِىْ هُوَ اَدْنٰى بِالَّـذِىْ هُوَ خَيْـرٌ ۚ اِهْبِطُوْا مِصْرًا فَاِنَّ لَكُمْ مَّا سَاَلْتُـمْ ۗ وَضُرِبَتْ عَلَيْـهِـمُ الـذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ وَبَآءُوْا بِغَضَبٍ مِّنَ اللّـٰهِ ۗ ذٰلِكَ بِاَنَّـهُـمْ كَانُـوْا يَكْفُرُوْنَ بِاٰيَاتِ اللّـٰهِ وَيَقْتُلُوْنَ النَّبِيِّيْنَ بِغَيْـرِ الْحَقِّ ۗ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّكَانُـوْا يَعْتَدُوْنَ (61)
اور جب تم نے کہا اے موسیٰ ہم ایک ہی طرح کے کھانے پر ہرگز صبر نہ کریں گے سو ہمارے لیے اپنے رب سے دعا مانگ کہ وہ ہمارے لیے زمین کی پیداوار میں سے ساگ اور ککڑی اور گیہوں اور مسور اور پیاز پیدا کر دے، کہا کیا تم اس چیز کو لینا چاہتے ہو جو ادنٰی ہے بدلہ اُس کے جو بہتر ہے، کسی شہر میں اُترو بے شک جو تم مانگتے ہو تمہیں ملے گا، اور ان پر ذلت اور محتاجی ڈال دی گئی اور انہوں نے غضب الہیٰ کمایا، یہ اس لیے کہ وہ اللہ کی نشانیوں کا انکار کرتے تھے اور نبیوں کو ناحق قتل کرتے تھے، یہ اس لیے کہ نافرمان تھے اور حد سے بڑھ جاتے تھے۔
اِنَّ الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا وَالَّـذِيْنَ هَادُوْا وَالنَّصَارٰى وَالصَّابِئِيْنَ مَنْ اٰمَنَ بِاللّـٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَـهُـمْ اَجْرُهُـمْ عِنْدَ رَبِّـهِـمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْـهِـمْ وَلَا هُـمْ يَحْزَنُـوْنَ (62)
جو کوئی مسلمان اور یہودی اور نصرانی اورصابئی اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان لائے اور اچھے کام بھی کرے تو ان کا اجر ان کے رب کے ہاں موجود ہے اور ان پر نہ کچھ خوف ہو گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
وَاِذْ اَخَذْنَا مِيْثَاقَكُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّوْرَ ۖ خُذُوْا مَآ اٰتَيْنَاكُمْ بِقُوَّةٍ وَّّاذْكُرُوْا مَا فِيْهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ (63)
اور جب ہم نے تم سے عہد لیا اور تم پر کوہِ طور بلند کیا، جو کچھ ہم نے تمہیں دیا ہے اسے مضبوط پکڑو اور جو کچھ اس میں ہے اسے یاد رکھو تاکہ تم پرہیزگار ہو جاؤ۔
ثُـمَّ تَوَلَّيْتُـمْ مِّنْ بَعْدِ ذٰلِكَ ۖ فَلَوْلَا فَضْلُ اللّـٰهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْـمَتُهٝ لَكُنْـتُـمْ مِّنَ الْخَاسِرِيْنَ (64)
پھر تم اس کے بعد پھر گئے، سو اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم تباہ ہوجاتے۔
وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّـذِيْنَ اعْتَدَوْا مِنْكُمْ فِى السَّبْتِ فَقُلْنَا لَـهُـمْ كُوْنُـوْا قِرَدَةً خَاسِئِيْنَ (65)
اور بے شک تمہیں وہ لوگ بھی معلوم ہیں جنہوں نے تم میں سے ہفتہ کے دن زیادتی کی تھی پھر ہم نے ان سے کہا تم ذلیل بندر ہو جاؤ۔
فَجَعَلْنَاهَا نَكَالًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْـهَا وَمَا خَلْفَهَا وَمَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِيْنَ (66)
پھر ہم نے اس واقعہ کو اس زمانہ کے لوگوں کے لیے اور ان سے پچھلوں کے لیے عبرت، اور پرہیز گاروں کے لیے نصیحت بنا دیا۔
وَاِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٓ ٖ اِنَّ اللّـٰهَ يَاْمُرُكُمْ اَنْ تَذْبَحُوْا بَقَرَةً ۖ قَالُوٓا اَتَتَّخِذُنَا هُزُوًا ۖ قَالَ اَعُوْذُ بِاللّـٰهِ اَنْ اَكُـوْنَ مِنَ الْجَاهِلِيْنَ (67)
اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ ایک گائے ذبح کرو، انہوں نے کہا کیا تو ہم سے ہنسی کرتا ہے، کہا میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ جاہلوں میں سے ہوں۔
قَالُوْا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّن لَّنَا مَا هِىَ ۚ قَالَ اِنَّهٝ يَقُوْلُ اِنَّـهَا بَقَرَةٌ لَّا فَارِضٌ وَّّلَا بِكْـرٌ عَوَانٌ بَيْنَ ذٰلِكَ ۖ فَافْعَلُوْا مَا تُؤْمَرُوْنَ (68)
انہوں نے کہا ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر ہمیں بتائے کہ وہ گائے کیسی ہے، کہا وہ فرماتا ہے کہ وہ ایک ایسی گائے ہے نہ بوڑھی اور نہ بچہ اس کے درمیان ہے، پس کر ڈالو جو تمہیں حکم دیا جاتا ہے۔
قَالُوْا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّنْ لَّنَا مَا لَوْنُهَا ۚ قَالَ اِنَّهٝ يَقُوْلُ اِنَّـهَا بَقَرَةٌ صَفْرَآءُ فَاقِـعٌ لَّوْنُهَا تَسُرُّ النَّاظِرِيْنَ (69)
انہوں نے کہا ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر کہ ہمیں بتائے اس کا رنگ کیسا ہے، کہا وہ فرماتا ہے کہ وہ ایک زرد گائے ہے اس کا رنگ خوب گہراہے، دیکھنے والوں کو بھلی معلوم ہوتی ہے۔
قَالُوْا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّنْ لَّنَا مَا هِىَ اِنَّ الْبَقَرَ تَشَابَهَ عَلَيْنَا وَاِنَّـآ اِنْ شَآءَ اللّـٰهُ لَمُهْتَدُوْنَ (70)
انہوں نے کہا ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر ہمیں بتائے کہ وہ کس قسم کی ہے کیونکہ وہ گائے ہم پر مشتبہ ہو گئی ہے اور ہم اگر اللہ نے چاہا تو ضرور پتہ لگا لیں گے۔
قَالَ اِنَّهٝ يَقُوْلُ اِنَّـهَا بَقَرَةٌ لَّا ذَلُوْلٌ تُثِيْـرُ الْاَرْضَ وَلَا تَسْقِى الْحَرْثَ ۚ مُسَلَّمَةٌ لَّا شِيَةَ فِيْـهَا ۚ قَالُوا الْاٰنَ جِئْتَ بِالْحَقِّ ۚ فَذَبَحُوْهَا وَمَا كَادُوْا يَفْعَلُوْنَ (71)
کہا و ہ فرماتا ہے کہ وہ ایک ایسی گائے ہے محنت کرنے والی نہیں جو زمین کو جوتتی ہو یا کھیتی کو پانی دیتی ہو، بے عیب ہے اس میں کوئی داغ نہیں، انہوں نے کہا اب تو نے ٹھیک بات بتائی، پھر انہوں نے اسے ذبح کر دیا اور وہ کرنے والے تو نہیں تھے۔
وَاِذْ قَتَلْتُـمْ نَفْسًا فَادَّارَاْتُـمْ فِيْـهَا ۖ وَاللّـٰهُ مُخْرِجٌ مَّا كُنْتُـمْ تَكْـتُمُوْنَ (72)
اور جب تم ایک شخص قتل کر کے اس میں جھگڑنے لگے، اور اللہ ظاہر کرنے والا تھا اس چیز کو جسے تم چھپاتے تھے۔
فَقُلْنَا اضْرِبُوْهُ بِبَعْضِهَا ۚ كَذٰلِكَ يُحْىِ اللّـٰهُ الْمَوْتٰى وَيُرِيْكُمْ اٰيَاتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ (73)
پھر ہم نے کہا اس مردہ پر اس گائے کا ایک ٹکڑا مارو، اسی طرح اللہ مردوں کو زندہ کرے گا، اور تمہیں اپنی قدرت کی نشانیاں دکھاتا ہے تاکہ تم سمجھو۔
ثُـمَّ قَسَتْ قُلُوْبُكُمْ مِّنْ بَعْدِ ذٰلِكَ فَهِىَ كَالْحِجَارَةِ اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً ۚ وَاِنَّ مِنَ الْحِجَارَةِ لَمَا يَتَفَجَّرُ مِنْهُ الْاَنْـهَارُ ۚ وَاِنَّ مِنْـهَا لَمَا يَشَّقَّقُ فَيَخْرُجُ مِنْهُ الْمَآءُ ۚ وَاِنَّ مِنْـهَا لَمَا يَهْبِطُ مِنْ خَشْيَةِ اللّـٰهِ ۗ وَمَا اللّـٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ (74)
پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہو گئے گویا کہ وہ پتھر ہیں یا ان سے بھی زیادہ سخت، اور بعض پتھر تو ایسے بھی ہیں جن سے نہریں پھوٹ کر نکلتی ہیں، اور بعض ایسے بھی ہیں جو پھٹتے ہیں پھر ان سے پانی نکلتا ہے، اور بعض ایسے بھی ہیں جو اللہ کے ڈر سے گر پڑتے ہیں، اور اللہ تمہارے کاموں سے بے خبر نہیں۔
اَفَتَطْمَعُوْنَ اَنْ يُّؤْمِنُـوْا لَكُمْ وَقَدْ كَانَ فَرِيْقٌ مِّنْـهُـمْ يَسْـمَعُوْنَ كَلَامَ اللّـٰهِ ثُـمَّ يُحَرِّفُوْنَهٝ مِنْ بَعْدِ مَا عَقَلُوْهُ وَهُـمْ يَعْلَمُوْنَ (75)
کیا تمہیں امید ہے کہ یہود تمہارے کہنے پر ایمان لے آئیں گے حالانکہ ان میں ایک ایسا گروہ بھی گزرا ہے جو اللہ کا کلام سنتا تھا پھر اسے سمجھنے کے بعد جان بوجھ کر بدل ڈالتا تھا۔
وَاِذَا لَقُوا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا قَالُوٓا اٰمَنَّا ۖ وَاِذَا خَلَا بَعْضُهُـمْ اِلٰى بَعْضٍ قَالُوٓا اَتُحَدِّثُوْنَـهُـمْ بِمَا فَتَحَ اللّـٰهُ عَلَيْكُمْ لِيُحَآجُّوْكُمْ بِهٖ عِنْدَ رَبِّكُمْ ۚ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ (76)
اور جب وہ ان لوگوں سے ملتے ہیں جو ایمان لاچکے ہیں تو کہتے ہیں ہم بھی ایمان لے آئےہیں، اور جب وہ ایک دوسرے کے پاس علیحدہ ہوتے ہیں تو کہتے ہیں کیا تم انہیں وہ راز بتا دیتے ہو جو اللہ نے تم پر کھولے ہیں تاکہ وہ اس سے تمہیں تمہارے رب کے روبرو الزام دیں، کیا تم نہیں سمجھتے۔
اَوَلَا يَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللّـٰهَ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّوْنَ وَمَا يُعْلِنُـوْنَ (77)
کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں۔
وَمِنْـهُـمْ اُمِّيُّوْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ الْكِتَابَ اِلَّا اَمَانِىَّ وَاِنْ هُـمْ اِلَّا يَظُنُّوْنَ (78)
اور بعض ان میں سے ان پڑھ ہیں جو کتاب نہیں جانتے، سوائے جھوٹی آرزوؤں کے، اور وہ محض اٹکل پچو باتیں بناتے ہیں۔
فَوَيْلٌ لِّلَّـذِيْنَ يَكْـتُبُوْنَ الْكِتَابَ بِاَيْدِيْهِـمْ ثُـمَّ يَقُوْلُوْنَ هٰذَا مِنْ عِنْدِ اللّـٰهِ لِيَشْتَـرُوْا بِهٖ ثَمَنًا قَلِيْلًا ۖ فَوَيْلٌ لَّـهُـمْ مِّمَّا كَتَبَتْ اَيْدِيْهِـمْ وَوَيْلٌ لَّـهُـمْ مِّمَّا يَكْسِبُوْنَ (79)
سو افسوس ہے ان لوگوں پر جو اپنے ہاتھوں سے لکھتے ہیں پھر کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے تاکہ اس سے کچھ روپیہ کمائیں، پھر افسوس ہے ان کے ہاتھوں کے لکھنے پر اور افسوس ہے ان کی کمائی پر۔
وَقَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّآ اَيَّامًا مَّعْدُوْدَةً ۚ قُلْ اَتَّخَذْتُـمْ عِنْدَ اللّـٰهِ عَهْدًا فَلَنْ يُّخْلِفَ اللّـٰهُ عَهْدَهٝ ۖ اَمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّـٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ (80)
اور کہتے ہیں ہمیں سوائے چند گنتی کے دنوں کے آگ نہیں چھوئے گی، کہہ دو کیا تم نے اللہ سے کوئی عہدلےلیا ہے کہ ہر گز اللہ اپنے عہد کا خلاف نہیں کرے گا، یا تم اللہ پر وہ باتیں کہتے ہو جو تم نہیں جانتے۔
بَلٰى مَنْ كَسَبَ سَيِّئَةً وَّّاَحَاطَتْ بِهٖ خَطِيٓئَتُهٝ فَـاُولٰٓئِكَ اَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُـمْ فِيْـهَا خَالِـدُوْنَ (81)
ہاں جس نے کوئی گناہ کیا اور اسے اس کے گناہ نے گھیر لیا سو وہی دوزخی ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
وَالَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ اُولٰٓئِكَ اَصْحَابُ الْجَنَّـةِ ۖ هُـمْ فِيْـهَا خَالِـدُوْنَ (82)
اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کیے وہی بہشتی ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
وَاِذْ اَخَذْنَا مِيْثَاقَ بَنِىٓ اِسْرَآئِيْلَ لَا تَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّـٰهَ وَبِالْوَالِـدَيْنِ اِحْسَانًا وَّذِى الْقُرْبٰى وَالْيَتَامٰى وَالْمَسَاكِيْنِ وَقُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا وَّاَقِيْمُوا الصَّلَاةَ وَاٰتُوا الزَّكَاةَ ۖ ثُـمَّ تَوَلَّيْتُـمْ اِلَّا قَلِيْلًا مِّنْكُمْ وَاَنْـتُـمْ مُّعْرِضُوْنَ (83)
اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ اور رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں سے اچھا سلوک کرنا اور لوگوں سے اچھی بات کہنا اور نماز قائم کرنا اور زکوۃٰ دینا، پھر سوائے چند آدمیوں کے تم میں سے سب منہ موڑ کر پھر گئے۔
وَاِذْ اَخَذْنَا مِيْثَاقَكُمْ لَا تَسْفِكُـوْنَ دِمَآءَكُمْ وَلَا تُخْرِجُوْنَ اَنْفُسَكُمْ مِّنْ دِيَارِكُمْ ثُـمَّ اَقْرَرْتُـمْ وَاَنْـتُـمْ تَشْهَدُوْنَ (84)
اور جب ہم نے تم سے عہد لیا کہ آپس میں خونریزی نہ کرنا اور نہ اپنے لوگوں کو جلا وطن کرنا پھر تم نے اقرار کیا اور تم خود گواہ ہو۔
ثُـمَّ اَنْتُـمْ هٰٓؤُلَآءِ تَقْتُلُوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَتُخْرِجُوْنَ فَرِيْقًا مِّنْكُمْ مِّنْ دِيَارِهِـمْ تَظَاهَرُوْنَ عَلَيْـهِـمْ بِالْاِثْـمِ وَالْعُدْوَانِ ؕ وَاِنْ يَّاْتُوْكُمْ اُسَارٰى تُفَادُوْهُـمْ وَهُوَ مُحَرَّمٌ عَلَيْكُمْ اِخْرَاجُـهُـمْ ۚ اَفَتُؤْمِنُـوْنَ بِبَعْضِ الْكِتَابِ وَتَكْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ ۚ فَمَا جَزَآءُ مَنْ يَّفْعَلُ ذٰلِكَ مِنْكُمْ اِلَّا خِزْيٌ فِى الْحَيَاةِ الـدُّنْيَا ۚ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يُرَدُّوْنَ اِلٰٓى اَشَدِّ الْعَذَابِ ۚ وَمَا اللّـٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ (85)
پھر تم ہی وہ ہو کہ اپنے لوگوں کو قتل کرتے ہو اور ایک جماعت کو اپنے میں سے ان کے گھروں میں سے نکالتے ہو ان پر گناہ اور ظلم سے چڑھائی کرتے ہو، اور اگر وہ تمہارے پاس قیدی ہو کر آئیں تو ان کا تاوان دیتے ہو حالانکہ تم پر ان کا نکالنا بھی حرام تھا، کیا تم کتاب کے ایک حصہ پرایمان رکھتے ہو اور دوسرے حصہ کا انکار کرتے ہو، پھرجو تم میں سے ایسا کرے اس کی یہی سزا ہے کہ دنیا میں ذلیل ہو اور قیامت کے دن بھی سخت عذاب میں دھکیلے جائیں، اور اللہ اس سے بے خبر نہیں جو تم کرتے ہو۔
اُولٰٓئِكَ الَّـذِيْنَ اشْتَـرَوُا الْحَيَاةَ الـدُّنْيَا بِالْاٰخِرَةِ ۖ فَلَا يُخَفَّفُ عَنْـهُـمُ الْعَذَابُ وَلَا هُـمْ يُنْصَرُوْنَ (86)
یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت کے بدلہ خریدا، سو ان سے عذاب ہلکانہ کیا جائے گا اور نہ انہیں کوئی مدد مل سکے گی۔
وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتَابَ وَقَفَّيْنَا مِنْ بَعْدِهٖ بِالرُّسُلِ ۖ وَاٰتَيْنَا عِيْسَى ابْنَ مَرْيَـمَ الْبَيِّنَاتِ وَاَيَّدْنَاهُ بِـرُوْحِ الْقُدُسِ ؕ اَفَكُلَّمَا جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ بِمَا لَا تَهْوٰٓى اَنْفُسُكُمُ اسْتَكْبَـرْتُـمْ فَفَرِيْقًا كَذَّبْتُـمْ وَفَرِيْقًا تَقْتُلُوْنَ (87)
اور بے شک ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور اس کے بعد بھی پے در پے رسول بھیجتے رہے، اور ہم نے عیسیٰ مریم کے بیٹے کو نشانیاں دیں اور روح القدس سے اس کی تائید کی، کیا جب تمہارے پاس کوئی رسول وہ حکم لایا جسے تمہارے دل نہیں چاہتے تھے تو تم اکڑ بیٹھے، پھر ایک جماعت کو تم نے جھٹلایا اور ایک جماعت کو قتل کیا۔
وَقَالُوْا قُلُوْبُنَا غُلْفٌ ۚ بَل لَّعَنَهُـمُ اللّـٰهُ بِكُـفْرِهِـمْ فَقَلِيْلًا مَّا يُؤْمِنُـوْنَ (88)
اور کہتے ہیں ہمارے دلوں پر غلاف ہیں، بلکہ اللہ نے ان کے کفر کے سبب سے لعنت کی ہے، سو بہت ہی کم ایمان لاتے ہیں۔
وَلَمَّا جَآءَهُـمْ كِتَابٌ مِّنْ عِنْدِ اللّـٰهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُـمْ وَكَانُـوْا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَى الَّـذِيْنَ كَفَرُوْاۚ فَلَمَّا جَآءَهُـمْ مَّا عَرَفُوْا كَفَرُوْا بِهٖ ۚ فَلَعْنَةُ اللّـٰهِ عَلَى الْكَافِـرِيْنَ (89)
اور جب ان کے پاس اللہ کی طرف سے کتاب آئی جو تصدیق کرتی ہے اس کی جو ان کے پاس ہے، اور اس سے پہلے وہ کفار پر فتح مانگا کرتے تھے، پھر جب ان کے پاس وہ چیز آئی جسے انہوں نے پہچان لیا تو اس کا انکار کیا، سو کافروں پر اللہ کی لعنت ہے۔
بِئْسَمَا اشْتَـرَوْا بِهٖ اَنْفُسَهُـمْ اَنْ يَّكْـفُرُوْا بِمَآ اَنْزَلَ اللّـٰهُ بَغْيًا اَنْ يُّنَزِّلَ اللّـٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ عَلٰى مَنْ يَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ ۖ فَبَآءُوْا بِغَضَبٍ عَلٰى غَضَبٍ ۚ وَلِلْكَافِـرِيْنَ عَذَابٌ مُّهِيْنٌ (90)
انہوں نے اپنی جانوں کو بہت ہی بری چیز کے لیے بیچ ڈالا، یہ کہ اللہ کی نازل کی ہوئی چیزوں کا اس ضد میں آ کر انکار کرنے لگے کہ وہ اپنے فضل کو اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے کیوں نازل کر دیتا ہے، سوغضب پر غضب میں آ گئے، اور کافروں کے لیے ذلت کا عذاب ہے۔
وَاِذَا قِيْلَ لَـهُـمْ اٰمِنُـوْا بِمَآ اَنْزَلَ اللّـٰهُ قَالُوْا نُؤْمِنُ بِمَآ اُنْزِلَ عَلَيْنَا وَيَكْـفُرُوْنَ بِمَا وَرَآءَهٝ ۖ وَهُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَهُـمْ ۗ قُلْ فَلِمَ تَقْتُلُوْنَ اَنْبِيَاءَ اللّـٰهِ مِنْ قَبْلُ اِنْ كُنْتُـمْ مُّؤْمِنِيْنَ (91)
اورجب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس پر ایمان لاؤ جو اللہ نے نازل کیا ہے تو کہتے ہیں ہم تو اسی کو مانتے ہیں جو ہم پر اترا ہے اور اسے نہیں مانتے ہیں جو اس کے سوا ہے، حالانکہ وہ حق ہے اور تصدیق کرنے والی ہے جو ان کے پاس ہے، کہہ دو پھر تم کیوں اس سے پہلے اللہ کے نبیوں کو قتل کرتے رہے اگر تم مومن تھے۔
وَلَقَدْ جَآءَكُمْ مُّوْسٰى بِالْبَيِّنَاتِ ثُـمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْ بَعْدِهٖ وَاَنْـتُـمْ ظَالِمُوْنَ (92)
اور تمہارے پاس موسیٰ صریح معجزے لے کر آیا، پھر تم نے اس کے بعد بچھڑے کو بنالیا، اور تم ظالم تھے۔
وَاِذْ اَخَذْنَا مِيْثَاقَكُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّوْرَ خُذُوْا مَآ اٰتَيْنَاكُمْ بِقُوَّةٍ وَّّاسْـمَعُوْا ۖ قَالُوْا سَـمِعْنَا وَعَصَيْنَا ۖ وَاُشْرِبُوْا فِىْ قُلُوْبِهِـمُ الْعِجْلَ بِكُـفْرِهِـمْ ۚ قُلْ بِئْسَمَا يَاْمُرُكُمْ بِهٓ ٖ اِيْمَانُكُمْ اِنْ كُنْتُـمْ مُّؤْمِنِيْنَ (93)
اور جب ہم نے تم سے عہد لیا اور تم پر کوہِ طورکو اٹھایا کہ جو ہم نے تمہیں دیا ہے اسے مضبوطی سے پکڑو اور سنو، انہوں نے کہا ہم نے سن لیا اور مانیں گے نہیں، اور ان کے دلوں میں کفر کی وجہ سے بچھڑے کی محبت رچ گئی تھی، کہہ دو اگر تم ایمان دار ہو تو تمہارا ایمان تمہیں بہت ہی برا حکم دے رہا ہے۔
قُلْ اِنْ كَانَتْ لَكُمُ الـدَّارُ الْاٰخِرَةُ عِنْدَ اللّـٰهِ خَالِصَةً مِّنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُـمْ صَادِقِيْنَ (94)
کہہ دو اگر اللہ کے نزدیک آخرت کا گھر خصوصیت کے ساتھ سوائے اور لوگوں کے تمہارے ہی لیے ہے تو تم موت کی آرزو کرو اگر تم سچے ہو۔
وَلَنْ يَّتَمَنَّوْهُ اَبَدًا بِمَا قَدَّمَتْ اَيْدِيْهِـمْ ۗ وَاللّـٰهُ عَلِـيْـمٌ بِالظَّالِمِيْنَ (95)
وہ کبھی بھی اس کی ہر گز آرزو نہیں کریں گے ان گناہوں کی وجہ سے جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں، اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔
وَلَتَجِدَنَّـهُـمْ اَحْرَصَ النَّاسِ عَلٰى حَيَاةٍۚ وَمِنَ الَّـذِيْنَ اَشْرَكُوْا ۚ يَوَدُّ اَحَدُهُـمْ لَوْ يُعَمَّرُ اَلْفَ سَنَةٍۚ وَمَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهٖ مِنَ الْعَذَابِ اَنْ يُّعَمَّرَ ۗ وَاللّـٰهُ بَصِيْـرٌ بِمَا يَعْمَلُوْنَ (96)
اور آپ انہیں زندگی پر سب لوگوں سے زیادہ حریص پائیں گے، اور ان سے بھی جو مشرک ہیں، ہرایک ان میں سے چاہتا ہے کہ کاش اسے ہزار برس عمرملے، اور اسے عمر کا ملنا عذاب سے بچانے والا نہیں، اور اللہ دیکھتا ہے جو وہ کرتے ہیں۔
قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِيْلَ فَاِنَّهٝ نَزَّلَـهٝ عَلٰى قَلْبِكَ بِاِذْنِ اللّـٰهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَهُدًى وَّبُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِيْنَ (97)
کہہ دوجو کوئی جبرائیل کا دشمن ہو، سواسی نے اتاراہے وہ قرآن اللہ کے حکم سے آپ کے دل پر، ان کی تصدیق کرتا ہے جو اس سے پہلے ہیں اور ایمان والوں کے لئے ہدایت اور خوشخبری ہے۔
مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّلّـٰهِ وَمَلَآئِكَـتِهٖ وَرُسُلِهٖ وَجِبْرِيْلَ وَمِيْكَالَ فَاِنَّ اللّـٰهَ عَدُوٌّ لِّلْكَافِـرِيْنَ (98)
جو شخص اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں اور جبرائیل اور میکائیل کا دشمن ہو، تو بیشک اللہ بھی ان کافروں کا دشمن ہے۔
وَلَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ اٰيَاتٍ بَيِّنَاتٍ ۖ وَمَا يَكْـفُرُ بِهَآ اِلَّا الْفَاسِقُوْنَ (99)
اور ہم نے آپ کی طرف روشن آیتیں اتاری ہیں، اور ان سے انکاری نہیں مگر فاسق۔
اَوَكُلَّمَا عَاهَدُوْا عَهْدًا نَّبَذَهٝ فَرِيْقٌ مِّنْـهُـمْ ۚ بَلْ اَكْثَرُهُـمْ لَا يُؤْمِنُـوْنَ (100)
کیا جب کبھی انہوں نے کوئی عہد باندھا تو اسے ان میں سے ایک جماعت نے پھینک دیا، بلکہ ان میں سے اکثرایمان ہی نہیں رکھتے۔
وَلَمَّا جَآءَهُـمْ رَسُوْلٌ مِّنْ عِنْدِ اللّـٰهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُـمْ نَبَذَ فَرِيْقٌ مِّنَ الَّـذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتَابَۙ كِتَابَ اللّـٰهِ وَرَآءَ ظُهُوْرِهِـمْ كَاَنَّـهُـمْ لَا يَعْلَمُوْنَ (101)
اور جب ان کے پاس اللہ کی طرف سے وہ رسول آیا جو اس کی تصدیق کرتا ہے جو ان کے پا س ہے تو اہلِ کتاب کی ایک جماعت نے اللہ کی کتاب کو اپنی پیٹھ کے پیچھے ایسا پھینکا کہ گویا اسے جانتے ہی نہیں۔
وَاتَّبَعُوْا مَا تَتْلُو الشَّيَاطِيْنُ عَلٰى مُلْكِ سُلَيْمَانَ ۖ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلٰكِنَّ الشَّيَاطِيْنَ كَفَرُوْا يُعَلِّمُوْنَ النَّاسَ السِّحْرَۖ وَمَآ اُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوْتَ وَمَارُوْتَ ۚ وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ اَحَدٍ حَتّـٰى يَقُوْلَآ اِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْـفُرْ ۖ فَيَتَعَلَّمُوْنَ مِنْـهُمَا مَا يُفَرِّقُوْنَ بِهٖ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهٖ ۚ وَمَا هُـمْ بِضَآرِّيْنَ بِهٖ مِنْ اَحَدٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّـٰهِ ۚ وَيَتَعَلَّمُوْنَ مَا يَضُرُّهُـمْ وَلَا يَنْفَعُهُـمْ ۚ وَلَقَدْ عَلِمُوْا لَمَنِ اشْتَـرَاهُ مَا لَـهٝ فِى الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ ۚ وَلَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهٓ ٖ اَنْفُسَهُـمْ ۚ لَوْ كَانُـوْا يَعْلَمُوْنَ (102)
اور انہوں نے اس چیز کی پیروی کی جو شیطان سلیمان کی بادشاہت کے وقت پڑھتے تھے، اور سلیمان نے کفر نہیں کیا تھا لیکن شیطانوں نے ہی کفر کیا لوگوں کو جادو سکھاتے تھے، اور اس (چیز) کی بھی جو شہر بابل میں ہاروت و ماروت دوفرشتوں پر اتارا گیا تھا، اور وہ کسی کو نہ سکھاتے تھے جب تک یہ نہ کہہ دیتے ہم تو صرف آزمائش کے لیے ہیں، تو کافر نہ بن، پس ان سے وہ بات سیکھتے تھے جس سے خاوند اور بیوی میں جدائی ڈالیں، حالانکہ وہ اس سے کسی کو اللہ کے حکم کے سوا کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکتے تھے، اور سیکھتے تھے وہ جو ان کو نقصان دیتی تھی اورنہ کہ نفع، اور وہ یہ بھی جانتے تھے کہ جس نے جادو کو خریدا اس کے لیے آخرت میں کچھ حصہ نہیں، اور وہ چیز بہت بری ہے جس کے بدلہ میں انہوں نے اپنے آپ کو بیچا، کاش وہ جانتے۔
وَلَوْ اَنَّـهُـمْ اٰمَنُـوْا وَاتَّقَوْا لَمَثُوْبَةٌ مِّنْ عِنْدِ اللّـٰهِ خَيْـرٌ ۖ لَّوْ كَانُـوْا يَعْلَمُوْنَ (103)
اور اگر وہ ایمان لاتے اور پرہیز گاری کرتے تو البتہ اللہ کے ہاں کا اجر ان کے لیے بہتر تھا، کاش وہ جانتے۔
يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَقُوْلُوا انْظُرْنَا وَاسْـمَعُوْا ۗ وَلِلْكَافِـرِيْنَ عَذَابٌ اَلِـيْـمٌ (104)
اے ایمان والو راعنا نہ کہو اور انظرنا کہو اور سنا کرو، اور کافروں کے لیے دردناک عذاب ہے۔
مَّا يَوَدُّ الَّـذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتَابِ وَلَا الْمُشْرِكِيْنَ اَنْ يُّنَزَّلَ عَلَيْكُمْ مِّنْ خَيْـرٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ ۗ وَاللّـٰهُ يَخْتَصُّ بِرَحْـمَتِهٖ مَنْ يَّشَآءُ ۚ وَاللّـٰهُ ذُوالْفَضْلِ الْعَظِيْـمِ (105)
اہل کتاب کے کافر اور مشرک نہیں چاہتے کہ تمہارے رب کی طرف سے تم پر کوئی بھی اچھی بات نازل ہو، اور اللہ اپنی رحمت کے ساتھ خاص کر لیتا ہے جسے چاہے، اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔
مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰيَةٍ اَوْ نُـنْسِهَا نَاْتِ بِخَيْـرٍ مِّنْهَآ اَوْ مِثْلِهَا ۗ اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّـٰهَ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْرٌ (106)
ہم جو کسی آیت کو منسوخ کرتے ہیں یا بھلا دیتے ہیں تو اس سے بہتر یا اس کے برابر لاتے ہیں، کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ ہر چیز پر قاد رہے۔
اَ لَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّـٰهَ لَـهٝ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ ۗ وَمَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّـٰهِ مِنْ وَّّلِيٍّ وَّلَا نَصِيْـرٍ (107)
کیا تم نہیں جانتے اللہ ہی کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ہے، اور تمہارے لیے اللہ کے سوا نہ کوئی دوست ہے نہ مددگار۔
اَمْ تُرِيْدُوْنَ اَنْ تَسْاَلُوْا رَسُوْلَكُمْ كَمَا سُئِلَ مُوْسٰى مِنْ قَبْلُ ۗ وَمَنْ يَّتَبَدَّلِ الْكُفْرَ بِالْاِيْمَانِ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِيْلِ (108)
کیا تم چاہتے ہو کہ اپنے رسول سے سوال کرو جیسے اس سے پہلے موسیٰ سے سوال کیے گئے تھے، اور جو کوئی ایمان کے عوض کفر کوبدل لے سو وہ سیدھے راستہ سے گمراہ ہوا۔
وَدَّ كَثِيْرٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتَابِ لَوْ يَرُدُّوْنَكُمْ مِّنْ بَعْدِ اِيْمَانِكُمْ كُفَّارًا حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ اَنْفُسِهِـمْ مِّنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَـهُـمُ الْحَقُّ ۚ فَاعْفُوْا وَاصْفَحُوْا حَتّـٰى يَاْتِىَ اللّـٰهُ بِاَمْرِهٖ ۗ اِنَّ اللّـٰهَ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْرٌ (109)
اکثر اہل کتاب تمہارے ایمان لانے کے بعد تمہیں کفر کی طرف پھیرنا چاہتے ہیں، اپنے اندر کے حسد کی وجہ سے، حالانکہ ان پر حق ظاہر ہو چکا ہے، سو معاف کرو اور درگزر کرو جب تک کہ اللہ اپنا حکم بھیجے، بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
وَاَقِيْمُوا الصَّلَاةَ وَاٰتُوا الزَّكَاةَ ۚ وَمَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ مِّنْ خَيْـرٍ تَجِدُوْهُ عِنْدَ اللّـٰهِ ۗ اِنَّ اللّـٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ (110)
اور نماز قائم کرو اور زکوۃٰ دو ،اور جو کچھ نیکی سے اپنےواسطے آگے بھیجو گے اسے اللہ کے ہاں پاؤ گے، بے شک اللہ جو کچھ تم کرتے ہو سب دیکھتا ہے۔
وَقَالُوْا لَنْ يَّدْخُلَ الْجَنَّةَ اِلَّا مَنْ كَانَ هُوْدًا اَوْ نَصَارٰى ۗ تِلْكَ اَمَانِـيُّـهُـمْ ۗ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ كُنْتُـمْ صَادِقِيْنَ (111)
اور کہتے ہیں کہ سوائے یہود یا نصاریٰ کے اور کوئی جنت میں ہرگز داخل نہ ہوگا، یہ ان کے ڈھکوسلے ہیں کہہ دو اپنی دلیل لاؤ اگر تم سچے ہو۔
بَلٰى مَنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٝ لِلّـٰهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَلَـهٝٓ اَجْرُهٝ عِنْدَ رَبِّهٖۖ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْـهِـمْ وَلَا هُـمْ يَحْزَنُـوْنَ (112)
ہاں جس نے اپنا منہ اللہ کے سامنے جھکا دیا اور وہ نیکو کار بھی ہو تو اس کے لیے اس کا بدلہ اس کے رب کے ہاں ہے، اور ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
وَقَالَتِ الْيَهُوْدُ لَيْسَتِ النَّصَارٰى عَلٰى شَيْءٍۖ وَّقَالَتِ النَّصَارٰى لَيْسَتِ الْيَهُوْدُ عَلٰى شَىْءٍ وَّهُـمْ يَتْلُوْنَ الْكِتَابَ ۗ كَذٰلِكَ قَالَ الَّـذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ مِثْلَ قَوْلِهِـمْ ۚ فَاللّـٰهُ يَحْكُمُ بَيْنَـهُـمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِيْمَا كَانُـوْا فِيْهِ يَخْتَلِفُوْنَ (113)
اور یہود کہتے ہیں کہ نصاریٰ ٹھیک راہ پر نہیں اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ یہودی راہِ حق پر نہیں ہیں حالانکہ وہ سب کتاب پڑھتے ہیں، ایسی ہی باتیں وہ لوگ بھی کہتے ہیں جو بے علم ہیں، پھر اللہ قیامت کے دن ان باتوں کا کہ جس میں وہ جھگڑ رہے ہیں خودفیصلہ کرے گا۔
وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسَاجِدَ اللّـٰهِ اَنْ يُّذْكَـرَ فِيْـهَا اسْمُهٝ وَسَعٰى فِىْ خَرَابِـهَا ۚ اُولٰٓئِكَ مَا كَانَ لَـهُـمْ اَنْ يَّدْخُلُوْهَا اِلَّا خَآئِفِيْنَ ۚ لَـهُـمْ فِى الـدُّنْيَا خِزْيٌ وَّلَـهُـمْ فِى الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِـيْمٌ (114)
اوراس سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جس نے اللہ کی مسجدوں میں اس کا نام لینے کی ممانعت کردی اور ان کے ویران کرنے کی کوشش کی، ایسے لوگوں کا حق نہیں ہے کہ ان میں داخل ہوں مگر ڈرتے ہوئے، ان کے لیے دنیا میں بھی ذلت ہے اوران کے لیے آخرت میں بہت بڑا عذاب ہے۔
وَلِلّـٰهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ ۚ فَاَيْنَمَا تُـوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللّـٰهِ ۚ اِنَّ اللّـٰهَ وَاسِعٌ عَلِيْـمٌ (115)
اورمشرق اور مغرب اللہ ہی کا ہے، سو تم جدھر بھی رخ کرو ادھر ہی اللہ کا رخ ہے، بے شک اللہ وسعت والا جاننے والا ہے۔
وَقَالُوا اتَّخَذَ اللّـٰهُ وَلَـدًا ۙ سُبْحَانَهٝ ۖ بَل لَّـهٝ مَا فِى السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ ۖ كُلٌّ لَّـهٝ قَانِتُـوْنَ (116)
اور کہتے ہیں اللہ نے بیٹا بنایا ہے، حالانکہ وہ پاک ہے، بلکہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اسی کا ہے، سب اسی کے فرمانبردار ہیں۔
بَدِيْعُ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ ۚ وَاِذَا قَضٰٓى اَمْرًا فَاِنَّمَا يَقُوْلُ لَـهٝ كُنْ فَيَكُـوْنُ (117)
آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے، اور جب کوئی چیز کرنا چاہتا ہے تو صرف یہی کہہ دیتا ہے کہ ہو جا، سو وہ ہو جاتی ہے۔
وَقَالَ الَّـذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ لَوْلَا يُكَلِّمُنَا اللّـٰهُ اَوْ تَاْتِيْنَآ اٰيَةٌ ۗ كَذٰلِكَ قَالَ الَّـذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِـمْ مِّثْلَ قَوْلِـهِـمْ ۘ تَشَابَهَتْ قُلُوْبُـهُـمْ ۗ قَدْ بَيَّنَّا الْاٰيَاتِ لِقَوْمٍ يُّوْقِنُـوْنَ (118)
اوربے علم کہتے ہیں کہ اللہ ہم سے کیوں کلام نہیں کرتا یا ہمارےپاس اس کی کوئی نشانی کیوں نہیں آتی، ان سے پہلے لوگ بھی ایسی ہی باتیں کہہ چکے ہیں، ان کے دل ایک جیسے ہیں، یقین کرنے والوں کے لیے تو ہم نشانیاں بیان کر چکے ہیں۔
اِنَّـآ اَرْسَلْنَاكَ بِالْحَقِّ بَشِيْـرًا وَّنَذِيْـرًا ۖ وَّلَا تُسْاَلُ عَنْ اَصْحَابِ الْجَحِيْـمِ (119)
بے شک ہم نے تمہیں سچائی کے ساتھ بھیجا ہے خوشخبری سنانے کے لیے اور ڈرانے کے لیے، اور تم سے دوزخیوں کے متعلق باز پرس نہ ہو گی۔
وَلَنْ تَـرْضٰى عَنْكَ الْـيَهُوْدُ وَلَا النَّصَارٰى حَتّـٰى تَتَّبِــعَ مِلَّـتَـهُـمْ ۗ قُلْ اِنَّ هُدَى اللّـٰهِ هُوَ الْـهُـدٰى ۗ وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُـمْ بَعْدَ الَّـذِىْ جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ ۙ مَا لَكَ مِنَ اللّـٰهِ مِنْ وَّّلِـيٍّ وَّلَا نَصِيْـرٍ (120)
اورتم سے یہود اور نصاریٰ ہرگز راضی نہ ہوں گے جب تک کہ تم ان کے دین کی پیروی نہیں کرو گے، کہہ دو بے شک ہدایت اللہ ہی کی ہدایت ہے، اور اگر تم نے ان کی خواہشوں کی پیروی کی اس کے بعد جو تمہارے پاس علم آ چکا تو تمہارے لیے اللہ کے ہاں کوئی دوست اور مددگار نہیں ہوگا۔
اَلَّـذِيْنَ اٰتَيْنَاهُـمُ الْكِتَابَ يَتْلُوْنَهٝ حَقَّ تِلَاوَتِهٖ ؕ اُولٰٓئِكَ يُؤْمِنُـوْنَ بِهٖ ۗ وَمَنْ يَّكْـفُرْ بِهٖ فَـاُولٰٓئِكَ هُـمُ الْخَاسِرُوْنَ (121)
وہ لوگ جنہیں ہم نے کتاب دی ہے وہ اسے پڑھتے ہیں جیسا اس کے پڑھنے کا حق ہے، وہی لوگ اس پر ایمان لاتے ہیں، جو اس سے انکار کرتے ہیں وہی نقصان اٹھانے والے ہیں۔
يَا بَنِىٓ اِسْرَآئِيْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِىَ الَّتِىٓ اَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَاَنِّىْ فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعَالَمِيْنَ (122)
اے بنی اسرائیل !میرے احسان کو یاد کرو جو میں نے تم پر کیے اور بے شک میں نے تمہیں سارے جہاں پر بزرگی دی تھی۔
وَاتَّقُوْا يَوْمًا لَّا تَجْزِىْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَيْئًا وَّلَا يُقْبَلُ مِنْـهَا عَدْلٌ وَّلَا تَنْفَعُهَا شَفَاعَةٌ وَّّلَا هُـمْ يُنْصَرُوْنَ (123)
اوراس دن سے ڈرو جس دن کوئی بھی کسی کے کام نہ آئے گا اور نہ اس سے بدلہ قبول کیا جائے گا اور نہ اسے کوئی سفارش نفع دے گی اور نہ وہ مدد دیے جائیں گے۔
وَاِذِ ابْتَلٰٓى اِبْـرَاهِيْمَ رَبُّهٝ بِكَلِمَاتٍ فَاَتَمَّهُنَّ ۖ قَالَ اِنِّىْ جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًا ۖ قَالَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِىْ ۖ قَالَ لَا يَنَالُ عَهْدِى الظَّالِمِيْنَ (124)
اور جب ابراھیم کو اس کے رب نے کئی باتوں میں آزمایا تو اس نے انہیں پورا کر دیا، فرمایا بے شک میں تمہیں سب لوگوں کا پیشوا بنادوں گا، کہا اور میری اولاد میں سے بھی، فرمایا میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچے گا (البتہ میرا وعدہ ظالموں کے لیے نہیں ہوگا)۔
وَاِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً لِّلنَّاسِ وَاَمْنًاۖ وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْـرَاهِيْمَ مُصَلًّى ؕ وَعَهِدْنَآ اِلٰٓى اِبْـرَاهِيْمَ وَاِسْـمَاعِيْلَ اَنْ طَهِّرَا بَيْتِىَ لِلطَّـآئِفِيْنَ وَالْعَاكِفِيْنَ وَالرُّكَّعِ السُّجُوْدِ (125)
اور جب ہم نے کعبہ کو لوگوں کے لیے عبادت گاہ اور امن کی جگہ بنایا، (اور فرمایا) مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بناؤ، اور ہم نے ابراھیم اور اسماعیل سے عہد لیا کہ میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور اعتکاف کرنے والوں اور رکوع کرنے والوں اور سجدہ کرنے والوں کے لیے پاک رکھو۔
وَاِذْ قَالَ اِبْـرَاهِيْمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا بَلَـدًا اٰمِنًا وَّارْزُقْ اَهْلَـهٝ مِنَ الثَّمَرَاتِ مَنْ اٰمَنَ مِنْـهُـمْ بِاللّـٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ۖ قَالَ وَمَنْ كَفَرَ فَاُمَتِّعُهٝ قَلِيْلًا ثُـمَّ اَضْطَرُّهٝٓ اِلٰى عَذَابِ النَّارِ ۖ وَبِئْسَ الْمَصِيْـرُ (126)
اور جب ابراھیم نے کہا اے میرے رب اسے امن کا شہر بنا دے اور اس کے رہنےو الوں کو پھلوں سے رزق دے جو کوئی ان میں سے اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان لائے، فرمایا اور جو کافر ہوگا سو اسے بھی تھوڑاسا فائدہ پہنچاؤں گا پھر اسے دوزخ کے عذاب میں دھکیل دوں گا، اور وہ برا ٹھکانہ ہے۔
وَاِذْ يَرْفَعُ اِبْـرَاهِيْمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَاِسْـمَاعِيْلُ ؕرَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ۖ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِـيْمُ (127)
اور جب ابراھیم اور اسماعیل کعبہ کی بنیادیں اٹھا رہے تھے، اے ہمارے رب ہم سے قبول کر، بے شک تو ہی سننے والا جاننے والا ہے۔
رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَآ اُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَۖ وَاَرِنَا مَنَاسِكَـنَا وَتُبْ عَلَيْنَا ۖ اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيْـمُ (128)
اے ہمارے رب ہمیں اپنا فرمانبردار بنا دے اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک جماعت کو اپنا فرمانبردار بنا، اور ہمیں ہمارے حج کے طریقے بتا دے اور ہماری توبہ قبول فرما، بے شک تو بڑا توبہ قبول کرنے والا نہایت رحم والا ہے۔
رَبَّنَا وَابْعَثْ فِـيْهِـمْ رَسُوْلًا مِّنْـهُـمْ يَتْلُوْا عَلَيْـهِـمْ اٰيَاتِكَ وَيُعَلِّمُهُـمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّـيْـهِـمْ ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِـيْمُ (129)
اے ہمارے رب! اور ان میں ایک رسول انہیں میں سے بھیج جو ان پر تیری آیتیں پڑھے اور انہیں کتاب اور دانائی سکھائے اور انہیں پاک کرے، بے شک تو ہی غالب حکمت والا ہے۔
وَمَنْ يَّرْغَبُ عَنْ مِّلَّةِ اِبْـرَاهِيْمَ اِلَّا مَنْ سَفِهَ نَفْسَهٝ ۚ وَلَقَدِ اصْطَفَيْنَاهُ فِى الـدُّنْيَا ۖ وَاِنَّهٝ فِى الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِيْنَ (130)
اور کون ہے جو ملت ابراھیمی سے روگردانی کرے سوائے اس کے جو خود ہی احمق ہو، اور ہم نے تو اسے دنیا میں بھی بزرگی دی تھی، اور بے شک وہ آخرت میں بھی اچھے لوگوں میں سے ہوگا۔
اِذْ قَالَ لَـهٝ رَبُّهٝٓ اَسْلِمْ ۖ قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِيْنَ (131)
جب اسے اس کے رب نے کہا فرمانبردار ہو جا تو کہا میں جہانوں کا پروردگار کا فرمانبردار ہوں۔
وَوَصّـٰى بِهَآ اِبْـرَاهِيْمُ بَنِيْهِ وَيَعْقُوْبُۖ يَا بَنِىَّ اِنَّ اللّـٰهَ اصْطَفٰى لَكُمُ الدِّيْنَ فَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْتُـمْ مُّسْلِمُوْنَ (132)
اور اسی بات کی ابراھیم اور یعقوب نے بھی اپنے بیٹوں کو وصیت کی کہ اے میرے بیٹو بے شک اللہ نےتمہارے لیے یہ دین چن لیا سو تم ہرگز نہ مرنا مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو۔
اَمْ كُنْتُـمْ شُهَدَآءَ اِذْ حَضَرَ يَعْقُوْبَ الْمَوْتُ اِذْ قَالَ لِبَنِيْهِ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ بَعْدِيْۖ قَالُوْا نَعْبُدُ اِلٰـهَكَ وَاِلٰـهَ اٰبَآئِكَ اِبْـرَاهِيْمَ وَاِسْـمَاعِيْلَ وَاِسْحَاقَ اِلٰـهًا وَّاحِدًاۚ وَّنَحْنُ لَـهٝ مُسْلِمُوْنَ (133)
کیا تم حاضر تھے جب یعقوب کو موت آئی تب اس نے اپنے بیٹوں سے کہا تم میرے بعد کس کی عبادت کرو گے؟ انہوں نے کہا ہم آپ کے اور آپ کے باپ دادا ابراھیم اور اسماعیل اور اسحاق کے معبود کی عبادت کریں گے جو ایک معبود ہے، اور ہم اسی کے فرمانبردار ہیں۔
تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ ۖ لَـهَـا مَا كَسَبَتْ وَلَكُمْ مَّا كَسَبْتُـمْ ۖ وَلَا تُسْاَلُوْنَ عَمَّا كَانُـوْا يَعْمَلُوْنَ (134)
یہ ایک جماعت تھی جو گزرچکی، ان کے لیے ان کے اعمال ہیں اور تمہارے لیے تمہارے اعمال ہیں، اور تم سے نہیں پوچھا جائے گا کہ وہ کیا کرتے تھے۔
وَقَالُوْا كُوْنُـوْا هُوْدًا اَوْ نَصَارٰى تَهْتَدُوْا ۗ قُلْ بَلْ مِلَّـةَ اِبْـرَاهِيْمَ حَنِيْفًا ۖ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ (135)
اور کہتے ہیں کہ یہودی یا نصرانی ہو جاؤ تاکہ ہدایت پاؤ، کہہ دو بلکہ ہم تو ملت ابراھیمی پر رہیں گے جو موحد تھا اور مشرکوں میں سے نہیں تھا۔
قُوْلُوٓا اٰمَنَّا بِاللّـٰهِ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْنَا وَمَآ اُنْزِلَ اِلٰٓى اِبْـرَاهِيْمَ وَاِسْـمَاعِيْلَ وَاِسْحَاقَ وَيَعْقُوْبَ وَالْاَسْبَاطِ وَمَآ اُوْتِـىَ مُوْسٰى وَعِيْسٰى وَمَآ اُوْتِـىَ النَّبِيُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِـمْۚ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْۖ وَنَحْنُ لَـهٝ مُسْلِمُوْنَ (136)
کہہ دو ہم اللہ پر ایمان لائے اور اس پر جو ہم پر اتارا گیا اور جو ابراھیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور اس کی اولاد پر اتارا گیا اور جو موسیٰ اور عیسیٰ کو دیا گیا اور جو دوسرے نبیوں کو ان کے رب کی طرف سے دیا گیا، ہم کسی ایک میں ان میں سے فرق نہیں کرتے، اور ہم اسی کے فرمانبردار ہیں۔
فَاِنْ اٰمَنُـوْا بِمِثْلِ مَآ اٰمَنْـتُـمْ بِهٖ فَقَدِ اهْتَدَوْا ۖ وَّاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا هُـمْ فِىْ شِقَاقٍ ۖ فَسَيَكْـفِيْكَـهُـمُ اللّـٰهُ ۚ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ (137)
پس اگر وہ بھی ایمان لے آئیں جس طرح تم ایمان لائے ہو تو وہ بھی ہدایت پا گئے، اور اگر وہ نہ مانیں تو وہی ضد میں پڑے ہوئے ہیں، سو تمہیں ان سے اللہ کافی ہے اور وہی سننے والا جاننے والا ہے۔
صِبْغَةَ اللّـٰهِ ۖ وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّـٰهِ صِبْغَةً ۖ وَّنَحْنُ لَـهٝ عَابِدُوْنَ (138)
اللہ کا رنگ، اللہ کے رنگ سے اور کس کا رنگ بہتر ہے، اور ہم تو اسی کی عبادت کرتے ہیں۔
قُلْ اَتُحَآجُّوْنَنَا فِى اللّـٰهِ وَهُوَ رَبُّنَا وَرَبُّكُمْۚ وَلَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَكُمْ اَعْمَالُكُمْۚ وَنَحْنُ لَـهٝ مُخْلِصُوْنَ (139)
کہہ دو، کیا تم ہم سے اللہ کی نسبت جھگڑا کرتے ہو حالانکہ وہی ہمارا اور تمہارا رب ہے، اور ہمارے لیے ہمارے عمل ہیں اور تمہارے لیے تمہارے عمل، اور ہم تو خالص اسی کی عبادت کرتے ہیں۔
اَمْ تَقُوْلُوْنَ اِنَّ اِبْـرَاهِيْمَ وَاِسْـمَاعِيْلَ وَاِسْحَاقَ وَيَعْقُوْبَ وَالْاَسْبَاطَ كَانُـوْا هُوْدًا اَوْ نَصَارٰى ۗ قُلْ ءَاَنْتُـمْ اَعْلَمُ اَمِ اللّـٰهُ ۗ وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَتَمَ شَهَادَةً عِنْدَهٝ مِنَ اللّـٰهِ ۗ وَمَا اللّـٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ (140)
یا تم کہتے ہو کہ ابراھیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور اس کی اولاد یہودی یا نصرانی تھے، کہہ دو کیا تم زیادہ جانتے ہو یا اللہ؟ اور اس سے بڑھ کر کون ظالم ہے جو گواہی چھپائے جو اس کے پاس اللہ کی طرف سے ہے، اور اللہ بے خبر نہیں اس سے جو تم کرتے ہو۔
تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ ۖ لَـهَـا مَا كَسَبَتْ وَلَكُمْ مَّا كَسَبْتُـمْ ۖ وَلَا تُسْاَلُوْنَ عَمَّا كَانُـوْا يَعْمَلُوْنَ (141)
وہ ایک جماعت تھی جو گزر چکی، ان کے لیے ان کے عمل ہیں اور تمہارے لیے تمہارے عمل ہیں، اور تم سے ان کے اعمال کی نسبت نہیں پوچھا جائے گا۔
سَيَقُوْلُ السُّفَهَآءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلَّاهُـمْ عَنْ قِبْلَتِهِـمُ الَّتِىْ كَانُـوْا عَلَيْـهَا ۚ قُلْ لِّلّـٰهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ ۚ يَـهْدِىْ مَنْ يَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِـيْمٍ (142)
بے وقوف لوگ کہیں گے کہ کس چیز نے مسلمانوں کو ان کے قبلہ سے پھیر دیا جس پر وہ تھے، کہہ دو مشرق اور مغرب اللہ ہی کا ہے، وہ جسے چاہتا ہے سیدھا راستہ دکھاتا ہے۔
وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ اُمَّةً وَّّسَطًا لِّتَكُـوْنُـوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا ۗ وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَـةَ الَّتِىْ كُنْتَ عَلَيْهَآ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ يَّتَّبِــعُ الرَّسُوْلَ مِمَّنْ يَّنْقَلِبُ عَلٰى عَقِبَيْهِ ۚ وَاِنْ كَانَتْ لَكَبِيْـرَةً اِلَّا عَلَى الَّـذِيْنَ هَدَى اللّـٰهُ ۗ وَمَا كَانَ اللّـٰهُ لِيُضِيْعَ اِيْمَانَكُمْ ۚ اِنَّ اللّـٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِيْـمٌ (143)
اور اسی طرح ہم نے تمہیں برگزیدہ امت بنایا تاکہ تم اور لوگوں پر گواہ ہو اور رسول تم پر گواہ ہو، اور ہم نے وہ قبلہ نہیں بنایا تھا جس پر آپ پہلے تھے مگر اس لیے کہ ہم معلوم (الگ) کریں اس کو جو رسول کی پیروی کرتا ہے اس سے جو الٹے پاؤں پھر جاتا ہے، اور بے شک یہ بات بھاری ہے سوائے ان کے جنہیں اللہ نے ہدایت دی، اور اللہ تمہارے ایمان کو ضائع نہیں کرے گا، بے شک اللہ لوگوں پر بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔
قَدْ نَرٰى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِى السَّمَآءِ ۖ فَلَنُـوَلِّيَنَّكَ قِبْلَـةً تَـرْضَاهَا ۚ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۚ وَحَيْثُ مَا كُنْتُـمْ فَوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ شَطْرَهٝ ۗ وَاِنَّ الَّـذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتَابَ لَيَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِـمْ ۗ وَمَا اللّـٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا يَعْمَلُوْنَ (144)
بے شک ہم آپ کے منہ کا آسمان کی طرف پھرنا دیکھ رہے ہیں، سو ہم آپ کو اس قبلہ کی طرف پھیر دیں گے جسے آپ پسند کرتے ہیں، پس اب اپنا منہ مسجد حرام کی طرف پھیر لیجیئے، اور جہاں کہیں تم ہوا کرو اپنے مونہوں کو اسی کی طرف پھیر لیا کرو، اور بے شک وہ لوگ جنہیں کتاب دی گئی ہے یقیناً جانتے ہیں کہ وہی حق ہے ان کے رب کی طرف سے، اور اللہ اس سے بے خبر نہیں جو وہ کر رہے ہیں۔
وَلَئِنْ اَتَيْتَ الَّـذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتَابَ بِكُلِّ اٰيَةٍ مَّا تَبِعُوْا قِبْلَتَكَ ۚ وَمَآ اَنْتَ بِتَابِــعٍ قِبْلَـتَـهُـمْ ۚ وَمَا بَعْضُهُـمْ بِتَابِــعٍ قِبْلَـةَ بَعْضٍ ۚ وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُـمْ مِّنْ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ ۙ اِنَّكَ اِذًا لَّمِنَ الظَّالِمِيْنَ (145)
اور اگر آپ ان کے سامنے تمام دلیلیں لے آئیں جنہیں کتاب دی گئی تو بھی وہ آپ کے قبلے کو نہیں مانیں گے، اور نہ آپ ہی ان کے قبلہ کو ماننے والے ہیں، اور نہ ان میں کوئی دوسرے قبلہ کو ماننے والا ہے، اور اگر آپ ان کی خواہشوں کی پیروی کریں گے بعد اس کے کہ آپ کے پاس علم آ چکا تو بے شک آپ بھی تب ظالموں میں سے ہوں گے۔
اَلَّـذِيْنَ اٰتَيْنَاهُـمُ الْكِتَابَ يَعْرِفُوْنَهٝ كَمَا يَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُـمْ ۖ وَاِنَّ فَرِيْقًا مِّنْـهُـمْ لَيَكْـتُمُوْنَ الْحَقَّ وَهُـمْ يَعْلَمُوْنَ (146)
وہ لوگ جنہیں ہم نے کتاب دی تھی وہ اسے پہچانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں، اور بے شک کچھ لوگ ان میں سے حق کوچھپاتے ہیں اور وہ جانتے ہیں۔
اَ لْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ ۖ فَلَا تَكُـوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَـرِيْنَ (147)
آپ کے رب کی طرف سے حق وہی ہے، پس شک کرنے والوں میں سے نہ ہوں۔
وَلِكُلٍّ وِّجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّـيْـهَا ۖ فَاسْتَبِقُوا الْخَيْـرَاتِ ۚ اَيْنَ مَا تَكُـوْنُـوْا يَاْتِ بِكُمُ اللّـٰهُ جَـمِيْعًا ۚ اِنَّ اللّـٰهَ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْرٌ (148)
اور ہر ایک کے لیے ایک طرف ہے جس طرف وہ منہ کرتا ہے، پس تم نیکیوں کی طرف دوڑو، تم جہاں کہیں بھی ہو گے تم سب کو اللہ سمیٹ کر لے آئے گا، بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۖ وَاِنَّهٝ لَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ ۗ وَمَا اللّـٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ (149)
اور جہاں سے آپ نکلیں تو اپنا منہ مسجد حرام کی طرف کیا کریں، اور آپ کے رب کی طرف سے یہی حق بھی ہے، اور اللہ تمہارے کام سے غافل نہیں۔
وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۚ وَحَيْثُ مَا كُنْتُـمْ فَوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ شَطْرَهٝ لِئَلَّا يَكُـوْنَ لِلنَّاسِ عَلَيْكُمْ حُجَّةٌ ۖ اِلَّا الَّـذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْـهُـمْ فَلَا تَخْشَوْهُـمْ وَاخْشَوْنِىْ ۖوَلِاُتِمَّ نِعْمَتِىْ عَلَيْكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ (150)
اور آپ جہاں کہیں سے نکلیں تو اپنا منہ مسجد حرام کی طرف کیا کریں، اور تم بھی جہاں کہیں ہو تو اپنا منہ اس کی طرف کیا کرو تاکہ لوگوں کو تم پر کوئی الزام نہ رہے، مگر ان میں سے جو ہٹ دھرم ہیں تم بھی ان سے نہ ڈرو اور ہم سے ڈرتے رہا کرو، اور تاکہ میں اپنی نعمت تم پر پوری کروں اور تاکہ تم راہ پاؤ۔
كَمَآ اَرْسَلْنَا فِيْكُمْ رَسُوْلًا مِّنْكُمْ يَتْلُوْا عَلَيْكُمْ اٰيَاتِنَا وَيُزَكِّيْكُمْ وَيُعَلِّمُكُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُـوْنُـوْا تَعْلَمُوْنَ (151)
جیسا کہ ہم نے تم میں ایک رسول تم ہی میں سے بھیجا جو تم پر ہماری آیتیں پڑھتا ہے اور تمہیں پاک کرتا ہے اور تمہیں کتاب اور دانائی سکھاتا ہے اور تمہیں سکھاتا ہے جو تم نہیں جانتے تھے۔
فَاذْكُرُوْنِـىٓ اَذْكُرْكُمْ وَاشْكُـرُوْا لِىْ وَلَا تَكْـفُرُوْنِ (152)
پس مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد کروں گا اور میرا شکر کرو اور ناشکری نہ کرو۔
يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِيْنُـوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ ۚ اِنَّ اللّـٰهَ مَعَ الصَّابِـرِيْنَ (153)
اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد لیا کرو، بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ يُّقْتَلُ فِىْ سَبِيْلِ اللّـٰهِ اَمْوَاتٌ ۚ بَلْ اَحْيَاءٌ وَّّلٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ (154)
اور جو اللہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مرا ہوا نہ کہا کرو، بلکہ وہ تو زندہ ہیں لیکن تم نہیں سمجھتے۔
وَلَنَـبْلُوَنَّكُمْ بِشَىْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ ۗ وَبَشِّرِ الصَّابِـرِيْنَ (155)
اور ہم تمہیں کچھ خوف اور بھوک اور مالوں اور جانوں اور پھلوں کے نقصان سے ضرور آز مائیں گے، اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دو۔
اَلَّـذِيْنَ اِذَآ اَصَابَتْهُـمْ مُّصِيْبَةٌ قَالُوْآ اِنَّا لِلّـٰهِ وَاِنَّـآ اِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ (156)
وہ لوگ کہ جب انہیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو کہتے ہیں ہم تو اللہ کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔
اُولٰٓئِكَ عَلَيْـهِـمْ صَلَوَاتٌ مِّنْ رَّبِّهِـمْ وَرَحْـمَةٌ ۖ وَاُولٰٓئِكَ هُـمُ الْمُهْتَدُوْنَ (157)
یہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی طرف سے مہربانیاں ہیں اور رحمت، اور یہی ہدایت پانے والے ہیں۔
اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللّـٰهِ ۖ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ اَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ اَنْ يَّطَّوَّفَ بِهِمَا ۚ وَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْـرًا فَاِنَّ اللّـٰهَ شَاكِرٌ عَلِـيْمٌ (158)
بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں، پس جو کعبہ کا حج یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ ان کے درمیان طواف کرے، اور جو کوئی اپنی خوشی سے نیکی کرے تو بے شک اللہ قدر دان جاننے والا ہے۔
اِنَّ الَّـذِيْنَ يَكْـتُمُوْنَ مَآ اَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْـهُـدٰى مِنْ بَعْدِ مَا بَيَّنَّاهُ لِلنَّاسِ فِى الْكِتَابِ ۙ اُولٰٓئِكَ يَلْعَنُهُـمُ اللّـٰهُ وَيَلْعَنُهُـمُ اللَّاعِنُـوْنَ (159)
بے شک جو لوگ ان کھلی کھلی باتوں اور ہدایت کو جسے ہم نے نازل کر دیا ہے اس کے بعد بھی چھپاتے ہیں کہ ہم نے ان کو لوگوں کے لیے کتاب میں بیان کر دیا، یہی لوگ ہیں کہ ان پر اللہ لعنت کرتا ہے اور لعنت کرنے والے لعنت کرتے ہیں۔
اِلَّا الَّـذِيْنَ تَابُوْا وَاَصْلَحُوْا وَبَيَّنُـوْا فَـاُولٰٓئِكَ اَتُوْبُ عَلَيْـهِـمْ ۚ وَاَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيْـمُ (160)
مگر وہ لوگ جنہوں نے توبہ کی اور اصلاح کر لی اور ظاہر کر دیا پس یہی لوگ ہیں کہ میں ان کی توبہ قبول کرتا ہوں، اور میں بڑا توبہ قبول کرنے والا نہایت رحم والا ہوں۔
اِنَّ الَّـذِيْنَ كَفَرُوْا وَمَاتُوْا وَهُـمْ كُفَّارٌ اُولٰٓئِكَ عَلَيْـهِـمْ لَعْنَةُ اللّـٰهِ وَالْمَلَآئِكَـةِ وَالنَّاسِ اَجْـمَعِيْنَ (161)
بے شک جنہوں نے انکار کیا اور انکار ہی کی حالت میں مر بھی گئے تو ان پر اللہ کی لعنت ہے اور فرشتوں اور سب لوگوں کی بھی۔
خَالِـدِيْنَ فِيْـهَا ۖ لَا يُخَفَّفُ عَنْـهُـمُ الْعَذَابُ وَلَا هُـمْ يُنْظَرُوْنَ (162)
وہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے، ان سے عذاب ہلکا نہ کیا جائے گا اور نہ وہ مہلت دیے جائیں گے۔
وَاِلٰـهُكُمْ اِلٰـهٌ وَّاحِدٌ ۖ لَّآ اِلٰـهَ اِلَّا هُوَ الرَّحْـمٰنُ الرَّحِيْـمُ (163)
اور تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔
اِنَّ فِىْ خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّـهَارِ وَالْفُلْكِ الَّتِىْ تَجْرِىْ فِى الْبَحْرِ بِمَا يَنْفَعُ النَّاسَ وَمَآ اَنْزَلَ اللّـٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ مَّآءٍ فَـاَحْيَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِـهَا وَبَثَّ فِيْـهَا مِنْ كُلِّ دَآبَّةٍۖ وَتَصْرِيْفِ الرِّيَاحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَيْنَ السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ لَاٰيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ (164)
بے شک آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے میں، اور رات اور دن کے بدلنے میں، اور جہازوں میں جو دریا میں لوگوں کی نفع دینے والی چیزیں لے کر چلتے ہیں، اور اس پانی میں جسے اللہ نے آسمان سے نازل کیا ہے پھر اس سے مردہ زمین کو زندہ کرتا ہے اور اس میں ہر قسم کے چلنے والے جانور پھیلاتا ہے، اور ہواؤں کے بدلنے میں، اور بادل میں جو آسمان اور زمین کے درمیان حکم کا تابع ہے، البتہ عقلمندوں کے لیے نشانیاں ہیں۔
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللّـٰهِ اَنْدَادًا يُّحِبُّوْنَـهُـمْ كَحُبِّ اللّـٰهِ ۖ وَالَّـذِيْنَ اٰمَنُـوٓا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّـٰهِ ۗ وَلَوْ يَرَى الَّـذِيْنَ ظَلَمُوٓا اِذْ يَرَوْنَ الْعَذَابَ اَنَّ الْقُوَّةَ لِلّـٰهِ جَـمِيْعًا وَّاَنَّ اللّـٰهَ شَدِيْدُ الْعَذَابِ (165)
اور ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے اللہ کے سوا اور شریک بنا رکھے ہیں جن سے ایسی محبت رکھتے ہیں جیسی کہ اللہ سے رکھنی چاہیے، اور ایمان والوں کو تو اللہ ہی سے زیادہ محبت ہوتی ہے، اور کاش دیکھتے وہ لوگ جو ظالم ہیں جب عذاب دیکھیں گے کہ سب قوت اللہ ہی کے لیے ہے اور اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔
اِذْ تَبَـرَّاَ الَّـذِيْنَ اتُّبِعُوْا مِنَ الَّـذِيْنَ اتَّبَعُوْا وَرَاَوُا الْعَذَابَ وَتَقَطَّعَتْ بِـهِـمُ الْاَسْبَابُ (166)
جب وہ لوگ بیزار ہو جائیں گے جن کی پیروی کی گئی تھی، ان لوگوں سے جنہوں نے پیروی کی تھی، اور وہ عذاب دیکھ لیں گے اور ان کے تعلقات ٹوٹ جائیں گے۔
وَقَالَ الَّـذِيْنَ اتَّبَعُوْا لَوْ اَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَـرَّاَ مِنْـهُـمْ كَمَا تَبَـرَّءُوْا مِنَّا ۗ كَذٰلِكَ يُرِيْـهِـمُ اللّـٰهُ اَعْمَالَـهُـمْ حَسَرَاتٍ عَلَيْـهِـمْ ۖ وَمَا هُـمْ بِخَارِجِيْنَ مِنَ النَّارِ (167)
اور کہیں گے وہ لوگ جنہوں نے پیروی کی تھی کہ کاش ہمیں دوبارہ جانا ہوتا تو ہم بھی ان سے بیزار ہوجاتے جیسے یہ ہم سے بیزار ہوئے ہیں، اسی طرح اللہ انہیں ان کے اعمال حسرت دلانے کے لیے دکھائے گا اور وہ دوزخ سے نکلنے والے نہیں۔
يَآ اَيُّـهَا النَّاسُ كُلُوْا مِمَّا فِى الْاَرْضِ حَلَالًا طَيِّبًاۖ وَّلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ ۚ اِنَّهٝ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ (168)
اے لوگو! ان چیزوں میں سے کھاؤ جو زمین میں حلال پاکیزہ ہیں، اور شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو، بے شک وہ تمہارا صریح دشمن ہے۔
اِنَّمَا يَاْمُرُكُمْ بِالسُّوٓءِ وَالْفَحْشَآءِ وَاَنْ تَقُوْلُوْا عَلَى اللّـٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ (169)
وہ تو تمہیں برائی اور بے حیائی ہی کا حکم دے گا اور یہ کہ اللہ کے ذمے تم وہ باتیں لگاؤ جنہیں تم نہیں جانتے۔
وَاِذَا قِيْلَ لَـهُـمُ اتَّبِعُوْا مَآ اَنْزَلَ اللّـٰهُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِــعُ مَآ اَلْفَيْنَا عَلَيْهِ اٰبَآءَنَا ۗ اَوَلَوْ كَانَ اٰبَآؤُهُـمْ لَا يَعْقِلُوْنَ شَيْئًا وَّلَا يَـهْتَدُوْنَ (170)
اور جب انہیں کہا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کرو جو اللہ نے نازل کیا ہے تو کہتے ہیں بلکہ ہم تو اس کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا، کیا اگرچہ ان کے باپ دادا کچھ بھی نہ سمجھتے ہوں اور نہ سیدھی راہ پائی ہو؟
وَمَثَلُ الَّـذِيْنَ كَفَرُوْا كَمَثَلِ الَّـذِىْ يَنْعِقُ بِمَا لَا يَسْـمَعُ اِلَّا دُعَآءً وَّنِدَآءً ۚ صُمٌّ بُكْمٌ عُمْىٌ فَهُـمْ لَا يَعْقِلُوْنَ (171)
اوران کی مثال جو کافر ہیں اس شخص کی سی ہے جو اس چیز کو پکارتا ہے جو سوائے پکار اور آواز کے نہیں سنتی، وہ بہرے ہیں گونگے ہیں اندھے ہیں پس وہ نہیں سمجھتے۔
يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا كُلُوْا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَاشْكُرُوْا لِلّـٰهِ اِنْ كُنْتُـمْ اِيَّاهُ تَعْبُدُوْنَ (172)
اے ایمان والو پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ جو ہم نے تمہیں عطا کی اور اللہ کا شکر کرو اگر تم اس کی عبادت کرتے ہو۔
اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْـمَ الْخِنزِيْـرِ وَمَآ اُهِلَّ بِهٖ لِغَيْـرِ اللّـٰهِ ۖ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْـرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ فَلَآ اِثْـمَ عَلَيْهِ ۚ اِنَّ اللّـٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْـمٌ (173)
سوائے اس کے نہیں کہ تم پر مردار اور خون اور سؤر کا گوشت، اور اس چیز کو کہ اللہ کے سوا اور کے نام سے پکاری گئی ہو، حرام کیا ہے، پس جو لاچار ہو جائے نہ سرکشی کرنے والا ہو اور نہ حد سے بڑھنے والا تو اس پر کوئی گناہ نہیں، بے شک اللہ بخشنے والا نہایت رحم والا ہے۔
اِنَّ الَّـذِيْنَ يَكْـتُمُوْنَ مَآ اَنْزَلَ اللّـٰهُ مِنَ الْكِتَابِ وَيَشْتَـرُوْنَ بِهٖ ثَمَنًا قَلِيْلًا ۙ اُولٰٓئِكَ مَا يَاْكُلُوْنَ فِىْ بُطُوْنِـهِـمْ اِلَّا النَّارَ وَلَا يُكَلِّمُهُـمُ اللّـٰهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُزَكِّـيْـهِـمْ وَلَـهُـمْ عَذَابٌ اَلِـيْـمٌ (174)
بے شک جو لوگ اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب کو چھپاتے اور اس کے بدلے میں تھوڑا سا مول لیتے ہیں یہ لوگ اپنے پیٹوں میں نہیں کھاتے مگر آگ، اور اللہ ان سے قیامت کے دن کلام نہیں کرے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔
اُولٰٓئِكَ الَّـذِيْنَ اشْتَـرَوُا الضَّلَالَـةَ بِالْـهُـدٰى وَالْعَذَابَ بِالْمَغْفِرَةِ ۚ فَمَآ اَصْبَـرَهُـمْ عَلَى النَّارِ (175)
یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے گمراہی کو بدلے ہدایت کے خریدا اور عذاب کو بدلے بخشش کے، پس دوزخ کی آگ پر ان کا کتنا بڑا صبر ہے۔
ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّـٰهَ نَزَّلَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ ۗ وَاِنَّ الَّـذِيْنَ اخْتَلَفُوْا فِى الْكِتَابِ لَفِىْ شِقَاقٍ بَعِيْدٍ (176)
یہ اس لیے کہ اللہ نے کتاب سچائی کے ساتھ اتاری، اور بے شک جنہوں نے کتاب میں اختلاف کیا البتہ ضد میں بہت دور جا پڑے۔
لَّيْسَ الْبِـرَّ اَنْ تُـوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلٰكِنَّ الْبِـرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللّـٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَالْمَلَآئِكَـةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّيْنَۚ وَاٰتَى الْمَالَ عَلٰى حُبِّهٖ ذَوِى الْقُرْبٰى وَالْيَتَامٰى وَالْمَسَاكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ وَالسَّآئِلِيْنَ وَفِى الرِّقَابِۚ وَاَقَامَ الصَّلَاةَ وَاٰتَى الزَّكَاةَ وَالْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِـمْ اِذَا عَاهَدُوْا ۖ وَالصَّابِـرِيْنَ فِى الْبَاْسَآءِ وَالضَّرَّآءِ وَحِيْنَ الْبَاْسِ ۗ اُولٰٓئِكَ الَّـذِيْنَ صَدَقُوْا ۖ وَاُولٰٓئِكَ هُـمُ الْمُتَّقُوْنَ (177)
یہی نیکی نہیں کہ تم اپنے منہ مشرق اور مغرب کی طرف پھیرو بلکہ نیکی تو یہ ہے جو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان لائے اور فرشتوں اور کتابوں اور نبیوں پر، اور اس کی محبت میں رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں اور سوال کرنے والوں کو اور گردنوں کے چھڑانے میں مال دے، اور نماز پڑھے اور زکوٰۃ دے، اور جو اپنے عہدوں کو پورا کرنے والے ہیں جب وہ عہد کرلیں، اورتنگدستی میں اور بیماری میں اور لڑائی کے وقت صبر کرنے والے ہیں، یہی سچے لوگ ہیں اور یہی پرہیزگار ہیں۔
يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِى الْقَتْلٰى ۖ اَ لْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْاُنْثٰى بِالْاُنْثٰى ۚ فَمَنْ عُفِىَ لَـهٝ مِنْ اَخِيْهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوْفِ وَاَدَآءٌ اِلَيْهِ بِاِحْسَانٍ ۗ ذٰلِكَ تَخْفِيْفٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَرَحْـمَةٌ ۗ فَمَنِ اعْتَدٰى بَعْدَ ذٰلِكَ فَلَـهٝ عَذَابٌ اَلِيْـمٌ (178)
اے ایمان والو! مقتولوں میں برابری کرنا تم پر فرض کیا گیا ہے، آزاد بدلے آزاد کے اور غلام بدلے غلام کے اور عورت بدلے عورت کے، پس جسے اس کے بھائی کی طرف سے کچھ بھی معاف کیا جائے تو دستور کے موافق مطالبہ کرنا چاہیے اور اسے نیکی کے ساتھ ادا کرنا چاہیے، یہ تمہارے رب کی طرف سے آسانی اور مہربانی ہے، پس جو اس کے بعد زیادتی کرے تو اس کے لیے دردناک عذاب ہے۔
وَلَكُمْ فِى الْقِصَاصِ حَيَاةٌ يَّّآ اُولِى الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ (179)
اور اے عقل مندو! تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے تاکہ تم (خونریزی سے) بچو۔
كُتِبَ عَلَيْكُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ اِنْ تَـرَكَ خَيْـرَاۚ  ِ ۨ الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِـدَيْنِ وَالْاَقْرَبِيْنَ بِالْمَعْرُوْفِ ۖ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِيْنَ (180)
تم پر فرض کیا گیا ہے کہ جب تم میں سے کسی کو موت آ پہنچے اگر وہ مال چھوڑے تو ماں باپ اور رشتہ داروں کے لیے مناسب طور پر وصیت کرے، یہ پرہیزگاروں پرحق ہے۔
فَمَنْ بَدَّلَـهٝ بَعْدَ مَا سَـمِعَهٝ فَاِنَّمَآ اِثْمُهٝ عَلَى الَّـذِيْنَ يُبَدِّلُوْنَهٝ ۚ اِنَّ اللّـٰهَ سَـمِيْعٌ عَلِيْـمٌ (181)
پس جو اسے اس کے سننے کے بعد بدل دے اس کا گناہ ان ہی پر ہے جو اسے بدلتے ہیں، بے شک اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔
فَمَنْ خَافَ مِنْ مُّوْصٍ جَنَفًا اَوْ اِثْمًا فَـاَصْلَحَ بَيْنَـهُـمْ فَلَآ اِثْـمَ عَلَيْهِ ۚ اِنَّ اللّـٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْـمٌ (182)
پس جو وصیت کرنے والے سے طرف داری یا گناہ کا خوف کرے پھر ان کے درمیان اصلاح کر دے تو اس پر کوئی گناہ نہیں، بے شک اللہ بڑا بخشنے والا نہایت رحم والا ہے۔
يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّـذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ (183)
اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جیسے ان پر فرض کیے گئے تھے جو تم سے پہلے تھے تاکہ تم پرہیز گار ہو جاؤ۔
اَيَّامًا مَّعْدُوْدَاتٍ ۚ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَيَّامٍ اُخَرَ ۚ وَعَلَى الَّـذِيْنَ يُطِيْقُوْنَهٝ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِيْنٍ ۖ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْـرًا فَهُوَ خَيْـرٌ لَّـهٝ ۚ وَاَنْ تَصُوْمُوْا خَيْـرٌ لَّكُمْ ۖ اِنْ كُنْتُـمْ تَعْلَمُوْنَ (184)
گنتی کے چند روز، پھر جو کوئی تم میں سے بیمار یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں سے گنتی پوری کر لے، اور ان پر جو اس کی طاقت رکھتے ہیں فدیہ ہے ایک مسکین کا کھانا، پھر جو کوئی خوشی سے نیکی کرے تو وہ اس کے لیےبہتر ہے، اور روزہ رکھنا تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔
شَهْرُ رَمَضَانَ الَّـذِىٓ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْـهُـدٰى وَالْفُرْقَانِ ۚ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ ۖ وَمَنْ كَانَ مَرِيْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَيَّامٍ اُخَرَ ۗ يُرِيْدُ اللّـٰهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيْدُ بِكُمُ الْعُسْرَۖ وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُكَـبِّـرُوا اللّـٰهَ عَلٰى مَا هَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُـرُوْنَ (185)
رمضان کا وہ مہینہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا جو لوگوں کے واسطے ہدایت ہے اور ہدایت کی روشن دلیلیں اور حق و باطل میں فرق کرنے والا ہے، سو جو کوئی تم میں سے اس مہینے کو پا لے تو اس کے روزے رکھے، اور جو کوئی بیمار یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں سے گنتی پوری کرے، اللہ تم پر آسانی چاہتا ہے اور تم پر تنگی نہیں چاہتا، اور تاکہ تم گنتی پوری کرلو اور تاکہ تم اللہ کی بڑائی بیان کرو اس پر کہ اس نے تمہیں ہدایت دی اور تاکہ تم شکر کرو۔
وَاِذَا سَاَلَكَ عِبَادِىْ عَنِّىْ فَاِنِّىْ قَرِيْبٌ ۖ اُجِيْبُ دَعْوَةَ الـدَّاعِ اِذَا دَعَانِ ۖ فَلْيَسْتَجِيْبُوْا لِـىْ وَلْيُؤْمِنُـوْا بِىْ لَعَلَّهُـمْ يَرْشُدُوْنَ (186)
اور جب آپ سے میرے بندے میرے متعلق سوال کریں تو میں نزدیک ہوں، دعا کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے، پھر چاہیے کہ میرا حکم مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ وہ ہدایت پائیں۔
اُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَـةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ اِلٰى نِسَآئِكُمْ ۚ هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَاَنْتُـمْ لِبَاسٌ لَّـهُنَّ ۗ عَلِمَ اللّـٰهُ اَنَّكُمْ كُنْتُـمْ تَخْتَانُـوْنَ اَنْفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ وَعَفَا عَنْكُمْ ۖ فَالْاٰنَ بَاشِرُوْهُنَّ وَابْتَغُوْا مَا كَتَبَ اللّـٰهُ لَكُمْ ۚ وَكُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّـٰى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْاَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ۖ ثُـمَّ اَتِمُّوا الصِّيَامَ اِلَى اللَّيْلِ ۚ وَلَا تُبَاشِرُوْهُنَّ وَاَنْـتُـمْ عَاكِفُوْنَ فِى الْمَسَاجِدِ ۗ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّـٰهِ فَلَا تَقْرَبُوْهَا ۗ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّـٰهُ اٰيَاتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُـمْ يَتَّقُوْنَ (187)
تمہارے لیے روزوں کی راتوں میں اپنی عورتوں سے مباشرت کرنا حلال کیا گیا ہے، وہ تمہارے لیے پردہ ہیں اور تم ان کے لیے پردہ ہو، اللہ کو معلوم ہے تم اپنے نفسوں سے خیانت کرتے تھے پس تمہاری توبہ قبول کر لی اور تمہیں معاف کر دیا، سو اب ان سے مباشرت کرو اور طلب کرو وہ چیز جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دی ہے، اور کھاؤ اور پیو جب تک کہ تمہارے لیے سفید دھاری سیاہ دھاری سے فجر کے وقت صاف ظاہر ہو جائے، پھر روزوں کو رات تک پورا کرو، اور ان سے مباشرت نہ کرو جب کہ تم مسجدوں میں معتکف ہو، یہ اللہ کی حدیں ہیں سو ان کے قریب نہ جاؤ، اسی طرح اللہ اپنی آیتیں لوگوں کے لیے بیان کرتا ہے تاکہ وہ پرہیز گار ہو جائیں۔
وَلَا تَاْكُلُوٓا اَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوْا بِهَآ اِلَى الْحُكَّامِ لِتَاْكُلُوْا فَرِيْقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْاِثْـمِ وَاَنْتُـمْ تَعْلَمُوْنَ (188)
اور ایک دوسرے کے مال آپس میں ناجائز طور پر نہ کھاؤ، اور انہیں حاکموں تک نہ پہنچاؤ تاکہ لوگوں کے مال کا کچھ حصہ گناہ سے کھا جاؤ، حالانکہ تم جانتے ہو۔
يَسْاَلُوْنَكَ عَنِ الْاَهِلَّةِ ۖ قُلْ هِىَ مَوَاقِيْتُ لِلنَّاسِ وَالْحَجِّ ۗ وَلَيْسَ الْبِـرُّ بِاَنْ تَاْتُوا الْبُيُوْتَ مِنْ ظُهُوْرِهَا وَلٰكِنَّ الْبِـرَّ مَنِ اتَّقٰى ۗ وَاْتُوا الْبُيُوْتَ مِنْ اَبْوَابِـهَا ۚ وَاتَّقُوا اللّـٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ (189)
آپ سے چاندوں کے متعلق پوچھتے ہیں، کہہ دو یہ لوگوں کے لیے اور حج کے لیے وقت کے اندازے ہیں، اور نیکی یہ نہیں ہے کہ تم گھروں میں ان کی پشت کی طرف سے آؤ اور لیکن نیکی یہ ہے کہ جو کوئی اللہ سے ڈرے، اور تم گھروں میں ان کے دروازوں سے آؤ اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔
وَقَاتِلُوْا فِى سَبِيْلِ اللّـٰهِ الَّـذِيْنَ يُقَاتِلُوْنَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوْا ۚ اِنَّ اللّـٰهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِيْنَ (190)
اور اللہ کی راہ میں ان سے لڑو جو تم سے لڑیں اور زیادتی نہ کرو، بے شک اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
وَاقْتُلُوْهُـمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوْهُـمْ وَاَخْرِجُوْهُـمْ مِّنْ حَيْثُ اَخْرَجُوْكُمْ ۚ وَالْفِتْنَةُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ ۚ وَلَا تُقَاتِلُوْهُـمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتّـٰى يُقَاتِلُوْكُمْ فِيْهِ ۖ فَاِنْ قَاتَلُوْكُمْ فَاقْتُلُوْهُـمْ ۗ كَذٰلِكَ جَزَآءُ الْكَافِـرِيْنَ (191)
اور انہیں قتل کرو جہاں پاؤ اور انہیں نکال دو جہاں سے انہوں نے تمہیں نکالا ہے، اور غلبہ شرک قتل سے زیادہ سخت ہے، اور مسجد حرام کے پاس ان سے نہ لڑو جب تک کہ وہ تم سے یہاں نہ لڑیں، پھر اگر وہ تم سےلڑیں تم بھی انہیں قتل کرو، کافروں کی یہی سزا ہے۔
فَاِنِ انْتَهَوْا فَاِنَّ اللّـٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِْيمٌ (192)
پھر اگر وہ باز آجائیں تو اللہ بڑا بخشنے والا نہایت رحم والا ہے۔
وَقَاتِلُوْهُـمْ حَتّـٰى لَا تَكُـوْنَ فِتْنَةٌ وَّّيَكُـوْنَ الدِّيْنُ لِلّـٰهِ ۖ فَاِنِ انْتَهَوْا فَلَا عُدْوَانَ اِلَّا عَلَى الظَّالِمِيْنَ (193)
اور ان سے لڑو یہاں تک کہ فساد باقی نہ رہے اور اللہ کا دین قائم ہو جائے، پھر اگر وہ باز آجائیں تو سوائے ظالموں کے کسی پر سختی جائز نہیں۔
اَلشَّهْرُ الْحَرَامُ بِالشَّهْرِ الْحَرَامِ وَالْحُرُمَاتُ قِصَاصٌ ۚ فَمَنِ اعْتَدٰى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰى عَلَيْكُمْ ۚ وَاتَّقُوا اللّـٰهَ وَاعْلَمُوٓا اَنَّ اللّـٰهَ مَعَ الْمُتَّقِيْنَ (194)
حرمت والے مہینے کا بدلہ حرمت والا مہینہ ہے اور سب قابلِ تعظیم باتوں کا بدلہ ہے، پھر جو تم پر زیادتی کرے تم بھی اس پر زیادتی کرو جیسی کہ اس نے تم پر زیادتی کی، اور اللہ سے ڈرو اور جان لو کہ اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے۔
وَاَنْفِقُوْا فِىْ سَبِيْلِ اللّـٰهِ وَلَا تُلْقُوْا بِاَيْدِيْكُمْ اِلَى التَّهْلُكَةِ ۚ وَاَحْسِنُـوْا ۚ اِنَّ اللّـٰهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ (195)
اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ ڈالو، اور نیکی کرو، بے شک اللہ نیکی کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔
وَاَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلّـٰهِ ۚ فَاِنْ اُحْصِرْتُـمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْىِ ۖ وَلَا تَحْلِقُوْا رُءُوْسَكُمْ حَتّـٰى يَبْلُـغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهٝ ۚ فَمَنْ كَانَ مِنْكُم مَّرِيْضًا اَوْ بِهٓ ٖ اَذًى مِّنْ رَّاْسِهٖ فَفِدْيَةٌ مِّنْ صِيَامٍ اَوْ صَدَقَةٍ اَوْ نُسُكٍ ۚ فَاِذَآ اَمِنْتُـمْ فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ اِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْىِ ۚ فَمَنْ لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ اَيَّامٍ فِى الْحَجِّ وَسَبْعَةٍ اِذَا رَجَعْتُـمْ ۗ تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ ۗ ذٰلِكَ لِمَنْ لَّمْ يَكُنْ اَهْلُهٝ حَاضِرِى الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۚ وَاتَّقُوا اللّـٰهَ وَاعْلَمُوٓا اَنَّ اللّـٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ (196)
اور اللہ کے لیے حج اور عمرہ پورا کرو، پس اگر روکے جاؤ تو جو قربانی سے میسر ہو (دو)، اور اپنے سر نہ منڈواؤ جب تک کہ قربانی اپنی جگہ پر نہ پہنچ جائے، پھر جو کوئی تم میں سے بیمار ہو یا اسے سر میں تکلیف ہو تو روزوں سے یا صدقہ سے یا قربانی سے فدیہ دے، پھر جب تم امن میں ہو تو عمرہ سے حج تک فائدہ اٹھائے تو قربانی سے جو میسر ہو (دے)، پھر جو نہ پائے تو تین روزے حج کے دنوں میں رکھے اور سات جب تم لوٹو، یہ دس پورے ہو گئے، یہ اس کے لیے ہے جس کا گھر بار مکہ میں نہ ہو، اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان لو کہ اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔
اَلْحَجُّ اَشْهُرٌ مَّعْلُوْمَاتٌ ۚ فَمَنْ فَرَضَ فِـيْهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوْقَ وَلَا جِدَالَ فِى الْحَجِّ ۗ وَمَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَيْـرٍ يَّعْلَمْهُ اللّـٰهُ ۗ وَتَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَيْـرَ الزَّادِ التَّقْوٰى ۚ وَاتَّقُوْنِ يَآ اُولِى الْاَلْبَابِ (197)
حج کے چند مہینے معلوم ہیں، سو جو کوئی ان میں حج کا قصد کرے تو مباشرت جائز نہیں اور نہ گناہ کرنا اور نہ حج میں لڑائی جھگڑا کرنا، اور تم جو نیکی کرتے ہو اللہ اس کو جانتا ہے، اور زادِ راہ لے لیا کرو اور بہترین زادِ راہ پرہیزگاری ہے، اور اے عقل مندوں مجھ سے ڈرو۔
لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ ۚ فَاِذَآ اَفَضْتُـمْ مِّنْ عَرَفَاتٍ فَاذْكُرُوا اللّـٰهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ ۖ وَاذْكُرُوْهُ كَمَا هَدَاكُمْۚ وَاِنْ كُنْتُـمْ مِّنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الضَّآلِّيْنَ (198)
تم پر کوئی گناہ نہیں ہے کہ اپنے رب کا فضل تلاش کرو، پھر جب تم عرفات سے پھرو تو مشعر الحرام کے پاس اللہ کو یاد کرو، اور اس کی یاد اس طرح کرو کہ جس طرح اس نے تمیں بتائی ہے، اور اس سے پہلے تو تم گمراہوں میں سے تھے۔
ثُـمَّ اَفِيْضُوْا مِنْ حَيْثُ اَفَاضَ النَّاسُ وَاسْتَغْفِرُوا اللّـٰهَ ۚ اِنَّ اللّـٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْـمٌ (199)
پھر تم لوٹ کر آؤ جہاں سے لوگ لوٹ کر آتے ہیں اور اللہ سے بخشش مانگو، بے شک اللہ بڑا بخشنے والا نہایت رحم والا ہے۔
فَاِذَا قَضَيْتُـمْ مَّنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللّـٰهَ كَذِكْرِكُمْ اٰبَآءَكُمْ اَوْ اَشَدَّ ذِكْرًا ۗ فَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّقُوْلُ رَبَّنَآ اٰتِنَا فِى الـدُّنْيَا وَمَا لَـهٝ فِى الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ (200)
پھر جب حج کے ارکان ادا کر چکو تو اللہ کو یاد کرو جیسے تم اپنے باپ دادا کو یاد کیا کرتے تھے یا اس سے بھی بڑھ کر یاد کرنا، پھر بعض تو یہ کہتے ہیں اے ہمارے رب ہمیں دنیا میں دے، اور اس کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے۔
وَمِنْـهُـمْ مَّنْ يَّقُوْلُ رَبَّنَآ اٰتِنَا فِى الـدُّنْيَا حَسَنَةً وَّّفِى الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّّقِنَا عَذَابَ النَّارِ (201)
اور بعض یہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمیں دنیا میں نیکی اور آخرت میں بھی نیکی دے اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا۔
اُولٰٓئِكَ لَـهُـمْ نَصِيْبٌ مِّمَّا كَسَبُوْا ۚ وَاللّـٰهُ سَرِيْعُ الْحِسَابِ (202)
یہی وہ لوگ ہیں جنہیں ان کی کمائی کا حصہ ملتا ہے، اور اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔
وَاذْكُرُوا اللّـٰهَ فِىٓ اَيَّامٍ مَّعْدُوْدَاتٍ ؕ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِىْ يَوْمَيْنِ فَلَآ اِثْـمَ عَلَيْهِۚ وَمَنْ تَاَخَّرَ فَلَآ اِثْـمَ عَلَيْهِ لِمَنِ اتَّقٰى ؕ وَاتَّقُوا اللّـٰهَ وَاعْلَمُوٓا اَنَّكُمْ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ (203)
اور اللہ کو چند گنتی کے دنوں میں یاد کرو، پھر جس نے دو دن کے اندر کوچ کرنے میں جلدی کی تو اس پر کوئی گناہ نہیں، اور جو تاخیر کرے تو اس پر بھی کوئی گناہ نہیں جو (اللہ سے) ڈرتا ہے، اور اللہ سے ڈرو اور جان لو کہ تم اسی کی طرف جمع کیے جاؤ گے۔
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُّعْجِبُكَ قَوْلُهٝ فِى الْحَيَاةِ الـدُّنْيَا وَيُشْهِدُ اللّـٰهَ عَلٰى مَا فِىْ قَلْبِهٖ وَهُوَ اَلَدُّ الْخِصَامِ (204)
اور لوگوں میں بعض ایسا بھی ہے جس کی بات دنیا کی زندگی میں آپ کو بھلی معلوم ہوتی ہے اور وہ اپنے دل کی باتوں پر اللہ کو گواہ کرتا ہے، حالانکہ وہ سخت جھگڑالو ہے۔
وَاِذَا تَوَلّـٰى سَعٰى فِى الْاَرْضِ لِيُفْسِدَ فِيْـهَا وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ ۗ وَاللّـٰهُ لَا يُحِبُّ الْفَسَادَ (205)
اور جب پیٹھ پھیر کر جاتا ہے تو ملک میں فساد ڈالتا اور کھیتی اور مویشی کو برباد کرنے کی کوشش کرتا ہے، اور اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا۔
وَاِذَا قِيْلَ لَـهُ اتَّقِ اللّـٰهَ اَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْاِثْـمِ ۚ فَحَسْبُهٝ جَهَنَّـمُ ۚ وَلَبِئْسَ الْمِهَادُ (206)
اور جب اسے کہا جاتا ہے کہ اللہ سے ڈر تو شیخی میں آ کر اور بھی گناہ کرتا ہے، سو اس کے لیے دوزخ کافی ہے، اور البتہ وہ برا ٹھکانہ ہے۔
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّشْرِىْ نَفْسَهُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّـٰهِ ۗ وَاللّـٰهُ رَءُوْفٌ بِالْعِبَادِ (207)
اور بعض ایسے بھی ہیں جو اللہ کی رضا جوئی کے لیے اپنی جان بھی بیچ دیتے ہیں، اور اللہ اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے۔
يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِى السِّلْمِ كَآفَّـةً ۖوَّلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ ۚ اِنَّهٝ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ (208)
اے ایمان والو! اسلام میں سارے کے سارے داخل ہو جاؤ، اور شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو، کیوں کہ وہ تمہارا صریح دشمن ہے۔
فَاِنْ زَلَلْتُـمْ مِّنْ بَعْدِ مَا جَآءَتْكُمُ الْبَيِّنَاتُ فَاعْلَمُوٓا اَنَّ اللّـٰهَ عَزِيْزٌ حَكِـيْمٌ (209)
پھر اگر تم کھلی کھلی نشانیاں آجانے کے بعد بھی پھسل گئے تو جان لو کہ اللہ غالب حکمت والا ہے۔
هَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ يَّاْتِيَـهُـمُ اللّـٰهُ فِىْ ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَالْمَلَآئِكَـةُ وَقُضِىَ الْاَمْرُ ۚ وَاِلَى اللّـٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ (210)
کیا وہ انتظار کرتے ہیں کہ اللہ ان کے سامنے بادلوں کے سایہ میں آ موجود ہو اور فرشتے بھی آجائیں اور کام پورا ہو جائے، اور سب باتیں اللہ ہی کے اختیار میں ہیں۔
سَلْ بَنِىٓ اِسْرَآئِيْلَ كَمْ اٰتَيْنَاهُـمْ مِّنْ اٰيَةٍ بَيِّنَةٍ ۗ وَمَنْ يُّـبَدِّلْ نِعْمَةَ اللّـٰهِ مِنْ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُ فَاِنَّ اللّـٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ (211)
بنی اسرائیل سے پوچھیے کہ ہم نے انہیں کتنی روشن دلیلیں دیں، اور جو اللہ کی نعمت کو بدل دیتا ہے بعد اس کے کہ وہ اس کے پاس آچکی ہو تو بے شک اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔
زُيِّنَ لِلَّـذِيْنَ كَفَرُوا الْحَيَاةُ الـدُّنْيَا وَيَسْخَرُوْنَ مِنَ الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا ۘ وَالَّـذِيْنَ اتَّقَوْا فَوْقَهُـمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۗ وَاللّـٰهُ يَرْزُقُ مَنْ يَّشَآءُ بِغَيْـرِ حِسَابٍ (212)
کافروں کو دنیا کی زندگی بھلی لگتی ہے اور وہ ان لوگوں کا مذاق اڑاتے ہیں جو ایمان لائے، حالانکہ جو لوگ پرہیزگار ہیں وہ قیامت کے دن ان سے بالاتر ہوں گے، اور اللہ جسے چاہے بے حساب رزق دیتا ہے۔
كَانَ النَّاسُ اُمَّةً وَّّاحِدَةًۚ فَبَعَثَ اللّـٰهُ النَّبِيِّيْنَ مُبَشِّرِيْنَ وَمُنْذِرِيْنَۖ وَاَنْزَلَ مَعَهُـمُ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِيَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ فِيْمَا اخْتَلَفُوْا فِيْهِ ۚ وَمَا اخْتَلَفَ فِيْهِ اِلَّا الَّـذِيْنَ اُوْتُوْهُ مِنْ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُـمُ الْبَيِّنَاتُ بَغْيًا بَيْنَـهُـمْ ۖ فَهَدَى اللّـٰهُ الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا لِمَا اخْتَلَفُوْا فِيْهِ مِنَ الْحَقِّ بِاِذْنِهٖ ؕ وَاللّـٰهُ يَـهْدِىْ مَنْ يَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِـيْمٍ (213)
سب لوگ ایک دین پر تھے، پھر اللہ نے انبیاء خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے بھیجے، اور ان کے ساتھ سچی کتاب نازل کی تاکہ لوگوں میں اس بات میں فیصلہ کرے جس میں اختلاف کرتے تھے، اور اس میں اختلاف نہیں کیا مگر انہیں لوگوں نے جنھیں وہ (کتاب) دی گئی تھی اس کے بعد کہ ا ن کے پاس روشن دلیلیں آ چکی تھیں آپس کی ضد کی وجہ سے، پھر اللہ نے اپنے حکم سے ہدایت کی ان کو جو ایمان والے ہیں اس حق بات کی جس میں وہ اختلاف کر رہے تھے، اور اللہ جسے چاہے سیدھے راستے کی ہدایت کرتا ہے۔
اَمْ حَسِبْتُـمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَاْتِكُمْ مَّثَلُ الَّـذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ ۖ مَّسَّتْهُـمُ الْبَاْسَآءُ وَالضَّرَّآءُ وَزُلْزِلُوْا حَتّـٰى يَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَالَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا مَعَهٝ مَتٰى نَصْرُ اللّـٰهِ ۗ اَلَآ اِنَّ نَصْرَ اللّـٰهِ قَرِيْبٌ (214)
کیا تم خیال کرتے ہو کہ جنت میں داخل ہو جاؤ گے حالانکہ تمہیں وہ (حالات) پیش نہیں آئے جو ان لوگوں کو پیش آئے جو تم سے پہلے ہو گزرے ہیں، انہیں سختی اور تکلیف پہنچی اور ہلا دیے گئے یہاں تک کہ رسول اور جو اس کے ساتھ ایمان لائے تھے بول اٹھے کہ اللہ کی مدد کب ہوگی! سنو بے شک اللہ کی مدد قریب ہے۔
يَسْاَلُوْنَكَ مَاذَا يُنْفِقُوْنَ ۖ قُلْ مَآ اَنْفَقْتُـمْ مِّنْ خَيْـرٍ فَلِلْوَالِـدَيْنِ وَالْاَقْرَبِيْنَ وَالْيَتَامٰى وَالْمَسَاكِيْنِ وَابْنِ السَّبِيْلِ ؕ وَمَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَيْـرٍ فَاِنَّ اللّـٰهَ بِهٖ عَلِيْـمٌ (215)
آپ سے پوچھتے ہیں کیا خرچ کریں، کہہ دو جو مال بھی تم خرچ کرو وہ ماں باپ اور رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور مسافروں کا حق ہے، اور جو نیکی تم کرتے ہو سو بے شک اللہ خوب جانتا ہے۔
كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ وَهُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ ۚ وَعَسٰٓى اَنْ تَكْـرَهُوْا شَيْئًا وَّهُوَ خَيْـرٌ لَّكُمْ ۚ وَعَسٰٓى اَنْ تُحِبُّوْا شَيْئًا وَّهُوَ شَرٌّ لَّكُمْ ؕ وَاللّـٰهُ يَعْلَمُ وَاَنْتُـمْ لَا تَعْلَمُوْنَ (216)
تم پر جہاد فرض کیا گیا ہے اور وہ تمہیں ناگوار ہے، اور ممکن ہے تم کسی چیز کو ناگوار سمجھو اور وہ تمہارے لیے بہتر ہو، اور ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو پسند کرو اور وہ تمہارے لیے مضر ہو، اور اللہ ہی جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔
يَسْاَلُوْنَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيْهِ ۖ قُلْ قِتَالٌ فِيْهِ كَبِيْـرٌ ۖ وَصَدٌّ عَنْ سَبِيْلِ اللّـٰهِ وَكُفْرٌ بِهٖ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَاِخْرَاجُ اَهْلِهٖ مِنْهُ اَكْبَـرُ عِنْدَ اللّـٰهِ ۚ وَالْفِتْنَةُ اَكْبَـرُ مِنَ الْقَتْلِ ؕ وَلَا يَزَالُوْنَ يُقَاتِلُوْنَكُمْ حَتّـٰى يَرُدُّوْكُمْ عَنْ دِيْنِكُمْ اِنِ اسْتَطَاعُوْا ۚ وَمَنْ يَّرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِيْنِهٖ فَيَمُتْ وَهُوَ كَافِرٌ فَـاُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُـهُـمْ فِى الـدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ ۚ وَاُولٰٓئِكَ اَصْحَابُ النَّارِ ۚ هُـمْ فِيْـهَا خَالِـدُوْنَ (217)
آپ سے حرمت والے مہینے میں لڑائی کے متعلق پوچھتے ہیں، کہہ دو اس میں لڑنا بڑا (گناہ) ہے، اور اللہ کے راستہ سے روکنا اور اس کا انکار کرنا اور مسجد حرام سے روکنا اور اس کے رہنے والوں کو اس میں سے نکالنا اللہ کے نزدیک اس سے بڑا گناہ ہے، اور فتنہ انگیزی تو قتل سے بھی بڑا جرم ہے، اور وہ تم سے ہمیشہ لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ تمہیں تمہارے دین سے پھیر دیں اگر ان کا بس چلے، اور جو تم میں سے اپنے دین سے پھر جائے پھر کافر ہی مرجائے پس یہی وہ لوگ ہیں کہ ان کے عمل دنیا اور آخرت میں ضائع ہو گئے، اور وہی دوزخی ہیں جو اسی میں ہمیشہ رہیں گے۔
اِنَّ الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا وَالَّـذِيْنَ هَاجَرُوْا وَجَاهَدُوْا فِىْ سَبِيْلِ اللّـٰهِ اُولٰٓئِكَ يَرْجُوْنَ رَحْـمَتَ اللّـٰهِ ۚ وَاللّـٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْـمٌ (218)
بے شک جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا وہی اللہ کی رحمت کے امیدوار ہیں، اور اللہ بڑا بخشنے والا نہایت رحم والا ہے۔
يَسْاَلُوْنَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ ۖ قُلْ فِـيْهِمَآ اِثْـمٌ كَبِيْـرٌ وَّّمَنَافِــعُ لِلنَّاسِ وَاِثْمُهُمَآ اَكْبَـرُ مِنْ نَّفْعِهِمَا ۖ وَيَسْاَلُوْنَكَ مَاذَا يُنْفِقُوْنَ ؕ قُلِ الْعَفْوَ ؕ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّـٰهُ لَكُمُ الْاٰيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّـرُوْنَ (219)
آپ سے شراب اور جوئے کے متعلق پوچھتے ہیں، کہہ دو ان میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے لیے کچھ فائدے بھی ہیں اور ان کا گناہ ان کے نفع سے بہت بڑا ہے، اور آپ سے پوچھتے ہیں کہ کیا خرچ کریں، کہہ دو جو زائد ہو، ایسے ہی اللہ تمہارے لیے آیتیں کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم غور کرو۔
فِى الـدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ ۗ وَيَسْاَلُوْنَكَ عَنِ الْيَتَامٰى ۖ قُلْ اِصْلَاحٌ لَّـهُـمْ خَيْـرٌ ۖ وَاِنْ تُخَالِطُوْهُـمْ فَاِخْوَانُكُمْ ۚ وَاللّـٰهُ يَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ ۚ وَلَوْ شَآءَ اللّـٰهُ لَاَعْنَتَكُمْ ۚ اِنَّ اللّـٰهَ عَزِيْزٌ حَكِـيْمٌ (220)
دنیا اور آخرت کے بارے میں، اور یتیموں کے متعلق آپ سے پوچھتے ہیں، کہہ دو ان کی اصلاح کرنا بہتر ہے، اور اگر تم انہیں ملا لو تو وہ تمہارے بھائی ہیں، اور اللہ بگاڑنے والے کو اصلاح کرنے والے سے (الگ) جانتا ہے، اور اگر اللہ چاہتا تو تمہیں تکلیف میں ڈالتا، بے شک اللہ غالب حکمت والا ہے۔
وَلَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكَاتِ حَتّـٰى يُؤْمِنَّ ۚ وَلَاَمَةٌ مُّؤْمِنَةٌ خَيْـرٌ مِّنْ مُّشْرِكَةٍ وَّّلَوْ اَعْجَبَتْكُمْ ۗ وَلَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِيْنَ حَتّـٰى يُؤْمِنُـوْا ۚ وَلَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَيْـرٌ مِّنْ مُّشْرِكٍ وَّلَوْ اَعْجَبَكُمْ ۗ اُولٰٓئِكَ يَدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ ۖ وَاللّـٰهُ يَدْعُوٓا اِلَى الْجَنَّـةِ وَالْمَغْفِرَةِ بِاِذْنِهٖ ۖ وَيُبَيِّنُ اٰيَاتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُـمْ يَتَذَكَّرُوْنَ (221)
اور مشرک عورتیں جب تک ایمان نہ لائیں ان سے نکاح نہ کرو، اور مشرک عورتوں سے ایمان دار لونڈی بہتر ہے گو وہ تمہیں بھلی معلوم ہو، اور مشرک مردوں سے نکاح نہ کرو یہاں تک کہ وہ ایمان لائیں، اور البتہ مومن غلام مشرک سے بہتر ہے اگرچہ وہ تمہیں اچھا ہی لگے، یہ لوگ دوزخ کی طرف بلاتے ہیں، اور اللہ جنت اور بخشش کی طرف اپنے حکم سے بلاتا ہے، اور لوگوں کے لیے اپنی آیتیں کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔
وَيَسْاَلُوْنَكَ عَنِ الْمَحِيْضِ ۖ قُلْ هُوَ اَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَآءَ فِى الْمَحِيْضِ ۖ وَلَا تَقْرَبُـوْهُنَّ حَتّـٰى يَطْهُرْنَ ۖ فَاِذَا تَطَهَّرْنَ فَاْتُوْهُنَّ مِنْ حَيْثُ اَمَرَكُمُ اللّـٰهُ ۚ اِنَّ اللّـٰهَ يُحِبُّ التَّوَّابِيْنَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِيْنَ (222)
اور آپ سے حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دو وہ نجاست ہے پس حیض میں عورتوں سے علیحدہ رہو، اور ان کے پاس نہ جاؤ یہاں تک کہ وہ پاک ہوجائیں، پھر جب وہ پاک ہو جائیں تو ان کے پاس جاؤ جہاں سے اللہ نےتمہیں حکم دیا ہے، بے شک اللہ توبہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے اور بہت پاک رہنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔
نِسَآؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَاْتُوْا حَرْثَكُمْ اَنّـٰى شِئْتُـمْ ۖ وَقَدِّمُوْا لِاَنْـفُسِكُمْ ۚ وَاتَّقُوا اللّـٰهَ وَاعْلَمُوٓا اَنَّكُمْ مُّلَاقُـوْهُ ۗ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِيْنَ (223)
تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں پس تم اپنی کھیتیوں میں جیسے چاہو آؤ، اور اپنے لیے آئندہ کی بھی تیاری کرو، اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان لو کہ تم ضرور اسے ملو گے اور ایمان والوں کو خوشخبری سنا دو۔
وَلَا تَجْعَلُوا اللّـٰهَ عُرْضَةً لِّاَيْمَانِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْا وَتَتَّقُوْا وَتُصْلِحُوْا بَيْنَ النَّاسِ ۗ وَاللّـٰهُ سَـمِيْعٌ عَلِيْـمٌ (224)
اور اللہ کو اپنی قسموں کا نشانہ نہ بناؤ نیکی اور پرہیز گاری اور لوگوں کے درمیان اصلاح کرنے سے، اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔
لَّا يُؤَاخِذُكُمُ اللّـٰهُ بِاللَّغْوِ فِىٓ اَيْمَانِكُمْ وَلٰكِنْ يُّؤَاخِذُكُم بِمَا كَسَبَتْ قُلُوْبُكُمْ ۗ وَاللّـٰهُ غَفُوْرٌ حَلِيْـمٌ (225)
اللہ تمہیں تمہاری قسموں میں بے ہودہ گوئی پر نہیں پکڑتا لیکن تم سے ان قسموں پر مواخذہ کرتا ہے جن کا تمہارے دلوں نے ارادہ کیا ہو، اور اللہ بڑا بحشنے والا بردبار ہے۔
لِّلَّـذِيْنَ يُؤْلُوْنَ مِنْ نِّسَآئِهِـمْ تَـرَبُّصُ اَرْبَعَةِ اَشْهُرٍ ۖ فَاِنْ فَـآءُوْا فَاِنَّ اللّـٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْـمٌ (226)
جو لوگ اپنی بیویوں کے پاس جانے سے قسم کھا لیتے ہیں ان کے لیے چار مہینے کی مہلت ہے، پھر اگر وہ رجوع کر لیں تو اللہ بڑا بخشنے والا نہایت رحم والا ہے۔
وَاِنْ عَزَمُوا الطَّـلَاقَ فَاِنَّ اللّـٰهَ سَـمِيْـعٌ عَلِـيْمٌ (227)
اور اگر انہوں نے طلاق کا پختہ ارداہ کر لیا تو بے شک اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔
وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَـرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوٓءٍ ۚ وَلَا يَحِلُّ لَـهُنَّ اَنْ يَّكْـتُمْنَ مَا خَلَقَ اللّـٰهُ فِـىٓ اَرْحَامِهِنَّ اِنْ كُنَّ يُؤْمِنَّ بِاللّـٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ۚ وَبُعُوْلَتُهُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِىْ ذٰلِكَ اِنْ اَرَادُوٓا اِصْلَاحًا ۚ وَلَـهُـنَّ مِثْلُ الَّـذِىْ عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ ۚ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ ۗ وَاللّـٰهُ عَزِيْزٌ حَكِـيْمٌ (228)
اور طلاق دی ہوئی عورتیں تین حیض تک اپنے آپ کو روکے رکھیں، اور ان کے لیے جائز نہیں کہ چھپائیں جو اللہ نے ان کے پیٹوں میں پیدا کیا ہے اگر وہ اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہیں، اور ان کے خاوند اس مدت میں ان کو لوٹا لینے کے زیادہ حق دار ہیں اگر وہ اصلاح کا اردہ رکھتے ہیں، اور دستور کے مطابق ان کا ویسا ہی حق ہے جیسا ان پر ہے، اور مردوں کو ان پر فضیلت دی گئی ہے، اور اللہ غالب حکمت والا ہے۔
اَلطَّـلَاقُ مَرَّتَانِ ۖ فَاِمْسَاكٌ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِيْحٌ بِاِحْسَانٍ ۗ وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَاْخُذُوْا مِمَّآ اٰتَيْتُمُوْهُنَّ شَيْئًا اِلَّآ اَنْ يَّخَافَـآ اَلَّا يُقِيْمَا حُدُوْدَ اللّـٰهِ ۖ فَاِنْ خِفْتُـمْ اَلَّا يُقِيْمَا حُدُوْدَ اللّـٰهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْـهِمَا فِيْمَا افْتَدَتْ بِهٖ ۗ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّـٰهِ فَلَا تَعْتَدُوْهَا ۚ وَمَنْ يَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّـٰهِ فَاُولٰٓئِكَ هُـمُ الظَّالِمُوْنَ (229)
طلاق دو مرتبہ ہے، پھر بھلائی کے ساتھ روک لینا ہے یا نیکی کے ساتھ چھوڑ دینا ہے، اور تمہارے لیے اس میں سے کچھ بھی لینا جائز نہیں جو تم نے انہیں دیا ہے مگر یہ کہ دونوں ڈریں کہ اللہ کی حدیں قائم نہیں رکھ سکیں گے، پھر اگر تمہیں خوف ہو کہ دونوں اللہ کی حدیں قائم نہیں رکھ سکیں گے تو ان دونوں پر اس میں کوئی گناہ نہیں کہ عورت معاوضہ دے کر پیچھا چھڑا لے، یہ اللہ کی حدیں ہیں سو ان سے تجاوز نہ کرو، اور جو اللہ کی حدوں سے تجاوز کرے گا سو وہی ظالم ہیں۔
فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَـهٝ مِنْ بَعْدُ حَتّـٰى تَنْكِـحَ زَوْجًا غَيْـرَهٝ ۗ فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَآ اَنْ يَّتَـرَاجَعَآ اِنْ ظَنَّـآ اَنْ يُّقِيْمَا حُدُوْدَ اللّـٰهِ ۗ وَتِلْكَ حُدُوْدُ اللّـٰهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ (230)
پھر اگر اسے طلاق دے دی تو اس کے بعد اس کے لیے وہ حلال نہ ہوگی یہاں تک کہ وہ کسی اور خاوند سے نکاح کرے، پھر اگر وہ اسے طلاق دے دے تو ان دونوں پر کوئی گناہ نہیں کہ آپس میں رجوع کر لیں اگر ان کا گمان غالب ہو کہ وہ اللہ کی حدیں قائم رکھ سکیں گے، اور یہ اللہ کی حدیں ہیں وہ انہیں کھول کر بیان کرتا ہے ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں۔
وَاِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَـهُنَّ فَاَمْسِكُـوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ سَرِّحُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ ۚ وَلَا تُمْسِكُـوْهُنَّ ضِرَارًا لِّتَعْتَدُوْا ۚ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٝ ۚ وَلَا تَتَّخِذُوٓا اٰيَاتِ اللّـٰهِ هُزُوًا ۚ وَاذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّـٰهِ عَلَيْكُمْ وَمَآ اَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِّنَ الْكِتَابِ وَالْحِكْـمَةِ يَعِظُكُمْ بِهٖ ۚ وَاتَّقُوا اللّـٰهَ وَاعْلَمُوٓا اَنَّ اللّـٰهَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيْـمٌ (231)
اور جب عورتوں کو طلاق دے دو پھر وہ اپنی عدت کو پہنچ جائیں تو انہیں حسن سلوک سے روک لو یا انہیں دستور کے مطابق چھوڑ دو، اور انہیں تکلیف دینے کے لیے نہ روکو تاکہ تم سختی کرو، اور جو ایسا کرے گا تو وہ اپنے اوپر ظلم کرے گا، اور اللہ کی آیتوں کا تمسخر نہ اڑاؤ، اور اللہ کے احسان کو یاد کرو جو اس نے تم پر کیا ہے اور جو اس نے تم پر کتاب اور حکمت اتاری ہے کہ تمہیں اس سے نصیحت کرے، اور اللہ سے ڈرو اور جان لو کہ اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔
وَاِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَـهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوْهُنَّ اَنْ يَّنْكِحْنَ اَزْوَاجَهُنَّ اِذَا تَـرَاضَوْا بَيْنَـهُـمْ بِالْمَعْرُوْفِ ۗ ذٰلِكَ يُوْعَظُ بِهٖ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ يُؤْمِنُ بِاللّـٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ۗ ذٰلِكُمْ اَزْكٰى لَكُمْ وَاَطْهَرُ ۗ وَاللّـٰهُ يَعْلَمُ وَاَنْتُـمْ لَا تَعْلَمُوْنَ (232)
اور جب تم عورتوں کو طلاق دے دو پس وہ اپنی عدت تمام کر چکیں تو اب انہیں اپنے خاوندوں سے نکاح کرنے سے نہ روکو جب کہ وہ آپس میں دستور کے مطابق راضی ہو جائیں، تم میں سے یہ نصیحت اسے کی جاتی ہے جو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، یہ تمہارے لیے بڑی پاکیزی اور بڑی صفائی کی بات ہے، اور اللہ ہی جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔
وَالْوَالِـدَاتُ يُـرْضِعْنَ اَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ ۖ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ يُّتِمَّ الرَّضَاعَةَ ۚ وَعَلَى الْمَوْلُوْدِ لَـهٝ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ ۚ لَا تُكَلَّفُ نَفْسٌ اِلَّا وُسْعَهَا ۚ لَا تُضَآرَّ وَالِـدَةٌ بِوَلَدِهَا وَلَا مَوْلُوْدٌ لَّهٝ بِوَلَدِهٖ ۚ وَعَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذٰلِكَ ۗ فَاِنْ اَرَادَا فِصَالًا عَنْ تَـرَاضٍ مِّنْهُمَا وَتَشَاوُرٍ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْـهِمَا ۗ وَاِنْ اَرَدْتُّـمْ اَنْ تَسْتَـرْضِعُـوٓا اَوْلَادَكُمْ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ اِذَا سَلَّمْتُـمْ مَّآ اٰتَيْتُـمْ بِالْمَعْرُوْفِ ۗ وَاتَّقُوا اللّـٰهَ وَاعْلَمُوٓا اَنَّ اللّـٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ (233)
اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو برس دودھ پلائیں، یہ اس کے لیے ہے جو دودھ کی مدت کو پورا کرنا چاہے، اور باپ پر دودھ پلانے والیوں کا کھانا اور کپڑا دستور کے مطابق ہے، کسی کو تکلیف نہ دی جائے مگر اسی قدر کہ اس کی طاقت ہو، نہ ماں کو اس کے بچہ کی وجہ سے تکلیف دی جائے اور نہ باپ ہی کو اس کی اولاد کی وجہ سے، اور وارث پر بھی ویسا ہی نان نفقہ ہے، پھر اگر دونوں اپنی رضامندی اور مشورہ سے دودھ چھڑانا چاہیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں ہے، اور اگر کسی اور سے اپنی اولاد کو دودھ پلوانا چاہو تو اس میں بھی تم پر کوئی گناہ نہیں بشرطیکہ تم دے دو جو دستور کے مطابق تم نے دینا ٹھہرایا ہے، اور اللہ سے ڈرو اور جان لو کہ جو تم کرتے ہو اللہ اسے خوب دیکھتا ہے۔
وَالَّـذِيْنَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا يَّتَـرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّعَشْرًا ۖ فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَـهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيْمَا فَعَلْنَ فِىٓ اَنْفُسِهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ ۗ وَاللّـٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ (234)
اور جو تم میں سے مر جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں تو ان بیویوں کو چار مہینے دس دن تک اپنے نفس کو روکنا چاہیے، پھر جب وہ اپنی مدت پوری کر لیں تو تم پر اس میں کوئی گناہ نہیں جو وہ دستور کے مطابق اپنے حق میں کریں، اور اللہ اس سے جو تم کرتے ہو خبردار ہے۔
وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيْمَا عَرَّضْتُـمْ بِهٖ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَآءِ اَوْ اَكْنَنْـتُـمْ فِىٓ اَنْفُسِكُمْ ۚ عَلِمَ اللّـٰهُ اَنَّكُمْ سَتَذْكُرُوْنَهُنَّ وَلٰكِنْ لَّا تُـوَاعِدُوْهُنَّ سِرًّا اِلَّآ اَنْ تَقُوْلُوْا قَوْلًا مَّعْرُوْفًا ۚ وَلَا تَعْزِمُوْا عُقْدَةَ النِّكَاحِ حَتّـٰى يَبْلُـغَ الْكِتَابُ اَجَلَـهٝ ۚ وَاعْلَمُوٓا اَنَّ اللّـٰهَ يَعْلَمُ مَا فِىٓ اَنْفُسِكُمْ فَاحْذَرُوْهُ ۚ وَاعْلَمُوٓا اَنَّ اللّـٰهَ غَفُوْرٌ حَلِـيْمٌ (235)
اور تم پر اس میں گناہ نہیں ہے کہ ان عورتوں کو اشارہ سے پیغام نکاح دو اور یا تم اسے اپنے دل میں چھپاؤ، اللہ جانتا ہے کہ تمہیں ان عورتوں کا خیال پیدا ہوگا لیکن مخفی طور پر ان سے نکاح کا وعدہ نہ کرو مگر یہ کہ قاعدہ کے مطابق کوئی بات کہو، اور جب تک معیاد نوشتہ پوری نہ ہو اس وقت تک نکاح کا قصد بھی نہ کرو، اور جان لو کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے پس اس سے ڈرتے رہو، اور جان لو اللہ بڑا بخشنے والا بردبار ہے۔
لَّا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ اِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ مَا لَمْ تَمَسُّوْهُنَّ اَوْ تَفْرِضُوْا لَـهُنَّ فَرِيْضَةً ۚ وَّمَتِّعُوْهُنَّ عَلَى الْمُوْسِعِ قَدَرُهٝ وَعَلَى الْمُقْتِرِ قَدَرُهٝ مَتَاعًا بِالْمَعْرُوْفِ ۖ حَقًّا عَلَى الْمُحْسِنِيْنَ (236)
تم پر کوئی گناہ نہیں اگر تم عورتوں کو طلاق دے دو جب کہ انہیں ہاتھ بھی نہ لگایا ہو اور ان کے لیے کچھ مہر بھی مقرر نہ کیا ہو، اور انہیں کچھ سامان دے دو وسعت والے پر اپنے قدر کے مطابق اور مفلس پر اپنے قدر کے مطابق سامان حسب دستور ہے، نیکو کاروں پر یہ حق ہے۔
وَاِنْ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُـمْ لَـهُنَّ فَرِيْضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُـمْ اِلَّآ اَنْ يَّعْفُوْنَ اَوْ يَعْفُوَ الَّـذِىْ بِيَدِهٖ عُقْدَةُ النِّكَاحِ ۚ وَاَنْ تَعْفُوٓا اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى ۚ وَلَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَيْنَكُمْ ۚ اِنَّ اللّـٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ (237)
اور اگر تم انہیں طلاق دو اس سے پہلے کہ انہیں ہاتھ لگاؤ حالانکہ تم ان کے لیے مہر مقرر کر چکے ہو تو نصف اس کا (دے دو) جو تم نے مقرر کیا تھا مگر یہ کہ وہ معاف کر دیں یا وہ شخص معاف کر دے جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے، اور تمہارا معاف کر دینا پرہیزگاری کے زیادہ قریب ہے، اور آپس میں احسان کرنا نہ بھولو، کیوں کہ جو کچھ بھی تم کر رہے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔
حَافِظُوْا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطٰىۖ وَقُوْمُوْا لِلّـٰهِ قَانِتِيْنَ (238)
سب نمازوں کی حفاظت کیا کرو اور (خاص طور پر) درمیانی نماز کی، اور اللہ کے لیے ادب سے کھڑے رہا کرو۔
فَاِنْ خِفْتُـمْ فَرِجَالًا اَوْ رُكْبَانًا ۖ فَاِذَآ اَمِنْـتُـمْ فَاذْكُرُوا اللّـٰهَ كَمَا عَلَّمَكُمْ مَّا لَمْ تَكُـوْنُـوْا تَعْلَمُوْنَ (239)
پھر اگر تمہیں خوف ہو تو پیادہ یا سوار ہی (پڑھ لیا کرو)، پھر جب امن پاؤ تو اللہ کو یاد کیا کرو جیسا اس نے تمہیں سکھایا ہے جو تم نہ جانتے تھے۔
وَالَّـذِيْنَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا وَّصِيَّةً لِّاَزْوَاجِهِـمْ مَّتَاعًا اِلَى الْحَوْلِ غَيْـرَ اِخْرَاجٍ ۚ فَاِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِىْ مَا فَعَلْنَ فِىٓ اَنْفُسِهِنَّ مِنْ مَّعْرُوْفٍ ۗ وَاللّـٰهُ عَزِيْزٌ حَكِـيْمٌ (240)
اور جو لوگ تم میں سے مر جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں تو انہیں اپنی بیویوں کے لیے سال بھر کے لیے گزارہ کے واسطے وصیت کرنی چاہیے گھر سے باہر گئے بغیر، پھر اگر وہ خود نکل جائیں تو تم پر اس میں کوئی گناہ نہیں جو وہ عورتیں اپنے حق میں دستور کے موافق کریں، اور اللہ زبردست حکمت والا ہے۔
وَلِلْمُطَلَّقَاتِ مَتَاعٌ بِالْمَعْرُوْفِ ۖ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِيْنَ (241)
اور طلاق دی ہوئی عورتوں کے واسطے دستور کے موافق خرچ دینا، پرہیزگارو ں پر یہ لازم ہے۔
كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّـٰهُ لَكُمْ اٰيَاتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ (242)
اسی طرح اللہ تمہارے واسطے اپنے احکام بیان فرماتا ہے تاکہ تم سمجھ لو۔
اَلَمْ تَـرَ اِلَى الَّـذِيْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِيَارِهِـمْ وَهُـمْ اُلُوْفٌ حَذَرَ الْمَوْتِۖ فَقَالَ لَـهُـمُ اللّـٰهُ مُوْتُوْا ۚثُـمَّ اَحْيَاهُـمْ ۚ اِنَّ اللّـٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَ كْثَرَ النَّاسِ لَا يَشْكُـرُوْنَ (243)
کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو موت کے ڈر سے اپنے گھروں سے نکلے حالانکہ وہ ہزاروں تھے، پھر اللہ نےان کو فرمایا کہ مرجاؤ، پھر انہیں زندہ کر دیا، بے شک اللہ لوگوں پر فضل کرنے والا ہے لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔
وَقَاتِلُوْا فِىْ سَبِيْلِ اللّـٰهِ وَاعْلَمُوٓا اَنَّ اللّـٰهَ سَـمِيْـعٌ عَلِـيْمٌ (244)
اور اللہ کی راہ میں لڑو اور سمجھ لو کہ بے شک اللہ خوب سننے والا جاننے والا ہے۔
مَّنْ ذَا الَّـذِىْ يُقْرِضُ اللّـٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهٝ لَهٝٓ اَضْعَافًا كَثِيْـرَةً ۚ وَاللّـٰهُ يَقْبِضُ وَيَبْسُطُ وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ (245)
ایسا کون شخص ہے جو اللہ کو اچھا قرض دے پھر اللہ اس کو کئی گنا بڑھا کر دے، اور اللہ ہی تنگی کرتا ہے اور کشائش کرتا ہے اور تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔
اَلَمْ تَـرَ اِلَى الْمَلَاِ مِنْ بَنِىٓ اِسْرَآئِيْلَ مِنْ بَعْدِ مُوْسٰىۢ اِذْ قَالُوْا لِنَبِيٍّ لَّـهُـمُ ابْعَثْ لَنَا مَلِكًا نُّقَاتِلْ فِىْ سَبِيْلِ اللّـٰهِ ۖ قَالَ هَلْ عَسَيْتُـمْ اِنْ كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ اَلَّا تُقَاتِلُوْا ۖ قَالُوْا وَمَا لَنَآ اَلَّا نُقَاتِلَ فِىْ سَبِيْلِ اللّـٰهِ وَقَدْ اُخْرِجْنَا مِنْ دِيَارِنَا وَاَبْنَآئِنَا ۖ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْـهِـمُ الْقِتَالُ تَوَلَّوْا اِلَّا قَلِيْلًا مِّنْـهُـمْ ۗ وَاللّـٰهُ عَلِـيْـمٌ بِالظَّالِمِيْنَ (246)
کیا تم نے بنی اسرائیل کی ایک جماعت کو موسیٰ کے بعد نہیں دیکھا، جب انہوں نے اپنے نبی سے کہا کہ ہمارے لیے ایک بادشاہ مقرر کر دو تاکہ ہم اللہ کی راہ میں لڑیں، پیغمبر نے کہا کیا یہ بھی ممکن ہے کہ اگر تمہیں لڑائی کا حکم ہو تو تم اس وقت نہ لڑو؟ انہوں نے کہا ہم اللہ کی راہ میں کیوں نہیں لڑیں گے حالانکہ ہمیں اپنے گھروں اور اپنے بیٹوں سے دور کر دیا گیا ہے، پھر جب انہیں لڑائی کا حکم ہوا تو سوائے چند آدمیوں کے سب پھر گئے، اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔
وَقَالَ لَـهُـمْ نَبِيُّـهُـمْ اِنَّ اللّـٰهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوْتَ مَلِكًا ۚ قَالُوٓا اَنّـٰى يَكُـوْنُ لَـهُ الْمُلْكُ عَلَيْنَا وَنَحْنُ اَحَقُّ بِالْمُلْكِ مِنْهُ وَلَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِّنَ الْمَالِ ۚ قَالَ اِنَّ اللّـٰهَ اصْطَفَاهُ عَلَيْكُمْ وَزَادَهُ بَسْطَةً فِى الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ ۖ وَاللّـٰهُ يُؤْتِىْ مُلْكَهٝ مَنْ يَّشَآءُ ۚ وَاللّـٰهُ وَاسِعٌ عَلِـيْمٌ (247)
ان کے نبی نے ان سے کہا بے شک اللہ نے طالوت کو تمہارا بادشاہ مقرر فرمایا ہے، انہوں نے کہا اس کی حکومت ہم پر کیوں کر ہوسکتی ہے اس سے تو ہم ہی سلطنت کے زیادہ مستحق ہیں اور اسے مال میں بھی کشائش نہیں دی گئی، پیغمبر نے کہا بے شک اللہ نے اسے تم پر پسند فرمایا ہے اور اسے علم اور جسم میں زیادہ فراخی دی ہے، اور اللہ اپنا ملک جسے چاہے دیتا ہے، اور اللہ کشائش والا جاننے والا ہے۔
وَقَالَ لَـهُـمْ نَبِيُّـهُـمْ اِنَّ اٰيَةَ مُلْكِهٓ ٖ اَنْ يَّاْتِيَكُمُ التَّابُوْتُ فِيْهِ سَكِـيْنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَبَقِيَّةٌ مِّمَّا تَـرَكَ اٰلُ مُوْسٰى وَاٰلُ هَارُوْنَ تَحْمِلُـهُ الْمَلَآئِكَـةُ ۚ اِنَّ فِىْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُـمْ مُّؤْمِنِيْنَ (248)
اور بنی اسرائیل سے ان کے نبی نے کہا کہ طالوت کی بادشاہی کی یہ نشانی ہے کہ تمہارے پاس وہ صندوق واپس آئے گا جس میں تمہارے رب کی طرف سے اطمینان (تسلی) ہے، اور کچھ بچی ہوئی چیزیں ہیں ان میں سے جو موسیٰ اور ہارون کی اولاد چھوڑ گئی تھی، اس صندوق کو فرشتے اٹھا لائیں گے، بے شک اس میں تمہارے لیے پوری نشانی ہے اگر تم ایمان والے ہو۔
فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوْتُ بِالْجُنُـوْدِ قَالَ اِنَّ اللّـٰهَ مُبْتَلِيْكُم بِنَهَرٍ فَمَنْ شَرِبَ مِنْهُ فَلَيْسَ مِنِّىْ وَمَنْ لَّمْ يَطْعَمْهُ فَاِنَّهٝ مِنِّىٓ اِلَّا مَنِ اغْتَـرَفَ غُرْفَةً بِيَدِهٖ ۚ فَشَرِبُوْا مِنْهُ اِلَّا قَلِيْلًا مِّنْـهُـمْ ۚ فَلَمَّا جَاوَزَهٝ هُوَ وَالَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا مَعَهٝ قَالُوْا لَا طَاقَةَ لَنَا الْيَوْمَ بِجَالُوْتَ وَجُنُـوْدِهٖ ۚ قَالَ الَّـذِيْنَ يَظُنُّوْنَ اَنَّـهُـمْ مُّلَاقُو اللّـٰهِ كَمْ مِّنْ فِئَةٍ قَلِيْلَـةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيْـرَةً بِاِذْنِ اللّـٰهِ ۗ وَاللّـٰهُ مَعَ الصَّابِـرِيْنَ (249)
پھر جب طالوت فوجیں لے کر نکلا، کہا بے شک اللہ ایک نہر سے تمہاری آزمائش کرنے والا ہے، جس نے اس نہر کا پانی پیا تو وہ میرا نہیں ہے اور جس نے اسے نہ چکھا تو وہ بےشک میرا ہے، مگر جو کوئی اپنے ہاتھ سے ایک چلو بھر لے (تو اسے معاف ہے)، پھر ان میں سے سوائے چند آدمیوں کے سب نے اس کا پانی پی لیا، پھر جب طالوت اور ایمان والے اس کے ساتھ پار ہوئے تو کہنے لگے آج ہمیں جالوت اور اس کے لشکروں سے لڑنے کی طاقت نہیں، جن لوگوں کو خیال تھا کہ انہیں اللہ سے ملنا ہے وہ کہنے لگے بارہا بڑی جماعت پر چھوٹی جماعت اللہ کے حکم سے غالب ہوئی ہے، اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
وَلَمَّا بَـرَزُوْا لِجَالُوْتَ وَجُنُودِهٖ قَالُوْا رَبَّنَآ اَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَّثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِـرِيْنَ (250)
اورجب جالوت اور اس کی فوجوں کے سامنے ہوئے تو کہا اے رب ہمارے دلوں میں صبر ڈال دے اور ہمارے پاؤں جمائے رکھ اور اس کافر قوم پر ہماری مدد کر۔
فَهَزَمُوْهُـمْ بِاِذْنِ اللّـٰهِ وَقَتَلَ دَاوُوْدُ جَالُوْتَ وَاٰتَاهُ اللّـٰهُ الْمُلْكَ وَالْحِكْـمَةَ وَعَلَّمَهٝ مِمَّا يَشَآءُ ۗ وَلَوْلَا دَفْعُ اللّـٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُـمْ بِبَعْضٍ لَّفَسَدَتِ الْاَرْضُ وَلٰكِنَّ اللّـٰهَ ذُوْ فَضْلٍ عَلَى الْعَالَمِيْنَ (251)
پھر اللہ کے حکم سے مومنوں نے جالوت کے لشکروں کو شکست دی اور داؤد نے جالوت کو مار ڈالا، اور اللہ نے سلطنت اور حکمت داؤد کو دی اور جو چاہا اسے سکھایا، اور اگر اللہ کا بعض کو بعض کے ذریعے سے دفع کرا دینا نہ ہوتا تو زمین فساد سے پُر ہو جاتی، لیکن اللہ جہان والوں پر بہت مہربان ہے۔
تِلْكَ اٰيَاتُ اللّـٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ ۚ وَاِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِيْنَ (252)
یہ اللہ کی آیتیں ہیں ہم تمہیں ٹھیک طور پر پڑھ کر سناتے ہیں، اور بے شک تو ہمارے رسولوں میں سے ہے۔
تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُـمْ عَلٰى بَعْضٍ ۘ مِّنْـهُـمْ مَّنْ كَلَّمَ اللّـٰهُ ۖ وَرَفَعَ بَعْضَهُـمْ دَرَجَاتٍ ۚ وَاٰتَيْنَا عِيْسَى ابْنَ مَرْيَـمَ الْبَيِّنَاتِ وَاَيَّدْنَاهُ بِـرُوْحِ الْقُدُسِ ۗ وَلَوْ شَآءَ اللّـٰهُ مَا اقْتَتَلَ الَّـذِيْنَ مِنْ بَعْدِهِـمْ مِّنْ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُـمُ الْبَيِّنَاتُ وَلٰكِنِ اخْتَلَفُوْا فَمِنْـهُـمْ مَّنْ اٰمَنَ وَمِنْـهُـمْ مَّنْ كَفَرَ ۚ وَلَوْ شَآءَ اللّـٰهُ مَا اقْتَتَلُوْا وَلٰكِنَّ اللّـٰهَ يَفْعَلُ مَا يُرِيْدُ (253)
یہ سب رسول ہیں ہم نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے، بعض وہ ہیں جن سے اللہ نے کلام فرمائی، اور بعضوں کے درجے بلند کیے، اور ہم نے مریم کے بیٹے عیسٰی کو صریح معجزے دیے تھے، اور اسے روح القدس کے ساتھ قوت دی تھی، اور اگر اللہ چاہتا تو وہ لوگ جو ان پیغمبروں کے بعد آئے وہ آپس میں نہ لڑتے بعد اس کے کہ ان کے پاس صاف حکم پہنچ چکے تھے لیکن ان میں اختلاف پیدا ہو گیا پھر کوئی ان میں سے ایمان لایا اور کوئی کافر ہوا، اور اگر اللہ چاہتا تو وہ آپس میں نہ لڑتے لیکن اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔
يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوٓا اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنَاكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِـىَ يَوْمٌ لَّا بَيْـعٌ فِيْهِ وَلَا خُلَّـةٌ وَّّلَا شَفَاعَةٌ ۗ وَالْكَافِرُوْنَ هُـمُ الظَّالِمُوْنَ (254)
اے ایمان والو! جو ہم نے تمہیں رزق دیا ہے اس میں سے خرچ کرو، اس دن کے آنے سے پہلے جس میں نہ کوئی خرید و فروخت ہوگی اور نہ کوئی دوستی اور نہ کوئی سفارش، اور کافر وہی ظالم ہیں۔
اَللَّـهُ لَآ اِلٰـهَ اِلَّا هُوَۚ اَ لْحَىُّ الْقَيُّوْمُ ۚ لَا تَاْخُذُهٝ سِنَةٌ وَّّلَا نَوْمٌ ۚ لَّـهٝ مَا فِى السَّمَاوَاتِ وَمَا فِى الْاَرْضِ ۗ مَنْ ذَا الَّـذِىْ يَشْفَعُ عِنْدَهٝٓ اِلَّا بِاِذْنِهٖ ۚ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِـمْ وَمَا خَلْفَهُـمْ ۖ وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِشَىْءٍ مِّنْ عِلْمِهٓ ٖ اِلَّا بِمَا شَآءَ ۚ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضَ ۖ وَلَا يَئُوْدُهٝ حِفْظُهُمَا ۚ وَهُوَ الْعَلِـىُّ الْعَظِـيْمُ (255)
اللہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، زندہ ہے سب کا تھامنے والا، نہ اس کو اونگھ دبا سکتی ہے نہ نیند، آسمانوں اور زمین میں جو کچھ بھی ہے سب اسی کا ہے، ایسا کون ہے جو اس کی اجازت کے سوا اس کے ہاں سفارش کر سکے، تمام حاضر اور غائب حالات کو جانتا ہے، اور سب اس کی معلومات میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کر سکتے مگر جتنا کہ وہ چاہے، اس کی کرسی سب آسمانوں اور زمین پر حاوی ہے، اور اللہ کو ان دونوں کی حفاظت کچھ گراں نہیں گزرتی، اور وہی سب سے برتر عظمت والا ہے۔
لَآ اِكْـرَاهَ فِى الدِّيْنِ ۖ قَدْ تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ ۚ فَمَنْ يَّكْـفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَيُؤْمِنْ بِاللّـٰهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى لَا انْفِصَامَ لَـهَا ۗ وَاللّـٰهُ سَـمِيْعٌ عَلِـيْمٌ (256)
دین کے معاملے میں زبردستی نہیں ہے، بے شک ہدایت یقیناً گمراہی سے ممتاز ہو چکی ہے، پھر جو شخص شیطان کو نہ مانے اور اللہ پر ایمان لائے تو اس نے مضبوط حلقہ پکڑ لیا جو ٹوٹنے والا نہیں، اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔
اَللَّـهُ وَلِىُّ الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا يُخْرِجُـهُـمْ مِّنَ الظُّلُمَاتِ اِلَى النُّوْرِ ۖ وَالَّـذِيْنَ كَفَرُوٓا اَوْلِيَآؤُهُـمُ الطَّاغُوْتُ يُخْرِجُوْنَـهُـمْ مِّنَ النُّـوْرِ اِلَى الظُّلُـمَاتِ ۗ اُولٰٓئِكَ اَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُـمْ فِيْـهَا خَالِـدُوْنَ (257)
اللہ ایمان والوں کا مددگار ہے اور انہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالتا ہے، اور جو لوگ کافر ہیں ان کے دوست شیطان ہیں جو انہیں روشنی سے اندھیروں کی طرف نکالتے ہیں، یہی لوگ دوزخ میں رہنے والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
اَلَمْ تَـرَ اِلَى الَّـذِىْ حَآجَّ اِبْـرَاهِيْمَ فِىْ رَبِّهٓ ٖ اَنْ اٰتَاهُ اللّـٰهُ الْمُلْكَۚ اِذْ قَالَ اِبْـرَاهِيْـمُ رَبِّىَ الَّـذِىْ يُحْيِىْ وَيُمِيْتُ قَالَ اَنَا اُحْيِىْ وَاُمِيْتُ ۖ قَالَ اِبْـرَاهِـيْمُ فَاِنَّ اللّـٰهَ يَاْتِىْ بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَاْتِ بِـهَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَـبُهِتَ الَّـذِىْ كَفَرَ ۗ وَاللّـٰهُ لَا يَـهْدِى الْقَوْمَ الظَّالِمِيْنَ (258)
کیا تو نے اس شخص کو نہیں دیکھا جس نے ابراھیم سے اس کے رب کی بابت جھگڑا کیا اس لیے کہ اللہ نے اسے سلطنت دی تھی، جب ابراھیم نے کہا کہ میرا رب وہ ہے جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے اس نے کہا میں بھی زندہ کرتا ہوں اور مارتا ہوں، کہا ابراھیم نے بے شک اللہ سورج مشرق سے لاتا ہے تو اسے مغرب سے لے آ تب وہ کافر حیران رہ گیا، اور اللہ بے انصافوں کی سیدھی راہ نہیں دکھاتا۔
اَوْ كَالَّـذِىْ مَرَّ عَلٰى قَرْيَةٍ وَّّهِىَ خَاوِيَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا ۚقَالَ اَنّـٰى يُحْيِىْ هٰذِهِ اللّـٰهُ بَعْدَ مَوْتِـهَا ۖ فَاَمَاتَهُ اللّـٰهُ مِائَةَ عَامٍ ثُـمَّ بَعَثَهٝ ۖ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ ۖ قَالَ لَبِثْتُ يَوْمًا اَوْ بَعْضَ يَوْمٍ ۖ قَالَ بَلْ لَّبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ فَانْظُرْ اِلٰى طَعَامِكَ وَشَرَابِكَ لَمْ يَتَسَنَّهْ ۖ وَانْظُرْ اِلٰى حِمَارِكَ وَلِنَجْعَلَكَ اٰيَةً لِّلنَّاسِ ۖ وَانْظُرْ اِلَى الْعِظَامِ كَيْفَ نُـنْشِزُهَا ثُـمَّ نَكْسُوْهَا لَحْمًا ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَـهٝ قَالَ اَعْلَمُ اَنَّ اللّـٰهَ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْرٌ (259)
یا تو نے اس شخص کو نہیں دیکھا جو ایک شہر پر گزرا اور وہ (شہر) اپنی چھتوں پر گرا ہوا تھا، کہا اسے اللہ مرنے کے بعد کیسے زندہ کرے گا؟ پھر اللہ نے اسے سو برس تک مار ڈالا پھر اسے اٹھایا، کہا تو یہاں کتنی دیر رہا، کہا ایک دن یا اس سے کچھ کم رہا، فرمایا بلکہ تو سو برس رہا ہے اب تو اپنا کھانا اور پینا دیکھ وہ تو سڑا نہیں، اور اپنے گدھے کو دیکھ اور ہم نے تجھے لوگوں کے واسطے نمونہ چاہا ہے، اور ہڈیوں کی طرف دیکھ کہ ہم انہیں کس طرح ابھار کر جوڑ دیتے ہیں پھر ان پر گوشت پہناتے ہیں، پھر اس پر یہ حال ظاہر ہوا تو کہا میں یقین کرتا ہو ں کہ بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
وَاِذْ قَالَ اِبْـرَاهِـيْمُ رَبِّ اَرِنِىْ كَيْفَ تُحْيِى الْمَوْتٰى ۖ قَالَ اَوَلَمْ تُؤْمِنْ ۖ قَالَ بَلٰى وَلٰكِنْ لِّيَطْمَئِنَّ قَلْبِىْ ۖ قَالَ فَخُذْ اَرْبَعَةً مِّنَ الطَّيْـرِ فَصُرْهُنَّ اِلَيْكَ ثُـمَّ اجْعَلْ عَلٰى كُلِّ جَبَلٍ مِّنْهُنَّ جُزْءًا ثُـمَّ ادْعُهُنَّ يَاْتِيْنَكَ سَعْيًا ۚ وَاعْلَمْ اَنَّ اللّـٰهَ عَزِيْزٌ حَكِـيْمٌ (260)
اور یاد کر جب ابراھیم نے کہا اے میرے پروردگار! مجھ کو دکھا کہ تو مردے کو کس طرح زندہ کرے گا، فرمایا کہ کیا تم یقین نہیں لاتے؟ کہا کیوں نہیں لیکن اس واسطے چاہتا ہوں کہ میرے دل کو تسکین ہو جائے، فرمایا تو چار جانور اڑنے والے پکڑ پھر انہیں اپنے ساتھ مانوس کرلے پھر (انہیں ذبح کرنے کے بعد) ہر پہاڑ پر ان کے بدن کا ایک ایک ٹکڑا رکھ دے پھر ان کو بلا تیرے پاس جلدی سے آئیں گے، اور جان لے کہ بے شک اللہ زبردست حکمت والا ہے۔
مَّثَلُ الَّـذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَـهُـمْ فِىْ سَبِيْلِ اللّـٰهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِىْ كُلِّ سُنْبُلَـةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ ۗ وَاللّـٰهُ يُضَاعِفُ لِمَنْ يَّشَآءُ ۗ وَاللّـٰهُ وَاسِعٌ عَلِـيْمٌ (261)
ان لوگوں کی مثال جو اللہ کی راہ میں مال خرچ کرتے ہیں ایسی ہے کہ جیسے ایک دانہ جو سات بالیں اگائے ہر بال میں سو سو دانے، اور اللہ جس کے واسطے چاہے بڑھاتا ہے اور اللہ بڑی وسعت جاننے والا ہے۔
اَلَّـذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَـهُـمْ فِىْ سَبِيْلِ اللّـٰهِ ثُـمَّ لَا يُتْبِعُوْنَ مَآ اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّلَا اَذًى ۙ لَّـهُـمْ اَجْرُهُـمْ عِنْدَ رَبِّـهِـمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْـهِـمْ وَلَا هُـمْ يَحْزَنُـوْنَ (262)
جو لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں پھر خرچ کرنے کے بعد نہ احسان رکھتے ہیں اور نہ ستاتے ہیں، انہیں کے لیے اپنے رب کے ہاں ثواب ہے اوران پر نہ کوئی ڈر ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ وَّمَغْفِرَةٌ خَيْـرٌ مِّنْ صَدَقَةٍ يَّتْبَعُهَآ اَذًى ۗ وَاللّـٰهُ غَنِىٌّ حَلِـيْمٌ (263)
مناسب بات کہہ دینا اور درگزر کرنا اس خیرات سے بہتر ہے جس کے بعد ستانا ہو، اور اللہ بے پروا نہایت تحمل والا ہے۔
يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقَاتِكُمْ بِالْمَنِّ وَالْاَذٰى كَالَّـذِىْ يُنْفِقُ مَالَـهٝ رِئَـآءَ النَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُ بِاللّـٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ۖ فَمَثَلُهٝ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَيْهِ تُرَابٌ فَاَصَابَهٝ وَابِلٌ فَتَـرَكَهٝ صَلْدًا ۖ لَّا يَقْدِرُوْنَ عَلٰى شَىْءٍ مِّمَّا كَسَبُـوْا ۗ وَاللّـٰهُ لَا يَـهْدِى الْقَوْمَ الْكَافِـرِيْنَ (264)
اے ایمان والو! احسان جتا کر اور ایذا دے کے اپنی خیرات کو ضائع نہ کرو اس شخص کی طرح جو اپنا مال لوگوں کے دکھانے کو خرچ کرتا ہے اور اللہ پر اور قیامت کے دن پر یقین نہیں رکھتا، سو اس کی مثال ایسی ہے جیسے صاف پتھر کہ اس پر کچھ مٹی پڑی ہو پھر اس پر زور کا مینہ برسا پھر اس کو بالکل صاف کر دیا، ایسے لوگوں کو اپنی کمائی ذرا ہاتھ بھی نہ لگے گی، اور اللہ کافروں کو سیدھی راہ نہیں دکھاتا۔
وَمَثَلُ الَّـذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَـهُـمُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّـٰهِ وَتَثْبِيْتًا مِّنْ اَنْفُسِهِـمْ كَمَثَلِ جَنَّةٍ بِرَبْوَةٍ اَصَابَهَا وَابِلٌ فَـاٰتَتْ اُكُلَـهَا ضِعْفَيْنِۚ فَاِنْ لَّمْ يُصِبْهَا وَابِلٌ فَطَلٌّ ۗ وَاللّـٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ (265)
اور ان لوگوں کی مثال جو اپنے مال اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے اور اپنے دلوں کو مضبوط کر کے خرچ کرتے ہیں ایسی ہے جس طرح بلند زمین پر ایک باغ ہو اس پر زور کا مینہ برسا تو وہ باغ اپنا پھل دوگنا لایا، اور اگر اس پر مینہ نہ برسایا تو شبنم ہی کافی ہے، اور اللہ تمہارے کاموں کو خوب دیکھنے والا ہے۔
اَيَوَدُّ اَحَدُكُمْ اَنْ تَكُـوْنَ لَـهٝ جَنَّـةٌ مِّنْ نَّخِيْلٍ وَّّاَعْنَابٍ تَجْرِىْ مِنْ تَحْتِـهَا الْاَنْـهَارُ لَـهٝ فِيْـهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرَاتِ وَاَصَابَهُ الْكِبَـرُ وَلَـهٝ ذُرِّيَّةٌ ضُعَفَآءُۚ فَاَصَابَهَآ اِعْصَارٌ فِيْهِ نَارٌ فَاحْتَـرَقَتْ ۗ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّـٰهُ لَكُمُ الْاٰيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَ (266)
کیا تم میں کسی کو یہ بات پسند آتی ہے کہ اس کا ایک باغ کھجور اور انگور کا ہو جس کے نیچے نہریں بہتی ہوں، اسے اس باغ میں اور بھی ہر طرح کا میوہ حاصل ہو، اور اس پر بڑھاپا آ گیا ہو اور اس کی اولاد ضعیف ہو، تب اس باغ پرایک بگولہ آپڑا جس میں آگ تھی جس سے وہ باغ جل گیا، اللہ تمہیں اس طرح نشانیاں سمجھاتا ہے تاکہ تم سوچا کرو۔
يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوٓا اَنْفِقُوْا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُـمْ وَمِمَّآ اَخْرَجْنَا لَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ ۖ وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيْثَ مِنْهُ تُنْفِقُوْنَ وَلَسْتُـمْ بِاٰخِذِيْهِ اِلَّآ اَنْ تُغْمِضُوْا فِيْهِ ۚ وَاعْلَمُوٓا اَنَّ اللّـٰهَ غَنِىٌّ حَـمِيْدٌ (267)
اے ایمان والو! اپنی کمائی میں سے ستھری چیزیں خرچ کرو اور اس چیز میں سے بھی جو ہم نے تمہارے لیے زمین سے پیدا کی ہے، اور اس میں سے ردی چیز کا ارادہ نہ کرو کہ اس کو خرچ کرو حالانکہ تم اسے کبھی نہ لو مگر یہ کہ چشم پوشی کر جاؤ، اور سمجھ لو کہ بے شک اللہ بے پروا تعریف کیا ہوا ہے۔
اَلشَّيْطَانُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَيَاْمُرُكُمْ بِالْفَحْشَآءِ ۖ وَاللّـٰهُ يَعِدُكُمْ مَّغْفِرَةً مِّنْهُ وَفَضْلًا ۗ وَاللّـٰهُ وَاسِعٌ عَلِـيْمٌ (268)
شیطان تمہیں تنگدستی کا وعدہ دیتا ہے اور بے حیائی کا حکم کرتا ہے، اور اللہ تمہیں اپنی بخشش اور فضل کا وعدہ دیتا ہے، اور اللہ بہت کشائش کرنے والا سب کچھ جاننے والا ہے۔
يُؤْتِى الْحِكْـمَةَ مَنْ يَّشَآءُ ۚ وَمَنْ يُّؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ اُوْتِـىَ خَيْـرًا كَثِيْـرًا ۗ وَمَا يَذَّكَّرُ اِلَّآ اُولُو الْاَلْبَابِ (269)
(اللہ) جس کو چاہتا ہے سمجھ دے دیتا ہے، اور جسے سمجھ دی گئی تو اسے بڑی خوبی ملی، اور نصیحت وہی قبول کرتے ہیں جو عقل والے ہیں۔
وَمَآ اَنْفَقْتُـمْ مِّنْ نَّفَقَةٍ اَوْ نَذَرْتُـمْ مِّنْ نَّذْرٍ فَاِنَّ اللّـٰهَ يَعْلَمُهٝ ۗ وَمَا لِلظَّالِمِيْنَ مِنْ اَنصَارٍ (270)
اور جو تم خیرات کے طور پر خرچ کرو گے یا تم کوئی منت مانگو گے تو بے شک اللہ کو سب معلوم ہے، اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ہے۔
اِنْ تُبْدُوا الصَّدَقَاتِ فَنِعِمَّا هِىَ ۖ وَاِنْ تُخْفُوْهَا وَتُؤْتُوْهَا الْفُقَرَآءَ فَهُوَ خَيْـرٌ لَّكُمْ ۚ وَيُكَـفِّرُ عَنْكُمْ مِّنْ سَيِّئَاتِكُمْ ۗ وَاللّـٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْـرٌ (271)
اگر تم خیرات ظاہر کرکے دو تو بھی اچھی بات ہے، اور اگر اسے چھپا کر دو اور فقیروں کو پہنچا دو تو تمہارے حق میں وہ بہتر ہے، اور اللہ تمہارے کچھ گناہ دور کر دے گا، اور اللہ تمہارے کاموں سے خوب خبر رکھنے والا ہے۔
لَّيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُـمْ وَلٰكِنَّ اللّـٰهَ يَـهْدِىْ مَنْ يَّشَآءُ ۗ وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَيْـرٍ فَلِاَنْفُسِكُمْ ۚ وَمَا تُنْفِقُوْنَ اِلَّا ابْتِغَآءَ وَجْهِ اللّـٰهِ ۚ وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَيْـرٍ يُّوَفَّ اِلَيْكُمْ وَاَنْـتُـمْ لَا تُظْلَمُوْنَ (272)
انہیں راہ پر لانا تیرے ذمہ نہیں اور لیکن اللہ جسے چاہے راہ پر لاتا ہے، اور جو مال تم خرچ کرو گے اس کا نفع تمہاری جان کے لیے ہے، اور اللہ ہی کی رضامندی کے لیے خرچ کرو، اور جو اچھی چیز تم خرچ کرو گے اس کا پورا اجر تمہیں دیا جائے گا اور تم پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔
لِلْفُقَرَآءِ الَّـذِيْنَ اُحْصِرُوْا فِىْ سَبِيْلِ اللّـٰهِ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ ضَرْبًا فِى الْاَرْضِ ؕ يَحْسَبُهُـمُ الْجَاهِلُ اَغْنِيَآءَ مِنَ التَّعَفُّفِۚ تَعْرِفُهُـمْ بِسِيمَاهُـمْۚ لَا يَسْاَلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا ۗ وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَيْـرٍ فَاِنَّ اللّـٰهَ بِهٖ عَلِـيْمٌ (273)
خیرات ان حاجت مندوں کے لیے ہے جو اللہ کی راہ میں رکے ہوئے ہیں ملک میں چل پھر نہیں سکتے، نا واقف ان کے سوال نہ کرنے سے انہیں مال دار سمجھتا ہے، تو ان کے چہرے سے پہچان سکتا ہے، لوگوں سے لپٹ کر سوال نہیں کرتے، اور جو کام کی چیز تم خرچ کرو گے بے شک وہ اللہ کو معلوم ہے۔
اَلَّـذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَـهُـمْ بِاللَّيْلِ وَالنَّـهَارِ سِرًّا وَّعَلَانِيَةً فَلَـهُـمْ اَجْرُهُـمْ عِنْدَ رَبِّهِـمْۚ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْـهِـمْ وَلَا هُـمْ يَحْزَنُـوْنَ (274)
جو لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں رات اور دن چھپا کر اور ظاہر خرچ کرتے ہیں تو ان کے لیے اپنے رب کے ہاں ثواب ہے، ان پر نہ کوئی ڈر ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
اَلَّـذِيْنَ يَاْكُلُوْنَ الرِّبَا لَا يَقُوْمُوْنَ اِلَّا كَمَا يَقُوْمُ الَّـذِىْ يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ۚ ذٰلِكَ بِاَنَّـهُـمْ قَالُوٓا اِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا ۗ وَاَحَلَّ اللّـٰهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا ۚ فَمَنْ جَآءَهٝ مَوْعِظَـةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ فَانْتَهٰى فَلَـهٝ مَا سَلَفَ ؕ وَاَمْرُهٝٓ اِلَى اللّـٰهِ ۖ وَمَنْ عَادَ فَاُولٰٓئِكَ اَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُـمْ فِيْـهَا خَالِـدُوْنَ (275)
جو لوگ سود کھاتے ہیں قیامت کے دن وہ نہیں اٹھیں گے مگر جس طرح کہ وہ شخص اٹھتا ہے جس کے حواس جن نے لپٹ کر کھو دیے ہیں، یہ حالت ان کی اس لیے ہوگی کہ انہوں نے کہا تھا کہ تجارت بھی تو ایسی ہی ہے جیسےسود لینا، حالانکہ اللہ نے تجارت کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام کیا ہے، پھر جسے اپنے رب کی طرف سے نصیحت پہنچی اور وہ باز آگیا تو جو پہلے لے چکا ہے وہ اسی کا رہا، اور اس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے، اور جو کوئی پھر سود لے وہی لوگ دوزخ والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
يَمْحَقُ اللّـٰهُ الرِّبَا وَيُـرْبِى الصَّدَقَاتِ ۗ وَاللّـٰهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ اَثِـيْمٍ (276)
اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے، اور اللہ کسی ناشکرے گناہگار کو پسند نہیں کرتا۔
اِنَّ الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَاَقَامُوا الصَّلَاةَ وَاٰتَوُا الزَّكَاةَ لَـهُـمْ اَجْرُهُـمْ عِنْدَ رَبِّـهِـمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْـهِـمْ وَلَا هُـمْ يَحْزَنُـوْنَ (277)
جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کیے اور نماز کو قائم رکھا اور زکوٰۃ دیتے رہے تو ان کے رب کے ہاں ان کا اجر ہے اور ان پر کوئی خوف نہ ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّـٰهَ وَذَرُوْا مَا بَقِىَ مِنَ الرِّبَآ اِنْ كُنْتُـمْ مُّؤْمِنِيْنَ (278)
اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور جو کچھ باقی سود رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو اگر تم ایمان والے ہو۔
فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُـوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّـٰهِ وَرَسُوْلِهٖ ۚ وَاِنْ تُبْتُـمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ اَمْوَالِكُمْۚ لَا تَظْلِمُوْنَ وَلَا تُظْلَمُوْنَ (279)
اگر تم نے نہ چھوڑا تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے تمہارے خلاف اعلان جنگ ہے، اور اگر توبہ کرلو تو اصل مال تمھارا تمہارے واسطے ہے، نہ تم کسی پر ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے گا۔
وَاِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَيْسَرَةٍ ۚ وَاَنْ تَصَدَّقُوْا خَيْـرٌ لَّكُمْ ۖ اِنْ كُنْتُـمْ تَعْلَمُوْنَ (280)
اور اگر وہ تنگ دست ہے تو آسودہ حالی تک مہلت دینی چاہیے، اور بخش دو تو تمہارے لیے بہت ہی بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو۔
وَاتَّقُوْا يَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِيْهِ اِلَى اللّـٰهِ ۖ ثُـمَّ تُـوَفّـٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَهُـمْ لَا يُظْلَمُوْنَ (281)
اور اس دن سے ڈرو جس دن اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے، پھر ہر شخص کو اس کی کمائی کا پورا پورا بدلہ دے دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہ ہوگا۔
يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوٓا اِذَا تَدَايَنْتُـمْ بِدَيْنٍ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكْـتُبُوْهُ ۚ وَلْيَكْـتُبْ بَّيْنَكُمْ كَاتِبٌ بِالْعَدْلِ ۚ وَلَا يَاْبَ كَاتِبٌ اَنْ يَّكْـتُبَ كَمَا عَلَّمَهُ اللّـٰهُ ۚ فَلْيَكْـتُبْۚ وَلْيُمْلِلِ الَّـذِىْ عَلَيْهِ الْحَقُّ وَلْيَتَّقِ اللّـٰهَ رَبَّهٝ وَلَا يَبْخَسْ مِنْهُ شَيْئًا ۚ فَاِنْ كَانَ الَّـذِىْ عَلَيْهِ الْحَقُّ سَفِـيْهًا اَوْ ضَعِيْفًا اَوْ لَا يَسْتَطِيْعُ اَنْ يُّمِلَّ هُوَ فَلْيُمْلِلْ وَلِيُّهٝ بِالْعَدْلِ ۚ وَاسْتَشْهِدُوْا شَهِيْدَيْنِ مِنْ رِّجَالِكُمْ ۖ فَاِنْ لَّمْ يَكُـوْنَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَّامْرَاَتَانِ مِمَّن تَـرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَآءِ اَنْ تَضِلَّ اِحْدَاهُمَا فَتُذَكِّرَ اِحْدَاهُمَا الْاُخْرٰى ۚ وَلَا يَاْبَ الشُّهَدَآءُ اِذَا مَا دُعُوْا ۚ وَلَا تَسْاَمُـوٓا اَنْ تَكْـتُـبُوهُ صَغِيْـرًا اَوْ كَبِيْـرًا اِلٰٓى اَجَلِـهٖ ۚ ذٰلِكُمْ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّـٰهِ وَاَقْوَمُ لِلشَّهَادَةِ وَاَدْنٰٓى اَلَّا تَـرْتَابُـوٓا ۖ اِلَّآ اَنْ تَكُـوْنَ تِجَارَةً حَاضِرَةً تُدِيْـرُوْنَـهَا بَيْنَكُمْ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَلَّا تَكْـتُبُوْهَا ۗ وَاَشْهِدُوٓا اِذَا تَبَايَعْتُـمْ ۚ وَلَا يُضَآرَّ كَاتِبٌ وَّلَا شَهِيْدٌ ۚ وَاِنْ تَفْعَلُوْا فَاِنَّهٝ فُسُوْقٌ بِكُمْ ۗ وَاتَّقُوا اللّـٰهَ ۖ وَيُعَلِّمُكُمُ اللّـٰهُ ۗ وَاللّـٰهُ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِـيْـمٌ (282)
اے ایمان والو! جب تم کسی وقتِ مقرر تک آپس میں ادھار کا معاملہ کرو تو اسے لکھ لیا کرو، اور چاہیے کہ تمہارے درمیان لکھنے والا انصاف سے لکھے، اور لکھنے والا لکھنے سے انکار نہ کرے جیسا کہ اس کو اللہ نے سکھایا ہے، سو اسے چاہیے کہ لکھ دے، اور وہ شخص بتلاتا جائے کہ جس پر قرض ہے اور اللہ سے ڈرے جو اس کا رب ہے اور اس میں کچھ کم کر کے نہ لکھائے، پھر اگر وہ شخص کہ جس پر قرض ہے بے وقوف ہے یا کمزور ہے یا وہ بتلا نہیں سکتا تو اس کا کارکن ٹھیک طور پر لکھوا دے، اور اپنے مردوں میں سے دو گواہ کر لیا کرو، پھر اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دوعورتیں ان لوگوں میں سے جنہیں تم گواہو ں میں سے پسند کرتے ہو تاکہ اگر ایک ان میں سے بھول جائے تو دوسری اسے یاد دلا دے، اور جب گواہوں کو بلایا جائے تو انکار نہ کریں، اور معاملہ چھوٹا ہو یا بڑا اس کی معیاد تک لکھنے میں سستی نہ کرو، یہ لکھ لینا اللہ کے نزدیک انصاف کو زیادہ قائم رکھنے والا ہے اور شہادت کا زیادہ درست رکھنے والا ہے اور زیادہ قریب ہے اس بات کے کہ تم کسی شبہ میں نہ پڑو، مگر یہ کہ (جب) تجارت ہاتھوں ہاتھ ہو جسے آپس میں لیتے دیتے ہو پھر تم پر کوئی گناہ نہیں کہ اسے نہ لکھو، اور جب آپس میں سودا کرو تو گواہ بنا لو، اور لکھنے والے اور گواہ بنانے والے کو تکلیف نہ دی جائے، اور اگر تم نے تکلیف دی تو تمہیں گناہ ہوگا، اور اللہ سے ڈرو، اور اللہ تمہیں سکھاتا ہے، اور اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔
وَاِنْ كُنْتُـمْ عَلٰى سَفَرٍ وَّلَمْ تَجِدُوْا كَاتِبًا فَرِهَانٌ مَّقْبُوْضَةٌ  ۖ فَاِنْ اَمِنَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا فَلْيُؤَدِّ الَّـذِى اؤْتُمِنَ اَمَانَتَهٝ وَلْيَتَّقِ اللّـٰهَ رَبَّهٝ ۗ وَلَا تَكْـتُمُوا الشَّهَادَةَ ۚ وَمَنْ يَّكْـتُمْهَا فَاِنَّهٝٓ اٰثِـمٌ قَـلْبُهٝ ۗ وَاللّـٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِـيْمٌ (283)
اور اگر تم سفر میں ہو اور کوئی لکھنے والا نہ پاؤ تو گروی کو قبضہ میں دے دیا جائے، اور اگر ایک تم میں سے دوسرے پر اعتبار کرے تو چاہیے کہ وہ شخص امانت ادا کر دے جس پر اعتبار کیا گیا اور اپنے اللہ سے ڈرے جو اس کا رب ہے، اور گواہی کو نہ چھپاؤ، اور جو شخص اسے چھپائے گا تو بے شک اس کا دل گناہگار ہے، اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ خوب جانتا ہے۔
لِّلَّهِ مَا فِى السَّمَاوَاتِ وَمَا فِى الْاَرْضِ ۗ وَاِنْ تُبْدُوْا مَا فِىٓ اَنْفُسِكُمْ اَوْ تُخْفُوْهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللّـٰهُ ۖ فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَّشَآءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَّشَآءُ ۗ وَاللّـٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْرٌ (284)
جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اللہ ہی کا ہے، اور اگر تم اپنے دل کی بات ظاہر کرو گے یا چھپاؤ گے اللہ تم سے اس کا حساب لے گا، پھر جس کو چاہے بخشے گا اور جسے چاہے عذاب کرے گا، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَالْمُؤْمِنُـوْنَ ۚ كُلٌّ اٰمَنَ بِاللّـٰهِ وَمَلَآئِكَـتِهٖ وَكُـتُبِهٖ وَرُسُلِهٖۚ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ ۚ وَقَالُوْا سَـمِعْنَا وَاَطَعْنَا ۖ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَاِلَيْكَ الْمَصِيْـرُ (285)
رسول نے مان لیا جو کچھ اس پر اس کے رب کی طرف سے اترا ہے اور مسلمانوں نے بھی مان لیا، سب نے اللہ کو اور اس کے فرشتوں کو اور اس کی کتابوں کو اور اس کے رسولوں کو مان لیا ہے، (کہتے ہیں کہ) ہم اللہ کے رسولوں کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کرتے، اور کہتے ہیں ہم نے سنا اور مان لیا، اے ہمارے رب تیری بخشش چاہتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
لَا يُكَلِّفُ اللّـٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا ۚ لَـهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْـهَا مَا اكْتَسَبَتْ ۗ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَـآ اِنْ نَّسِيْنَـآ اَوْ اَخْطَاْنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَآ اِصْرًا كَمَا حَـمَلْتَهٝ عَلَى الَّـذِيْنَ مِنْ قَبْلِنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهٖ ۖ وَاعْفُ عَنَّا، وَاغْفِرْ لَنَا، وَارْحَـمْنَا ۚ، اَنْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِـرِيْنَ (286)
اللہ کسی کو اس کی طاقت کے سوا تکلیف نہیں دیتا، نیکی کا فائدہ بھی اسی کو ہوگا اور برائی کی زد بھی اسی پر پڑے گی، اے رب ہمارے! اگر ہم بھول جائیں یا غلطی کریں تو ہمیں نہ پکڑ، اے رب ہمارے! اور ہم پر بھاری بوجھ نہ رکھ جیسا تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر رکھا تھا، اے رب ہمارے! اور ہم سے وہ بوجھ نہ اٹھوا جس کی ہمیں طاقت نہیں، اور ہمیں معاف کر دے، اور ہمیں بخش دے، اور ہم پر رحم کر، تو ہی ہمارا کارساز ہے، کافروں کے مقابلہ میں تو ہماری مدد کر۔