قرآن حکیم            

مکمل سورت
سورت نمبر
آیت نمبر
ایک آیت
(14) سورۃ ابراھیم (مکی، آیات 52)
بِسْمِ اللّـٰهِ الرَّحْـمٰنِ الرَّحِيْـمِ
الٓـرٰ ۚ كِتَابٌ اَنْزَلْنَاهُ اِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَاتِ اِلَى النُّوْرِۙ بِاِذْنِ رَبِّـهِـمْ اِلٰى صِرَاطِ الْعَزِيْزِ الْحَـمِيْدِ (1)
ا ل ر، یہ ایک کتاب ہے ہم نے اسے تیری طرف نازل کیا ہے تاکہ تو لوگوں کو اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالے، ان کے رب کے حکم سے غالب تعریف کیے ہوئے راستہ کی طرف۔
اَللّـٰهِ الَّـذِىْ لَـهٝ مَا فِى السَّمَاوَاتِ وَمَا فِى الْاَرْضِ ۗ وَوَيْلٌ لِّلْكَافِـرِيْنَ مِنْ عَذَابٍ شَدِيْدٍ (2)
یعنی اللہ جس کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، اور کافروں پر افسوس کہ انہیں سخت عذاب ہونا ہے۔
اَلَّـذِيْنَ يَسْتَحِبُّوْنَ الْحَيَاةَ الـدُّنْيَا عَلَى الْاٰخِرَةِ وَيَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّـٰهِ وَيَبْغُوْنَـهَا عِوَجًا ۚ اُولٰٓئِكَ فِىْ ضَلَالٍ بَعِيْدٍ (3)
جو دنیا کی زندگی کو آخرت کے مقابلہ میں پسند کرتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روکتے ہیں اور اس میں کجی تلاش کرتے ہیں، وہ دور کی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں۔
وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهٖ لِـيُبَيِّنَ لَـهُـمْ ۖ فَيُضِلُّ اللّـٰهُ مَنْ يَّشَآءُ وَيَـهْدِىْ مَنْ يَّشَآءُ ۚ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِـيْـمُ (4)
اور ہم نے ہر پیغمبر کو اس کی قوم کی زبان میں پیغمبر بنا کر بھیجا ہے تاکہ انہیں سمجھا سکے، پھر اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے، اور وہ غالب حکمت والا ہے۔
وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰيَاتِنَـآ اَنْ اَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُمَاتِ اِلَى النُّوْرِ وَذَكِّرْهُـمْ بِاَيَّامِ اللّـٰهِ ۚ اِنَّ فِىْ ذٰلِكَ لَاٰيَاتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُـوْرٍ (5)
اور البتہ تحقیق ہم نے موسٰی کو اپنی نشانیاں دے کر بھیجا تھا کہ اپنی قوم کو اندھیروں سے روشنی کی طرف نکال اور انہیں اللہ کے دن یاد دلا، بے شک اس میں ہر ایک صبر شکر کرنے والے کے لیے بڑی نشانیاں ہیں۔
وَاِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّـٰهِ عَلَيْكُمْ اِذْ اَنْجَاكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ يَسُوْمُوْنَكُمْ سُوٓءَ الْعَذَابِ وَيُذَبِّحُوْنَ اَبْنَـآءَكُمْ وَيَسْتَحْيُوْنَ نِسَآءَكُمْ ۚ وَفِىْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِيْـمٌ (6)
اور جب موسٰی نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو جب تمہیں فرعون کی قوم سے چھڑایا وہ تمہیں برا عذاب چکھاتے تھے اور تمہارے بیٹوں کو ذبح کرتے تھے اور تمہاری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے، اور اس میں تمہارے رب کی طرف سے بڑی آزمائش تھی۔
وَاِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِنْ شَكَـرْتُـمْ لَاَزِيْدَنَّكُمْ ۖ وَلَئِنْ كَفَرْتُـمْ اِنَّ عَذَابِىْ لَشَدِيْدٌ (7)
اور جب تمہارے رب نے سنا دیا تھا کہ البتہ اگر تم شکر گزاری کرو گے تو اور زیادہ دوں گا، اور اگر ناشکری کرو گے تو میرا عذاب بھی سخت ہے۔
وَقَالَ مُوْسٰٓى اِنْ تَكْـفُرُوٓا اَنْتُـمْ وَمَنْ فِى الْاَرْضِ جَـمِيْعًاۙ فَاِنَّ اللّـٰهَ لَغَنِىٌّ حَـمِيْدٌ (8)
اور موسٰی نے کہا اگر تم اور جو لوگ زمین میں ہیں سارے کفر کرو گے تو اللہ بے پروا تعریف کیا ہوا ہے۔
اَلَمْ يَاْتِكُمْ نَبَاُ الَّـذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ قَوْمِ نُـوْحٍ وَّعَادٍ وَّثَمُوْدَ  ؕ وَالَّـذِيْنَ مِنْ بَعْدِهِـمْ  ؕ لَا يَعْلَمُهُـمْ اِلَّا اللّـٰهُ ۚ جَآءَتْـهُـمْ رُسُلُـهُـمْ بِالْبَيِّنَاتِ فَرَدُّوٓا اَيْدِيَـهُـمْ فِىٓ اَفْوَاهِهِـمْ وَقَالُـوٓا اِنَّا كَفَرْنَا بِمَآ اُرْسِلْتُـمْ بِهٖ وَاِنَّا لَفِىْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَنَـآ اِلَيْهِ مُرِيْبٍ (9)
کیا تمہیں ان لوگوں کی خبر نہیں پہنچی جو تم سے پہلے تھے نوح کی قوم اور عاد اور ثمود، اور جو ان کے بعد ہوئے، اللہ کے سوا جنہیں کوئی نہیں جانتا، ان کے پاس ان کے رسول نشانیاں لے کر آئے پھر انہوں نے اپنے ہاتھ اپنے مونہوں میں لوٹائے اور کہا ہم نہیں مانتے جو تمہیں دے کر بھیجا گیا ہے اور جس دین کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو ہمیں تو اس میں بڑا شک ہے۔
قَالَتْ رُسُلُـهُـمْ اَفِى اللّـٰهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ ۖ يَدْعُوْكُمْ لِيَغْفِرَ لَكُمْ مِّنْ ذُنُـوْبِكُمْ وَيُؤَخِّرَكُمْ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى ۚ قَالُـوٓا اِنْ اَنْتُـمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُـنَاۖ تُرِيْدُوْنَ اَنْ تَصُدُّوْنَا عَمَّا كَانَ يَعْبُدُ اٰبَـآؤُنَا فَاْتُوْنَا بِسُلْطَانٍ مُّبِيْنٍ (10)
ان کے رسولوں نے کہا کیا تمہیں اللہ میں شک ہے جس نے آسمان اور زمین بنائے، وہ تمہیں بلاتا ہے تاکہ تمہارے کچھ گناہ بخشے اور تمہیں ایک مقررہ وقت تک مہلت دے، انہوں نے کہا تم بھی تو ہمارے جیسے انسان ہو، تم چاہتے ہو کہ ہمیں ان چیزوں سے روک دو جنہیں ہمارے باپ دادا پوجتے رہے سو کوئی کھلا ہوا معجزہ لاؤ۔
قَالَتْ لَـهُـمْ رُسُلُـهُـمْ اِنْ نَّحْنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ وَلٰكِنَّ اللّـٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنْ يَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ ۖ وَمَا كَانَ لَنَـآ اَنْ نَّاْتِيَكُمْ بِسُلْطَانٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّـٰهِ ۚ وَعَلَى اللّـٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُـوْنَ (11)
ان سے ان کے رسولوں نے کہا ضرور ہم بھی تمہارے جیسے ہی آدمی ہیں لیکن اللہ اپنے بندوں میں جس پر چاہتا ہے احسان کرتا ہے، اور ہمارا کام نہیں کہ ہم اللہ کی اجازت کے سوا تمہیں کوئی معجزہ لا کر دکھائیں، اور ایمان والوں کا بھروسہ اللہ ہی پر ہونا چاہیے۔
وَمَا لَنَـآ اَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَى اللّـٰهِ وَقَدْ هَدَانَا سُبُلَنَا ۚ وَلَنَصْبِـرَنَّ عَلٰى مَآ اٰذَيْتُمُوْنَا ۚ وَعَلَى اللّـٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ (12)
اور ہم کیوں اللہ پر بھروسہ نہ کریں حالانکہ اسی نے ہمیں (سیدھے) راستوں کی راہ نمائی کی ہے، اور ہم ضرور صبر کریں گے اس ایذا پر جو تم ہمیں دیتے ہو، اور توکل کرنے والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے۔
وَقَالَ الَّـذِيْنَ كَفَرُوْا لِرُسُلِهِـمْ لَنُخْرِجَنَّكُمْ مِّنْ اَرْضِنَـآ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِىْ مِلَّتِنَا ۖ فَاَوْحٰٓى اِلَيْـهِـمْ رَبُّـهُـمْ لَنُـهْلِكَنَّ الظَّالِمِيْنَ (13)
اور کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا کہ ہم تمہیں اپنے ملک سے نکال دیں گے یا ہمارے دین میں لوٹ آؤ، تب انہیں ان کے رب نے حکم بھیجا کہ ہم ان ظالموں کو ضرور ہلاک کر دیں گے۔
وَلَنُسْكِنَنَّكُمُ الْاَرْضَ مِنْ بَعْدِهِـمْ ۚ ذٰلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِىْ وَخَافَ وَعِيْدِ (14)
اور ان کے بعد اس زمین میں تمہیں آباد کر دیں گے، یہ اس کے لیے ہے جو میرے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرا اور جس نے میرے عذاب سے خوف کھایا۔
وَاسْتَفْتَحُوْا وَخَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيْدٍ (15)
اور انہوں نے فیصلہ چاہا اور ہر ایک سرکش ضدی نامراد ہوا۔
مِّنْ وَّرَآئِهٖ جَهَنَّـمُ وَيُسْقٰى مِنْ مَّآءٍ صَدِيْدٍ (16)
اور اس کے پیچھے دوزخ ہے اور اسے پیپ کا پانی پلایا جائے گا۔
يَتَجَرَّعُهٝ وَلَا يَكَادُ يُسِيْغُهٝ وَيَاْتِيْهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّمَا هُوَ بِمَيِّتٍ ۖ وَمِنْ وَّرَآئِهٖ عَذَابٌ غَلِيْظٌ (17)
جسے گھونٹ گھونٹ پیے گا اور اسے گلے سے نہ اتار سکے گا اور اس پر ہر طرف سے موت آئے گی اور وہ نہیں مرے گا، اور اس کے پیچھے سخت عذاب ہوگا۔
مَّثَلُ الَّـذِيْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّـهِـمْ ۖ اَعْمَالُـهُـمْ كَـرَمَادِ  ِۨ اشْتَدَّتْ بِهِ الرِّيْحُ فِىْ يَوْمٍ عَاصِفٍ ۖ لَّا يَقْدِرُوْنَ مِمَّا كَسَبُوْا عَلٰى شَىْءٍ ۚ ذٰلِكَ هُوَ الضَّلَالُ الْبَعِيْدُ (18)
ان کی مثال جنہوں نے اپنے رب سے انکار کیا، ایسی ہے کہ ان کے اعمال گویا راکھ ہیں جسے آندھی کے دن ہوا اڑا کر لے گئی ہو، جو کچھ انہوں نے کمایا تھا اس میں کچھ بھی ان کے ہاتھ میں نہ رہا ہو، یہ بھی بڑی دور کی گمراہی ہے۔
اَلَمْ تَـرَ اَنَّ اللّـٰهَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ ۚ اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ وَيَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِيْدٍ (19)
کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو ٹھیک طور پر بنایا، اگر وہ چاہے تو تمہیں لے جائے اور نئی مخلوق لے آئے۔
وَمَا ذٰلِكَ عَلَى اللّـٰهِ بِعَزِيْزٍ (20)
اور یہ اللہ پر کچھ مشکل نہیں ہے۔
وَبَرَزُوْا لِلّـٰهِ جَـمِيْعًا فَقَالَ الضُّعَفَـآءُ لِلَّـذِيْنَ اسْتَكْـبَـرُوٓا اِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ اَنْتُـمْ مُّغْنُـوْنَ عَنَّا مِنْ عَذَابِ اللّـٰهِ مِنْ شَىْءٍ ۚ قَالُوْا لَوْ هَدَانَا اللّـٰهُ لَـهَدَيْنَاكُمْ ۖ سَوَآءٌ عَلَيْنَـآ اَجَزِعْنَـآ اَمْ صَبَـرْنَا مَا لَنَا مِنْ مَّحِيْصٍ (21)
اور یہ سب اللہ کے سامنے کھڑے ہوں گے تب کمزور متکبروں سے کہیں گے کہ ہم تو تمہارے تابع تھے سو ہمیں اللہ کے عذاب سے کچھ بچاؤ گے، وہ کہیں گے اگر ہمیں اللہ ہدایت کرتا تو ہم تمہیں ہدایت کرتے، اب ہمارے لیے برابر ہے کہ ہم چیخیں چلائیں یا صبر کریں ہمارے بچنے کی کوئی صورت نہیں۔
وَقَالَ الشَّيْطَانُ لَمَّا قُضِىَ الْاَمْرُ اِنَّ اللّـٰهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدْتُّكُمْ فَاَخْلَفْتُكُمْ ۖ وَمَا كَانَ لِىَ عَلَيْكُمْ مِّنْ سُلْطَانٍ اِلَّآ اَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُـمْ لِىْ ۖ فَلَا تَلُوْمُوْنِىْ وَلُوْمُـوٓا اَنْفُسَكُمْ ۖ مَّـآ اَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَمَآ اَنْتُـمْ بِمُصْرِخِىَّ ۖ اِنِّـىْ كَفَرْتُ بِمَآ اَشْرَكْـتُمُوْنِ مِنْ قَبْلُ ۗ اِنَّ الظَّالِمِيْنَ لَـهُـمْ عَذَابٌ اَلِيْـمٌ (22)
اور جب فیصلہ ہو چکے گا تو شیطان کہے گا بے شک اللہ نے تم سے سچا وعدہ کیا تھا اور میں نے بھی تم سے وعدہ کیا تھا پھر میں نے وعدہ خلافی کی، اور میرا تم پر اس کے سوا کوئی زور نہ تھا کہ میں نے تمہیں بلایا پھر تم نے میری بات کو مان لیا، پھر مجھے الزام نہ دو اور اپنے آپ کو الزام دو، نہ میں تمہارا فریاد رس ہوں اور نہ تم میرے فریاد رس ہو، میں خود تمہارے اس فعل سے بیزار ہوں کہ تم اس سے پہلے مجھے شریک بناتے تھے، بے شک ظالموں کے لیے دردناک عذاب ہے۔
وَاُدْخِلَ الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِىْ مِنْ تَحْتِـهَا الْاَنْـهَارُ خَالِـدِيْنَ فِيْـهَا بِاِذْنِ رَبِّـهِـمْ ۖ تَحِيَّتُـهُـمْ فِيْـهَا سَلَامٌ (23)
اور جو لوگ ایمان لائے تھے اور نیک کام کیے تھے وہ باغوں میں داخل کیے جائیں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ان میں اپنے رب کے حکم سے ہمیشہ رہیں گے، آپس میں دعائے خیر ان کی سلام ہوگی۔
اَلَمْ تَـرَ كَيْفَ ضَرَبَ اللّـٰهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ اَصْلُـهَا ثَابِتٌ وَّفَرْعُهَا فِى السَّمَآءِ (24)
کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے کلمہ پاک کی ایک مثال بیان کی ہے گویا وہ ایک پاک درخت ہے کہ جس کی جڑ مضبوط اور اس کی شاخ آسمان میں ہے۔
تُؤْتِـىٓ اُكُلَـهَا كُلَّ حِيْنٍ بِاِذْنِ رَبِّـهَا ۗ وَيَضْرِبُ اللّـٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُـمْ يَتَذَكَّرُوْنَ (25)
وہ اپنے رب کے حکم سے ہر وقت اپنا پھل لاتا ہے اور اللہ لوگوں کے واسطے مثالیں بیان کرتا ہے تاکہ وہ سمجھیں۔
وَمَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِيْثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِيْثَةِ  ِۨ اجْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْاَرْضِ مَا لَـهَا مِنْ قَرَارٍ (26)
اور ناپاک کلمہ کی مثال ایک ناپاک درخت کی سی ہے جو زمین کے اوپر ہی سے اکھاڑ لیا جائے اسے کچھ ٹھہراؤ نہیں ہے۔
يُثَبِّتُ اللّـٰهُ الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِى الْحَيَاةِ الـدُّنْيَا وَفِى الْاٰخِرَةِ ۖ وَيُضِلُّ اللّـٰهُ الظَّالِمِيْنَ ۚ وَيَفْعَلُ اللّـٰهُ مَا يَشَآءُ (27)
اللہ ایمان والوں کو دنیا اور آخرت کی زندگی میں سچی بات پر ثابت قدم رکھتا ہے، اور ظالموں کو گمراہ کرتا ہے، اور اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔
اَلَمْ تَـرَ اِلَى الَّـذِيْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَتَ اللّـٰهِ كُفْرًا وَّاَحَلُّوْا قَوْمَهُـمْ دَارَ الْبَوَارِ (28)
کیا تو نے انہیں نہیں دیکھا کہ جنہوں نے اللہ کی نعمت کے بدلے میں ناشکری کی اور اپنی قوم کو تباہی کے گھر میں اتارا۔
جَهَنَّـمَ يَصْلَوْنَـهَا ۖ وَبِئْسَ الْقَرَارُ (29)
جو دوزخ ہے اس میں داخل ہوں گے، اور وہ برا ٹھکانا ہے۔
وَجَعَلُوْا لِلّـٰهِ اَنْدَادًا لِّيُضِلُّوْا عَنْ سَبِيْلِـهٖ ۗ قُلْ تَمَتَّعُوْا فَاِنَّ مَصِيْـرَكُمْ اِلَى النَّارِ (30)
اور لوگوں نے اللہ کی راہ سے بہکانے کے لیے شریک بنا رکھے ہیں، کہہ دو نفع اٹھا لو پھر تمہیں آگ کی طرف لوٹنا ہے۔
قُلْ لِّعِبَادِىَ الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا يُقِيْمُوا الصَّلَاةَ وَيُنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنَاهُـمْ سِرًّا وَّعَلَانِيَةً مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِىَ يَوْمٌ لَّا بَيْـعٌ فِيْهِ وَلَا خِلَالٌ (31)
میرے بندوں کو کہہ دو جو ایمان لائے ہیں کہ نماز قائم رکھیں اور ہمارے دیے ہوئے رزق میں سے پوشیدہ اور ظاہر خرچ کریں اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جس میں نہ خرید و فروخت ہے نہ دوستی۔
اَللّـٰهُ الَّـذِىْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضَ وَاَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخْرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَّكُمْ ۖ وَسَخَّرَ لَكُمُ الْفُلْكَ لِتَجْرِىَ فِى الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖ ۖ وَسَخَّرَ لَكُمُ الْاَنْـهَارَ (32)
اللہ وہ ہے جس نے آسمان اور زمین بنائے اور آسمان سے پانی نازل کیا پھر اس سے تمہارے کھانے کو پھل نکالے، اور کشتیاں تمہارے تابع کر دیں تاکہ دریا میں اس کے حکم سے چلتی رہیں، اور نہریں تمہارے تابع کر دیں۔
وَسَخَّرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دَآئِبَيْنِ ۖ وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّـهَارَ (33)
اور سورج اور چاند کو تمہارے تابع کر دیا جو ہمیشہ چلنے والے ہیں اور تمہارے لیے رات اور دن کو تابع کیا۔
وَاٰتَاكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ ۚ وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّـٰهِ لَا تُحْصُوْهَا ۗ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ (34)
اور جو چیز تم نے اس سے مانگی اس نے تمہیں دی، اور اگر اللہ کی نعمتیں شمار کرنے لگو تو انہیں شمار نہ کر سکو گے، بے شک انسان بڑا بے انصاف اور ناشکرا ہے۔
وَاِذْ قَالَ اِبْـرَاهِيْـمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا الْبَلَـدَ اٰمِنًا وَّاجْنُـبْنِىْ وَبَنِىَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَ (35)
اور جس وقت ابراہیم نے کہا اے میرے رب! اس شہر کو امن والا کر دے اور مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچا۔
رَبِّ اِنَّـهُنَّ اَضْلَلْنَ كَثِيْـرًا مِّنَ النَّاسِ ۖ فَمَنْ تَبِعَنِىْ فَاِنَّهٝ مِنِّىْ ۖ وَمَنْ عَصَانِىْ فَاِنَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِيْـمٌ (36)
اے میرے رب! انہوں نے بہت لوگوں کو گمراہ کیا ہے، پس جس نے میری پیروی کی وہ تو میرا ہے، اور جس نے نافرمانی کی پس تحقیق تو بخشنے والا مہربان ہے۔
رَّبَّنَـآ اِنِّـىٓ اَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِىْ بِوَادٍ غَيْـرِ ذِىْ زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِۙ رَبَّنَا لِيُـقِيْمُوا الصَّلَاةَ فَاجْعَلْ اَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَـهْوِىٓ اِلَيْـهِـمْ وَارْزُقْهُـمْ مِّنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُـمْ يَشْكُـرُوْنَ (37)
اے رب ہمارے! میں نے اپنی کچھ اولاد ایسے میدان میں بسائی ہے جہاں کھیتی نہیں تیرے عزت والے گھر کے پاس، اے رب ہمارے! تاکہ نماز کو قائم رکھیں پھر کچھ لوگوں کے دل ان کی طرف مائل کر دے اور انہیں میووں کی روزی دے تاکہ وہ شکر کریں۔
رَبَّنَـآ اِنَّكَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِىْ وَمَا نُـعْلِنُ ۗ وَمَا يَخْفٰى عَلَى اللّـٰهِ مِنْ شَىْءٍ فِى الْاَرْضِ وَلَا فِى السَّمَآءِ (38)
اے رب ہمارے! بے شک تو جانتا ہے جو کچھ ہم چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں، اور اللہ پر کوئی چیز زمین اور آسمان میں پوشیدہ نہیں۔
اَلْحَـمْدُ لِلّـٰهِ الَّـذِىْ وَهَبَ لِىْ عَلَى الْكِبَـرِ اِسْـمَاعِيْلَ وَاِسْحَاقَ ۚ اِنَّ رَبِّىْ لَسَـمِيْعُ الـدُّعَآءِ (39)
اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے اتنی بڑی عمر میں اسماعیل اور اسحاق بخشے، بے شک میرا رب دعاؤں کا سننے والا ہے۔
رَبِّ اجْعَلْنِىْ مُقِيْـمَ الصَّلَاةِ وَمِنْ ذُرِّيَّتِىْ ۚ رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَآءِ (40)
اے رب! مجھے اور میری اولاد کو نماز قائم کرنے والا بنا دے، اے ہمارے رب! اور میری دعا قبول فرما۔
رَبَّنَا اغْفِرْ لِىْ وَلِوَالِـدَىَّ وَلِلْمُؤْمِنِيْنَ يَوْمَ يَقُوْمُ الْحِسَابُ (41)
اے ہمارے رب! مجھے اور میرے ماں باپ کو اور ایمانداروں کو حساب قائم ہونے کے دن بخش دے۔
وَلَا تَحْسَبَنَّ اللّـٰهَ غَافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُوْنَ ۚ اِنَّمَا يُؤَخِّرُهُـمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيْهِ الْاَبْصَارُ (42)
تو ہرگز خیال نہ کر کہ اللہ ان کاموں سے بے خبر ہے جو ظالم کرتے ہیں، انہیں صرف اس دن تک مہلت دے رکھی ہے جس میں نگاہیں پھٹی رہ جائیں گی۔
مُهْطِعِيْنَ مُقْنِعِىْ رُءُوْسِهِـمْ لَا يَرْتَدُّ اِلَيْـهِـمْ طَرْفُـهُـمْ ۖ وَاَفْئِدَتُـهُـمْ هَوَآءٌ (43)
وہ سر اٹھائے ہوئے دوڑتے چلے جا رہے ہوں گے کہ ان کی نظر ان کی طرف ہٹ کر نہیں آئے گی، اور ان کے دل اڑ گئے ہوں گے۔
وَاَنْذِرِ النَّاسَ يَوْمَ يَاْتِيْـهِـمُ الْعَذَابُ فَيَقُوْلُ الَّـذِيْنَ ظَلَمُوْا رَبَّنَـآ اَخِّرْنَـآ اِلٰٓى اَجَلٍ قَرِيْبٍ نُّجِبْ دَعْوَتَكَ وَنَتَّبِــعِ الرُّسُلَ ۗ اَوَلَمْ تَكُـوْنُـوٓا اَقْسَمْتُـمْ مِّنْ قَبْلُ مَا لَكُمْ مِّنْ زَوَالٍ (44)
اور لوگوں کو اس دن سے ڈرائے کہ ان پر عذاب آئے گا تب ظالم کہیں گے اے رب ہمارے! ہمیں تھوڑی مدت تک مہلت دے کہ ہم تیرا بلانا قبول کر لیں اور رسولوں کی پیروی کر لیں، کیا تم نے پہلے قسم نہیں کھائی تھی کہ تمہیں کہیں جانا ہی نہیں ہے۔
وَسَكَنْتُـمْ فِىْ مَسَاكِنِ الَّـذِيْنَ ظَلَمُوٓا اَنْفُسَهُـمْ وَتَبَيَّنَ لَكُمْ كَيْفَ فَعَلْنَا بِـهِـمْ وَضَرَبْنَا لَكُمُ الْاَمْثَالَ (45)
اور تم انہیں لوگوں کی بستیوں میں آباد تھے جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا اور تمہیں معلوم ہو چکا تھا کہ ہم نے ان کے ساتھ کیا کیا تھا اور ہم نے تمہیں سب قصے بتلائے تھے۔
وَقَدْ مَكَـرُوْا مَكْـرَهُـمْ وَعِنْدَ اللّـٰهِ مَكْـرُهُـمْۖ وَاِنْ كَانَ مَكْـرُهُـمْ لِتَزُوْلَ مِنْهُ الْجِبَالُ (46)
اور ان لوگوں نے اپنی تدبیریں کی تھیں اور ان کی تدبیریں اللہ کے سامنے تھیں، اگرچہ ان کی تدبیریں ایسی تھیں کہ ان سے پہاڑ بھی ٹل جائیں۔
فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّـٰهَ مُخْلِفَ وَعْدِهٖ رُسُلَـهٝ ۗ اِنَّ اللّـٰهَ عَزِيْزٌ ذُو انْتِقَامٍ (47)
پس اللہ کو اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرنے والا خیال نہ کریں، بے شک اللہ زبردست بدلہ لینے والا ہے۔
يَوْمَ تُـبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْـرَ الْاَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ ۖ وَبَـرَزُوْا لِلّـٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ (48)
جس دن اس زمین میں سے اور زمین بدلی جائے گی اور آسمان بدلے جائیں گے، اور سب کے سب ایک زبردست اللہ کے روبرو پیش ہوں گے۔
وَتَـرَى الْمُجْرِمِيْنَ يَوْمَئِذٍ مُّقَرَّنِيْنَ فِى الْاَصْفَادِ (49)
اور تو اس دن گناہگاروں کو زنجیروں میں جکڑے ہوئے دیکھے گا۔
سَرَابِيْلُـهُـمْ مِّنْ قَطِرَانٍ وَّتَغْشٰى وُجُوْهَهُـمُ النَّارُ (50)
کرتے ان کے گندھک کے ہوں گے اور ان کے چہروں پر آگ لپٹی ہو گی۔
لِيَجْزِىَ اللّـٰهُ كُلَّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ ۚ اِنَّ اللّـٰهَ سَرِيْعُ الْحِسَابِ (51)
تاکہ اللہ ہر شخص کو اس کے کیے کی سزا دے، بے شک اللہ بڑی جلدی حساب لینے والا ہے۔
هٰذَا بَلَاغٌ لِّلنَّاسِ وَلِيُنْذَرُوْا بِهٖ وَلِيَعْلَمُوٓا اَنَّمَا هُوَ اِلٰـهٌ وَّاحِدٌ وَّلِيَذَّكَّرَ اُولُو الْاَلْبَابِ (52)
یہ قرآن لوگوں کے لیے اعلان ہے اور تاکہ اس کے ذریعے سے لوگوں کو ڈرایا جائے اور تاکہ وہ معلوم کرلیں کہ وہی ایک معبود ہے اور تاکہ عقلمند نصیحت حاصل کریں۔