قرآن حکیم            

مکمل سورت
سورت نمبر
آیت نمبر
ایک آیت
(10) سورۃ یونس (مکی، آیات 109)
بِسْمِ اللّـٰهِ الرَّحْـمٰنِ الرَّحِيْـمِ
الٓـرٰ ۚ تِلْكَ اٰيَاتُ الْكِتَابِ الْحَكِـيْـمِ (1)
ا ل ر، یہ حکمت والی کتاب کی آیتیں ہیں۔
اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَيْنَـآ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْـهُـمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوٓا اَنَّ لَـهُـمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّـهِـمْ ۗ قَالَ الْكَافِرُوْنَ اِنَّ هٰذَا لَسَاحِرٌ مُّبِيْنٌ (2)
کیا اس بات سے لوگوں کو تعجب ہوا کہ ہم نے ان میں سے ایک شخص کے پاس وحی بھیج دی کہ سب آدمیوں کو ڈرائے اور جو ایمان لائیں انہیں یہ خوشخبری سنائے کہ انہیں اپنے رب کے ہاں پہنچ کر پورا مرتبہ ملے گا، کافر کہتے ہیں کہ یہ شخص صریح جادوگر ہے۔
اِنَّ رَبَّكُمُ اللّـٰهُ الَّـذِىْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضَ فِىْ سِتَّةِ اَيَّامٍ ثُـمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ ۖ يُدَبِّـرُ الْاَمْرَ ۖ مَا مِنْ شَفِيْـعٍ اِلَّا مِنْ بَعْدِ اِذْنِهٖ ۚ ذٰلِكُمُ اللّـٰهُ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ ۚ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ (3)
بے شک تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے آسمان اور زمین چھ دن میں بنائے پھر عرش پر قائم ہوا، وہی ہر کام کا انتظام کرتا ہے، اس کی اجازت کے سوا کوئی سفارش کرنے والا نہیں ہے، یہی اللہ تمہارا پروردگار ہے سو اسی کی عبادت کرو، کیا تم پھر بھی نہیں سمجھتے۔
اِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ جَـمِيْعًا ۖ وَعْدَ اللّـٰهِ حَقًّا ۚ اِنَّهٝ يَبْدَاُ الْخَلْقَ ثُـمَّ يُعِيْدُهٝ لِيَجْزِىَ الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ بِالْقِسْطِ ۚ وَالَّـذِيْنَ كَفَرُوْا لَـهُـمْ شَرَابٌ مِّنْ حَـمِيْـمٍ وَّعَذَابٌ اَلِيْـمٌ بِمَا كَانُـوْا يَكْـفُرُوْنَ (4)
تم سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے، اللہ کا وعدہ سچا ہے، وہی پہلی مرتبہ پیدا کرتا ہے پھر وہی دوبارہ پیدا کرے گا تاکہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کیے انہیں انصاف کے ساتھ بدلہ دے، اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے واسطے کھولتا ہوا پانی پینے کو ہوگا اور ان کے کفر کے سبب سے دردناک عذاب ہوگا۔
هُوَ الَّـذِىْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَآءً وَّالْقَمَرَ نُـوْرًا وَّقَدَّرَهٝ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِيْنَ وَالْحِسَابَ ۚ مَا خَلَقَ اللّـٰهُ ذٰلِكَ اِلَّا بِالْحَقِّ ۚ يُفَصِّلُ الْاٰيَاتِ لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ (5)
وہی ہے جس نے سورج کو روشن بنایا اور چاند کو منور فرمایا اور چاند کی منزلیں مقرر کیں تاکہ تم برسوں کا شمار اور حساب معلوم کر سکو، یہ سب کچھ اللہ نے تدبیر سے پیدا کیا ہے، وہ اپنی آیتیں سمجھداروں کے لیے کھول کھول کر بیان فرماتا ہے۔
اِنَّ فِى اخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّـهَارِ وَمَا خَلَقَ اللّـٰهُ فِى السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ لَاٰيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَّتَّقُوْنَ (6)
رات اور دن کے آنے جانے میں اور جو چیزیں اللہ نے آسمانوں اور زمین میں پیدا کی ہیں ان میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو ڈرتے ہیں۔
اِنَّ الَّـذِيْنَ لَا يَرْجُوْنَ لِقَـآءَنَا وَرَضُوْا بِالْحَيَاةِ الـدُّنْيَا وَاطْمَاَنُّـوْا بِـهَا وَالَّـذِيْنَ هُـمْ عَنْ اٰيَاتِنَا غَافِلُوْنَ (7)
البتہ جو لوگ ہم سے ملنے کی امید نہیں رکھتے اور دنیا کی زندگی پر خوش ہوئے اور اسی پر مطمئن ہو گئے اور جو لوگ ہماری نشانیوں سے غافل ہیں۔
اُولٰٓئِكَ مَاْوَاهُـمُ النَّارُ بِمَا كَانُـوْا يَكْسِبُوْنَ (8)
ان کا ٹھکانا آگ ہے بسبب اس کے جو کرتے تھے۔
اِنَّ الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ يَـهْدِيْـهِـمْ رَبُّـهُـمْ بِاِيْمَانِـهِـمْ ۖ تَجْرِىْ مِنْ تَحْتِـهِـمُ الْاَنْـهَارُ فِىْ جَنَّاتِ النَّعِيْـمِ (9)
بے شک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کیے انہیں ان کا رب ان کے ایمان کے سبب ہدایت کرے گا، ان کے نیچے نعمت کے باغوں میں نہریں بہتی ہوں گی۔
دَعْوَاهُـمْ فِيْـهَا سُبْحَانَكَ اللّـٰهُـمَّ وَتَحِيَّـتُـهُـمْ فِيْـهَا سَلَامٌ ۚ وَاٰخِرُ دَعْوَاهُـمْ اَنِ الْحَـمْدُ لِلّـٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ (10)
اس جگہ ان کی دعا یہ ہوگی کہ اے اللہ! تیری ذات پاک ہے اور وہاں ان کا باہمی تحفہ سلام ہوگا، اور ان کی دعا کا خاتمہ اس پر ہوگا کہ سب تعریف اللہ کے لیے ہے جو سارے جہان کا پالنے والا ہے۔
وَلَوْ يُعَجِّلُ اللّـٰهُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ اسْتِعْجَالَـهُـمْ بِالْخَيْـرِ لَقُضِىَ اِلَيْـهِـمْ اَجَلُـهُـمْ ۖ فَنَذَرُ الَّـذِيْنَ لَا يَرْجُوْنَ لِقَـآءَنَا فِىْ طُغْيَانِـهِـمْ يَعْمَهُوْنَ (11)
اور اگر اللہ لوگوں کو برائی جلد پہنچا دے جس طرح وہ بھلائی جلدی مانگتے ہیں تو ان کی عمر ختم کر دی جائے، سو ہم چھوڑے رکھتے ہیں ان لوگوں کو جنہیں ہماری ملاقات کی امید نہیں کہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے رہیں۔
وَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنبِهٓ ٖ اَوْ قَاعِدًا اَوْ قَـآئِمًاۚ فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهٝ مَرَّ كَاَنْ لَّمْ يَدْعُنَـآ اِلٰى ضُرٍّ مَّسَّهٝ ۚ كَذٰلِكَ زُيِّنَ لِلْمُسْرِفِيْنَ مَا كَانُـوْا يَعْمَلُوْنَ (12)
اور جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو لیٹے اور بیٹھے اور کھڑے ہونے کی حالت میں ہمیں پکارتا ہے، پھر جب ہم اس سے اس تکلیف کو دور کر دیتے ہیں تو اس طرح گزر جاتا ہے گویا کہ ہمیں کسی تکلیف پہنچنے پر پکارا ہی نہ تھا، اس طرح بیباکوں کو پسند آیا ہے جو کچھ وہ کر رہے ہیں۔
وَلَقَدْ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا ۙ وَجَآءَتْـهُـمْ رُسُلُـهُـمْ بِالْبَيِّنَاتِ وَمَا كَانُـوْا لِيُؤْمِنُـوْا ۚ كَذٰلِكَ نَجْزِى الْقَوْمَ الْمُجْرِمِيْنَ (13)
اور البتہ ہم تم سے پہلے کئی امتوں کو ہلاک کر چکے ہیں جب انہوں نے ظلم اختیار کیا، حالانکہ پیغمبر ان کے پاس کھلی نشانیاں لائے تھے اور وہ ہرگز ایمان لانے والے نہ تھے، ہم گناہگاروں کو ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں۔
ثُـمَّ جَعَلْنَاكُمْ خَلَآئِفَ فِى الْاَرْضِ مِنْ بَعْدِهِـمْ لِنَنْظُـرَ كَيْفَ تَعْمَلُوْنَ (14)
پھر ہم نے تمہیں ان کے بعد زمین میں نائب بنایا تاکہ دیکھیں تم کیا کرتے ہو۔
وَاِذَا تُـتْلٰى عَلَيْـهِـمْ اٰيَاتُنَا بَيِّنَاتٍ ۙ قَالَ الَّـذِيْنَ لَا يَرْجُوْنَ لِقَـآءَنَا ائْتِ بِقُرْاٰنٍ غَيْـرِ هٰذَآ اَوْ بَدِّلْـهُ ۚ قُلْ مَا يَكُـوْنُ لِىٓ اَنْ اُبَدِّلَـهٝ مِنْ تِلْـقَآءِ نَفْسِىْ ۖ اِنْ اَتَّبِــعُ اِلَّا مَا يُوْحٰٓى اِلَىَّ ۖ اِنِّـىٓ اَخَافُ اِنْ عَصَيْتُ رَبِّىْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيْـمٍ (15)
اور جب ان کے سامنے ہماری واضح آیتیں پڑھی جاتی ہیں، وہ لوگ کہتے ہیں جنہیں ہم سے ملاقات کی امید نہیں کہ اس کے سوا کوئی قرآن لے کر آؤ یا اسے بدل دو، تو کہہ دے میرا کام نہیں کہ اپنی طرف سے اسے بدل دوں، میں اسی کی تابعداری کرتا ہوں جو میری طرف وحی کی جائے، اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔
قُلْ لَّوْ شَآءَ اللّـٰهُ مَا تَلَوْتُهٝ عَلَيْكُمْ وَلَآ اَدْرَاكُمْ بِهٖ ۖ فَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِـهٖ ۚ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ (16)
کہہ دو اگر اللہ چاہتا تو میں اسے تمہارے سامنے نہ پڑھتا اور نہ ہی تمہیں اس سے خبردار کرتا، کیونکہ اس سے پہلے تم میں ایک عمر گزار چکا ہوں، کیا پھر تم نہیں سمجھتے۔
فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَـرٰى عَلَى اللّـٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰيَاتِهٖ ۚ اِنَّهٝ لَا يُفْلِحُ الْمُجْرِمُوْنَ (17)
پھر اس سے بڑا ظالم کون ہوگا جو اللہ پر بہتان باندھے یا اس کی آیتوں کو جھٹلائے، بے شک گناہگاروں کا بھلا نہیں ہوتا۔
وَيَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّـٰهِ مَا لَا يَضُرُّهُـمْ وَلَا يَنْفَعُهُـمْ وَيَقُوْلُوْنَ هٰٓؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَ اللّـٰهِ ۚ قُلْ اَتُنَبِّئُوْنَ اللّـٰهَ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِى السَّمَاوَاتِ وَلَا فِى الْاَرْضِ ۚ سُبْحَانَهٝ وَتَعَالٰى عَمَّا يُشْرِكُـوْنَ (18)
اور اللہ کے سوا اس چیز کی پرستش کرتے ہیں جو نہ انہیں نقصان پہنچا سکے اور نہ انہیں نفع دے سکے اور کہتے ہیں اللہ کے ہاں یہ ہمارے سفارشی ہیں، کہہ دو کیا تم اللہ کو بتلاتے ہو جو اسے آسمانوں اور زمین میں معلوم نہیں، وہ پاک ہے اور ان لوگوں کے شرک سے بلند ہے۔
وَمَا كَانَ النَّاسُ اِلَّآ اُمَّةً وَّاحِدَةً فَاخْتَلَفُوْا ۚ وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِىَ بَيْنَـهُـمْ فِيْمَا فِيْهِ يَخْتَلِفُوْنَ (19)
اور وہ لوگ ایک ہی امت تھے پھر جدا جدا ہو گئے، اور اگر ایک بات تمہارے پروردگار کی طرف سے پہلے نہ ہو چکی ہوتی تو جن باتوں میں وہ اختلاف کرتے ہیں ان میں فیصلہ کر دیا جاتا۔
وَيَقُوْلُوْنَ لَوْلَآ اُنْزِلَ عَلَيْهِ اٰيَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ ۖ فَقُلْ اِنَّمَا الْغَيْبُ لِلّـٰهِ فَانْتَظِرُوْا اِنِّـىْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِيْنَ (20)
اور کہتے ہیں اس پر اس کے رب سے کوئی نشانی کیوں نہ اتری، سو تو کہہ دے کہ غیب کی بات اللہ ہی جانتا ہے سو تم انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔
وَاِذَآ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْـمَةً مِّنْ بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْـهُـمْ اِذَا لَـهُـمْ مَّكْـرٌ فِىٓ اٰيَاتِنَا ۚ قُلِ اللّـٰهُ اَسْرَعُ مَكْـرًا ۚ اِنَّ رُسُلَنَا يَكْـتُبُوْنَ مَا تَمْكُـرُوْنَ (21)
اور جب ہم لوگوں کو اپنی رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں اس تکلیف کے بعد جو انہیں پہنچی تھی تو وہ ہماری آیتوں کے متعلق حیلے کرنے لگتے ہیں، کہہ دو کہ اللہ بہت جلد حیلہ کرنے والا ہے، بے شک ہمارے فرشتے تمہارے سب حیلوں کو لکھ رہے ہیں۔
هُوَ الَّـذِىْ يُسَيِّـرُكُمْ فِى الْبَـرِّ وَالْبَحْرِ ۖ حَتّــٰٓى اِذَا كُنْتُـمْ فِى الْفُلْكِۚ وَجَرَيْنَ بِـهِـمْ بِـرِيْـحٍ طَيِّبَةٍ وَّفَرِحُوْا بِـهَا جَآءَتْـهَا رِيْحٌ عَاصِفٌ وَّجَآءَهُـمُ الْمَوْجُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّظَنُّـوٓا اَنَّـهُـمْ اُحِيْطَ بِـهِـمْ ۙ دَعَوُا اللّـٰهَ مُخْلِصِيْنَ لَـهُ الـدِّيْنَ لَئِنْ اَنْجَيْتَنَا مِنْ هٰذِهٖ لَنَكُـوْنَنَّ مِنَ الشَّاكِـرِيْنَ (22)
وہ وہی ہے جو تمہیں جنگل اور دریا میں سیر کرنے کی توفیق دیتا ہے، یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں بیٹھتے ہو، اور وہ کشتیاں لوگوں کو موافق ہوا کے ذریعہ سے لے کر چلتی ہیں اور وہ لوگ ان سے خوش ہوتے ہیں تو ناگہاں تیز ہوا چلتی ہے اور ہر طرف سے ان پر لہریں چھانے لگتی ہیں اور وہ خیال کرتے ہیں کہ بے شک وہ لہروں میں گھر گئے ہیں، تو سب خالص اعتقاد سے اللہ ہی کو پکارنے لگتے ہیں کہ اگر تو ہمیں اس مصیبت سے بچا دے تو ہم ضرور شکر گزار رہیں گے۔
فَلَمَّآ اَنْجَاهُـمْ اِذَا هُـمْ يَبْغُوْنَ فِى الْاَرْضِ بِغَيْـرِ الْحَقِّ ۗ يَآ اَيُّـهَا النَّاسُ اِنَّمَا بَغْيُكُمْ عَلٰٓى اَنْفُسِكُمْ ۖ مَّتَاعَ الْحَيَاةِ الـدُّنْيَا ۖ ثُـمَّ اِلَيْنَا مَرْجِعُكُمْ فَـنُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُـمْ تَعْمَلُوْنَ (23)
پھر جب اللہ انہیں نجات دے دیتا ہے تو ملک میں ناحق شرارت کرنے لگتے ہیں، اے لوگو تمہاری شرارت کا وبال تمہاری جانوں پر ہی پڑے گا، دنیا کی زندگی کا نفع اٹھا لو، پھر ہمارے ہاں ہی تمہیں لوٹ کر آنا ہے پھر ہم تمہیں بتلا دیں گے جو کچھ تم کیا کرتے تھے۔
اِنَّمَا مَثَلُ الْحَيَاةِ الـدُّنْيَا كَمَآءٍ اَنْزَلْنَاهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ مِمَّا يَاْكُلُ النَّاسُ وَالْاَنْعَامُ  ؕ حَتّــٰٓى اِذَآ اَخَذَتِ الْاَرْضُ زُخْرُفَـهَا وَازَّيَّنَتْ وَظَنَّ اَهْلُـهَآ اَنَّـهُـمْ قَادِرُوْنَ عَلَيْـهَآۙ اَتَاهَآ اَمْرُنَا لَيْلًا اَوْ نَـهَارًا فَجَعَلْنَاهَا حَصِيْدًا كَاَنْ لَّمْ تَغْنَ بِالْاَمْسِ ۚ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰيَاتِ لِقَوْمٍ يَّتَفَكَّـرُوْنَ (24)
دنیا کی زندگی کی مثال مینہ کی سی ہے کہ اسے ہم نے آسمان سے اتارا پھر اس کے ساتھ سبزہ مل کر نکلا جسے آدمی اور جانور کھاتے ہیں، یہاں تک کہ جب زمین سبزے سے خوبصورت اور آراستہ ہو گئی اور زمین والوں نے خیال کیا کہ وہ اس پر بالکل قابض ہو چکے ہیں، تو اس پر ہماری طرف سے دن یا رات میں کوئی حادثہ آ پڑا سو ہم نے اسے ایسا صاف کر دیا کہ گویا کل وہا ں کچھ بھی نہ تھا، اس طرح ہم نشانیوں کو کھول کر بیان کرتے ہیں ان لوگوں کے سامنے جو غور کرتے ہیں۔
وَاللّـٰهُ يَدْعُوٓا اِلٰى دَارِ السَّلَامِۖ وَيَـهْدِىْ مَنْ يَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْـمٍ (25)
اور اللہ سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے، اور جسے چاہے سیدھا راستہ دکھاتا ہے۔
لِّلَّـذِيْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰى وَزِيَادَةٌ  ؕ وَلَا يَرْهَقُ وُجُوْهَهُـمْ قَتَـرٌ وَّلَا ذِلَّـةٌ  ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحَابُ الْجَنَّـةِ ۖ هُـمْ فِيْـهَا خَالِـدُوْنَ (26)
جنہوں نے بھلائی کی ان کے لیے بھلائی ہے اور زیادہ بھی، اور ان کے منہ پر سیاہی اور رسوائی نہیں چڑھے گی، وہ بہشتی ہیں، وہ اسی میں ہمیشہ رہیں گے۔
وَالَّـذِيْنَ كَسَبُوا السَّيِّئَاتِ جَزَآءُ سَيِّئَةٍ بِمِثْلِهَا وَتَـرْهَقُهُـمْ ذِلَّـةٌ  ۖ مَّا لَـهُـمْ مِّنَ اللّـٰهِ مِنْ عَاصِـمٍ ۖ كَاَنَّمَآ اُغْشِيَتْ وُجُوْهُهُـمْ قِطَعًا مِّنَ اللَّيْلِ مُظْلِمًا ۚ اُولٰٓئِكَ اَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُـمْ فِيْـهَا خَالِـدُوْنَ (27)
اور جنہوں نے برے کام کیے تو برائی کا بدلہ ویسا ہی ہوگا کہ ان پر ذلت چھائے گی، اور انہیں اللہ سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا، گویا کہ ان کے مونہوں پر اندھیری رات کے ٹکڑے اوڑھا دیے گئے ہیں، یہی دوزخی ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
وَيَوْمَ نَحْشُرُهُـمْ جَـمِيْعًا ثُـمَّ نَقُوْلُ لِلَّـذِيْنَ اَشْرَكُوْا مَكَانَكُمْ اَنْتُـمْ وَشُرَكَآؤُكُمْ ۚ فَزَيَّلْنَا بَيْنَـهُـمْ ۖ وَقَالَ شُرَكَآؤُهُـمْ مَّا كُنْتُـمْ اِيَّانَا تَعْبُدُوْنَ (28)
اور جس دن ہم ان سب کو جمع کریں گے پھر مشرکوں سے کہیں گے تم اور تمہارے شریک اپنی جگہ کھڑے رہو، تو ہم ان میں پھوٹ ڈال دیں گے، اور ان کے شریک کہیں گے کہ تم ہماری عبادت نہیں کرتے تھے۔
فَكَـفٰى بِاللّـٰهِ شَهِيْدًا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ اِنْ كُنَّا عَنْ عِبَادَتِكُمْ لَغَافِلِيْنَ (29)
سو اللہ ہمارے اور تمہارے درمیان گواہ کافی ہے کہ ہمیں تمہاری عبادت کی خبر ہی نہ تھی۔
هُنَالِكَ تَبْلُوْا كُلُّ نَفْسٍ مَّآ اَسْلَفَتْ ۚ وَرُدُّوٓا اِلَى اللّـٰهِ مَوْلَاهُـمُ الْحَقِّ ۖ وَضَلَّ عَنْـهُـمْ مَّا كَانُـوْا يَفْتَـرُوْنَ (30)
اس جگہ ہر شخص اپنے پہلے کیے ہوئے کاموں کو جانچ لے گا، اور یہ لوگ اللہ کی طرف لوٹائے جائیں گے جو ان کا حقیقی مالک ہے، اور جو جھوٹ وہ باندھا کرتے تھے ان سے جاتا رہے گا۔
قُلْ مَنْ يَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ اَمَّنْ يَّمْلِكُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَمَنْ يُّخْرِجُ الْحَىَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَىِّ وَمَنْ يُّدَبِّـرُ الْاَمْرَ ۚ فَسَيَقُوْلُوْنَ اللّـٰهُ ۚ فَقُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ (31)
کہو تمہیں آسمان اور زمین سے کون روزی دیتا ہے یا کانوں اور آنکھوں کا کون مالک ہے اور زندہ کو مردہ سے کون نکلتا ہے اور مردہ کو زندہ سے کون نکلتا ہے اور سب کاموں کا کون انتظام کرتا ہے، سو کہیں گے کہ اللہ، تو کہہ دو کہ پھر کیوں نہیں ڈرتے۔
فَذٰلِكُمُ اللّـٰهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ ۚ فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلَالُ ۚ فَاَنّـٰى تُصْرَفُوْنَ (32)
یہی اللہ تمہارا سچا رب ہے، پھر حق کے بعد گمراہی کے سوا اور ہے کیا، سو تم کدھر پھرے جاتے ہو۔
كَذٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّـذِيْنَ فَسَقُـوٓا اَنَّـهُـمْ لَا يُؤْمِنُـوْنَ (33)
اسی طرح ان نافرمانوں کے حق میں تیرے رب کا فیصلہ ثابت ہو کر رہا کہ یہ ایمان نہیں لائیں گے۔
قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ يَّبْدَاُ الْخَلْقَ ثُـمَّ يُعِيْدُهٝ ۚ قُلِ اللّـٰهُ يَبْدَاُ الْخَلْقَ ثُـمَّ يُعِيْدُهٝ ۖ فَاَنّـٰى تُؤْفَكُـوْنَ (34)
کہہ دو کیا تمہارے شریکوں میں کوئی ایسا ہے جو مخلوقات کو پیدا کرے پھر اسے دوبارہ زندہ کرے، کہہ دو اللہ پہلے پیدا کرتا ہے پھر اسے لوٹائے گا، سو تم کہاں پھرے جاتے ہو۔
قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ يَّـهْدِىٓ اِلَى الْحَقِّ ۚ قُلِ اللّـٰهُ يَـهْدِىْ لِلْحَقِّ ۗ اَفَمَنْ يَّـهْدِىٓ اِلَى الْحَقِّ اَحَقُّ اَنْ يُّتَّبَعَ اَمَّنْ لَّا يَـهِدِّىٓ اِلَّآ اَنْ يُّـهْدٰى ۖ فَمَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُوْنَ (35)
کہہ دو کیا تمہارے شریکوں میں کوئی ہے جو صحیح راہ بتلائے، کہہ دو اللہ ہی صحیح راہ بتلاتا ہے، تو اب جو صحیح راستہ بتلائے اس کی بات ماننی چاہیے یا اس کی جو خود راہ نہ پائے جب کوئی اور اسے راہ بتلائے، سو تمہیں کیا ہوگیا کیسا انصاف کرتے ہو۔
وَمَا يَتَّبِــعُ اَكْثَرُهُـمْ اِلَّا ظَنًّا ۚ اِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِىْ مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا ۚ اِنَّ اللّـٰهَ عَلِيْـمٌ بِمَا يَفْعَلُوْنَ (36)
اور وہ اکثر اٹکل پر چلتے ہیں، بے شک حق بات کے سمجھنے میں اٹکل ذرا بھی کام نہیں دیتی، بے شک اللہ جانتا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں۔
وَمَا كَانَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ اَنْ يُّفْتَـرٰى مِنْ دُوْنِ اللّـٰهِ وَلٰكِنْ تَصْدِيْقَ الَّـذِىْ بَيْنَ يَدَيْهِ وَتَفْصِيْلَ الْكِتَابِ لَا رَيْبَ فِيْهِ مِنْ رَّبِّ الْعَالَمِيْنَ (37)
اور یہ قرآن ایسا نہیں کہ اللہ کے سوا اسے کوئی اپنی طرف سے بنا لائے اور لیکن اپنے سے پہلے کلام کی تصدیق کرتا ہے اور ان چیزوں کو بیان کرتا ہے جو تم پر لکھی گئیں، اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ رب العالمین کی طرف سے ہے۔
اَمْ يَقُوْلُوْنَ افْتَـرَاهُ ۖ قُلْ فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّثْلِـهٖ وَادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُـمْ مِّنْ دُوْنِ اللّـٰهِ اِنْ كُنْتُـمْ صَادِقِيْنَ (38)
کیا یہ لوگ کہتے ہیں اس نے اسے خود بنایا ہے، کہہ دو تم ایک ہی ایسی سورت لے آؤ اور اللہ کے سوا جسے بلا سکو بلا لو اگر تم سچے ہو۔
بَلْ كَذَّبُوْا بِمَا لَمْ يُحِيْطُوْا بِعِلْمِهٖ وَلَمَّا يَاْتِـهِـمْ تَاْوِيْلُـهٝ ۚ كَذٰلِكَ كَذَّبَ الَّـذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِـمْ ۖ فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظَّالِمِيْنَ (39)
بلکہ انہوں نے اس چیز کو جھٹلایا جسے وہ سمجھ نہ سکے اور ابھی اس کی حقیقت ان پر کھلی نہیں، اسی طرح جو لوگ ان سے پہلے تھے انہوں نے بھی جھٹلایا تھا، سو دیکھ لو کہ ظالموں کا انجام کیسا ہوا۔
وَمِنْـهُـمْ مَّن يُؤْمِنُ بِهٖ وَمِنْـهُـمْ مَّن لَّا يُؤْمِنُ بِهٖ ۚ وَرَبُّكَ اَعْلَمُ بِالْمُفْسِدِيْنَ (40)
اور ان میں سے بعض ایسے ہیں کہ اس پر ایمان لے آتے ہیں اور بعض ایسے ہیں کہ ایمان نہیں لاتے، اور تمہارا رب مفسدوں سے خوب واقف ہے۔
وَاِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ لِّىْ عَمَلِىْ وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ ۖ اَنْتُـمْ بَرِيٓئُوْنَ مِمَّآ اَعْمَلُ وَاَنَا بَرِىٓءٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ (41)
اور اگر تجھے جھٹلائیں تو کہہ دے میرے لیے میرا کام اور تمہارے لیے تمہارا کام، تم میرے کام کے جواب دہ نہیں اور میں تمہارے کام کا جواب دہ نہیں ہوں۔
وَمِنْـهُـمْ مَّنْ يَّسْتَمِعُوْنَ اِلَيْكَ ۚ اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ وَلَوْ كَانُـوْا لَا يَعْقِلُوْنَ (42)
اور ان میں بعض ایسے ہیں کہ تمہاری طرف کان لگاتے ہیں، کیا تم بہروں کو سنا سکتے ہو اگرچہ وہ نہ سمجھیں۔
وَمِنْـهُـمْ مَّنْ يَّنْظُرُ اِلَيْكَ ۚ اَفَاَنْتَ تَـهْدِى الْعُمْىَ وَلَوْ كَانُـوْا لَا يُبْصِرُوْنَ (43)
اور ان میں بعض ایسے ہیں کہ تمہاری طرف دیکھتے ہیں، کیا تم اندھوں کو راہ دکھا دو گے اگرچہ کچھ بھی نہ دیکھتے ہوں۔
اِنَّ اللّـٰهَ لَا يَظْلِمُ النَّاسَ شَيْئًا وَّلٰكِنَّ النَّاسَ اَنْفُسَهُـمْ يَظْلِمُوْنَ (44)
بے شک اللہ لوگوں پر ذرہ ظلم نہیں کرتا لیکن لوگ ہی اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں۔
وَيَوْمَ يَحْشُرُهُـمْ كَاَنْ لَّمْ يَلْبَثُـوٓا اِلَّا سَاعَةً مِّنَ النَّـهَارِ يَتَعَارَفُوْنَ بَيْنَـهُـمْ ۚ قَدْ خَسِرَ الَّـذِيْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَـآءِ اللّـٰهِ وَمَا كَانُـوْا مُهْتَدِيْنَ (45)
اور جس دن انہیں جمع کرے گا گویا وہ نہیں رہے تھے مگر ایک گھڑی دن کی ایک دوسرے کو پہچانیں گے، بے شک خسارے میں رہے جنہوں نے اللہ کی ملاقات کو جھٹلایا اور راہ پانے والے نہ ہوئے۔
وَاِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّـذِىْ نَعِدُهُـمْ اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَاِلَيْنَا مَرْجِعُهُـمْ ثُـمَّ اللّـٰهُ شَهِيْدٌ عَلٰى مَا يَفْعَلُوْنَ (46)
اور اگر ہم تمہیں ان وعدوں میں سے کوئی چیز دکھا دیں جو ہم نے ان سے کیے ہیں یا تمہیں وفات دیں پھر انہیں ہماری طرف لوٹنا ہے پھراللہ شاہد ہے ان کاموں پر جو کرتے ہیں۔
وَلِكُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلٌ ۚ فَاِذَا جَآءَ رَسُوْلُـهُـمْ قُضِىَ بَيْنَـهُـمْ بِالْقِسْطِ وَهُـمْ لَا يُظْلَمُوْنَ (47)
اور ہر امت کا ایک رسول ہے، پھر جب ان کے پاس ان کا رسول آیا تو ان کے درمیان انصاف سے فیصلہ کیا گیا اور ان پر ظلم نہیں کیا جاتا۔
وَيَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُـمْ صَادِقِيْنَ (48)
اور کہتے ہیں یہ وعدہ کب ہے اگر تم سچے ہو۔
قُلْ لَّآ اَمْلِكُ لِنَفْسِىْ ضَرًّا وَّلَا نَفْعًا اِلَّا مَا شَآءَ اللّـٰهُ ۗ لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ ۚ اِذَا جَآءَ اَجَلُـهُـمْ فَلَا يَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّلَا يَسْتَقْدِمُوْنَ (49)
کہہ دو میں اپنی ذات کے برے اور بھلے کا بھی مالک نہیں مگر جو اللہ چاہے، ہر امت کا ایک وقت مقرر ہے، جب وہ وقت آتا ہے تو ایک گھڑی بھی دیر نہیں کر سکتے ہیں اور نہ جلدی کر سکتے ہیں۔
قُلْ اَرَاَيْتُـمْ اِنْ اَتَاكُمْ عَذَابُهٝ بَيَاتًا اَوْ نَـهَارًا مَّاذَا يَسْتَعْجِلُ مِنْهُ الْمُجْرِمُوْنَ (50)
کہہ دو بھلا دیکھو تو اگر تم پر اس کا عذاب رات یا دن کو آجائے، تو عذاب میں سے کون سی ایسی چیز ہے کہ مجرم اس کو جلدی مانگتے ہیں۔
اَثُـمَّ اِذَا مَا وَقَـعَ اٰمَنْتُـمْ بِهٖ ۚ آلْاٰنَ وَقَدْ كُنْتُـمْ بِهٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ (51)
کیا پھر جب وہ آ چکے گا تب اس پر ایمان لاؤ گے، اب مانتے ہو اور تم اس کی جلدی کرتے تھے۔
ثُـمَّ قِيْلَ لِلَّـذِيْنَ ظَلَمُوْا ذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْـدِۚ هَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا بِمَا كُنْتُـمْ تَكْسِبُوْنَ (52)
پھر ظالموں سے کہا جائے گا ہمیشگی کا عذاب چکھتے رہو، تمہیں نہیں بدلا دیا جاتا مگر اس چیز کا جو تم کرتے تھے۔
وَيَسْتَنْبِئُـوْنَكَ اَحَقٌّ هُوَ ۖ قُلْ اِىْ وَرَبِّىٓ اِنَّهٝ لَحَقٌّ ؕ وَمَآ اَنْتُـمْ بِمُعْجِزِيْنَ (53)
اور تم سے پوچھتے ہیں کہ کیا یہ بات سچ ہے، کہہ دو ہاں میرے رب کی قسم بے شک یہ سچ ہے، اور تم عاجز کرنے والے نہیں ہو۔
وَلَوْ اَنَّ لِكُلِّ نَفْسٍ ظَلَمَتْ مَا فِى الْاَرْضِ لَافْتَدَتْ بِهٖ ۗ وَاَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ ۖ وَقُضِىَ بَيْنَـهُـمْ بِالْقِسْطِ ۚ وَهُـمْ لَا يُظْلَمُوْنَ (54)
اور اگر ہر ایک نافرمان کے پاس روئے زمین کی تمام چیزیں ہوں البتہ اپنے بدلے میں دے ڈالے، اور جب وہ عذاب دیکھیں گے تو دل میں نادم ہوں گے، اور ان کے درمیان انصاف سے فیصلہ ہوگا، اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔
اَلَآ اِنَّ لِلّـٰهِ مَا فِى السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ ۗ اَلَآ اِنَّ وَعْدَ اللّـٰهِ حَقٌّ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَهُـمْ لَا يَعْلَمُوْنَ (55)
خبردار! بے شک اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، خبردار! بے شک اللہ کا وعدہ سچا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔
هُوَ يُحْيِىْ وَيُمِيْتُ وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ (56)
وہی زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے اور اسی کی طرف پھر کر جاؤ گے۔
يَآ اَيُّـهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَتْكُمْ مَّوْعِظَـةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَشِفَـآءٌ لِّمَا فِى الصُّدُوْرِۙ وَهُدًى وَّرَحْـمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ (57)
اے لوگو! تمہارے رب سے نصیحت اور دلوں کے روگ کی شفا تمہارے پاس آئی ہے، اور ایمان داروں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔
قُلْ بِفَضْلِ اللّـٰهِ وَبِرَحْـمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوْاۖ هُوَ خَيْـرٌ مِّمَّا يَجْـمَعُوْنَ (58)
کہہ دو اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہے سو اسی پر انہیں خوش ہونا چاہیے، یہ ان چیزوں سے بہتر ہے جو جمع کرتے ہیں۔
قُلْ اَرَاَيْتُـمْ مَّـآ اَنْزَلَ اللّـٰهُ لَكُمْ مِّنْ رِّزْقٍ فَجَعَلْتُـمْ مِّنْهُ حَرَامًا وَّحَلَالًا ۖ قُلْ آللَّـهُ اَذِنَ لَكُمْ ۖ اَمْ عَلَى اللّـٰهِ تَفْتَـرُوْنَ (59)
کہہ دو بھلا دیکھو تو اللہ نے تمہارے لیے جو رزق نازل فرمایا ہے تم نے اس میں سے بعض کو حرام اور بعض کو حلال کر دیا، کہہ دو اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے، یا اللہ پر افترا کرتے ہو۔
وَمَا ظَنُّ الَّـذِيْنَ يَفْتَـرُوْنَ عَلَى اللّـٰهِ الْكَذِبَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۗ اِنَّ اللّـٰهَ لَـذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَهُـمْ لَا يَشْكُـرُوْنَ (60)
اور جو لوگ اللہ پر افترا کرتے ہیں قیامت کے دن کی نسبت ان کا کیا خیال ہے، بے شک اللہ لوگوں پر مہربان ہے لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔
وَمَا تَكُـوْنُ فِىْ شَاْنٍ وَّمَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّلَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُوْدًا اِذْ تُفِيْضُوْنَ فِيْهِ ۚ وَمَا يَعْزُبُ عَنْ رَّبِّكَ مِنْ مِّثْقَالِ ذَرَّةٍ فِى الْاَرْضِ وَلَا فِى السَّمَآءِ وَلَآ اَصْغَرَ مِنْ ذٰلِكَ وَلَآ اَكْبَـرَ اِلَّا فِىْ كِتَابٍ مُّبِيْنٍ (61)
اور تم جس حال میں ہوتے ہو یا قرآن میں سے کچھ پڑھتے ہو یا تم لوگ کوئی کام کرتے ہو تو ہم وہاں موجود ہوتے ہیں جب تم اس میں مصروف ہوتے ہو، اور تمہارے رب سے ذرہ بھر بھی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے نہ زمین میں اور نہ آسمان میں، اور نہ کوئی چیز اس سے چھوٹی اور نہ بڑی مگر کتاب روشن میں ہے۔
اَلَآ اِنَّ اَوْلِيَآءَ اللّـٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْـهِـمْ وَلَا هُـمْ يَحْزَنُـوْنَ (62)
خبردار! بے شک جو اللہ کے دوست ہیں نہ ان پر ڈر ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
اَلَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا وَكَانُوْا يَتَّقُوْنَ (63)
جو لوگ ایمان لائے اور ڈرتے رہے۔
لَـهُـمُ الْبُشْرٰى فِى الْحَيَاةِ الـدُّنْيَا وَفِى الْاٰخِرَةِ ۚ لَا تَبْدِيْلَ لِكَلِمَاتِ اللّـٰهِ ۚ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْـمُ (64)
ان کے لیے دنیا کی زندگی اور آخرت میں خوشخبری ہے، اللہ کی باتوں میں تبدیلی نہیں ہوتی، یہی بڑی کامیابی ہے۔
وَلَا يَحْزُنْكَ قَوْلُـهُـمْ ۘ اِنَّ الْعِزَّةَ لِلّـٰهِ جَـمِيْعًا ۚ هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْـمُ (65)
اور ان کی بات سے غم نہ کر، بے شک عزت سب اللہ ہی کے لیے ہے، وہی سننے والا جاننے والا ہے۔
اَلَآ اِنَّ لِلّـٰهِ مَنْ فِى السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِى الْاَرْضِ ۗ وَمَا يَتَّبِــعُ الَّـذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّـٰهِ شُرَكَآءَ ۚ اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنْ هُـمْ اِلَّا يَخْرُصُوْنَ (66)
خبردار! جو کوئی آسمانوں میں ہے اور جو کوئی زمین میں ہے سب اللہ کا ہے، اور یہ جو اللہ کے سوا شریکوں کو پکارتے ہیں، وہ نہیں پیروی کرتے مگر گمان کی اور نہیں ہیں وہ مگر اٹکل کرتے۔
هُوَ الَّـذِىْ جَعَلَ لَكُمُ اللَّيْلَ لِتَسْكُنُـوْا فِيْهِ وَالنَّـهَارَ مُبْصِرًا ۚ اِنَّ فِىْ ذٰلِكَ لَاٰيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَّسْـمَعُوْنَ (67)
وہی تو ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی تاکہ اس میں آرام کرو اور دن دکھلانے والا بنایا، بے شک اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو سنتے ہیں۔
قَالُوا اتَّخَذَ اللّـٰهُ وَلَـدًا ۗ سُبْحَانَهٝ ۖ هُوَ الْغَنِىُّ ۖ لَـهٝ مَا فِى السَّمَاوَاتِ وَمَا فِى الْاَرْضِ ۚ اِنْ عِنْدَكُمْ مِّنْ سُلْطَانٍ بِـهٰذَا ۚ اَتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّـٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ (68)
کہتے ہیں اللہ نے بیٹا بنا لیا، وہ پاک ہے، وہ بے نیاز ہے، جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے، تمہارے پاس اس کی کوئی سند نہیں ہے، تم اللہ پر ایسی باتیں کیوں کہتے ہو جو جانتے نہیں۔
قُلْ اِنَّ الَّـذِيْنَ يَفْتَـرُوْنَ عَلَى اللّـٰهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُوْنَ (69)
کہہ دو کہ جو لوگ اللہ پر افترا کرتے ہیں نجات نہیں پائیں گے۔
مَتَاعٌ فِى الـدُّنْيَا ثُـمَّ اِلَيْنَا مَرْجِعُهُـمْ ثُـمَّ نُذِيْقُهُـمُ الْعَذَابَ الشَّدِيْدَ بِمَا كَانُـوْا يَكْـفُرُوْنَ (70)
دنیا میں تھوڑا سا نفع اٹھا لینا ہے پھر ہماری طرف انہیں لوٹنا ہے پھر ہم انہیں سخت عذاب چکھائیں گے بسبب اس کے کہ کفر کرتے تھے۔
وَاتْلُ عَلَيْـهِـمْ نَبَاَ نُـوْحٍۘ اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖ يَا قَوْمِ اِنْ كَانَ كَبُـرَ عَلَيْكُمْ مَّقَامِىْ وَتَذْكِيْـرِىْ بِاٰيَاتِ اللّـٰهِ فَـعَلَى اللّـٰهِ تَوَكَّلْتُ فَاَجْـمِعُـوٓا اَمْرَكُمْ وَشُرَكَآءَكُمْ ثُـمَّ لَا يَكُنْ اَمْرُكُمْ عَلَيْكُمْ غُمَّةً ثُـمَّ اقْضُوٓا اِلَىَّ وَلَا تُنْظِرُوْنِ (71)
اور انہیں نوح کا حال سنا، جب اس نے اپنی قوم سے کہا کہ اے قوم! اگر تمہیں میرا تم لوگوں میں رہنا اور اللہ کی آیتوں سے نصیحت کرنا ناگوار ہو تو میں اللہ پر بھروسہ کرتا ہوں، اب تم سب مل کر اپنا کام مقرر کرو اور اپنے شریکوں کو جمع کرو پھر تمہیں اپنے کام میں شبہ نہ رہے تو پھر وہ کام میرے ساتھ کر گزرو اور مجھے مہلت نہ دو۔
فَاِنْ تَوَلَّيْتُـمْ فَمَا سَاَلْتُكُمْ مِّنْ اَجْرٍ ۖ اِنْ اَجْرِىَ اِلَّا عَلَى اللّـٰهِ ۖ وَاُمِرْتُ اَنْ اَكُـوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ (72)
پھر اگر منہ پھیرو تو میں نے تم سے کچھ معاوضہ نہیں مانگا، میرا معاوضہ اللہ پر ہے، اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ فرمانبرداروں میں سے رہوں۔
فَكَذَّبُوْهُ فَنَجَّيْنَاهُ وَمَنْ مَّعَهٝ فِى الْفُلْكِ وَجَعَلْنَاهُـمْ خَلَآئِفَ وَاَغْرَقْنَا الَّـذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيَاتِنَا ۖ فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنْذَرِيْنَ (73)
پھر انہوں نے اسے جھٹلایا پھر ہم نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو کشتی میں بچا لیا اور انہیں خلیفہ بنا دیا اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا انہیں غرق کردیا، پھر دیکھ لو کہ جو لوگ ڈرائے گئے تھے ان کا انجام کیسا ہوا۔
ثُـمَّ بَعَثْنَا مِنْ بَعْدِهٖ رُسُلًا اِلٰى قَوْمِهِـمْ فَجَآءُوْهُـمْ بِالْبَيِّنَاتِ فَمَا كَانُـوْا لِيُـؤْمِنُـوْا بِمَا كَذَّبُوْا بِهٖ مِنْ قَبْلُ ۚ كَذٰلِكَ نَطْبَعُ عَلٰى قُلُوْبِ الْمُعْتَدِيْنَ (74)
پھر ہم نے نوح کے بعد اور پیغمبر ان کی قوم کی طرف بھیجے تو وہ ان کے پاس کھلی نشانیاں لائے پھر بھی ان سے یہ نہ ہوا کہ اس بات پر ایمان لے آئیں جسے پہلے وہ جھٹلا چکے تھے، اسی طرح ہم حد سے نکل جانے والوں کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں۔
ثُـمَّ بَعَثْنَا مِنْ بَعْدِهِـمْ مُّوْسٰى وَهَارُوْنَ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَمَلَئِهٖ بِاٰيَاتِنَا فَاسْتَكْـبَـرُوْا وَكَانُـوْا قَوْمًا مُّجْرِمِيْنَ (75)
پھر ہم نے ان کے بعد موسٰی اور ہارون کو فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس اپنی نشانیاں دے کر بھیجا پھر انہوں نے تکبر کیا اور وہ لوگ گنہگار تھے۔
فَلَمَّا جَآءَهُـمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُـوٓا اِنَّ هٰذَا لَسِحْرٌ مُّبِيْنٌ (76)
پھر جب انہیں ہمارے ہاں سے سچی بات پہنچی کہنے لگے یہ تو کھلا جادو ہے۔
قَالَ مُوْسٰٓى اَتَقُوْلُوْنَ لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَكُمْ ۖ اَسِحْرٌ هٰذَا ؕ وَلَا يُفْلِحُ السَّاحِرُوْنَ (77)
موسیٰ نے کہا کیاتم حق بات کو یہ کہتے ہو جب وہ تمہارے پاس آئی کیا یہ جادو ہے اور جادو کرنے والے نجات نہیں پاتے۔
قَالُـوٓا اَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا عَمَّا وَجَدْنَا عَلَيْهِ اٰبَآءَنَا وَتَكُـوْنَ لَكُمَا الْكِبْـرِيَآءُ فِى الْاَرْضِۖ وَمَا نَحْنُ لَكُمَا بِمُؤْمِنِيْنَ (78)
انہوں نے کہا کیا تو ہمارے ہاں آیا ہے کہ ہمیں اس راستہ سے پھیر دے جس پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو پایا ہے اور تم دونوں کو اس ملک میں سرداری مل جائے، اور ہم تو تمہیں ماننے والے نہیں ہیں۔
وَقَالَ فِرْعَوْنُ ائْتُـوْنِىْ بِكُلِّ سَاحِرٍ عَلِيْـمٍ (79)
اور فرعون نے کہا میرے پاس ہر دانا جادوگر کو لے آؤ۔
فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ قَالَ لَـهُـمْ مُّوْسٰٓى اَلْقُوْا مَآ اَنْتُـمْ مُّلْقُوْنَ (80)
پھر جب جادوگر آئے تو انہیں موسٰی نے کہا کہ ڈالو جو تم ڈالتے ہو۔
فَلَمَّآ اَلْقَوْا قَالَ مُوْسٰى مَا جِئْتُـمْ بِهِ السِّحْرُ ۖ اِنَّ اللّـٰهَ سَيُبْطِلُـهٝ ۖ اِنَّ اللّـٰهَ لَا يُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِيْنَ (81)
پھر جب انہوں نے ڈالا تو موسٰی نے کہا جو تم لائے ہو وہ جادو ہے، اللہ اسے ابھی درہم برہم کر دے گا، بے شک اللہ مفسدوں کے کام نہیں سنوارتا۔
وَيُحِقُّ اللّـٰهُ الْحَقَّ بِكَلِمَاتِهٖ وَلَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَ (82)
اور اللہ اپنے حکم سے حق بات کو سچا کرتا ہے اگرچہ گنہگار برا ہی مانیں۔
فَمَآ اٰمَنَ لِمُوْسٰٓى اِلَّا ذُرِّيَّةٌ مِّنْ قَوْمِهٖ عَلٰى خَوْفٍ مِّنْ فِرْعَوْنَ وَمَلَئِهِـمْ اَنْ يَّفْتِنَـهُـمْ ۚ وَاِنَّ فِرْعَوْنَ لَعَالٍ فِى الْاَرْضِۚ وَاِنَّهٝ لَمِنَ الْمُسْرِفِيْنَ (83)
پھر کوئی بھی موسٰی پر ایمان نہ لایا مگر اس کی قوم کے چند لڑکے اور وہ بھی فرعون اور ان کے سرداروں سے ڈرتے ڈرتے کہ کہیں وہ انہیں مصیبت میں نہ ڈال دے، اور بے شک فرعون زمین میں سرکشی کرنے والا تھا اور بے شک وہ حد سے گزرنے والوں میں سے تھا۔
وَقَالَ مُوْسٰى يَا قَوْمِ اِنْ كُنْتُـمْ اٰمَنْتُـمْ بِاللّـٰهِ فَعَلَيْهِ تَوَكَّلُـوٓا اِنْ كُنْتُـمْ مُّسْلِمِيْنَ (84)
اور موسٰی نے کہا اے میری قوم! اگر تم اللہ پر ایمان لائے ہو تو اسی پر بھروسہ کرو اگر تم فرمانبردار ہو۔
فَقَالُوْا عَلَى اللّـٰهِ تَوَكَّلْنَاۚ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلْقَوْمِ الظَّالِمِيْنَ (85)
تب وہ بولے ہم اللہ ہی پر بھروسہ کرتے ہیں، اے رب ہمارے! ہم پر اس ظالم قوم کا زور نہ آزما۔
وَنَجِّنَا بِرَحْـمَتِكَ مِنَ الْقَوْمِ الْكَافِـرِيْنَ (86)
اور ہمیں مہربانی فرما کر ان کافروں سے چھڑا دے۔
وَاَوْحَيْنَـآ اِلٰى مُوْسٰى وَاَخِيْهِ اَنْ تَبَوَّاٰ لِقَوْمِكُمَا بِمِصْرَ بُيُوْتًا وَّاجْعَلُوْا بُيُوْتَكُمْ قِبْلَـةً وَّاَقِيْمُوا الصَّلَاةَ ۗ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِيْنَ (87)
اور ہم نے موسٰی اور اس کے بھائی کو حکم بھیجا کہ اپنی قوم کے واسطے مصر میں گھر بناؤ اور اپنے گھروں کو مسجدیں سمجھو اور نماز قائم کرو، اور ایمان والوں کو خوشخبری دو۔
وَقَالَ مُوْسٰى رَبَّنَـآ اِنَّكَ اٰتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلَاَهٝ زِيْنَةً وَّاَمْوَالًا فِى الْحَيَاةِ الـدُّنْيَاۙ رَبَّنَا لِيُضِلُّوْا عَنْ سَبِيْلِكَ ۖ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلٰٓى اَمْوَالِـهِـمْ وَاشْدُدْ عَلٰى قُلُوْبِـهِـمْ فَلَا يُؤْمِنُـوْا حَتّـٰى يَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِيْـمَ (88)
اور موسٰی نے کہا اے رب ہمارے! تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو دنیا کی زندگی میں آرائش اور ہر طرح کا مال دیا ہے، اے رب ہمارے! یہاں تک کہ انہوں نے تیرے راستہ سے گمراہ کر دیا، اے رب ہمارے! ان کے مالوں کو برباد کر دے اور ان کے دلوں کو سخت کر دے پس یہ ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ دردناک عذاب دیکھیں۔
قَالَ قَدْ اُجِيْبَتْ دَّعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِيْمَا وَلَا تَتَّبِعَآنِّ سَبِيْلَ الَّـذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ (89)
فرمایا تمہاری دعا قبول ہو چکی سو تم دونوں ثابت قدم رہو اور بے عقلوں کی راہ پر مت چلو۔
وَجَاوَزْنَا بِبَنِىٓ اِسْرَآئِيْلَ الْبَحْرَ فَاَتْبَعَهُـمْ فِرْعَوْنُ وَجُنُـوْدُهٝ بَغْيًا وَّعَدْوًا ۖ حَتّــٰٓى اِذَآ اَدْرَكَهُ الْغَرَقُ قَالَ اٰمَنْتُ اَنَّهٝ لَآ اِلٰـهَ اِلَّا الَّـذِىٓ اٰمَنَتْ بِهٖ بَنُـوٓا اِسْرَآئِيْلَ وَاَنَا مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ (90)
اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار کر دیا پھر فرعون اور اس کے لشکر نے ظلم اور زیادتی سے ان کا پیچھا کیا، یہاں تک کہ جب ڈوبنے لگا تو کہا میں ایمان لایا کہ کوئی معبود نہیں مگر جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اور میں فرمانبرداروں میں سے ہوں۔
آلْاٰنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ وَكُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِيْنَ (91)
اب یوں کہتا ہے، اور تو اس سے پہلے نافرمانی کرتا رہا اور مفسدوں میں داخل رہا۔
فَالْيَوْمَ نُنَجِّيْكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُـوْنَ لِمَنْ خَلْفَكَ اٰيَةً ۚ وَاِنَّ كَثِيْـرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ اٰيَاتِنَا لَغَافِلُوْنَ (92)
پس آج ہم تیرے بدن کو نکال لیں گے تاکہ تو پچھلوں کے لیے عبرت ہو، اور بے شک بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے بے خبر ہیں۔
وَلَقَدْ بَوَّاْنَا بَنِىٓ اِسْرَآئِيْلَ مُبَوَّاَ صِدْقٍ وَّرَزَقْنَاهُـمْ مِّنَ الطَّيِّبَاتِ فَمَا اخْتَلَفُوْا حَتّـٰى جَآءَهُـمُ الْعِلْمُ ۚ اِنَّ رَبَّكَ يَقْضِىْ بَيْنَـهُـمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِيْمَا كَانُـوْا فِيْهِ يَخْتَلِفُوْنَ (93)
اور البتہ تحقیق ہم نے بنی اسرائیل کو رہنے کی عمدہ جگہ دی اور کھانے کو ستھری چیزیں دیں وہ باوجود علم ہونے کے خلاف کرتے رہے، بے شک تیرا رب قیامت کے دن ان میں فیصلہ کرے گا جس بات میں کہ وہ اختلاف کرتے تھے۔
فَاِنْ كُنْتَ فِىْ شَكٍّ مِّمَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ فَاسْاَلِ الَّـذِيْنَ يَقْرَءُوْنَ الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكَ ۚ لَقَدْ جَآءَكَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُـوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَـرِيْنَ (94)
سو اگر تمہیں اس چیز میں شک ہے جو ہم نے تیری طرف اتاری تو ان سے پوچھ لے جو تجھ سے پہلے کتاب پڑھتے ہیں، بے شک تیرے پاس تیرے رب سے حق بات آئی ہے سو شک کرنے والوں میں ہرگز نہ ہو۔
وَلَا تَكُـوْنَنَّ مِنَ الَّـذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيَاتِ اللّـٰهِ فَتَكُـوْنَ مِنَ الْخَاسِرِيْنَ (95)
اور ان میں سے بھی نہ ہو جنہوں نے اللہ کی آیتوں کو جھٹلایا پھر تو بھی نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔
اِنَّ الَّـذِيْنَ حَقَّتْ عَلَيْـهِـمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُـوْنَ (96)
جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہو چکی ہے وہ ایمان نہیں لائیں گے۔
وَلَوْ جَآءَتْـهُـمْ كُلُّ اٰيَةٍ حَتّـٰى يَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِيْـمَ (97)
اگرچہ انہیں ساری نشانیاں پہنچ جائیں جب تک کہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔
فَلَوْلَا كَانَتْ قَرْيَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَآ اِيمَانُـهَآ اِلَّا قَوْمَ يُوْنُسَۚ لَمَّآ اٰمَنُـوْا كَشَفْنَا عَنْـهُـمْ عَذَابَ الْخِزْىِ فِى الْحَيَاةِ الـدُّنْيَا وَمَتَّعْنَاهُـمْ اِلٰى حِيْنٍ (98)
سو کوئی بستی ایسی کیوں نہ ہوئی جو ایمان لاتی تو اس کا ایمان اسے نفع دیتا سوائے یونس کی قوم کے، کہ جب وہ ایمان لائے تو ہم نے دنیا کی زندگی میں ان سے ذلت کا عذاب دور کر دیا اور ہم نے انہیں ایک وقت تک فائدہ پہنچایا۔
وَلَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنْ فِى الْاَرْضِ كُلُّهُـمْ جَـمِيْعًا ۚ اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّـٰى يَكُـوْنُـوْا مُؤْمِنِيْنَ (99)
اور اگر تیرا رب چاہتا تو جتنے لوگ زمین میں ہیں سب کے سب ایمان لے آتے، پھر کیا تو لوگوں پر زبردستی کرے گا کہ وہ ایمان لے آئیں۔
وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تُؤْمِنَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّـٰهِ ۚ وَيَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَى الَّـذِيْنَ لَا يَعْقِلُوْنَ (100)
اور کسی کے بھی بس میں نہیں کہ اللہ کے حکم کے سوا ایمان لے آئے، اور اللہ ان کے لیے کفر کا فیصلہ کرتا ہے جو نہیں سوچتے۔
قُلِ انْظُرُوْا مَاذَا فِى السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ ۚ وَمَا تُغْنِى الْاٰيَاتُ وَالنُّذُرُ عَنْ قَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُـوْنَ (101)
کہہ دو دیکھو کہ آسمانوں اور زمین میں کیا کچھ ہے، اور بے ایمان قوم کو معجزے اور ڈرانے والے کچھ فائدہ نہیں دیتے۔
فَهَلْ يَنْتَظِرُوْنَ اِلَّا مِثْلَ اَيَّامِ الَّـذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِهِـمْ ۚ قُلْ فَانْتَظِرُوٓا اِنِّـىْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِيْنَ (102)
پھر کیا وہ انہیں لوگوں کے دنوں کا سا انتظار کرتے ہیں جو ان سے پہلے گزرے ہیں، کہہ دو چلو انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔
ثُـمَّ نُنَجِّىْ رُسُلَنَا وَالَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا ۚ كَذٰلِكَ حَقًّا عَلَيْنَا نُنْـجِ الْمُؤْمِنِيْنَ (103)
پھر ہم بچا لیتے ہیں اپنے رسولوں کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لاتے ہیں، اسی طرح ہمارا ذمہ ہے کہ ایمان والوں کو بچا لیں۔
قُلْ يَآ اَيُّـهَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُـمْ فِىْ شَكٍّ مِّنْ دِيْنِىْ فَلَآ اَعْبُدُ الَّـذِيْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّـٰهِ وَلٰكِنْ اَعْبُدُ اللّـٰهَ الَّـذِىْ يَتَوَفَّاكُمْ ۖ وَاُمِرْتُ اَنْ اَكُـوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ (104)
کہہ دو اے لوگو! اگر تمہیں میرے دین میں شک ہے تو میں ان کی عبادت نہیں کرتا جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو بلکہ میں اللہ کی عبادت کرتا ہوں جو تمہیں وفات دیتا ہے، اور مجھے حکم ہوا ہے کہ ایمانداروں میں رہوں۔
وَاَنْ اَقِمْ وَجْهَكَ لِلـدِّيْنِ حَنِيْفًاۚ وَلَا تَكُـوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ (105)
اور یہ بھی کہ یکسو ہو کر دین کی طرف رخ کیے رہو، اور مشرکوں میں نہ ہو۔
وَلَا تَدْعُ مِنْ دُوْنِ اللّـٰهِ مَا لَا يَنْفَعُكَ وَلَا يَضُرُّكَ ۖ فَاِنْ فَـعَلْتَ فَاِنَّكَ اِذًا مِّنَ الظَّالِمِيْنَ (106)
اور اللہ کے سوا ایسی چیز کو نہ پکار جو نہ تیرا بھلا کرے اور نہ برا، پھر اگر تو نے ایسا کیا تو بے شک ظالموں میں سے ہو جائے گا۔
وَاِنْ يَّمْسَسْكَ اللّـٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَـهٝٓ اِلَّا هُوَ ۖ وَاِنْ يُّرِدْكَ بِخَيْـرٍ فَلَا رَآدَّ لِفَضْلِـهٖ ۚ يُصِيْبُ بِهٖ مَنْ يَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ ۚ وَهُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْـمُ (107)
اور اگر اللہ تمہیں کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا اسے ہٹانے والا کوئی نہیں، اور اگر تمہیں کوئی بھلائی پہنچانا چاہے تو کوئی اس کے فضل کو پھیرنے والا نہیں، اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اپنا فضل پہنچاتا ہے، اور وہی بخشنے والا مہربان ہے۔
قُلْ يَآ اَيُّـهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ ۖ فَمَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا يَـهْتَدِىْ لِنَفْسِهٖ ۖ وَمَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْـهَا ۖ وَمَآ اَنَا عَلَيْكُمْ بِوَكِيْلٍ (108)
کہہ دو اے لوگو! تمہیں تمہارے رب سے حق پہنچ چکا ہے، پس جو کوئی راہ پر آئے سو وہ اپنے بھلے کے لیے راہ پاتا ہے، اور جو گمراہ رہے گا اس کا وبال اسی پر پڑے گا، اور میں تمہارا ذمہ دارنہیں ہوں۔
وَاتَّبِــعْ مَا يُوْحٰٓى اِلَيْكَ وَاصْبِـرْ حَتّـٰى يَحْكُمَ اللّـٰهُ ۚ وَهُوَ خَيْـرُ الْحَاكِمِيْنَ (109)
اور جو کچھ تیری طرف وحی کیا گیا ہے اس پر چل اور صبر کر، یہاں تک کہ اللہ فیصلہ کر دے، اور وہ بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔