قرآن حکیم            

مکمل سورت
سورت نمبر
آیت نمبر
ایک آیت
(19) سورۃ مریم (مکی، آیات 98)
بِسْمِ اللّـٰهِ الرَّحْـمٰنِ الرَّحِيْـمِ
كٓـهٰـيٰـعٓـصٓ (1)
ک ھ ی ع صۤ۔
ذِكْرُ رَحْـمَتِ رَبِّكَ عَبْدَهٝ زَكَرِيَّا (2)
یہ تیرے رب کی مہربانی کا ذکر ہے جو اس کے بندے زکریا پر ہوئی۔
اِذْ نَادٰى رَبَّهٝ نِدَآءً خَفِيًّا (3)
جب اس نے اپنے رب کو خفیہ آواز سے پکارا۔
قَالَ رَبِّ اِنِّـىْ وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّىْ وَاشْتَعَلَ الرَّاْسُ شَيْبًا وَّلَمْ اَكُنْ بِدُعَآئِكَ رَبِّ شَقِيًّا (4)
کہا اے میرے رب! میری ہڈیاں کمزور ہوگئی ہیں اور سر میں بڑھاپا چمکنے لگا ہے اور میرے رب! تجھ سے مانگ کر میں کبھی محروم نہیں ہوا۔
وَاِنِّـىْ خِفْتُ الْمَوَالِىَ مِنْ وَّّرَآئِىْ وَكَانَتِ امْرَاَتِىْ عَاقِرًا فَهَبْ لِىْ مِنْ لَّـدُنْكَ وَلِيًّا (5)
اور بے شک میں اپنے بعد اپنے رشتہ داروں سے ڈرتا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے پس تو اپنے ہاں سے ایک وارث عطا کر۔
يَرِثُنِىْ وَيَرِثُ مِنْ اٰلِ يَعْقُوْبَ ۖ وَاجْعَلْـهُ رَبِّ رَضِيًّا (6)
جو میرا اور یعقوب کے خاندان کا بھی وارث ہو، اور میرے رب اسے پسندیدہ بنا۔
يَا زَكَرِيَّـآ اِنَّا نُـبَشِّرُكَ بِغُلَامِ  ِۨ اسْمُهٝ يَحْيٰىۙ لَمْ نَجْعَلْ لَّـهٝ مِنْ قَبْلُ سَـمِيًّا (7)
اے زکریا بے شک ہم تجھے ایک لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں جس کا نام یحیٰی ہوگا، اس سے پہلے ہم نے اس نام کا کوئی پیدا نہیں کیا۔
قَالَ رَبِّ اَنّـٰى يَكُـوْنُ لِىْ غُلَامٌ وَّكَانَتِ امْرَاَتِىْ عَاقِرًا وَّقَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَـرِ عِتِيًّا (8)
کہا اے میرے رب میرے لیے لڑکا کہاں سے ہوگا حالانکہ میری بیوی بانجھ ہے اور میں بڑھاپے میں انتہائی درجہ کو پہنچ گیا ہوں۔
قَالَ كَذٰلِكَۚ قَالَ رَبُّكَ هُوَ عَلَىَّ هَيِّنٌ وَّقَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ قَبْلُ وَلَمْ تَكُ شَيْئًا (9)
کہا ایسا ہی ہوگا، تیرے رب نے کہا ہے وہ مجھ پر آسان ہے اور میں نے تجھے اس سے پہلے پیدا کیا حالانکہ تو کوئی چیز نہ تھا۔
قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّـىٓ اٰيَةً ۚ قَالَ اٰيَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلَاثَ لَيَالٍ سَوِيًّا (10)
کہا اے میرے رب میرے لیے کوئی نشانی مقرر کر، کہا تیری نشانی یہ ہے کہ تو تین رات تک مسلسل لوگوں سے بات نہیں کر سکے گا۔
فَخَرَجَ عَلٰى قَوْمِهٖ مِنَ الْمِحْرَابِ فَاَوْحٰٓى اِلَيْـهِـمْ اَنْ سَبِّحُوْا بُكْـرَةً وَّعَشِيًّا (11)
پھر حجرہ سے نکل کر اپنی قوم کے پاس آئے اور انہیں اشارہ سے کہا کہ تم صبح و شام خدا کی تسبیح کیا کرو۔
يَا يَحْيٰى خُذِ الْكِتَابَ بِقُوَّةٍ ۖ وَّاٰتَيْنَاهُ الْحُكْمَ صَبِيًّا (12)
اے یحیٰی کتاب کو مضبوطی سے پکڑ، اور ہم نے اسے بچپن ہی میں حکمت عطا کی۔
وَحَنَانًا مِّنْ لَّـدُنَّا وَزَكَاةً ۖ وَكَانَ تَقِيًّا (13)
اور اسے اپنے ہاں سے رحم دلی اور پاکیزگی عنایت کی، اور وہ پرہیزگار تھا۔
وَبَرًّا بِوَالِـدَيْهِ وَلَمْ يَكُنْ جَبَّارًا عَصِيًّا (14)
اور اپنے ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنے والا تھا اور سرکش نافرمان نہ تھا۔
وَسَلَامٌ عَلَيْهِ يَوْمَ وُلِـدَ وَيَوْمَ يَمُوْتُ وَيَوْمَ يُبْعَثُ حَيًّا (15)
اور اس پر سلام ہو جس دن وہ پیدا ہوا اور جس دن مرے گا اور جس دن وہ زندہ کرکے اٹھایا جائے گا۔
وَاذْكُرْ فِى الْكِتَابِ مَرْيَـمَ اِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ اَهْلِهَا مَكَانًا شَرْقِيًّا (16)
اور اس کتاب میں مریم کا ذکر کر جب کہ وہ اپنے لوگوں سے علیحدہ ہو کر مشرقی مقام میں جا بیٹھی۔
فَاتَّخَذَتْ مِنْ دُوْنِـهِـمْ حِجَابًاۖ فَاَرْسَلْنَـآ اِلَيْـهَا رُوْحَنَا فَتَمَثَّلَ لَـهَا بَشَـرًا سَوِيًّا (17)
پھر لوگوں کے سامنے سے پردہ ڈال لیا، پھر ہم نے اس کے پاس اپنے فرشتے کو بھیجا پھر وہ اس کے سامنے پورا آدمی بن کر ظاہر ہوا۔
قَالَتْ اِنِّـىٓ اَعُوْذُ بِالرَّحْـمٰنِ مِنْكَ اِنْ كُنْتَ تَقِيًّا (18)
کہا بے شک میں تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں اگر تو پرہیزگار ہے۔
قَالَ اِنَّمَآ اَنَا رَسُوْلُ رَبِّكِۖ لِاَهَبَ لَكِ غُلَامًا زَكِيًّا (19)
کہا میں تو بس تیرے رب کا بھیجا ہوا ہوں، تاکہ تجھے پاکیزہ لڑکا دوں۔
قَالَتْ اَنّـٰى يَكُـوْنُ لِىْ غُلَامٌ وَّلَمْ يَمْسَسْنِىْ بَشَـرٌ وَّّلَمْ اَكُ بَغِيًّا (20)
کہا میرے لیے لڑکا کہاں سے ہوگا حالانکہ مجھے کسی آدمی نے ہاتھ نہیں لگایا اور نہ میں بدکار ہوں۔
قَالَ كَذٰلِكِۚ قَالَ رَبُّكِ هُوَ عَلَىَّ هَيِّنٌ ۖ وَلِنَجْعَلَـهٝٓ اٰيَةً لِّلنَّاسِ وَرَحْـمَةً مِّنَّا ۚ وَكَانَ اَمْرًا مَّقْضِيًّا (21)
کہا ایسا ہی ہوگا، تیرے رب نے کہا ہے کہ وہ مجھ پر آسان ہے، اور تاکہ ہم اسے لوگوں کے لیے نشانی اور اپنی طرف سے رحمت بنائیں، اور یہ بات طے ہو چکی ہے۔
فَحَـمَلَتْهُ فَانْـتَبَذَتْ بِهٖ مَكَانًا قَصِيًّا (22)
پھر اس (بچہ کے ساتھ) حاملہ ہوئی پھر اسے لے کر کسی دور جگہ میں چلی گئی۔
فَاَجَآءَهَا الْمَخَاضُ اِلٰى جِذْعِ النَّخْلَـةِۚ قَالَتْ يَا لَيْتَنِىْ مِتُّ قَبْلَ هٰذَا وَكُنْتُ نَسْيًا مَّنْسِيًّا (23)
پھر اسے دردِ زہ ایک کھجور کی جڑ میں لے آیا، کہا اے افسوس میں اس سے پہلے مرگئی ہوتی اور میں بھولی بھلائی ہوتی۔
فَنَادَاهَا مِنْ تَحْتِـهَآ اَلَّا تَحْزَنِىْ قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِيًّا (24)
پھر اسے اس کے نیچے سے پکارا کہ غم نہ کر تیرے رب نے تیرے نیچے سے ایک چشمہ پیدا کر دیا۔
وَهُزِّىٓ اِلَيْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَـةِ تُسَاقِطْ عَلَيْكِ رُطَبًا جَنِيًّا (25)
اور تو کھجور کے تنہ کو پکڑ کر اپنی طرف ہلا تجھ پر پکی تازہ کھجوریں گریں گی۔
فَكُلِـىْ وَاشْرَبِىْ وَقَرِّىْ عَيْنًا ۖ فَاِمَّا تَـرَيِنَّ مِنَ الْبَشَـرِ اَحَدًا فَقُوْلِىٓ اِنِّـىْ نَذَرْتُ لِلرَّحْـمٰنِ صَوْمًا فَلَنْ اُكَلِّمَ الْيَوْمَ اِنْسِيًّا (26)
پس کھا اور پی اور آنکھ ٹھنڈی کر، پھر اگر تو کوئی آدمی دیکھے تو کہہ دے کہ میں نے رحمان کے لیے روزہ کی نذر مانی ہے سو آج میں کسی انسان سے بات نہیں کروں گی۔
فَاَتَتْ بِهٖ قَوْمَهَا تَحْمِلُـهٝ ۖ قَالُوْا يَا مَرْيَـمُ لَقَدْ جِئْتِ شَيْئًا فَرِيًّا (27)
پھر وہ اسے قوم کے پاس اٹھا کر لائی، انہوں نے کہا اے مریم البتہ تو نے عجیب بات کر دکھائی۔
يَآ اُخْتَ هَارُوْنَ مَا كَانَ اَبُوْكِ امْرَاَ سَوْءٍ وَّمَا كَانَتْ اُمُّكِ بَغِيًّا (28)
اے ہارون کی بہن! نہ تو تیرا باپ ہی برا آدمی تھا اور نہ ہی تیری ماں بدکار تھی۔
فَاَشَارَتْ اِلَيْهِ ۖ قَالُوْا كَيْفَ نُكَلِّمُ مَنْ كَانَ فِى الْمَهْدِ صَبِيًّا (29)
تب اس نے لڑکے کی طرف اشارہ کیا، انہوں نے کہا ہم پنگوڑھے والے بچے سے کیسے بات کریں۔
قَالَ اِنِّـىْ عَبْدُ اللّـٰهِۖ اٰتَانِىَ الْكِتَابَ وَجَعَلَنِىْ نَبِيًّا (30)
کہا بے شک میں اللہ کا بندہ ہوں، مجھے اس نے کتاب دی ہے اور مجھے نبی بنایا ہے۔
وَجَعَلَنِىْ مُبَارَكًا اَيْنَ مَا كُنْتُ ۖ وَاَوْصَانِىْ بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ مَا دُمْتُ حَيًّا (31)
اور مجھے با برکت بنایا ہے جہاں کہیں ہوں، اور مجھے نماز اور زکوٰۃ کی وصیت کی ہے جب تک میں زندہ ہوں۔
وَبَرًّا بِوَالِـدَتِىْۖ وَلَمْ يَجْعَلْنِىْ جَبَّارًا شَقِيًّا (32)
اور اپنی ماں کے ساتھ نیکی کرنے والا، اور مجھے سرکش بدبخت نہیں بنایا۔
وَالسَّلَامُ عَلَىَّ يَوْمَ وُلِـدْتُّ وَيَوْمَ اَمُوْتُ وَيَوْمَ اُبْعَثُ حَيًّا (33)
اور مجھ پر سلام ہے جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن مروں گا اور جس دن زندہ کر کے اٹھایا جاؤں گا۔
ذٰلِكَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَـمَ ۚ قَوْلَ الْحَقِّ الَّـذِىْ فِيْهِ يَمْتَـرُوْنَ (34)
یہ عیسٰی مریم کا بیٹا ہے، سچی بات جس میں وہ جھگڑ رہے ہیں۔
مَا كَانَ لِلّـٰهِ اَنْ يَّتَّخِذَ مِنْ وَّّلَـدٍ ۖ سُبْحَانَهٝ ۚ اِذَا قَضٰٓى اَمْرًا فَاِنَّمَا يَقُوْلُ لَـهٝ كُنْ فَيَكُـوْنُ (35)
اللہ کی شان نہیں کہ وہ کسی کو بیٹا بنائے، وہ پاک ہے، جب کسی کام کا فیصلہ کرتا ہے تو صرف اسے کن کہتا ہے پھر وہ ہو جاتا ہے۔
وَاِنَّ اللّـٰهَ رَبِّىْ وَرَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ ۚ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيْـمٌ (36)
اور بے شک اللہ تعالیٰ میرا اور تمہارا رب ہے سو اسی کی عبادت کرو، یہ سیدھا راستہ ہے۔
فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْ بَيْنِـهِـمْ ۖ فَوَيْلٌ لِّلَّـذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ مَّشْهَدِ يَوْمٍ عَظِيْـمٍ (37)
پھر جماعتیں آپس میں مختلف ہوگئیں، سو کافروں کے لیے ایک بڑے دن کے آنے سے خرابی ہے۔
اَسْـمِعْ بِـهِـمْ وَاَبْصِرْۙ يَوْمَ يَاْتُوْنَنَا ۖ لٰكِنِ الظَّالِمُوْنَ الْيَوْمَ فِىْ ضَلَالٍ مُّبِيْنٍ (38)
کیا خوب سنتے اور دیکھتے ہوں گے، جس دن ہمارے پاس آئیں گے، لیکن ظالم آج صریح گمراہی میں ہیں۔
وَاَنْذِرْهُـمْ يَوْمَ الْحَسْـرَةِ اِذْ قُضِىَ الْاَمْرُ ۘ وَهُـمْ فِىْ غَفْلَـةٍ وَّهُـمْ لَا يُؤْمِنُـوْنَ (39)
اور انہیں حسرت کے دن سے ڈرا جس دن سارے معاملہ کا فیصلہ ہوگا، اور وہ غفلت میں ہیں اور ایمان نہیں لاتے۔
اِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الْاَرْضَ وَمَنْ عَلَيْـهَا وَاِلَيْنَا يُـرْجَعُوْنَ (40)
بے شک ہم ہی زمین کے وارث ہوں گے اور ان کے بھی جو اس پر ہیں اور ہماری طرف لوٹائے جائیں گے۔
وَاذْكُرْ فِى الْكِتَابِ اِبْـرَاهِيْـمَ ۚ اِنَّهٝ كَانَ صِدِّيْقًا نَّبِيًّا (41)
اور کتاب میں ابراہیم کا ذکر کر، بے شک وہ سچا نبی تھا۔
اِذْ قَالَ لِاَبِيْهِ يَآ اَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا يَسْـمَعُ وَلَا يُبْصِرُ وَلَا يُغْنِىْ عَنْكَ شَيْئًا (42)
جب اپنے باپ سے کہا اے میرے باپ تو کیوں پوجتا ہے ایسے کو جو نہ سنتا ہے اور نہ دیکھتا ہے اور نہ تیرے کچھ کام آ سکے۔
يَآ اَبَتِ اِنِّـىْ قَدْ جَآءَنِىْ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَمْ يَاْتِكَ فَاتَّبِعْنِىٓ اَهْدِكَ صِرَاطًا سَوِيًّا (43)
اے میرے باپ بے شک مجھے وہ علم حاصل ہوا ہے جو تمہیں حاصل نہیں، تو آپ میری تابعداری کریں میں آپ کو سیدھا راستہ دکھاؤں گا۔
يَآ اَبَتِ لَا تَعْبُدِ الشَّيْطَانَ ۖ اِنَّ الشَّيْطَانَ كَانَ لِلرَّحْـمٰنِ عَصِيًّا (44)
اے میرے باپ شیطان کی عبادت نہ کر، بے شک شیطان اللہ کا نافرمان ہے۔
يَآ اَبَتِ اِنِّـىٓ اَخَافُ اَنْ يَّمَسَّكَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحْـمٰنِ فَتَكُـوْنَ لِلشَّيْطَانِ وَلِيًّا (45)
اے میرے باپ بے شک مجھے خوف ہے کہ تم پر اللہ کا عذاب آئے پھر شیطان کے ساتھی ہو جاؤ۔
قَالَ اَرَاغِبٌ اَنْتَ عَنْ اٰلِـهَتِىْ يَآ اِبْـرَاهِيْـمُ ۖ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ لَاَرْجُـمَنَّكَ ۖ وَاهْجُرْنِىْ مَلِيًّا (46)
کہا اے ابراہیم کیا تو میرے معبودوں سے پھرا ہوا ہے، البتہ اگر تو باز نہ آیا میں تجھے سنگسار کردوں گا، اور مجھ سے ایک مدت تک دور ہو جا۔
قَالَ سَلَامٌ عَلَيْكَ ۖ سَاَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّىٓ ۖ اِنَّهٝ كَانَ بِىْ حَفِيًّا (47)
کہا تیری سلامتی رہے، اب میں اپنے رب سے تیری بخشش کی دعا کروں گا، بے شک وہ مجھ پر بڑا مہربان ہے۔
وَاَعْتَزِلُكُمْ وَمَا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّـٰهِ وَاَدْعُوْا رَبِّىْۖ عَسٰٓى اَلَّآ اَكُـوْنَ بِدُعَآءِ رَبِّىْ شَقِيًّا (48)
اور میں چھوڑتا ہوں تمہیں اور جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو اور میں اپنے رب ہی کو پکاروں گا، امید ہے کہ میں اپنے رب کو پکار کر محروم نہ رہوں گا۔
فَلَمَّا اعْتَزَلَـهُـمْ وَمَا يَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّـٰهِ وَهَبْنَا لَـهٝٓ اِسْحَاقَ وَيَعْقُوْبَ ۖ وَكُلًّا جَعَلْنَا نَبِيًّا (49)
پھر جب علیحدہ ہوا ان سے اور اس چیز سے جنہیں وہ اللہ کے سوا پوجتے تھے ہم نے اسے اسحاق اور یعقوب عطا کیا، اور ہم نے ہر ایک کو نبی بنایا۔
وَوَهَبْنَا لَـهُـمْ مِّنْ رَّحْـمَتِنَا وَجَعَلْنَا لَـهُـمْ لِسَانَ صِدْقٍ عَلِيًّا (50)
اور ہم نے ان سب کو اپنی رحمت سے حصہ دیا اور ہم نے ان کا نیک نام بلند کیا۔
وَاذْكُرْ فِى الْكِتَابِ مُوْسٰٓى ۚ اِنَّهٝ كَانَ مُخْلَصًا وَّكَانَ رَسُوْلًا نَّبِيًّا (51)
اور کتاب میں موسٰی کا ذکر کر، بے شک وہ خاص بندے اور بھیجے ہوئے پیغمبر تھے۔
وَنَادَيْنَاهُ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ الْاَيْمَنِ وَقَرَّبْنَاهُ نَجِيًّا (52)
اور ہم نے اسے کوہِ طور کے دائیں طرف سے پکارا اور اسے راز کی بات کہنے کے لیے قریب بلایا۔
وَوَهَبْنَا لَـهٝ مِنْ رَّحْـمَتِنَـآ اَخَاهُ هَارُوْنَ نَبِيًّا (53)
اور ہم نے اسے اپنی رحمت سے اس کے بھائی ہارون کو نبی بنا کر عطا کیا۔
وَاذْكُرْ فِى الْكِتَابِ اِسْـمَاعِيْلَ ۚ اِنَّهٝ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَكَانَ رَسُوْلًا نَّبِيًّا (54)
اور کتاب میں اسماعیل کا بھی ذکر کر، بے شک وہ وعدہ کا سچا اور بھیجا ہوا پیغمبر تھا۔
وَكَانَ يَاْمُرُ اَهْلَـهٝ بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِۖ وَكَانَ عِنْدَ رَبِّهٖ مَرْضِيًّا (55)
اور اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم کرتا تھا اور وہ اپنے رب کے ہاں پسندیدہ تھا۔
وَاذْكُرْ فِى الْكِتَابِ اِدْرِيْـسَ ۚ اِنَّهٝ كَانَ صِدِّيْقًا نَّبِيًّا (56)
اور کتاب میں ادریس کا ذکر کر، بے شک وہ سچا نبی تھا۔
وَرَفَعْنَاهُ مَكَانًا عَلِيًّا (57)
اور ہم نے اسے بلند مرتبہ پر پہنچایا۔
اُولٰٓئِكَ الَّـذِيْنَ اَنْعَمَ اللّـٰهُ عَلَيْـهِـمْ مِّنَ النَّبِـيِّيْـنَ مِنْ ذُرِّيَّةِ اٰدَمَۖ وَمِمَّنْ حَـمَلْنَا مَعَ نُـوْحٍۖ وَمِنْ ذُرِّيَّةِ اِبْـرَاهِيْـمَ وَاِسْرَآئِيْلَ ۖ وَمِمَّنْ هَدَيْنَا وَاجْتَبَيْنَا ۚ اِذَا تُـتْلٰى عَلَيْـهِـمْ اٰيَاتُ الرَّحْـمٰنِ خَرُّوْا سُجَّدًا وَّبُكِـيًّا ۩ (58)
یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے انعام کیا پیغمبروں میں اور آدم کی اولاد میں سے، اور ان میں سے جنہیں ہم نے نوح کے ساتھ سوار کیا تھا، اور ابراہیم اور اسرائیل کی اولاد میں سے، اور ان میں سے جنہیں ہم نے ہدایت کی اور پسند کیا، جب ان پر اللہ کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو روتے ہوئے سجدے میں گرتے ہیں۔
فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِهِـمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلَاةَ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوَاتِ ۖ فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا (59)
پھر ان کی جگہ ایسے ناخلف آئے جنہو ں نے نماز ضائع کی اور خواہشوں کے پیچھے پڑ گئے، پھر عنقریب گمراہی کی سزا پائیں گے۔
اِلَّا مَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَاُولٰٓئِكَ يَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ وَلَا يُظْلَمُوْنَ شَيْئًا (60)
مگر جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور نیک کام کیے سو وہ لوگ بہشت میں داخل ہوں گے اور ان کا ذرا نقصان نہ کیا جائے گا۔
جَنَّاتِ عَدْنِ  ِۨ الَّتِىْ وَعَدَ الرَّحْـمٰنُ عِبَادَهٝ بِالْغَيْبِۖ اِنَّهٝ كَانَ وَعْدُهٝ مَاْتِيًّا (61)
ہمیشگی کے باغوں میں جن کا رحمان نے اپنے بندوں سے وعدہ کیا ہے جو ان کی آنکھوں سے پوشیدہ ہے، بے شک اس کا وعدہ پورا ہونے والا ہے۔
لَّا يَسْـمَعُوْنَ فِيْـهَا لَغْوًا اِلَّا سَلَامًا ۖ وَلَـهُـمْ رِزْقُهُـمْ فِيْـهَا بُكْـرَةً وَّعَشِيًّا (62)
اس میں سوائے سلام کے کوئی فضول بات نہ سنیں گے، اور انہیں وہاں صبح و شام کھانا ملے گا۔
تِلْكَ الْجَنَّـةُ الَّتِىْ نُـوْرِثُ مِنْ عِبَادِنَا مَنْ كَانَ تَقِيًّا (63)
یہ وہ جنت ہے کہ ہم اپنے بندوں میں سے اس کو وارث بنائیں گے جو پرہیزگار ہوگا۔
وَمَا نَـتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّكَ ۖ لَـهٝ مَا بَيْنَ اَيْدِيْنَا وَمَا خَلْفَنَا وَمَا بَيْنَ ذٰلِكَ ۚ وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا (64)
اور ہم تیرے رب کے حکم کے سوا نہیں اترتے، اسی کا ہے جو کچھ ہمارے سامنے ہے اور جو کچھ ہمارے پیچھے ہے اور جو کچھ اس کے درمیان ہے، اور تیرا رب بھولنے والا نہیں۔
رَّبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَيْنَـهُمَا فَاعْبُدْهُ وَاصْطَبِـرْ لِعِبَادَتِهٖ ۚ هَلْ تَعْلَمُ لَـهٝ سَـمِيًّا (65)
آسمانوں اور زمین کا رب ہے اور جو چیز ان کے درمیان ہے سو اسی کی عبادت کر اور اسی کی عبادت پر قائم رہ، کیا تیرے علم میں اس جیسا کوئی اور ہے۔
وَيَقُوْلُ الْاِنْسَانُ ءَاِذَا مَا مِتُّ لَسَوْفَ اُخْرَجُ حَيًّا (66)
اور انسان کہتا ہے جب میں مرجاؤں گا تو کیا پھر زندہ کر کے نکالا جاؤں گا۔
اَوَلَا يَذْكُرُ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنَاهُ مِنْ قَبْلُ وَلَمْ يَكُ شَيْئًا (67)
کیا انسان کو یاد نہیں ہے کہ اس سے پہلے ہم نے اسے بنایا تھا اور وہ کوئی چیز بھی نہ تھا۔
فَوَرَبِّكَ لَنَحْشُرَنَّـهُـمْ وَالشَّيَاطِيْنَ ثُـمَّ لَنُحْضِرَنَّـهُـمْ حَوْلَ جَهَنَّـمَ جِثِيًّا (68)
سو تیرے رب کی قسم ہے ہم انہیں اور ان کے شیطانوں کو ضرور جمع کریں گے پھر ہم انہیں گھٹنوں پر گرے ہوئے دوزخ کے گرد حاضر کریں گے۔
ثُـمَّ لَـنَنْزِعَنَّ مِنْ كُلِّ شِيْعَةٍ اَيُّـهُـمْ اَشَدُّ عَلَى الرَّحْـمٰنِ عِتِيًّا (69)
پھر ہر گروہ میں سے ان لوگوں کو الگ کرلیں گے جو اللہ سے بہت ہی سرکش تھے۔
ثُـمَّ لَنَحْنُ اَعْلَمُ بِالَّـذِيْنَ هُـمْ اَوْلٰى بِـهَا صِلِيًّا (70)
پھر ہم ان لوگوں کو خوب جانتے ہیں جو دوزخ میں جانے کے زیادہ مستحق ہیں۔
وَاِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا ۚ كَانَ عَلٰى رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِيًّا (71)
اور تم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جس کا اس پر گزر نہ ہو، یہ تیرے رب پر لازم مقرر کیا ہوا ہے۔
ثُـمَّ نُنَجِّى الَّـذِيْنَ اتَّقَوْا وَّنَذَرُ الظَّالِمِيْنَ فِيْـهَا جِثِيًّا (72)
پھر ہم انہیں بچا لیں گے جو ڈرتے ہیں اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں پر گرے ہوئے چھوڑ دیں گے۔
وَاِذَا تُـتْلٰى عَلَيْـهِـمْ اٰيَاتُنَا بَيِّنَاتٍ قَالَ الَّـذِيْنَ كَفَرُوْا لِلَّـذِيْنَ اٰمَنُـوٓا اَىُّ الْفَرِيْقَيْنِ خَيْـرٌ مَّقَامًا وَّاَحْسَنُ نَدِيًّا (73)
اور جب انہیں ہماری کھلی ہوئی آیتیں سنائی جاتی ہیں تو کافر ایمان داروں سے کہتے ہیں کہ دونوں فریقوں میں سے کس کا مرتبہ بہتر ہے اور محفل کس کی اچھی ہے۔
وَكَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَـهُـمْ مِّنْ قَرْنٍ هُـمْ اَحْسَنُ اَثَاثًا وَرِئْيًا (74)
اور ہم ان سے پہلے کتنی جماعتیں ہلاک کرچکے ہیں وہ سامان اور نمود میں بہتر تھے۔
قُلْ مَنْ كَانَ فِى الضَّلَالَـةِ فَلْيَمْدُدْ لَـهُ الرَّحْـمٰنُ مَدًّا ۚ حَتّــٰٓى اِذَا رَاَوْا مَا يُوْعَدُوْنَ اِمَّا الْعَذَابَ وَاِمَّا السَّاعَةَ ۚ فَسَيَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ شَرٌّ مَّكَانًا وَاَضْعَفُ جُنْدًا (75)
کہہ دو جو شخص گمراہی میں پڑا ہوا ہے سو اللہ بھی اسے ڈھیل دیتا ہے، یہاں تک کہ جب اس چیز کو دیکھیں گے جس کا انہیں نے وعدہ دیا گیا تھا یا عذاب یا قیامت، تب معلوم کرلیں گے مرتبے میں کون برا ہے اور لشکر کس کا کمزور ہے۔
وَيَزِيْدُ اللّـٰهُ الَّـذِيْنَ اهْتَدَوْا هُدًى ۗ وَالْبَاقِيَاتُ الصَّالِحَاتُ خَيْـرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَـوَابًا وَّخَيْـرٌ مَّـرَدًّا (76)
اور جو لوگ ہدایت پر ہیں اللہ انہیں زیادہ ہدایت دیتا ہے، اور باقی رہنے والی نیکیاں تیرے رب کے نزدیک ثواب اور انجام کے لحاظ سے بہت ہی بہتر ہیں۔
اَفَرَاَيْتَ الَّـذِىْ كَفَرَ بِاٰيَاتِنَا وَقَالَ لَاُوْتَيَنَّ مَالًا وَّوَلَـدًا (77)
کیا تو نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیتوں کا انکار کیا اور کہتا ہے کہ مجھے ضرور مال اور اولاد ملے گی۔
اَطَّـلَـعَ الْغَيْبَ اَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْـمٰنِ عَهْدًا (78)
کیا اس نے غیب پر اطلاع پائی ہے یا اس نے اللہ سے اقرار لے رکھا ہے۔
كَلَّا ۚ سَنَكْـتُبُ مَا يَقُوْلُ وَنَمُدُّ لَـهٝ مِنَ الْعَذَابِ مَدًّا (79)
ہرگز نہیں، ہم لکھ لیتے ہیں جو کچھ وہ کہتا ہے اور اس کے لیے عذاب بڑھاتے جاتے ہیں۔
وَنَرِثُـهٝ مَا يَقُوْلُ وَيَاْتِيْنَا فَرْدًا (80)
اور ہم اس کے وارث ہوں گے جو کچھ وہ کہتا ہے اور ہمارے ہاں تنہا آئے گا۔
وَاتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّـٰهِ اٰلِـهَةً لِّيَكُـوْنُـوْا لَـهُـمْ عِزًّا (81)
اور انہوں نے اللہ کے سوا معبود بنا لیے ہیں تاکہ وہ ان کے مددگار ہوں۔
كَلَّا ۚ سَيَكْـفُرُوْنَ بِعِبَادَتِـهِـمْ وَيَكُـوْنُـوْنَ عَلَيْـهِـمْ ضِدًّا (82)
ہرگز نہیں، وہ جلد ہی ان کی عبادت کا انکار کریں گے اور ان کے مخالف ہوجائیں گے۔
اَلَمْ تَـرَ اَنَّـآ اَرْسَلْنَا الشَّيَاطِيْنَ عَلَى الْكَافِـرِيْنَ تَؤُزُّهُـمْ اَزًّا (83)
کیا تو نے نہیں دیکھا ہم نے شیطانوں کو کافروں پر چھوڑ رکھا ہے وہ انھیں ابھارتے رہتے ہیں۔
فَلَا تَعْجَلْ عَلَيْـهِـمْ ۖ اِنَّمَا نَعُدُّ لَـهُـمْ عَدًّا (84)
سو تو ان کے لیے عذاب کی جلدی نہ کر، ہم خود ان کے دن گن رہے ہیں۔
يَوْمَ نَحْشُـرُ الْمُتَّقِيْنَ اِلَى الرَّحْـمٰنِ وَفْدًا (85)
جس دن ہم پرہیزگاروں کے رحمان کے پاس مہمان بنا کر جمع کریں گے۔
وَنَسُوْقُ الْمُجْرِمِيْنَ اِلٰى جَهَنَّـمَ وِرْدًا (86)
اور گناہگاروں کو دوزخ کی طرف پیاسا ہانکیں گے۔
لَّا يَمْلِكُـوْنَ الشَّفَاعَةَ اِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْـمٰنِ عَهْدًا (87)
کسی کو سفارش کا اختیار نہیں ہوگا مگر جس نے رحمان کے ہاں سے اجازت لی ہو۔
وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْـمٰنُ وَلَـدًا (88)
اور کہتے ہیں کہ رحمان نے بیٹا بنا لیا۔
لَّـقَدْ جِئْتُـمْ شَيْئًا اِدًّا (89)
البتہ تحقیق تم سخت بات زبان پر لائے ہو۔
تَكَادُ السَّمَاوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنْشَقُّ الْاَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا (90)
کہ جس سے ابھی آسمان پھٹ جائیں اور زمین چر جائے اور پہاڑ ٹکڑے ہو کر گر پڑیں۔
اَنْ دَعَوْا لِلرَّحْـمٰنِ وَلَـدًا (91)
اس لیے کہ انہوں نے رحمان کے لیے بیٹا تجویز کیا۔
وَمَا يَنْـبَغِىْ لِلرَّحْـمٰنِ اَنْ يَّتَّخِذَ وَلَـدًا (92)
اور رحمان کی یہ شان نہیں کہ کسی کو بیٹا بنائے۔
اِنْ كُلُّ مَنْ فِى السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ اِلَّآ اٰتِى الرَّحْـمٰنِ عَبْدًا (93)
جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے ان میں سے ایسا کوئی نہیں جو رحمان کا بندہ بن کر نہ آئے۔
لَّـقَدْ اَحْصَاهُـمْ وَعَدَّهُـمْ عَدًّا (94)
البتہ تحقیق اس نے انہیں شمار کر رکھا ہے اور ان کی گنتی گن رکھی ہے۔
وَكُلُّـهُـمْ اٰتِيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَرْدًا (95)
اور ہر ایک ان میں سے اس کے ہاں اکیلا آئے گا۔
اِنَّ الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَيَجْعَلُ لَـهُـمُ الرَّحْـمٰنُ وُدًّا (96)
بے شک جو ایمان لائے اور نیک کام کیے عنقریب رحمان ان کے لیے محبت پیدا کرے گا۔
فَاِنَّمَا يَسَّرْنَاهُ بِلِسَانِكَ لِـتُـبَشِّـرَ بِهِ الْمُتَّقِيْنَ وَتُنْذِرَ بِهٖ قَوْمًا لُّـدًّا (97)
سو ہم نے فرمان کو تیری زبان میں اس لیے آسان کیا ہے کہ تو اس سے پرہیزگاروں کو خوشخبری سنا دے اور جھگڑنے والوں کو ڈرا دے۔
وَكَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَـهُـمْ مِّنْ قَرْنٍ هَلْ تُحِسُّ مِنْـهُـمْ مِّنْ اَحَدٍ اَوْ تَسْـمَعُ لَـهُـمْ رِكْزًا (98)
اور ہم ان سے پہلے کئی جماعتیں ہلاک کر چکے ہیں کیا تو کسی کی ان میں سے آہٹ پاتا ہے یا ان کی بھنک سنتا ہے۔