قرآن حکیم            

مکمل سورت
سورت نمبر
آیت نمبر
ایک آیت
(17) سورۃ الاسراء (مکی، آیات 111)
بِسْمِ اللّـٰهِ الرَّحْـمٰنِ الرَّحِيْـمِ
سُبْحَانَ الَّـذِىٓ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَى الَّـذِىْ بَارَكْنَا حَوْلَـهٝ لِنُرِيَهٝ مِنْ اٰيَاتِنَا ۚ اِنَّهٝ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْـرُ (1)
وہ پاک ہے جس نے راتوں رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے مسجد اقصٰی تک سیر کرائی جس کے اردگرد ہم نے برکت رکھی ہے تاکہ ہم اسے اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں، بے شک وہ سننے والا دیکھنے والا ہے۔
وَاٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتَابَ وَجَعَلْنَاهُ هُدًى لِّبَنِىٓ اِسْرَآئِيْلَ اَلَّا تَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِىْ وَكِيْلًا (2)
اور ہم نے موسٰی کو کتاب دی اور اسے بنی اسرائیل کے لیے ہدایت بنایا کہ میرے سوا کسی کو کارساز نہ بناؤ۔
ذُرِّيَّةَ مَنْ حَـمَلْنَا مَعَ نُـوْحٍ ۚ اِنَّهٝ كَانَ عَبْدًا شَكُـوْرًا (3)
اے ان کی نسل جنہیں ہم نے نوح کے ساتھ سوار کیا تھا، بے شک وہ شکر گزار بندہ تھا۔
وَقَضَيْنَـآ اِلٰى بَنِىٓ اِسْرَآئِيْلَ فِى الْكِتَابِ لَتُفْسِدُنَّ فِى الْاَرْضِ مَرَّتَيْنِ وَلَتَعْلُنَّ عُلُـوًّا كَبِيْـرًا (4)
اور ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب میں یہ بات بتلا دی تھی کہ تم ضرور ملک میں دو مرتبہ خرابی کرو گے اور بڑی سرکشی کرو گے۔
فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ اُوْلَاهُمَا بَعَثْنَا عَلَيْكُمْ عِبَادًا لَّنَـآ اُولِىْ بَاْسٍ شَدِيْدٍ فَجَاسُوْا خِلَالَ الدِّيَارِ ۚ وَكَانَ وَعْدًا مَّفْعُوْلًا (5)
پھر جب پہلا وعدہ آیا تو ہم نے تم پر اپنے بندے سخت لڑائی والے بھیجے پھر وہ تمہارے گھروں میں گھس گئے، اور اللہ کا وعدہ تو پورا ہونا ہی تھا۔
ثُـمَّ رَدَدْنَا لَكُمُ الْكَرَّةَ عَلَيْـهِـمْ وَاَمْدَدْنَاكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّبَنِيْنَ وَجَعَلْنَاكُمْ اَكْثَرَ نَفِيْـرًا (6)
پھر ہم نے تمہیں دشمنوں پر غلبہ دیا اور تمہیں مال اور اولاد میں ترقی دی اور تمہیں بڑی جماعت والا بنا دیا۔
اِنْ اَحْسَنْتُـمْ اَحْسَنْتُـمْ لِاَنْفُسِكُمْ ۖ وَاِنْ اَسَاْتُـمْ فَلَـهَا ۚ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ لِيَسُوٓءُوْا وُجُوْهَكُمْ وَلِيَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ كَمَا دَخَلُوْهُ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّلِيُـتَبِّـرُوْا مَا عَلَوْا تَتْبِيْـرًا (7)
اگر تم نے بھلائی کی تو اپنے ہی لیے کی، اور اگر برائی کی تو وہ بھی اپنے ہی لیے کی، پھر جب دوسرا وعدہ آیا تاکہ تمہارے چہروں پر رسوائی پھیر دیں اور مسجد میں گھس جائیں جس طرح پہلی بار گھس گئے تھے اور جس چیز پر قابو پائیں اس کا ستیاناس کر دیں۔
عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ يَّرْحَـمَكُمْ ۚ وَاِنْ عُدْتُّـمْ عُدْنَا ۘ وَجَعَلْنَا جَهَنَّـمَ لِلْكَافِـرِيْنَ حَصِيْـرًا (8)
تمہارا رب قریب ہے کہ تم پر رحم کرے، اور اگر تم پھر وہی کرو گے تو ہم بھی پھر وہی کریں گے، اور ہم نے دوزخ کو کافروں کے لیے قید خانہ بنایا ہے۔
اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ يَـهْدِىْ لِلَّتِىْ هِىَ اَقْوَمُ وَيُبَشِّـرُ الْمُؤْمِنِيْنَ الَّـذِيْنَ يَعْمَلُوْنَ الصَّالِحَاتِ اَنَّ لَـهُـمْ اَجْرًا كَبِيْـرًا (9)
بے شک یہ قرآن وہ راہ بتاتا ہے جو سب سے سیدھی ہے اور ایمان والوں کو جو نیک کام کرتے ہیں اس بات کی خوشخبری دیتا ہے کہ ان کے لیے بڑا ثواب ہے۔
وَاَنَّ الَّـذِيْنَ لَا يُؤْمِنُـوْنَ بِالْاٰخِرَةِ اَعْتَدْنَا لَـهُـمْ عَذَابًا اَلِيْمًا (10)
اور یہ بھی بتاتا ہے کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے ہم نے ان کے لیے دردناک عذاب تیار کیا ہے۔
وَيَدْعُ الْاِنْسَانُ بِالشَّـرِّ دُعَآءَهٝ بِالْخَيْـرِ ۖ وَكَانَ الْاِنْسَانُ عَجُـوْلًا (11)
اور انسان برائی مانگتا ہے جس طرح وہ بھلائی مانگتا ہے، اور انسان جلد باز ہے۔
وَجَعَلْنَا اللَّيْلَ وَالنَّـهَارَ اٰيَتَيْنِ ۖ فَمَحَوْنَـآ اٰيَةَ اللَّيْلِ وَجَعَلْنَـآ اٰيَةَ النَّـهَارِ مُبْصِرَةً لِّـتَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ وَلِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِيْنَ وَالْحِسَابَ ۚ وَكُلَّ شَىْءٍ فَصَّلْنَاهُ تَفْصِيْلًا (12)
اور ہم نے رات اور دن کے دو نمونے بنا دیے، پھر رات کے نمونے کو دھندلا کر دیا اور دن کا نمونہ نظر آنے کے لیے روشن کر دیا تاکہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو اور تاکہ تم برسوں کی گنتی اور حساب معلوم کرلو، اور ہم نے ہر چیز کی تفصیل کر دی۔
وَكُلَّ اِنْسَانٍ اَلْـزَمْنَاهُ طَـآئِرَهٝ فِىْ عُنُـقِهٖ ۖ وَنُخْرِجُ لَـهٝ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كِتَابًا يَّلْقَاهُ مَنْشُوْرًا (13)
اور ہم نے ہر آدمی کا نامۂ اعمال اس کی گردن کے ساتھ لگا دیا ہے، اور قیامت کے دن ہم اس کا نامۂ اعمال نکال کر سامنے کر دیں گے۔
اِقْرَاْ كِتَابَكَۚ كَفٰى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيْبًا (14)
اپنا نامہ اعمال پڑھ لے، آج اپنا حساب لینے کے لیے تو ہی کافی ہے۔
مَّنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا يَـهْتَدِىْ لِنَفْسِهٖ ۖ وَمَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْـهَا ۚ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى ۗ وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّـٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا (15)
جو سیدھے راستے پر چلا تو اپنے ہی لیے چلا، اور جو بھٹک گیا تو بھٹکنے کا نقصان بھی وہی اٹھائے گا، اور کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا، اور ہم سزا نہیں دیتے جب تک کسی رسول کو نہیں بھیج لیتے۔
وَاِذَآ اَرَدْنَـآ اَنْ نُّـهْلِكَ قَرْيَةً اَمَرْنَا مُتْـرَفِيْـهَا فَفَسَقُوْا فِيْـهَا فَحَقَّ عَلَيْـهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنَاهَا تَدْمِيْـرًا (16)
اور جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں تو وہاں کے دولت مندوں کو کوئی حکم دیتے ہیں پھر وہ وہاں نافرمانی کرتے ہیں تب ان پر حجت تمام ہوجاتی ہے اور ہم اسے برباد کر دیتے ہیں۔
وَكَمْ اَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْ بَعْدِ نُـوْحٍ ۗ وَكَفٰى بِرَبِّكَ بِذُنُـوْبِ عِبَادِهٖ خَبِيْـرًا بَصِيْـرًا (17)
اور نوح کے بعد ہم نے قوموں کے کئی دور ہلاک کر دیے ہیں، اور تیرا رب اپنے بندوں کے گناہوں کا جاننے والا دیکھنے والا کافی ہے۔
مَّنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعَاجِلَـةَ عَجَّلْنَا لَـهٝ فِيْـهَا مَا نَشَآءُ لِمَنْ نُّرِيْدُ ثُـمَّ جَعَلْنَا لَـهٝ جَهَنَّـمَۚ يَصْلَاهَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا (18)
جو کوئی دنیا چاہتا ہے تو ہم اسے سردست دنیا میں سے جس قدر چاہتے ہیں دیتے ہیں پھر ہم نے اس کے لیے جہنم تیار کر رکھی ہے، جس میں وہ ذلیل و خوار ہوکر رہے گا۔
وَمَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَةَ وَسَعٰى لَـهَا سَعْيَـهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓئِكَ كَانَ سَعْيُـهُـمْ مَّشْكُـوْرًا (19)
اور جو آخرت چاہتا ہے اور اس کے لیے مناسب کوشش بھی کرتا ہے اور وہ مومن بھی ہے تو ایسے لوگوں کی کوشش مقبول ہوگی۔
كُلًّا نُّمِدُّ هٰٓؤُلَآءِ وَهٰٓؤُلَآءِ مِنْ عَطَـآءِ رَبِّكَ ۚ وَمَا كَانَ عَطَـآءُ رَبِّكَ مَحْظُوْرًا (20)
ہم ہر فریق کو اپنی پروردگاری بخششوں سے مدد دیتے ہیں اِن کو بھی اور اُن کو بھی، اور تیرے رب کی بخشش کسی پر بند نہیں۔
اُنْظُرْ كَيْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُـمْ عَلٰى بَعْضٍ ۚ وَلَلْاٰخِرَةُ اَكْبَـرُ دَرَجَاتٍ وَّاَكْبَـرُ تَفْضِيْلًا (21)
دیکھو ہم نے ایک کو دوسرے پر کیسی فضیلت دی ہے، اور آخرت کے تو بڑے درجے اور بڑی فضیلت ہے۔
لَّا تَجْعَلْ مَعَ اللّـٰهِ اِلٰـهًا اٰخَرَ فَتَقْعُدَ مَذْمُوْمًا مَّخْذُوْلًا (22)
اللہ کے ساتھ اور کوئی معبود نہ بنا ورنہ تو ذلیل بے کس ہو کر بیٹھے گا۔
وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوٓا اِلَّآ اِيَّاهُ وَبِالْوَالِـدَيْنِ اِحْسَانًا ۚ اِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَـرَ اَحَدُهُمَآ اَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّـهُمَآ اُفٍّ وَّلَا تَنْـهَرْهُمَا وَقُلْ لَّـهُمَا قَوْلًا كَرِيْمًا (23)
اور تیرا رب فیصلہ کر چکا ہے اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرو، اور اگر تیرے سامنے ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں اف بھی نہ کہو اور نہ انہیں جھڑکو اور ان سے ادب سے بات کرو۔
وَاخْفِضْ لَـهُمَا جَنَاحَ الـذُّلِّ مِنَ الرَّحْـمَةِ وَقُلْ رَّبِّ ارْحَـمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِىْ صَغِيْـرًا (24)
اور ان کے سامنے شفقت سے عاجزی کے ساتھ جھکے رہو اور کہو اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔
رَّبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا فِىْ نُفُوْسِكُمْ ۚ اِنْ تَكُـوْنُـوْا صَالِحِيْنَ فَاِنَّهٝ كَانَ لِلْاَوَّابِيْنَ غَفُوْرًا (25)
جو تمہارے دلوں میں ہے تمہارا رب خوب جانتا ہے، اگر تم نیک ہو گے تو وہ توبہ کرنے والوں کو بخشنے والا ہے۔
وَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٝ وَالْمِسْكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيْـرًا (26)
اور رشتہ دار اور مسکین اور مسافر کو اس کا حق دے دو اور مال کو بے جا خرچ نہ کرو۔
اِنَّ الْمُبَذِّرِيْنَ كَانُـوٓا اِخْوَانَ الشَّيَاطِيْنِ ۖ وَكَانَ الشَّيْطَانُ لِرَبِّهٖ كَفُوْرًا (27)
بے شک بے جا خرچ کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں، اور شیطان اپنے رب کا ناشکرگزار ہے۔
وَاِمَّا تُعْرِضَنَّ عَنْـهُـمُ ابْتِغَـآءَ رَحْـمَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ تَـرْجُوْهَا فَقُلْ لَّـهُـمْ قَوْلًا مَّيْسُوْرًا (28)
اور اگر تجھے اپنے رب کے فضل کے انتظار میں کہ جس کی تجھے امید ہے منہ پھیرنا پڑے تو ان سے نرم بات کہہ دے۔
وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَـةً اِلٰى عُنُـقِكَ وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا (29)
اور اپنا ہاتھ اپنی گردن کے ساتھ بندھا ہوا نہ رکھ اور نہ اسے کھول دے بالکل ہی کھول دینا پھر تو پشیمان تہی دست ہو کر بیٹھ رہے گا۔
اِنَّ رَبَّكَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَآءُ وَيَقْدِرُ ۚ اِنَّهٝ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِيْـرًا بَصِيْـرًا (30)
بے شک تیرا رب جس کے لیے چاہے رزق کشادہ کرتا ہے اور تنگ بھی کرتا ہے، بے شک وہ اپنے بندوں کو جاننے والا دیکھنے والا ہے۔
وَلَا تَقْتُلُوٓا اَوْلَادَكُمْ خَشْيَةَ اِمْلَاقٍ ۖ نَّحْنُ نَرْزُقُهُـمْ وَاِيَّاكُمْ ۚ اِنَّ قَتْلَـهُـمْ كَانَ خِطْئًا كَبِيْـرًا (31)
اور اپنی اولاد کو تنگ دستی کے ڈر سے قتل نہ کرو، ہم انہیں بھی رزق دیتے ہیں اور تمہیں بھی، بے شک ان کا قتل کرنا بڑا گناہ ہے۔
وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَـآ ۖ اِنَّهٝ كَانَ فَاحِشَةً وَّسَآءَ سَبِيْلًا (32)
اور زنا کے قریب نہ جاؤ، بے شک وہ بے حیائی ہے اور بری راہ ہے۔
وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِىْ حَرَّمَ اللّـٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ ۗ وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُوْمًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِـوَلِـيِّـهٖ سُلْطَانًا فَلَا يُسْـرِفْ فِّى الْقَتْلِ ۖ اِنَّهٝ كَانَ مَنْصُوْرًا (33)
اور جس جان کو قتل کرنا اللہ نے حرام کر دیا ہے اسے ناحق قتل نہ کرنا، اور جو کوئی ظلم سے مارا جائے تو ہم نے اس کے ولی کے واسطے اختیار دے دیا ہے لہٰذا قصاص میں زیادتی نہ کرے، بے شک اس کی مدد کی گئی ہے۔
وَلَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْيَتِيْـمِ اِلَّا بِالَّتِىْ هِىَ اَحْسَنُ حَتّـٰى يَبْلُـغَ اَشُدَّهٝ ۚ وَاَوْفُوْا بِالْعَهْدِ ۖ اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُوْلًا (34)
اور یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ مگر جس طریقہ سے بہتر ہو جب تک وہ اپنی جوانی کو پہنچے، اور عہد کو پورا کرو، بے شک عہد کی باز پرس ہوگی۔
وَاَوْفُوا الْكَيْلَ اِذَا كِلْتُـمْ وَزِنُـوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِيْـمِ ۚ ذٰلِكَ خَيْـرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا (35)
اور ناپ تول کر دو تو پورا ناپو اور صحیح ترازو سے تول کر دو، یہ بہتر ہے اور انجام بھی اس کا اچھا ہے۔
وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ ۚ اِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُـوْلًا (36)
اور جس بات کی تجھے خبر نہیں اس کے پیچھے نہ پڑ، بے شک کان اور آنکھ اور دل ہر ایک سے باز پرس ہوگی۔
وَلَا تَمْشِ فِى الْاَرْضِ مَرَحًا ۖ اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَلَنْ تَبْلُـغَ الْجِبَالَ طُوْلًا (37)
اور زمین پر اتراتا ہوا نہ چل، بے شک تو نہ زمین کو پھاڑ ڈالے گا اور نہ لمبائی میں پہاڑوں تک پہنچے گا۔
كُلُّ ذٰلِكَ كَانَ سَيِّئُهٝ عِنْدَ رَبِّكَ مَكْـرُوْهًا (38)
ان میں سے ہر ایک بات تیرے رب کے ہاں ناپسند ہے۔
ذٰلِكَ مِمَّآ اَوْحٰٓى اِلَيْكَ رَبُّكَ مِنَ الْحِكْـمَةِ ۗ وَلَا تَجْعَلْ مَعَ اللّـٰهِ اِلٰـهًا اٰخَرَ فَتُلْقٰى فِىْ جَهَنَّـمَ مَلُوْمًا مَّدْحُوْرًا (39)
یہ اس حکمت میں سے ہے جسے تیرے رب نے تیری طرف وحی کیا ہے، اور اللہ کے ساتھ اور کسی کو معبود نہ بنا ورنہ تو ملزم مردود بنا کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔
اَفَاَصْفَاكُمْ رَبُّكُم بِالْبَنِيْنَ وَاتَّخَذَ مِنَ الْمَلَآئِكَـةِ اِنَاثًا ۚ اِنَّكُمْ لَتَقُوْلُوْنَ قَوْلًا عَظِيْمًا (40)
کیا تمہارے رب نے تمہیں چن کر بیٹے دے دیے اور اپنے لیے فرشتوں کو بیٹیاں بنا لیا، تم بڑی بات کہتے ہو۔
وَلَقَدْ صَرَّفْنَا فِىْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لِيَذَّكَّرُوْاۖ وَمَا يَزِيْدُهُـمْ اِلَّا نُفُوْرًا (41)
اور ہم نے اس قرآن میں کئی طرح سے بیان کیا تاکہ وہ سمجھیں، حالانکہ اس سے انہیں نفرت ہی بڑھتی جاتی ہے۔
قُلْ لَّوْ كَانَ مَعَهٝٓ اٰلِـهَةٌ كَمَا يَقُوْلُوْنَ اِذًا لَّابْتَغَوْا اِلٰى ذِى الْعَرْشِ سَبِيْلًا (42)
کہہ دو اگر اس کے ساتھ اور بھی معبود ہوتے جیسا وہ کہتے ہیں تب تو انہوں نے عرش والے تک کوئی راستہ نکال لیا ہوتا۔
سُبْحَانَهٝ وَتَعَالٰى عَمَّا يَقُوْلُوْنَ عُلُـوًّا كَبِيْـرًا (43)
وہ پاک ہے اور جو کچھ وہ کہتے ہیں اس سے وہ بہت ہی بلند ہے۔
تُسَبِّـحُ لَـهُ السَّمَاوَاتُ السَّبْعُ وَالْاَرْضُ وَمَنْ فِيْـهِنَّ ۚ وَاِنْ مِّنْ شَىْءٍ اِلَّا يُسَبِّـحُ بِحَـمْدِهٖ وَلٰكِنْ لَّا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِيْحَهُـمْ ۗ اِنَّهٝ كَانَ حَلِيْمًا غَفُوْرًا (44)
ساتوں آسمان اور زمین اور جو کوئی ان میں ہے اس کی پاکی بیان کرتے ہیں، اور ایسی کوئی چیز نہیں جو اس کی حمد کے ساتھ تسبیح نہ کرتی ہو لیکن تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھتے، بے شک وہ بردبار بخشنے والا ہے۔
وَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ جَعَلْنَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ الَّـذِيْنَ لَا يُؤْمِنُـوْنَ بِالْاٰخِرَةِ حِجَابًا مَّسْتُـوْرًا (45)
اور جب تو قرآن پڑھتا ہے ہم تیرے اور ان لوگوں کے درمیان جو آخرت کو نہیں مانتے ایک چھپا ہوا پردہ کر دیتے ہیں۔
وَجَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِـهِـمْ اَكِنَّةً اَنْ يَّفْقَهُوْهُ وَفِىٓ اٰذَانِـهِـمْ وَقْرًا ۚ وَاِذَا ذَكَرْتَ رَبَّكَ فِى الْقُرْاٰنِ وَحْدَهٝ وَلَّوْا عَلٰٓى اَدْبَارِهِـمْ نُفُوْرًا (46)
اور ہم نے ان کے دلوں پر پردے کر دیے ہیں تاکہ اسے نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں گرانی ڈال دی ہے، اور جب تو قرآن میں صرف اپنے رب ہی کا ذکر کرتا ہے تو پیٹھ پھیر کر نفرت سے بھاگتے ہیں۔
نَّحْنُ اَعْلَمُ بِمَا يَسْتَمِعُوْنَ بِهٓ ٖ اِذْ يَسْتَمِعُوْنَ اِلَيْكَ وَاِذْ هُـمْ نَجْوٰٓى اِذْ يَقُوْلُ الظَّالِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا (47)
ہم خوب جانتے ہیں جس غرض سے یہ سنتے ہیں جب یہ لوگ تیری طرف کان لگاتے ہیں اور جس وقت آپس میں سرگوشیاں کرتے ہیں جب یہ ظالم کہتے ہیں کہ تم محض ایسے شخص کا ساتھ دیتے ہو جس پر جادو کیا گیا ہے۔
اُنْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ سَبِيْلًا (48)
دیکھ تیرے لیے کیسی مثالیں بیان کرتے ہیں سو گمراہ ہو گئے پھر وہ راستہ نہیں پا سکتے۔
وَقَالُـوٓا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّرُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِيْدًا (49)
اور کہتے ہیں کیا جب ہم ہڈیاں اور چورا ہو جائیں گے پھر نئے بن کر اٹھیں گے۔
قُلْ كُـوْنُـوْا حِجَارَةً اَوْ حَدِيْدًا (50)
کہہ دو تم پتھر یا لوہا ہوجاؤ۔
اَوْ خَلْقًا مِّمَّا يَكْـبُـرُ فِىْ صُدُوْرِكُمْ ۚ فَسَيَقُوْلُوْنَ مَنْ يُّعِيْدُنَا ۖ قُلِ الَّـذِىْ فَطَرَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ ۚ فَسَيُنْغِضُوْنَ اِلَيْكَ رُءُوْسَهُـمْ وَيَقُوْلُوْنَ مَتٰى هُوَ ۖ قُلْ عَسٰٓى اَنْ يَّكُـوْنَ قَرِيْبًا (51)
یا کوئی اور چیز جسے تم اپنے دلوں میں مشکل سمجھتے ہو، پھر وہ کہیں گے ہمیں دوبارہ کون لوٹائے گا، کہہ دو وہی جس نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے، پھر تمہارے سامنے سروں کو ہلا کر کہیں گے کہ وہ کب ہوگا، کہہ دو شاید وہ وقت بھی قریب آ گیا ہو۔
يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَـمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُـمْ اِلَّا قَلِيْلًا (52)
جس دن تمہیں پکارے گا پھر اس کی تعریف کرتے ہوئے چلے آؤ گے اور خیال کرو گے کہ بہت ہی کم ٹھہرے تھے۔
وَقُلْ لِّعِبَادِىْ يَقُوْلُوا الَّتِىْ هِىَ اَحْسَنُ ۚ اِنَّ الشَّيْطَانَ يَنْزَغُ بَيْنَـهُـمْ ۚ اِنَّ الشَّيْطَانَ كَانَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوًّا مُّبِيْنًا (53)
اور میرے بندوں سے کہہ دو کہ وہی بات کہیں جو بہتر ہو، بے شک شیطان آپس میں لڑا دیتا ہے، بے شک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔
رَّبُّكُمْ اَعْلَمُ بِكُمْ ۖ اِنْ يَّشَاْ يَرْحَـمْكُمْ اَوْ اِنْ يَّشَاْ يُعَذِّبْكُمْ ۚ وَمَآ اَرْسَلْنَاكَ عَلَيْـهِـمْ وَكِيْلًا (54)
تمہارا رب خوب جانتا ہے، اگر چاہے تم پر رحم کرے اور اگر چاہے تمہیں عذاب دے، اور ہم نے تجھے ان پر ذمہ دار بنا کر نہیں بھیجا۔
وَرَبُّكَ اَعْلَمُ بِمَنْ فِى السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ ۗ وَلَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِيِّيْنَ عَلٰى بَعْضٍ ۖ وَّاٰتَيْنَا دَاوُوْدَ زَبُوْرًا (55)
اور تیرا رب خوب جانتا ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے، اور ہم نے بعض پیغمبروں کو بعض پر فضیلت دی ہے، اور ہم نے داؤد کو زبور دی تھی۔
قُلِ ادْعُوا الَّـذِيْنَ زَعَمْتُـمْ مِّنْ دُوْنِهٖ فَلَا يَمْلِكُـوْنَ كَشْفَ الضُّرِّ عَنْكُمْ وَلَا تَحْوِيْلًا (56)
کہہ دو انہیں پکارو جنہیں تم اس (اللہ) کے سوا سمجھتے ہو، وہ نہ تمہاری تکلیف دور کر سکیں گے اور نہ اسے بدلیں گے۔
اُولٰٓئِكَ الَّـذِيْنَ يَدْعُوْنَ يَبْتَغُوْنَ اِلٰى رَبِّـهِـمُ الْوَسِيْلَـةَ اَيُّـهُـمْ اَقْرَبُ وَيَرْجُوْنَ رَحْـمَتَهٝ وَيَخَافُوْنَ عَذَابَهٝ ۚ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُوْرًا (57)
وہ لوگ جنہیں یہ پکارتے ہیں جو ان میں سے زیادہ مقرب ہیں وہ بھی اپنے رب کی طرف نیکیوں کا ذریعہ تلاش کرتے ہیں اور اس کی مہربانی کی امید رکھتے ہیں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں، بے شک تیرے رب کا عذاب ڈرنے کی چیز ہے۔
وَاِنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوْهَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ اَوْ مُعَذِّبُوْهَا عَذَابًا شَدِيْدًا ۚ كَانَ ذٰلِكَ فِى الْكِتَابِ مَسْطُوْرًا (58)
اور ایسی کوئی بستی نہیں جسے ہم قیامت سے پہلے ہلاک نہ کریں یا اسے سخت عذاب نہ دیں، یہ بات کتاب میں لکھی ہوئی ہے۔
وَمَا مَنَعَنَـآ اَنْ نُّرْسِلَ بِالْاٰيَاتِ اِلَّآ اَنْ كَذَّبَ بِـهَا الْاَوَّلُوْنَ ۚ وَاٰتَيْنَا ثَمُوْدَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوْا بِـهَا ۚ وَمَا نُرْسِلُ بِالْاٰيَاتِ اِلَّا تَخْوِيْفًا (59)
اور ہم نے اس لیے معجزات بھیجنے موقوف کر دیے کہ پہلوں نے انہیں جھٹلایا تھا، اور ہم نے ثمود کو اونٹنی کا کھلا ہوا معجزہ دیا تھا پھر بھی انہوں نے اس پر ظلم کیا، اور یہ معجزات تو ہم محض ڈرانے کے لیے بھیجتے ہیں۔
وَاِذْ قُلْنَا لَكَ اِنَّ رَبَّكَ اَحَاطَ بِالنَّاسِ ۚ وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِىٓ اَرَيْنَاكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُوْنَةَ فِى الْقُرْاٰنِ ۚ وَنُخَوِّفُـهُـمْ فَمَا يَزِيْدُهُـمْ اِلَّا طُغْيَانًا كَبِيْـرًا (60)
اور جب ہم نے تم سے کہہ دیا کہ تیرے رب نے سب کو قابو میں کر رکھا ہے، اور وہ خواب جو ہم نے تمہیں دکھایا اور وہ خبیث درخت جس کا ذکر قرآن میں ہے ان سب کو ان لوگوں کے لیے فتنہ بنا دیا، اور ہم تو انہیں ڈراتے ہیں سو اس سے ان کی شرارت اور بھی بڑھتی جاتی ہے۔
وَاِذْ قُلْنَا لِلْمَلَآئِكَـةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوٓا اِلَّآ اِبْلِيْسَۖ قَالَ ءَاَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِيْنًا (61)
اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سوائے ابلیس کے سب سجدہ میں گر پڑے، کہا کیا میں ایسے شخص کو سجدہ کروں جسے تو نے مٹی بنایا ہے۔
قَالَ اَرَاَيْتَكَ هٰذَا الَّـذِىْ كَرَّمْتَ عَلَىَّ ۖ لَئِنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهٝٓ اِلَّا قَلِيْلًا (62)
کہا بھلا دیکھ تو یہ شخص جسے تو نے مجھ سے بڑھایا، اگر تو مجھے قیامت کے دن تک مہلت دے تو میں بھی سوائے چند لوگوں کے اس کی نسل کو قابو میں کر کے رہوں گا۔
قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَكَ مِنْـهُـمْ فَاِنَّ جَهَنَّـمَ جَزَآؤُكُمْ جَزَآءً مَّوْفُوْرًا (63)
فرمایا جا، پھر ان میں سے جو کوئی تیرے ساتھ ہوا تو جہنم تم سب کی پوری سزا ہے۔
وَاسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْـهُـمْ بِصَوْتِكَ وَاَجْلِبْ عَلَيْـهِـمْ بِخَيْلِكَ وَرَجِلِكَ وَشَارِكْهُـمْ فِى الْاَمْوَالِ وَالْاَوْلَادِ وَعِدْهُـمْ ۚ وَمَا يَعِدُهُـمُ الشَّيْطَانُ اِلَّا غُرُوْرًا (64)
ان میں سے جسے تو اپنی آواز سنا کر بہکا سکتا ہے بہکا لے اور ان پر اپنے سوار اور پیادے بھی چڑھا دے اور ان کے مال اور اولاد میں بھی شریک ہو جا اور ان سے وعدے کر، اور شیطان کے وعدے بھی محض فریب ہی تو ہیں۔
اِنَّ عِبَادِىْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْـهِـمْ سُلْطَانٌ ۚ وَكَفٰى بِرَبِّكَ وَكِيْلًا (65)
بے شک میرے بندوں پر تیرا غلبہ نہیں ہوگا، اور تیرا رب کافی کارساز ہے۔
رَّبُّكُمُ الَّـذِىْ يُزْجِىْ لَكُمُ الْفُلْكَ فِى الْبَحْرِ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِـهٖ ۚ اِنَّهٝ كَانَ بِكُمْ رَحِيْمًا (66)
تمہارا رب وہ ہے جو تمہارے لیے دریا میں کشتیاں چلاتا ہے تاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو، بے شک وہی تم پر بڑا مہربان ہے۔
وَاِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِى الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّآ اِيَّاهُ ۖ فَلَمَّا نَجَّاكُمْ اِلَى الْـبَـرِّ اَعْرَضْتُـمْ ۚ وَكَانَ الْاِنْسَانُ كَفُوْرًا (67)
اور جب تم پر دریا میں کوئی مصیبت آتی ہے تو بھول جاتے ہو جنہیں اللہ کے سوا پکارتے تھے، پھر جب وہ تمہیں خشکی کی طرف بچا لاتا ہے تو تم اس سے منہ موڑ لیتے ہو، اور انسان بڑا ہی ناشکرا ہے۔
اَفَاَمِنْتُـمْ اَنْ يَّخْسِفَ بِكُمْ جَانِبَ الْـبَـرِّ اَوْ يُـرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا ثُـمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ وَكِيْلًا (68)
پھر کیا تم اس بات سے نڈر ہو گئے کہ وہ تمہیں خشکی کی طرف لا کر زمین میں دھنسا دے یا تم پر پتھر برسانے والی آندھی بھیج دے پھر تم کسی کو اپنا مددگار نہ پاؤ۔
اَمْ اَمِنْتُـمْ اَنْ يُّعِيْدَكُمْ فِيْهِ تَارَةً اُخْرٰى فَيُـرْسِلَ عَلَيْكُمْ قَاصِفًا مِّنَ الرِّيْحِ فَيُغْرِقَكُمْ بِمَا كَفَرْتُـمْ ۙ ثُـمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ عَلَيْنَا بِهٖ تَبِيْعًا (69)
یا تم اس بات سے بالکل نڈر ہو گئے ہو کہ وہ دوبارہ تمہیں پھر دریا میں لوٹا لائے پھر تم پر ہوا کا سخت طوفان بھیج دے پھر تمہاری ناشکری سے تمہیں غرق کر دے، پھر اپنی طرف سے ہم پر کوئی باز پرس کرنے والا بھی نہ پاؤ۔
وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِىٓ اٰدَمَ وَحَـمَلْنَاهُـمْ فِى الْبَـرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنَاهُـمْ مِّنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُـمْ عَلٰى كَثِيْـرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيْلًا (70)
اور ہم نے آدم کی اولاد کو عزت دی ہے اور خشکی اور دریا میں اسے سوار کیا اور ہم نے انہیں ستھری چیزوں سے رزق دیا اور اپنی بہت سی مخلوقات پر انہیں فضیلت عطا کی۔
يَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍ بِاِمَامِهِـمْ ۖ فَمَنْ اُوْتِىَ كِتَابَهٝ بِيَمِيْنِهٖ فَاُولٰٓئِكَ يَقْرَءُوْنَ كِتَابَـهُـمْ وَلَا يُظْلَمُوْنَ فَتِيْلًا (71)
جس دن ہم ہر فرقہ کو ان کے سرداروں کے ساتھ بلائیں گے، سو جسے اس کا اعمال نامہ اس کے داہنے ہاتھ میں دیا گیا سو وہ لوگ اپنا اعمال نامہ پڑھیں گے اور وہ تاگے کے برابر ظلم نہیں کیے جائیں گے۔
وَمَنْ كَانَ فِىْ هٰذِهٓ ٖ اَعْمٰى فَهُوَ فِى الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى وَاَضَلُّ سَبِيْلًا (72)
اور جو کوئی اس جہان میں اندھا رہا تو وہ آخرت میں بھی اندھا ہوگا اور راستہ سے بہت دور ہٹا ہوا۔
وَاِنْ كَادُوْا لَيَفْتِنُـوْنَكَ عَنِ الَّـذِىٓ اَوْحَيْنَـآ اِلَيْكَ لِتَفْتَـرِىَ عَلَيْنَا غَيْـرَهٝ ۖ وَاِذًا لَّاتَّخَذُوْكَ خَلِيْلًا (73)
اور بے شک وہ قریب تھے کہ تجھے اس چیز سے بہکا دیں جو ہم نے تجھ پر بذریعہ وحی بھیجی ہے تاکہ تو اس کے سوا ہم پر بہتان باندھنے لگے، اور پھر تجھے اپنا دوست بنا لیں۔
وَلَوْلَآ اَنْ ثَبَّتْنَاكَ لَقَدْ كِدْتَّ تَـرْكَنُ اِلَيْـهِـمْ شَيْئًا قَلِيْلًا (74)
اور اگر ہم تجھے ثابت قدم نہ رکھتے تو کچھ تھوڑا سا ان کی طرف جھکنے کے قریب تھا۔
اِذًا لَّاَذَقْنَاكَ ضِعْفَ الْحَيَاةِ وَضِعْفَ الْمَمَاتِ ثُـمَّ لَا تَجِدُ لَكَ عَلَيْنَا نَصِيْـرًا (75)
اس وقت ہم تجھے زندگی میں اور موت کے بعد دہرا عذاب چکھاتے پھر تو اپنے واسطے ہمارے مقابلے میں کوئی مددگار نہ پاتا۔
وَاِنْ كَادُوْا لَيَسْتَفِزُّوْنَكَ مِنَ الْاَرْضِ لِيُخْـرِجُوْكَ مِنْـهَا ۖ وَاِذًا لَّا يَلْبَثُوْنَ خِلَافَكَ اِلَّا قَلِيْلًا (76)
اور وہ تو تجھے اس زمین سے دھکیل دینے کو تھے تاکہ تجھے اس سے نکال دیں، پھر وہ بھی تیرے بعد بہت ہی کم ٹھہرتے۔
سُنَّـةَ مَنْ قَدْ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنْ رُّسُلِنَا ۖ وَلَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحْوِيْلًا (77)
تم سے پہلے جتنے رسول ہم نے بھیجے ہیں ان کا یہی دستور رہا ہے، اور ہمارے دستور میں تم تبدیلی نہیں پاؤ گے۔
اَقِمِ الصَّلَاةَ لِـدُلُوْكِ الشَّمْسِ اِلٰى غَسَقِ اللَّيْلِ وَقُرْاٰنَ الْفَجْرِ ۖ اِنَّ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُوْدًا (78)
آفتاب کے ڈھلنے سے رات کے اندھیرے تک نماز پڑھا کرو اور صبح کی نماز بھی، بے شک صبح کی نماز میں مجمع ہوتا ہے۔
وَمِنَ اللَّيْلِ فَـتَـهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَـةً لَّكَ ۖ عَسٰٓى اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا (79)
اور کسی وقت رات میں تہجد پڑھا کرو جو تیرے لیے زائد چیز ہے، قریب ہے کہ تیرا رب مقام تجھے محمود میں پہنچا دے۔
وَقُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِىْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّاَخْرِجْنِىْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَّاجْعَلْ لِّىْ مِنْ لَّـدُنْكَ سُلْطَانًا نَّصِيْـرًا (80)
اور کہہ اے میرے رب مجھے خوبی کے ساتھ پہنچا دے اور مجھے خوبی کے ساتھ نکال لے اور میرے لیے اپنی طرف سے غلبہ دے جس کے ساتھ نصرت ہو۔
وَقُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۚ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا (81)
اور کہہ دو کہ حق آیا اور باطل مٹ گیا، بے شک باطل مٹنے ہی والا تھا۔
وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَـآءٌ وَّرَحْـمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ ۙ وَلَا يَزِيْدُ الظَّالِمِيْنَ اِلَّا خَسَارًا (82)
اور ہم قرآن میں ایسی چیزیں نازل کرتے ہیں کہ وہ ایمانداروں کے حق میں شفا اور رحمت ہیں، اور ظالموں کو اس سے اور زیادہ نقصان پہنچتا ہے۔
وَاِذَآ اَنْعَمْنَا عَلَى الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ وَنَاٰ بِجَانِبِهٖ ۖ وَاِذَا مَسَّهُ الشَّـرُّ كَانَ يَئُوْسًا (83)
اور جب ہم انسان پر انعام کرتے ہیں تو منہ پھیر لیتا ہے اور پہلو تہی کرتا ہے، اور جب اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو نا امید ہو جاتا ہے۔
قُلْ كُلٌّ يَّعْمَلُ عَلٰى شَاكِلَتِهٖ فَرَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ اَهْدٰى سَبِيْلًا (84)
کہہ دو کہ ہر شخص اپنے طریقہ پر کام کرتا ہے پھر تمہارا رب خوب جانتا ہے کہ سب سے زیادہ ٹھیک راہ پر کون ہے۔
وَيَسْاَلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِ ۖ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّىْ وَمَآ اُوْتِيْتُـمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِيْلًا (85)
اور یہ لوگ تجھ سے روح کے متعلق سوال کرتے ہیں، کہہ دو روح میرے رب کے حکم سے ہے اور تمہیں جو علم دیا گیا ہے وہ بہت ہی تھوڑا ہے۔
وَلَئِنْ شِئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بِالَّـذِىٓ اَوْحَيْنَـآ اِلَيْكَ ثُـمَّ لَا تَجِدُ لَكَ بِهٖ عَلَيْنَا وَكِيْلًا (86)
اور اگر ہم چاہیں تو جو کچھ ہم نے تیری طرف وحی کی ہے اسے اٹھا لیں پھر تجھے اس کے لیے ہمارے مقابلہ میں کوئی حمایتی نہ ملے۔
اِلَّا رَحْـمَةً مِّنْ رَّبِّكَ ۚ اِنَّ فَضْلَـهٝ كَانَ عَلَيْكَ كَبِيْـرًا (87)
مگر یہ صرف تیرے رب کی رحمت ہے، بے شک تجھ پر اس کی بڑی عنایت ہے۔
قُلْ لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ عَلٰٓى اَنْ يَّاْتُوْا بِمِثْلِ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا يَاْتُوْنَ بِمِثْلِـهٖ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُـمْ لِبَعْضٍ ظَهِيْـرًا (88)
کہہ دو اگر سب آدمی اور سب جن مل کر بھی ایسا قرآن لانا چاہیں تو ایسا نہیں لا سکتے اگرچہ ان میں سے ہر ایک دوسرے کا مددگار کیوں نہ ہو۔
وَلَقَدْ صَرَّفْنَا لِلنَّاسِ فِىْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍۖ فَاَبٰٓى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا (89)
اور ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لیے ہر ایک قسم کی مثال بھی کھول کر بیان کر دی ہے، پھر بھی اکثر لوگ انکار کیے بغیر نہ رہے۔
وَقَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّـٰى تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْاَرْضِ يَنْبُوْعًا (90)
اور کہا ہم تمہیں ہرگز نہ مانیں گے یہاں تک کہ تو ہمارے لیے زمین میں سے کوئی چشمہ جاری کر دے۔
اَوْ تَكُـوْنَ لَكَ جَنَّـةٌ مِّنْ نَّخِيْلٍ وَّعِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الْاَنْـهَارَ خِلَالَـهَا تَفْجِيْـرًا (91)
یا تیرے لیے کھجور اور انگور کا کوئی باغ ہو پھر تو اس باغ میں بہت سی نہریں جاری کر دے۔
اَوْ تُسْقِطَ السَّمَآءَ كَمَا زَعَمْتَ عَلَيْنَا كِسَفًا اَوْ تَاْتِىَ بِاللّـٰهِ وَالْمَلَآئِكَـةِ قَبِيْلًا (92)
یا جیسا تو خیال کرتا ہے ہم پر کوئی آسمان کا ٹکڑا گرا دے یا تو اللہ اور فرشتوں کو روبرو لے آ۔
اَوْ يَكُـوْنَ لَكَ بَيْتٌ مِّنْ زُخْرُفٍ اَوْ تَـرْقٰى فِى السَّمَآءِ ۖ وَلَنْ نُّؤْمِنَ لِرُقِـيِّكَ حَتّـٰى تُنَزِّلَ عَلَيْنَا كِتَابًا نَّقْرَؤُهٝ ۗ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّىْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَـرًا رَّسُوْلًا (93)
یا تیرے پاس کوئی سونے کا گھر ہو یا تو آسمان پر چڑھ جائے، اور ہم تو تیرے چڑھنے کا بھی یقین نہیں کریں گے یہاں تک کہ تو ہمارے پاس ایسی کتاب لائے جسے ہم بھی پڑھ سکیں، کہہ دو میرا رب پاک ہے میں تو فقط ایک بھیجا ہوا انسان ہوں۔
وَمَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ يُّؤْمِنُـوٓا اِذْ جَآءَهُـمُ الْـهُدٰٓى اِلَّآ اَنْ قَالُـوٓا اَبَعَثَ اللّـٰهُ بَشَـرًا رَّسُوْلًا (94)
اور لوگوں کو ایمان لانے سے جب کہ ان کے پاس ہدایت آ گئی صرف اسی چیز نے روکا ہے کہ کہنے لگے کیا اللہ نے آدمی کو رسول بنا کر بھیجا ہے۔
قُلْ لَّوْ كَانَ فِى الْاَرْضِ مَلَآئِكَـةٌ يَّمْشُوْنَ مُطْمَئِنِّيْنَ لَنَزَّلْنَا عَلَيْـهِـمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَلَكًا رَّسُوْلًا (95)
کہہ دو اگر زمین میں فرشتے اطمینان سے چلتے پھرتے ہوتے تو ہم آسمان سے ان پر فرشتہ ہی رسول بنا کر بھیجتے۔
قُلْ كَفٰى بِاللّـٰهِ شَهِيْدًا بَيْنِىْ وَبَيْنَكُمْ ۚ اِنَّهٝ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِيْـرًا بَصِيْـرًا (96)
کہہ دو کہ اللہ میرے اور تمہارے درمیان گواہ کافی ہے، بے شک وہ اپنے بندوں سے خبردار دیکھنے والا ہے۔
وَمَنْ يَّـهْدِ اللّـٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ ۖ وَمَنْ يُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَـهُـمْ اَوْلِيَآءَ مِنْ دُوْنِهٖ ۖ وَنَحْشُرُهُـمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلٰى وُجُوْهِهِـمْ عُمْيًا وَّبُكْمًا وَّصُمًّا ۖ مَّاْوَاهُـمْ جَهَنَّـمُ ۖ كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنَاهُـمْ سَعِيْـرًا (97)
اور جسے اللہ راہ دکھا دے وہی راہ پانے والا ہے، اور جسے گمراہ کر دے پھر تو ان کے لیے اللہ کے سوا کوئی دوست نہیں پائے گا، اور ہم نے انہیں قیامت کے دن مونہوں کے بل اندھے گونگے بہرے کر کے اٹھائیں گے، ان کا ٹھکانا دوزخ ہے، جب بجھنے لگے گی تو ان پر اور بھڑکا دیں گے۔
ذٰلِكَ جَزَآؤُهُـمْ بِاَنَّـهُـمْ كَفَرُوْا بِاٰيَاتِنَا وَقَالُـوٓا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّرُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِيْدًا (98)
یہ ان کی سزا اس لیے ہے کہ انہوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا اور کہا کہ کیا جب ہم ہڈیاں اور چورا ہو جائیں گے تو پھر نئے سرے سے بنا کر اٹھائے جائیں گے۔
اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّـٰهَ الَّـذِىْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضَ قَادِرٌ عَلٰٓى اَنْ يَّخْلُقَ مِثْلَـهُـمْ وَجَعَلَ لَـهُـمْ اَجَلًا لَّا رَيْبَ فِيْهِۖ فَاَبَى الظَّالِمُوْنَ اِلَّا كُفُوْرًا (99)
کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ جس اللہ نے آسمانوں اور زمین کو بنایا ہے وہ ان جیسے اور بھی بنا سکتا ہے اور اس نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے جس میں کوئی شک نہیں، اس پر بھی ظالم انکار کیے بغیر نہ رہے۔
قُلْ لَّوْ اَنْتُـمْ تَمْلِكُـوْنَ خَزَآئِنَ رَحْـمَةِ رَبِّىٓ اِذًا لَّاَمْسَكْـتُـمْ خَشْيَةَ الْاِنْفَاقِ ۚ وَكَانَ الْاِنْسَانُ قَتُـوْرًا (100)
کہہ دو اگر میرے رب کی رحمت کے خزانے تمہارے ہاتھ میں ہوتے تو تم انہیں خرچ ہو جانے کے ڈر سے بند ہی کر رکھتے، اور انسان بڑا تنگ دل ہے۔
وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسٰى تِسْعَ اٰيَاتٍ بَيِّنَاتٍ ۖ فَاسْاَلْ بَنِىٓ اِسْرَآئِيْلَ اِذْ جَآءَهُـمْ فَقَالَ لَـهٝ فِرْعَوْنُ اِنِّـىْ لَاَظُنُّكَ يَا مُوْسٰى مَسْحُوْرًا (101)
اور البتہ تحقیق ہم نے موسٰی کو نو کھلی نشانیاں دی تھیں، پھر بنی اسرائیل سے بھی پوچھ لو جب موسٰی ان کے پاس آئے تو فرعون نے اسے کہا اے موسٰی میں تو تجھے جادو کیا ہوا خیال کرتا ہوں۔
قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَآ اَنْزَلَ هٰٓؤُلَآءِ اِلَّا رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ بَصَآئِرَۚ وَاِنِّـىْ لَاَظُنُّكَ يَا فِرْعَوْنُ مَثْبُوْرًا (102)
کہا یہ تو تجھے معلوم ہے کہ یہ آسمانوں اور زمین کے مالک ہی نے لوگوں کو سوجھانے کے لیے نازل کی ہیں، اور بے شک میں تجھے اے فرعون ہلاک کیا ہوا خیال کرتا ہوں۔
فَاَرَادَ اَنْ يَّسْتَفِزَّهُـمْ مِّنَ الْاَرْضِ فَاَغْرَقْنَاهُ وَمَنْ مَّعَهٝ جَـمِيْعًا (103)
پھر اس نے ارادہ کیا کہ انہیں اس زمین سے نکال دے تب ہم نے اسے اور اس کے سب ساتھیوں کو غرق کر دیا۔
وَقُلْنَا مِنْ بَعْدِهٖ لِبَنِىٓ اِسْرَآئِيْلَ اسْكُنُوا الْاَرْضَ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِيْفًا (104)
اور اس کے بعد ہم نے بنی اسرائیل سے کہا کہ تم اس زمین میں آباد رہو پھر جب آخرت کا وعدہ آئے گا ہم تمہیں سمیٹ کر لے آئیں گے۔
وَبِالْحَقِّ اَنْزَلْنَاهُ وَبِالْحَقِّ نَزَلَ ۗ وَمَآ اَرْسَلْنَاكَ اِلَّا مُبَشِّـرًا وَّنَذِيْـرًا (105)
اور ہم نے اس قرآن کو سچائی سے نازل کیا اور وہ سچائی سے ہی نازل ہوا، اور ہم نے تجھے صرف خوشی سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔
وَقُرْاٰنًا فَرَقْنَاهُ لِتَقْرَاَهٝ عَلَى النَّاسِ عَلٰى مُكْثٍ وَّنَزَّلْنَاهُ تَنْزِيْلًا (106)
اور ہم نے قرآن کو تھوڑا تھوڑا کر کے اتارا تاکہ تو مہلت کے ساتھ اسے لوگوں کو پڑھ کر سنائے اور ہم نے اسے آہستہ آہستہ اتارا ہے۔
قُلْ اٰمِنُـوْا بِهٓ ٖ اَوْ لَا تُؤْمِنُـوْا ۚ اِنَّ الَّـذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِـهٓ ٖ اِذَا يُتْلٰى عَلَيْـهِـمْ يَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ سُجَّدًا (107)
کہہ دو تم اسے مانو یا نہ مانو، بے شک وہ لوگ جنہیں اس سے پہلے علم دیا گیا ہے جب ان پر پڑھا جاتا ہے تو تھوڑیوں پر سجدہ میں گرتے ہیں۔
وَيَقُوْلُوْنَ سُبْحَانَ رَبِّنَـآ اِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلًا (108)
اور کہتے ہیں ہمارا رب پاک ہے، بے شک ہمارے رب کا وعدہ ہو کر رہے گا۔
وَيَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ يَبْكُـوْنَ وَيَزِيْدُهُـمْ خُشُوْعًا ۩ (109)
اور تھوڑیوں پر روتے ہوئے گرتے ہیں اور ان میں عاجزی زیادہ کر دیتا ہے۔
قُلِ ادْعُوا اللّـٰهَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْـمٰنَ ۖ اَيًّا مَّا تَدْعُوْا فَلَـهُ الْاَسْـمَآءُ الْحُسْنٰى ۚ وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِـهَا وَابْتَـغِ بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا (110)
کہہ دو اللہ کہہ کر پکارو یا رحمٰن کہہ کر پکارو، جس نام سے پکارو سب اسی کے عمدہ نام ہیں، اور اپنی نماز میں نہ چلا کر پڑھ اور نہ بالکل ہی آہستہ پڑھ اور اس کے درمیان راستہ اختیار کر۔
وَقُلِ الْحَـمْدُ لِلّـٰهِ الَّـذِىْ لَمْ يَتَّخِذْ وَلَـدًا وَّلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ شَرِيْكٌ فِى الْمُلْكِ وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ وَلِـىٌّ مِّنَ الـذُّلِّ ۖ وَكَبِّـرْهُ تَكْبِيْـرًا (111)
اور کہہ دو سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس کی نہ کوئی اولاد ہے اور نہ کوئی اس کا سلطنت میں شریک ہے اور نہ کوئی کمزوری کی وجہ سے اس کا مددگار ہے، اور اس کی بڑائی بیان کرتے رہو۔